M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / دہشت میں محبت|محمد غالب نشتر

دہشت میں محبت|محمد غالب نشتر

نائن الیون کے پس منظر میں محمد حمید شاہد کے افسانے

e.jang.com.pk/09-02-2015/

jang karachi page 16 - 020915

 

محمد حمید شاہد کا شمار بر صغیر پاک و ہند کے نمائندہ قلم کاروں میں ہوتا ہے اور یہ اعتبار انہیں صنفِ افسانے نے بخشا ہے۔انہوں نے اسّی کے عشرے میں ادبی دنیا میں قدم رکھا اور ادبی سفر کا آغاز نثر کی دیگر اصناف اور شاعری سے کیا مگر بہت جلد انہوں نے اپنی ذات کو صنف افسانہ کے لیے مختص کر دیا۔افسانہ نویسی اُن کا میدانِ خاص ہے اور اسی صنف میں وہ یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ان کے افسانوں کے چار مجموعے بالترتیب ’’بند آنکھوں سے پرے‘‘۱۹۹۴ء،’’جنم جہنم‘‘۱۹۹۸ء،’’مرگ زار‘‘۲۰۰۴ء اور ’’آدمی‘‘۲۰۱۳ء اشاعت سے ہم کنار ہوچکے ہیں۔علاوہ ازیں ایک ناول بہ عنوان’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘۲۰۰۷ء بھی منظر عام پر آچکا ہے۔افسانہ نویسی کے علاوہ فکشن تنقید میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے ۔اس ضمن میں ان کی تنقید کو ہندوستان میں بھی کافی سراہا گیا ہے اور براؤن بک پبلی کیشنز،نئی دہلی سے ایک کتاب بہ عنوان’’اردو افسانہ:کہانی،زبان اور تخلیقی آہنگ‘‘آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔فکشن تنقید کی بات کریں تو انہوں نے اس حوالے سے بھی نمایاں کام کیا ہے۔اس ضمن میں ان کی پانچ کتابیں لائق مطالعہ ہیں۔انہوں نے پہلی کتاب ’’اشفاق احمد :شخصیت اور فن‘‘۱۹۹۹ء میں لکھی۔اس کے بعد ’’ادبی تنازعات‘‘۲۰۰۰ء میں ’’اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘۲۰۰۶ء میں ’’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘۲۰۱۱ء میں اور ’’منٹو:جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘۲۰۱۳ء میں منظر عام پر آچکے ہیں۔ان کتابوں کے مطالعے کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ محمد حمید شاہد کے ہاں فکشن کی تاریخ و تنقید کا گہرا شعور ہے۔
محمد حمید شاہد نے افسانوی دنیا میں اس وقت قدم رکھا جب اس میدان میں تین نسلیں ایک ساتھ طبع آزمائی کر رہی تھیں۔پہلی نسل کاتعلق ساٹھ سے قبل کے افسانہ نگاروں سے ہے جنہوں نے افسانے کے فن کو لازوال کہانیاں دیں ،علامات اور استعارات سے مملو تراکیب دیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی افسانے کو اعتبار بخشا ۔انتظار حسین،غلام عباس،محمد خالد اختر،ممتاز مفتی،محمد حسن عسکری وغیرہ اسی قبیل کے فن کار ہیں۔دوسری نسل کے افسانہ نگار وہ تھے جنہوں نے ساٹھ کے عشرے میں اس صنف کی جانب متوجہ ہوئے اور ستر کے عشرے میں قارئین پر اپنی دھاک بٹھائی اور مقبول ہوئے ۔ رشید امجد،محمد منشا یاد،اسد محمد خاں،احمد ہمیش وغیرہ اس ضمن کے اہم فن کار ہیں۔تیسری نسل کے وہ افسانہ نگار ہیں جنہیں اپنی روایت سے آگہی حاصل کرنی تھی اور سینئر افسانہ نگاروں کے رہتے ہوئے اپنی شناخت بھی قائم کرنی تھی کیوں کہ جس عہد میں تیسری نسل کے افسانہ نگار سانس لے رہے تھے اُس میں پہلی اور دوسری نسل کے افسانہ نگار بھی کسی نہ کسی طرح پرانے دنوں کی یاد تازہ کرکے کبھی کبھی اپنی تخلیقات سے اپنے آپ کو زندہ ر کھے ہوئے تھے لہٰذا نئے افسانہ نگاروں کے لیے اپنی شناخت کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔مظہر الاسلام،احمد جاوید،مرزا حامد بیگ،محمد حامد سراج اور محمد حمید شاہد وغیرہ ایسے فن کار ہیں جنہیں انہی مسائل سے گزرنا پڑا۔ان تمام افسانہ نگاروں میں محمد حمید شاہد نے اسلوب اور ہےئت دونوں سطح پر اپنی انفرادیت کا ثبوت اپنی تخلیقات کے ذریعہ پیش کیا۔انہوں نے اپنی روایات سے بھر پور آگہی حاصل کی۔قیامِ ملک کے بعد اپنے ملک کی ادبی و سیاسی صورت حال سے وہ پوری طرح واقف تھے۔اس کے بعد تاہنوز ہونے والے سانحات و حادثات کا انہوں نے بہ خوبی مطالعہ کیا خواہ وہ ۱۹۵۸ء کا مارشل لا ہو یا ۱۹۶۵ء کی بھارت پاک جنگ،۱۹۷۱ء کا بنگلہ دیش کا قیام ہویا ۱۹۷۷ء کا مارشل لا،تمام صورت کا انہوں نے اپنے طور پر محاسبہ کیا ،اس کے بعد ملک میں ہونے والے صورت حال کو انہوں نے بہ ذات خود اپنے افسانے کا موضوع بنایا ۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہ ملک ابتدائی دنوں سے ہی سکون کو ترستا رہا اور ۱۹۷۷ء کے مارشل لا کے بعد بھی اسّی اور نوّے کے عشرے میں ایسی صورت حال پیدا نہ ہو سکی جس سے عوام میں فرحت و انسباط کا ماحول اور سیاسی طور پر امن کی فضا قائم ہو بل کہ قیام پاکستا ن کے بعد تو سکون افزا صورت حال پیدا ہی نہ ہو سکی ۔ اس ملک کو ایسے حکم راں بھی نصیب نہ ہو سکے جو اپنے بہ جائے ملک کے فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیں اور ملک کی ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہوں ۔ یہی وہ رسہ کشی تھی جس نے عوام کو حکومت کے خلاف لا کھڑا کر دیا اور نتیجے کے طور پر پاکستانی معاشرہ کئی حصوں میں منقسم ہو گیا۔ وہاں کے لوگ نسل ، زبان ، علاقائیت ، مذہبی فرقہ واریت میں اس قدر محو ہوئے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو دیکھنے کو تیار نہیں تھا۔ شیعہ سنّی فسادات کھلے عام ہونے لگے ہیں ، مہاجرین کا مسئلہ ان کے ماسوا ہے۔ سندھی، سرائیکی ، پشتو، کشمیری ، پنجابی بولنے والے بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں معاشرے میں کس نوعیت کی ترقی ہوگی ، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نئی صدی کا استقبال پوری دنیا نے کیا ۔ پاکستان نے اِس صدی کو خوش آمدید اس لیے بھی کہا کہ سابقہ تریپن سالوں میں انہوں نے امن و سکون کا فقط خواب ہی دیکھا تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اِس نئی صدی میں ان کے خواب پورے ہوں لیکن صد افسوس ! کہ یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا ۔ یہاں اشارہ امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 9/11کو ہونے والے حادثے سے ہے ۔ گیارہ ستمبر کا دن عہد جدید کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے جب پرانی تہذیبی اقدار کا خاتمہ ہوا اور مشرق و مغرب کے ما بین ایک نیا رشتہ استوار ہوا۔ اس رشتے کو غیر اسلامی ممالک خصوصاً امریکا نے مسلم ممالک سے منافقانہ اور باغیانہ رویہ اختیار کیا۔ یہ سانحہ یوں تو امریکا میں رونما ہوا لیکن اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ۔ خاص طور سے مسلم مما لک پر اس کا اثر شدید طور پر پڑا۔ اس سانحے کو بنیاد بنا کر پاکستا ن کے بہت سے اہم افسانہ نگاروں نے افسانے لکھے ۔اس حوالے سے اولین نمایاں کوشش مسعود مفتی کا افسانہ ’’شناخت‘‘ہے جو ۲۰۰۲ء میں شائع ہوا ۔ اس کا موضوع امریکی پاکستانیوں پر گیارہ ستمبر کے واقعے کے غیر متوقع نتائج ہیں جو ان کی کایا کلپ کا سبب بن جاتے ہیں ۔اس حوالے سے لکھے گئے افسانوں میں دہشت کا عنصر پوری طرح جلوہ گر نظر آتا ہے۔نئی صدی میں دہشت گردی کی اصطلاح نے پوری انسانیت کو خوف وہراس میں لے رکھا ہے۔یوں تویہ اصطلاح اپنا معاشرتی و سیاسی پس منظر رکھتا ہے لیکن نئی صدی میں اس کی معنویت نے اپنے رخ کو کسی خاص گروپ کے لیے مختص کرلیا ہے لیکن اتنا یاد رہے کہ دہشت گردوں کا کوئی خاص مذہب نہیں ہوتا اور ہر باریش شخص مسلم نہیں ہوتا۔اس حوالے سے محمد منشا یادکا افسانہ ’’ایک سائکلو سٹائل وصیت نامہ‘‘ قابل ذکر ہے جہاں افسانہ نگار نے کہانی کے آخری جملے سے دہشت گردی کے منظر نامے کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا ہے،جس میں ایک کردار نہایت شریفانہ انداز میں یہ جملہ ادا کرتا ہے ’’آپ میں ہمت ہے تو نافرمانی کر کے دیکھ لیجیے۔السلام علیکم۔خدا حافظ۔‘‘اس افسانے میں منشا یاد نے شہر کے بدلتے حالات کا نقشا کھینچا ہے وہیں ایک شریف الطبع شخص کو مذہبی لبادہ پہنا کر متشدد دکھایا ہے۔ایک سائنس کے ذہین طالب علم کی ملاقات پنجاب یونی ورسٹی میں ایک ایسے عالم دین سے ہوتی ہے جن کا سلسلہ کسی کالعدم جہادی تنظیم سے ہوتا ہے اور انہی کی بارعب شخصیت سے متأثر ہوکر وہ تعلیم یافتہ شخص دنیا و ما فیہا سے متنفر ہو تا چلا جاتا ہے اور کالج کی تعلیم کو فضول گردانتا ہے۔وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد میں سے ملحق حجرے میں ہمیشہ کے لیے منتقل ہو جاتا ہے۔دین میں حد درجہ تشدد برتنے والے اور دوسرے لفظوں میں بیان کیا جائے تو جہاد کو فی زمانہ فرض سمجھنے والوں کا حال تقریباً یوں ہی ہوتا ہے اور اگر اُن کو جہادی شخص کی سرپرستی حاصل ہوجائے تو ایسے نوجوانوں کا متشدد ہونا لازم ہو جاتا ہے۔دنیا والے ایسے ہی اشخاص پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے۔دہشت کے لغوی اور اصطلاحی معنوں پر غور کیا جائے تو کلی طور پر یہ بات اُن پر صادق نہیں آتی چہ جائے کہ مولانا سراج الدین کے قاصد قاری عبد الغفار چشتی سراجوی نے خط تھماتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا۔’’میرا کام تو مولانا صاحب کے ارشاد کی تعمیل تھی،وہ میں نے کردی۔آپ میں ہمت ہے تو نافرمانی کرکے دیکھ لیجیے۔السلام علیکم۔خدا حافظ‘‘۔
خوف و دہشت کے ماحول میں جب انسان اپنے ارد گرد کی صورت حال سے بیزار ہو جاتا ہے تو وہ جائے امان ڈھونڈتا ہے تاکہ وہ کچھ دیر کے لیے سکون محسوس کر سکے۔اگر پاکستان کے تناظر میں اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کی مساجد سے بہتر کوئی ایسی جگہ نہیں نظر آتی جہاں سکونِ قلب اور سکونِ جان میسر آئے لیکن وہاں کے اخبارات و رسائل سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہیں بھی اب دہشت سے محفوظ نہیں ہیں بل کہ ایسے اصحاب کو انہی مقامات پر اس کام کو انجام دینے میں زیادہ سکون اور مزا آتا ہے۔ہمارے عہد کے معتبر ناقد،مدیر اور کہانی کار مبین مرزا نے اپنے افسانے ’’دامِ دہشت ‘‘میں کچھ اسی طرح کے ماحول کی عکاسی کی ہے۔افسانے کا ہیرو شیخ سخاوت علی ،کراچی کے کسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جاتا ہے۔اس کی کم زوری یہ ہے کہ اُسے نظروں کے سامنے جوان،خوب صورت اور دل کش عورتوں کی تصویریں گھومنے لگتی ہیں جب کہ امام صاحب منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے ہیں۔یہ ذہنی انتشار اُس کی نفسیاتی ہے جو اس کی بیوی کے امریکا چلے جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔وہ کچھ دن تو بغیر بیوی کے زندگی گزار لیتا ہے لیکن چند مہینوں کے بعد جنسی جرثومے اُسے کچوکے لگانے لگتے ہیں اور وہ دوسری عورتوں کے حصول میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔اس عمل سے اس کے اندر جنسی لذت تو کم ہو جاتی ہے لیکن خواہشیں سر اٹھانے لگتی ہیں…..وہ مسجد میں بیٹھا یہی تمام باتیں سوچ رہا ہوتا ہے کہ اس کی نظر ایک مشکوک شخص پر پڑتی ہے ۔وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر واقعی اس کے پاس ایسی کوئی چیز ہے تو وہ مسجد میں داخل ہی نہیں ہو سکتا کیوں کہ مسجد کے دونوں دروازوں پر کئی کئی گارڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے لوگ تعینات تھے جو جمعے کی نماز کے لیے آنے والے ہر شخص کی اچھی طرح تلاشی لینے کے بعد اسے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیتے تھے۔اس کے باوجود اس کا دھیان اُسی شخص پر ٹکا ہو اہے ۔وہ ذہنی طور پر دہشت کے جال میں جکڑا ہوا ہے۔وہ نماز میں بھی نیت باندھتا ہے تو کانوں میں قرأت کی آواز نہیں ،زخمیوں کی چیخ و پکار سنتا ہے اور تصور کرتا ہے کہ کسی بھی لمحے دھماکا ہو سکتا ہے گویا پورے معاشرے کی صورت حال کو اس نے اپنے آپ میں محسوس کیا ہے اور افسانہ نگار نے فنی گرفت کے ساتھ اس افسانے کو پاےۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔اس ضمن میں محمد حمید شاہد کا نام اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے خوف،تشدد اور دہشت کے حوالے سے کئی بہترین کہانیاں لکھی ہیں۔اس حوالے سے ان کے افسانوں میں آدمی کا بکھراؤ،کتاب الاموات سے میزانِ عدل کا باب،موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ،کوئٹہ میں کچلاک،سورگ میں سوؤر اور خونی لام ہوا قتلام بچوں کاوغیرہ کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔سر دست محمد حمید شاہد کا تازہ افسانہ ’’خونی لام ہوا قتلام بچوں کا‘‘اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ پشاور کے سانحے اور اس کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔پشاور کے ایک مقامی اسکول میں دہشت گردوں کے ذریعہ کیے گئے مظالم کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ایک خود کش حملے میں ماسٹر سلیم الرحمن کا پوتا توقیر مارا گیا۔اس کے پش پشت وہ عوامل کار فرما تھے جنہیں اس نے سابقہ پندرہ سولہ سالوں میں جھیلا تھا۔سید پور کی اُچی ڈھکی میں وہ اپنے دادا اور دادی کے ساتھ رہتا تھا اور اُس کا باپ ،اپنی بیوی کے ناگہانی وفات کے بعد امریکا جا بسا تھا۔گوکہ توقیر کی زندگی تنہائیوں کی نذر ہو گئی تھی اور وہ ابنارمل زندگی جی رہا تھا۔اس کے دادا ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے اور وہ گاؤں والوں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہے۔ان کا خیال تھا کہ اسلام سلامتی والامذہب ہے اور اس میں ایسے ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہریوں میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف میں پڑتے ہوئے بچوں،عورتوں ،بوڑھوں ،فصلوں اور جانوروں کو بھی نشانہ بنا لے۔انہوں نے ایک بار حاجراں کے بیٹے کے حوالے سے بھی ایک فتویٰ صادر فرما دیا تھا کہ’’اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے ،ایسا قرض جس کے ذریعہ ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے ۔اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے،حلال عمل ہے‘‘۔ماسٹر سلیم الرحمن ایسے اساتذہ پر بھی لعن طعن کرتے جو بچوں کو طالبان بنا دیتے تھے،جو مذہب کے نام پر ہر قسم کا بد ترین تشدد کر گزرنے والے ہوں،گردنوں پر چھری رکھ کر شہہِ رگ کو کاٹ ڈالنے والے ہوں،کمر میں بارود باندھ کر اپنے ساتھ دوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے ہوں۔ایسے دہشت گردوں سے مسجدیں محفوظ ہو ں نہ مدرسے،بازار نہ دفاتر۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا کرتے وقت نعرۂ تکبیر بلند کرنے والے ہوں چہ جائے کہ خدا کا خوف اُن کے دلوں میں چھو کر نہ گزرتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ وہ گاؤ ں والوں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہے۔توقیر کے اندر بھی یہ باغیانہ صفات سر اٹھا تی ہیں اور پشاور کے سانحے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد وہ بھی اپنے دادا کی جیکٹ پہن کر اس لیے گھر سے باہر نکلتا ہے کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے جب کہ پورے ملک کی عوام اور پولیس محتاط ہیں لیکن توقیر اِن تمام حالات سے بے نیاز گھر سے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر بھاگ کر شور بلند کرنے لگتا ہے۔’’میں پھٹ جااااؤں دا…..میں پھٹ جاؤں داااا‘‘۔پولیس اس کی حرکت کو دیکھ کر حرکت میں آجاتی ہے اور ٹریگر دبا کر اُسے بھون ڈالتی ہے۔
افسانہ ’’سورگ میں سوؤر‘‘کا شمار محمد حمید شاہد کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے اور اس افسانے کو اردو کی بہترین تخلیقات کی فہرست میں رکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔اس مجموعے کے تمام افسانوں کی طرح یہ افسانہ بھی دہشت میں لپٹا ہوا ہے۔گیارہ ستمبر کے پس منظر میں لکھی گئی اس کہانی میں سوؤروں کی آمد،کتوں کی بہتات،بکریوں کی اموات اور مونگ پھلی کی کاشت جیسی علامات کو بروئے کار لاکر افسانہ نگار نے کہانی کے رخ کو علامات کی طرف موڑ دیا ہے۔اگر کہانی کے عنوان پر غور کیا جائے تو یہ عنوان ہی علامت سے مملو معلوم پڑتا ہے۔اس کہانی کی کئی پرتیں ہمارے سامنے کھلتی چلی جاتی ہیں۔اس میں کہانی کار نے عالمی استعمار کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کیا ہے اور علامتی پیرائے میں اپنی بات کی ہے۔یوں تو اس کہانی کا پورا منظر نامہ دیہی ہے لیکن جن مقامات پر بادشاہوں کا مونگ پھلی پر حکم رانی کا ذکر ملتا ہے وہاں قاری صاف طور پر یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اُس سے مراد کون لوگ ہیں۔اسی طرح افسانہ ’’گانٹھ‘‘گیارہ سمبر کے بعد مغرب میں جا بسنے والے اُن پاکستانیوں کا نوحہ ہے جو اپنی تہذیب سے بہت دور جا چکے ہیں۔یہ کہانی ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر توصیف کی ہے جو گیارہ ستمبر کے بعد کے بحران سے گزر رہا ہے،وہ ایسا شخص ہے جو ایک عرصے سے امریکہ میں پریکٹس کر تاہے اور ساتھ میں ملک امریکہ کا وفادار بھی ہے،اُسے امریکی شہریت بھی مل گئی ہے اور وہیں کی نیلی آنکھوں والی کیتھرین سے شادی بھی کرچکا ہے جس سے دو بچے ہیں جو کیتھرین کی ہم شکل ہیں۔شکل و صورت میں وہ دونوں یعنی ’’ڈیوڈ‘‘ اور ’’راجر‘‘ امریکی معلوم پڑتے ہیں۔خود ڈاکٹر توصیف اپنی شناخت کھو کر ’’طاؤژ‘‘کے انگریزی رنگ میں رنگ گیا ہے لیکن نائن الیون کے سانحے کے بعد اس پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ بیس سال کی مکمل سکونت کے بعد بھی وہ مکمل امریکی نہیں بن پایا ہے اور وہاں کی حکومت اسے قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔اب یہاں سے ڈاکٹر توصیف کی ذہنی کش مکش کا امتحان شروع ہوتا ہے اور اپنی زمین سے کٹنے کا احساس اور اپنی تہذیب سے بہت دور چلے جانے کا احساس اس کے اندر سر اٹھانے لگتا ہے۔
افسانہ’’آدمی کا بکھراؤ‘‘پرویز مشرف کے عہد سیاست میں پھیلی بد امنی اور بد دیانتی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ وہ عہد تھا جب عوام نے حکومتوں کی زبوں حالی کو واضح طور پر محسوس کیاتھا لیکن اُن کی مجبوری تھی کہ جمہوری حکومت کو اپنے لیے بحال کر سکیں۔علاوہ ازیں اس کہانی میں ٹی وی چینلز کی بڑھتی مقبولیت کو بھی دکھایا گیا ہے جنہوں نے ہر چونکانے والی خبروں کو اپنا ذریعۂ نجات اور دوسروں پر سبقت لے جانے کا وسیلہ سمجھا تھا اور عوام کسی بھی سنسنی واقعے کو براہ راست متأثر کر رہی تھی۔ٹی وی اسکرین پر کسی المیے کو بار بار دکھانا گویا انسانی ذہنوں میں تشدد پیدا کرنا تھا۔محمد منشا یاد کے افسانے ’’ایک سائکلو سٹائل وصیت نامہ‘‘کی طرح محمد حمید شاہد نے ’’مرگ زار ‘‘ اور ’’موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ‘‘میں بھی شہادت کی خواہش کو دکھایا ہے۔ایک شخص کے اندر جب مذہبی رنگ حد سے زیادہ چڑھ جاتا ہے تو وہ دنیا و ما فیہا سے بے نیاز ہو کر شہادت کی خواہش کرنے لگتا ہے۔اس طرح یہ افسانہ ۱۹۸۹ء کے سیاسی پس منظر اور بعد کے پچیس سالوں میں آنے والی مذہبی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
رشتوں کی پامالی ، جنریشن گیپ کا المیہ اور ان کے سوچنے سمجھنے کے انداز میں تبدیلی کا نوحہ ہمارے ادب کا خاصّہ رہا ہے ۔ خصوصاً نئی صدی کے اوائل میں ان سنگین جرائم کاجس طرح ارتکاب کیا جا رہا ہے وہ تحیر سے لبریز ہے۔ ایک عام کے لیے یہ باتیں معمولی ہو سکتی ہیں لیکن زمانے کا نبض شناس ادیب ان صورتِ حال سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ یوں تو افسانہ ’’لوتھ‘‘ 9/11 کے سانحہ کے بعد کا منظر نامہ ہے جسے میڈیا نے اور بھی نازک اور ماحول کو دہشت زدہ بنا دیا ہے جہاں ایک بیٹا اپنے باپ کی قدروں کا احترام کرنے سے قاصر ہے یا اس کی ذہنی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے کہ وہ ایک ہی بات کو دوسرے زاویے سے سوچتا ہے۔ یہ ذہنی خلا کا ہی سبب ہے کہ باپ نے ایک مدت تک اپنے تلوؤں کے گھاؤ کو اپنے ہی بیٹے پر کھلنے نہ دیا ،وہ ضبط کرتا رہا اور زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتا رہا لیکن جب چند عرصے بعد یہ زخم جب ناقابل برداشت ہو گیا تو یہ راز بھی کھل گیا۔راز کھلنے کا واقعہ بھی نہایت انوکھا تھا۔ہوا یوں کہ بیٹا ٹی وی پر بار بار دکھائے جانے والے اس عجوبے سانحے کو حیرت سے دیکھ رہا تھا جہاں ایک جہاز فلک بوس عمارت سے ٹکرایا تھا اور نیچے جمی بھیڑ حیرت و استعجاب سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی گویا اُن کے ذہن اس بات کی دلالت کر رہے ہوں کہ ایک نہ ایک دن یہ تو ہونا ہی تھا۔بیٹے کے عقب میں بیٹھا باپ بھی اس منظر نامے کو اُسی تناظر میں دیکھ رہا تھا لیکن وہ چند دنوں بعد دہشت زدہ ہو چکا تھا،اسے ہر چیز متنفر کرتیں جنہیں وہ عہد جوانی میں خوش سلیقگی سے کرتا آیا تھا۔پُل کے نیچے بہنے والا بسین نالہ،جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نہایت خوش گوار موڈ میں نہاتا اور سیر و تفریح کرتا وغیرہ۔ماضی کے دھندلکے سے نکلتے ہوئے اُسے وہ زمانہ بھی یاد آیا جب دہشت میں گندھے خوف،سسکیوں اور چیخوں کو شکست دینے کے لیے اس نے اپنے قدم بہتے پانی میں ڈال دیے تھے۔ننھی بیٹی ،اُس کے کندھے سے چمٹی تھی اور بیوی اس کا ہاتھ تھامے تھی۔بیوی کے نوے مہینے کا نصف حصہ گزر چکا تھالہٰذا اُسے بہتے پانی کو دیکھتے ہی چکر سے آنے لگے تھے۔اس نے بیوی کو چکرا کر پانی میں گرتے ہوئے دیکھا تو اُسے سنبھالنے کو لپکا،ننھی بیٹی جو اُس کے کندھے سے لگی تھی،اس پر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔بیوی کو بچاتے بچاتے بیٹی کو پانی نے نگل لیا تھا۔اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ چند ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔اسی عالم میں رات پڑ گئی اور قافلے کی عورتوں نے نئی اولاد کی بشارت دی۔یہ وہی بچہ تھا جو آج اپنے باپ کی ٹانگ کٹوانے کے پیچھے پڑا تھا۔وہی بچہ آج بیٹے کی شکل میں نمودار ہوکر نئے عہد کی علامت بن گیا ہے اور پرانے اقدار کو پیچھے دھکیلنے کی ناکام کو ششیں کر رہا ہے۔ڈاکٹروں کی تسلیاں اُسے سکون بخش رہی ہیں اور اسے بھی یہی امید ہے کہ اس کے باپ کی ٹانگیں ٹھیک ہو جائیں گی لیکن جب اس کے باپ کو ہوش آتا ہے تو وہی باپ بیٹے سے ایک اور گھاؤ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہوتا ہے۔یہ اس کے دل کا گھاؤ ہے جس کا بھرنا تقریباً ناممکن ہے اور اسے جسم سے جدا کرنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔مجموعی طور پر دیکھا جائے یہ افسانہ نائن الیون کا منظر بیان کرتا ہے جہاں دو نسلوں کے مابین خلیج کو یوں دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنی تہذیب کو نئے دور میں فراموش کرتے ہوئے کوئی بھی عار محسوس نہیں کرتے۔
آج کی دنیا میں انسانی ہم دردیاں اور اتحاد و ملت کے ختم ہونے کا ایک طرف رونا رویا جا رہا ہے ،ایک ملک اپنے پڑوس اور پس ماندہ ممالک کو زیر کرنے کی جو تدابیر یں اور حیلے تلاش کر رہا ہے اس سے بھی انسانیت کے زوال پذیری کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہمارے درمیان موجود ہوتے ہیں جو انسان تو انسان ،چرند پرند سے بھی ہم دردانہ سلوک اختیار کرتے ہیں تو واقعی آج کے تناظر میں یہ بات حیرت و استعجاب سے مملو نظر آتی ہے۔اسی واقعے کو بنیاد بنا کر محمد حمید شاہد نے افسانے کا متن تیار کیا ہے اور کہانی ’’برف کا گھونسلا‘‘ وجود میں آئی ہے۔یہ افسانہ پاکستان کے سرد اور برفیلے شہر ’’مری‘‘ کے ارد گرد گھومتاہے جہاں ایک خاندان کے کسی فرد کا تبادلہ دوسرے شہرسے ہو گیا ہے اور ایک شخص کی وجہ سے پورے خاندان کو نقلِ مکانی کرنا پڑتی ہے۔گرمیوں کے دنوں میں ثوبیہ نے مسرت کا اظہار کیا تھا اور اسے اپنے ہنی مون کے دن بھی یاد آگئے تھے لیکن سردی آتے ہی اس کے خواب چکنا چوٗر ہو گئے۔ وہ دہلا دینے والی سرد راتوں سے بچنے کی تدابیر پر غور کرنے لگے۔ ان کا بجٹ کسی لحاف یا کمبل کی اجازت نہیں دیتاتھا لہٰذا انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے لیے مری کی سرد راتیں زیادہ ناک ثابت رہی ہیں۔مستزاد یہ کہ ان کی دونوں چھوٹی چھوٹی بچیاں یکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں۔ بچیوں کی حالت دیکھ کر انھوں نے مری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن انہی دنوں ایک عجیب صورت حال سے گزرنا پڑا۔ واقعہ یوں ہوا کہ اس گھر میں ان کے ساتھ ایک اور خاندان اقامت پذیر تھا اور انھیں احساس تک نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے اس بات کی ضرورت ہی سمجھی تھی۔ ایک چڑیا اپنے دو ننھے منّے بچوں کے ساتھ ان کے ہی رات گزارتی تھی لیکن ثوبیہ کے کہنے پر کل ہی روشن دان کے شیشے لگا دیے گئے تھے اور اسی باعث رات گزارنے گھر کے اندر داخل نہ ہو سکی اور ننھے منے بچے اپنی ماں کی گود میں زندگی ہار چکے تھے۔ اس افسانے کے حوالے سے ڈاکٹر توصیف تبسم نے نہایت معقول بات کہی ہے ۔ان کے بہ قول: ’’اس کی تخلیق کا لگ بھگ وہی زمانہ بنتا ہے جب افغانسان میں روس کی پاکستانی ہوئی اور امریکہ نے اپنے اتحادی پاکستان کی طرف سے نہ صرف آنکھیں پھیر لی تھیں بلکہ اس کی امداد بھی بند کر دی تھی۔ ’’برف کا گھونسلا‘‘ پرندوں اور انسانوں پر مشتمل دوکنبوں کی کہانی ہے جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن ان کی تقریریں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔‘‘
محمد حمید شاہد نے اس کہانی میں علامت کو نہایت خوبی سے برتا ہے ۔ اگر چڑے کو علامت بناکر دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ ایک ملک مظلوم ہے جو دوسرے بڑے ملک کے رحم و کرم پرزندہ ہے اگر ظالم ملک نے اپنی نظریں پھیرلیں تو غریب ملک انجام اسی چڑیا جیسا ہوگا جس نے اپنے بچوں کے ساتھ مری کی سرد راتوں اپنی جان دے دی۔
اس مجموعے میں شامل گیارہ افسانوں کو مد نظر رکھ کر یہ بات بلا تامل کہی جا سکتی ہے کہ محمد حمید شاہد نے اسلوب اور تکنیک دونوں حوالے سے کئی عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔علاوہ ازیں سیاسی و سماجی حالات کو بھی اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے۔ان کے چار افسانوی مجموعوں میں کئی ایسے لا زوال افسانے مل جائیں گے جن میں ان کے اسلوب کی ندرت اور موضوع کی انفرادیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔وہ اپنے عہد کا واحد ایسا فن کار ہے جس نے دہشت،سیاسی موضوعات اور بین الاقوامی مسائل کو کثرت سے رقم کیا ہے۔زبان و بیان کی سطح پر بھی انہوں نے کئی تجربات کیے ہیں۔ان کے افسانوں کو مد نظر رکھ کر یہ بات بلا تأمل کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے طرز کاواحد فن کار ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *