M. Hameed Shahid
Home / افسانے / تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہد

تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہد

takale ka ghao

 

کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے:
”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی طرح حلق میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ تتّا کورنوالہ- نہ نگلنے جو گا نہ اُگلنے والا۔ جب باتوں کی طویل لانگا ٹیرالانگ پھلانگ چکی ‘تو اُنہیں اندازہ ہی نہ ہو پایا تھاکہ کتنی دیر وہ بُھو سہ ملی چکنی مٹّی کے گارے سے لپے ہویے ویہڑے میں پاس پاس دَھری ڈِھیلی اَدوائنوں والی جھابڑ جھلّی کھاٹوں میں اِدھر اُدھر بیٹھے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو تھامے رہے اور خورے کب کیسے اُن کے ہاتھ ایک دوسرے کے بیچ سے آپو آپی پھسل گئے اورکیسے ان دونوں کو جھلنگا کھاٹوں کے جَھول نے سمیٹ لیا۔“
کَہانی تخلیقی ترنگ میں رواں رہتی ہے:
” ہر کہیں بھاڑ پڑا بُھن رہا تھا کہ سارے میں ٹیکل دُھوپ جانے کس پر اُدھار کھائے بولائے پھرتی تھی۔ ایسے میں گھنّی دَھرِیک کی گوڑھی چھاﺅں میں بھی بلا کاسِیک اور اِنتہا کی تپش تھی۔ ستیا نَاسی دھوپ کے خوف سے سارے پکّھی کسی غین غرچّے جھوت جھوڑَپ میں ہونک ہو رہے ہوں گے کہ کہیں نظرنہ آتے تھے۔ بس وہ دو نموہے جنّے تھے کہ دھریک تلے اس لُو کی لَپٹ میں بھی بے خبرے پڑے تھے۔ تاہم پیڑ کی پھننگ سے چھچھلتی اِکا دُکا جَھکا جَھک کرنوں سے بچنے کو وہ اَنٹاچٹ ہو رہے تھے؛ یوں جیسے ایک دوسرے اور آلے دوالے سے بالکل بے خبرے ہوں۔ اسی بے خبری میں وہ اَپنی اَپنی حیاتی کی جھلنگ میں جھانکنے لگے تھے اور جوں جوں وہ اس میں جھانکے جاتے تھے توںتوں اُلجھتے ہی جاتے تھے کہ موئی حیاتی کا اُلجھیڑا‘ بھی تو مکڑی کے جالے کی طرح ہوتا ہے؛ پہلے ایک تا بناک لکیر اور پھر اُلجھنیںاور اُلجھنوں ہی کی جھنجھوٹی۔“
یہاں پہنچ کر مجھے اَپنا قلم روک دینا پڑا ہے کہ میرا بیٹا عاصم تیزی سے کمرے میں داخل ہو گیا ہے۔ وہ یوں عجلت سے اَندر آیا ہے کہ اس کی سانس اور دروازہ ایک سی آواز دینے لگے ہیں۔ جب کبھی میں بے دھیانی میں لگ بھگ اتنی ہی تیزی سے داخل ہونے کو مجبور ہو جاتا ہوں تو میری سانسوں کی بے ہنگم سیٹی اور دروازے کی چرچراہٹ کی بابت وہ انگریزی کی ایک اصطلاح Squeak استعمال کرتا ہے۔ مجھے معلوم ہے یہ لفظ چوہے یا سور کی طرح تیز کٹیلی آواز نکالنے کے لیے مستعمل ہے۔ میں نے اِس لفظ کے اِستعمال پر ایک بار احتجاج بھی کیا تھا مگر وہ اِس کا جواز یہ پیش کرتا ہے کہ میری اس حرکت سے پیدا ہونیوالی آواز کی وجہ سے اُس کی Concentrationبری طرح Shatterہو جاتی ہے۔ تاہم چوں کہ وہ میرا بیٹا ہے لہذا میں اُس کے لیے ایسا کوئی بھی لفظ اِستعمال نہیں کر سکتا ۔ ویسے بھی کہانی کی گرفت اِتنی مضبوط ہے کہ میں پھر پلٹ کر قلم تھام لیتا ہوں۔ جوں ہی میرا قلم اور دِھیان کاغذ پر جھک جاتے ہیں عقب سے آتی بڑبڑاہٹ کھٹاک کی آواز میں معدوم ہو جاتی ہے اورکہانی سناٹے سے نچڑ کر قلم کی نوک پر آ جاتی ہے:
”پہلے پہل اُنہیں اَپنی اَپنی ہستی اور اُجڑی حیاتی کے تجربوں کی باتیں پلّو نہ پکڑاتی تھیں۔ پھر سارے رَاز و نیاز سہج سہج یوں پاس آنے لگے جیسے اُن کے پیروں پر مہندی لگی ہو اور گیلی ہو۔ حتّٰی کہ وہ دونوں اُس اُلاس کی گرفت میں آ گئے کہ دبی ہوئی راکھ کی چنگاریاں بھی دھونکے جاتے تھے۔ یہ نسیان کے چھپڑ میں وِیلے کی کائی جمے پانی تَلے پڑی باتیں بھی عجیب دھین دھوکڑ ہوتی ہیں- موٹے تازے سست ایانے اور بے فکرے وجود کی طرح۔ نہ چھپڑوتو مکر مار کر بے سُدھ لاش بنی پڑی رہیں اور جو بھولے سے کسی کانے کھپچ سے ٹھنک دوتو اَلل بچھڑے کی طرح دِھیان کے سارے آنگن میں کُدکُداڑے مارتی بھلی لگتی ہیں۔ مگر جب یہی مچل جاتی ہیں تو اَپنے اَگٹا پیچی کے کھرّوں تلے لتاڑ کر رکھ دیتی ہیں ۔“
ایک بار پھر قلم تھم جاتا ہے کہ اِس بار عاصم باقاعدہ قدموں سے اِحتجاجی آواز نکالتا کمرے کے دروازے پر پہنچ کر پوری قوت سے دروازہ کھولتا ہے؛ یوں کہ اَندر کا سارا سناٹا گھبرا کر باہر نکل جاتا ہے۔ میں پہلے کی طرح اُسے دیکھتا ہوں۔ اب کی بار غُصّے سے اس کے دانت بھنچ گئے ہیں۔
جب کبھی غصے سے میرے دانت آپس میں یوں بھنچ جاتے ہیں تووہ اس کے لیے ”Locknut“ کی اِصطلاح اِستعمال کرتا ہے۔ میں جانتا ہوں Locknutایسی ڈِھبری کو کہتے ہیںجو خود ڈھیلی نہیں ہو سکتی کہ اُس کے اوپر ایک اور ڈِھبری ہوتی ہے جو اُسے قابو کئے رَکھتی ہے۔ عاصم کو خبر ہے کہ جب میں اس کیفیت میں ہوتا ہوںتو خود سے نارمل نہیں ہو پاتا۔ لہذا اُسے اپنے تایا کا ذکر چھیڑنا پڑتا ہے کہ میں اَپنے بڑے بھائی کی باتوں کی میٹھی لذّت کے پانیوں سے نہا کر تاز ہ دم ہو جاتا ہوں۔ مگر ایک مُدّت سے اس نے اپنے تایا کا نام نہیں لیا۔ اس کی ایک وجہ تو وہ یہ بتاتا ہے کہ وہ Mature ہو گیا اور ایسیStupidityکے لیے اُس کے پاس وقت ہی نہیں ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ اب اُس کی ممی باقاعدہ ایسے تذکروں سے چڑنے لگی ہے۔ جب دِھیان کی ڈِھبری کسی رہی تو یہ کساﺅرفتہ رفتہ کہانی کی صورت میرے اَندر گونجنے لگا اور اَب یہ حالت ہے کہ میں مُدّت بعد قلم تھام کر بیٹھ گیا ہوں اور ایک پرانی کہانی اَپنی بھرپور بوسیدگی اور تُندی کے ساتھ کاغذ پر اُبلنا شروع ہو گئی ہے۔
میں عاصم کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوے کہانی کی آواز پر دِھیان دینے کو مجبور ہو جاتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے اُس نے طیش میں آ کر اپنا بدن صوفے پر گرا دیا ہے۔ تاہم اُس کی موجودگی کا اِحساس دِھیرے دِھیرے معدوم ہوتا گیا اور کہانی کے قدیم قدم پھر آگے بڑھنے لگے۔
”چُر سے ہوئے وجود والے بڑے نے اَپنے محبت بھرے ہاتھوں کی اَندھی پوروں پر تجسس کی آنکھیں اُگا کر بات شروع کی تو چھوٹے کو اَپنا وجود دِئیے کی بتّی جیسا لگا۔ بہ ظاہر روشنی دیتا مگر جلتا ہوا- راکھ ہوتا ہوا۔ اور جب بڑے نے گلہ کیا تھا کہ وہ اَپنی رَچنی مہندی والی حیاتی میں اِتنا کیوں رُجھ گیا تھا کہ اُسے اَپنے نمانے بڑے بھائی کا دِھیان تک نہ آیاتو اُسے بڑا بھائی اَپنی دھواں دیتی رَجلی خجلی زِندگی کی گاڑی سے رَہ جانے- حسرت سے دیکھنے اور دھواں پھانکنے والی اُس بے چاری سواری کی طرح لگا- جو کھانسے جاتی ہو اور کوسے جاتی ہو۔ لمبی مسافت میں پیچھے رہ جانے والے اَپنی ہی چھاتی پر سانسوں کے ہتھوڑے مارنے اور اَپنا ہی جی جلانے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وقت اَپنی ہلگت کے موافق مونچھوں سے چنگاریاں نکالتا- گولر کاپیٹ پھڑوانے کو ہڑکائے پھرتا تھا۔ مگر دھریک کے عین تلے بیٹھے دونوں بھائیوں کی پنیائی دِیکھتے ہوے مسٹ مار کر بیٹھنے کو مجبور ہو گیا۔ تاہم کب تک…. اَب کے یوں ہڑک اُٹھی کہ نئے بانکے کی طرح تاڑ کی تلوار اُٹھائے اوچھے وار پرتُل گیا۔“
کہانی ٹھٹھک کر رُک جاتی ہے کہ میرا بیٹا‘ نہ جانے کب‘ صوفے سے اُٹھ کر عین میرے پیچھے کھڑا ہو گیا ہے…. اور…. اب وہیں سے کہانی پر جھکا ہوا ہے۔ وہ چند سطریں پڑھنے کے بعد منھ ہی منھ میں بڑبڑاتا ہے۔ اس بڑبڑاہٹ میں سے جو لفظ مجھ تک پہنچا ہے وہ غالباً Rubbish یا Mawkish تھا۔ میں جانتا ہوںMawkishکا مطلب متلی آور بوداراور کریہہ ہوتا ہے جبکہ Rubbishبکواس بھی ہے اور کاٹھ کباڑ بھی۔ جس طرح کی زِندگی مجھ پر مسلط کر دی گئی ہے اُس کے لیے یہ دونوں الفاظ بھی اِستعمال ہوتے تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن میری کہانی کے لیے اِن میں سے کوئی بھی لفظ اِنتہائی نامناسب تھا۔ میرابیٹا میری طرف دیکھے بغیر سیدھا ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے اور پہلو سے ٹیبل کے قریب آ کر اس پر پڑی CD’sکو جان بوجھ کر پٹخنے لگتا ہے ۔ حتّٰی کہ مجھے کہنا پڑتا ہے کہ وہ مزید پندرہ منٹ تک سکون سے بیٹھ جائے۔
اُسے میری بات سن کر تعجب ہوتا ہے اور اُلجھن بھی۔ یہ اس کا اپنا کمرا ہے۔ جس میز پر میں بیٹھتا ہوں اس پر اس کا کمپیوٹر پڑا ہے۔ وہ اس پر اِنٹرنیٹ کے ذریعے وہ نئی نئی سائیٹس دیکھتا ہے اور ان میں کھویا رہتا ہے۔ یہ بجا کہ کبھی یہ میرا کمرا ہواکرتا تھا۔ میں یہیں کتابوں میں گم رہتا تھا- کہانیاں پڑھتا اور کہانیاں لکھتا تھا ۔ معنیاتی سلسلے اور جمالیات کا عجب جہان تھا کہ جس مِیں‘مَیںکھویا رہتا تھا۔ میں تخلیقی وفور کے اِس تجربے میں نہال تھا …. مگر فوزیہ کاخیال تھا یہی کہانیاں میری رَاہ کی سب سے بڑی رُکاوٹ تھیں لہذا اُس نے مجھے مجبور کر دِیا تھا کہ میں اپنے مطالعے کے کمرے سے ساری کتابیں سمیٹ لوں اور ٹرنکوں میں بند کر دوں یا پھر پرانی کتابوں کی دُکان پر بیچ آﺅں۔
بہ ہرحال اب یہ کمرا عاصم کا ہے اور میں اُسے ہی کَہ رَہا ہوں کہ وہ مزید پندرہ منٹ سکون سے بیٹھ جائے۔ وہ اس بیڈ پر کہ جس پر اس کے کاسٹیوم- سوکس- فیشن میگزنیز اور کمپیوٹربُکس کے علاوہ ڈِش کے مختلف چینلز سے مسلسل نشر ہونیوالے یا پھر کوڈ لگے پروگرامز کے بروشرز پڑے ہیں- ڈھیر ہو جاتا ہے؛ یوں کہ اُس کے پاﺅں نیچے اِدھر اُدھر لڑھک رہے ہوتے ہیں ۔ پالش اُڑے موٹے تلووں اور اُٹھی گردن والے فیشن زدہ بوٹوں سے‘ کہ جنہیں وہ Rock Shoesکہتا ہے‘ فرش پر پڑی آڈیو اور ویڈیو کیسٹس کو یوں ہی اِدھر اُدھر دھکیلنے لگتا ہے۔ مجھے اَپنی طرف متوجہ نہ پا کر اور اُکتا کر وہ ہاتھ بڑھاتا ہے ‘بیڈ ہی کے ایک کونے میں پڑی ٹائم پیس کو اُٹھا کر اَپنی چھاتی پر رکھ لیتا ہے اوراُسے مسلسل گھورنے لگتا ہے۔
کمرے کے سارے سناٹے میں وقت گزرنے کا اِحساس دَھڑکنے لگتا ہے۔
میں اور میری کہانی دونوں اُس کی پرواہ نہیں کرتے ۔
وہ میری طرف دیکھتی ہے اور میں کہانی کی طرف اپنے پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہو جاتا ہوں:
”لمحہ لمحہ کر کے آنے والا وقت اَرنڈ کی جڑ ہوتا ہے- بالکل بے بھروسہ ۔ لیکن وہ نبھڑ وقت آ گیا تھا اور یوں پینترا بدلا تھا کہ چھوٹے پر اگلا وار ہفتے گانٹھنے جیسا تھا۔ پہلے پہل اُسے ہچک سی لگ گئی مگر نگوڑا وِیلا کاہے کو نچلا ہو بیٹھتا۔ نیم نہ چھوڑے تنائی۔ گات اُبھارے آگے بڑھا اور اَپنے کھِیسے سے وُہی تکلا نکالا جو اس کی بیوی اس کے سینے پر لال ٹماٹر ہوتے موتی جھّروں میںچبھّونے کو نکالا کرتی تھی۔ اس تکلے کا وار گہرا تھا بہت ہی گہرا۔“
یہاں پہنچ کر میں گہرا سانس لیتا ہوں اور فتح مندی کے اِحساس کے ساتھ اَپنے بیٹے کے کھولتے ہوے وجود کو دیکھتا ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ تو وہی کھولاﺅ ہے جو ایک مُدّت سے میرے اَندر اُٹھتا رہا …. اور اب کہانی کے راستے زائل ہو رہا ہے….
ادھر میرے اندر سے یہ کھولاﺅ یوں پھوٹ بہا ہے جیسے فصد کا منھ کھل گیا ہو اور اُدھر طرفہ دیکھیے کہ اسی کے باعث میرے بیٹے کے وجود میںفساد مچا ہو ہے ۔
بہت پہلے جب میں تواتر سے کہانیاں لکھا کرتا تھا اور میری بیوی کو شکایت تھی کہ کہانیوں کے بوجھ نے میری رفتار مدھم کر دی تھی- اتنی مدھم کہ میں اس کی تیز ی سے آگے بڑھتی خواہشات کا ساتھ دینے سے قاصر ہو گیا تھا۔
اُس کا خیال تھا کہ کہانیوں کے اِس بوجھ کا اصل سبب وہ اِحسانات ہیں جو میں اُٹھائے پھرتا ہوں۔ اور اس نے تجویز کیا تھا کہ مجھے اَپنے سارے پرانے اِحسانات کا بوجھ اُتار پھینکنا چاہیے۔ خصوصاً بڑے بھائی کے‘ کہ جس نے میرے طالب علمی کے زمانے میں آدھی زمین اور میری شادی پر باقی بچ رہنے والی آدھی ملکیت بھی رہن رَکھ دِی تھی ….اور اب اپنا بیٹا میرے پاس رہنے اور اپنا مستقبل بنانے کو بھیجنا چاہتا تھا۔
میری بیوی کا خیال تھا مجھے فوراً ایک معقول رقم بھائی جان کو بھیج کر معذرت کر لینی چاہیے۔
یوں تو وہ وقتاً فوقتاً میرے گاﺅں کے سب ہی عزیزوں سے معذرت کر چکی تھی تاہم اس معقوم رقم کے بندوبست ہونے اور معذرت کر دئیے جانے کے بعد زِندگی میں میرے آگے بڑھنے کی رفتار بہت تیز ہو گئی تھی….
اِتنی تیز کہ ساری کہانیاں بھی کہیں پیچھے رہ گئی تھیں۔
مگر ریٹائر منٹ کے بعد وہ فاصلہ جو میرے اور میری بیوی کے بیچ تھا اور وہ فاصلہ جو میرے اور میرے بیٹے کے درمیان دِیوار کی صورت نہ جانے کب تن کر کھڑا ہو گیا تھا- میرے لیے ناقابل برداشت ہوتا چلا گیا ….
حتّٰی کہ میں زبردستی اَپنے بیٹے کے کمرے میں آ گھسا اور اَپنا/اُس کا ٹیبل خالی پا کر کاغذ قلم تھام لیا۔
ایسے میں کہانی پوری شدّت کے ساتھ میرے تڑختے ہوئے وجود سے بہہ نکلی۔
اور اب میرے پاس اُن پندرہ منٹوں میں سے صرف پانچ منٹ باقی ہیں جو میں نے کہانی کی تکمیل کے لیے اَپنے بیٹے سے لیے تھے۔
مجھے فوراً کہانی مکمل کرنی ہے کہ لمحے تیزی سے کچرا بن کرڈسٹ بِن میں گرتے جا رہے ہیں۔
میں سنبھل کر بیٹھ جاتا ہوں اور اب تک لکھا جا چکا آخری جملہ پڑھتا ہوں۔
”اس کے تکلے کا وار گہرا تھا‘ بہت ہی گہر ا “
اور پھر ذہن پر زور دے کر اگلا جملہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِھیان بیڈ کی طرف بھٹک جاتا ہے ۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ وہاں عاصم نہیں ہے۔
ساتھ ہی ساتھ کمرے کے باہر چار قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے۔
میں اس چاپ کو پہچانتا ہوں کہ اسی تلے تو میرا دل کُچلا جاتا رہا ہے ۔
میں عجلت میں قلم اُٹھاتا ہوں اور لکھتا ہوں:
”چوڑی چکلی چھاتی پر تکلے کا گھاﺅ…. “
جملہ نامکمل رہ جاتا ہے کہ ماں اوربیٹا دونوں تکلے کی سی تیزی کے ساتھ زِندگی کے کمرے کے اندر گھس آتے ہیں…. یوںکہ کہانی بھی نامکمل رہ جاتی ہے۔


کچھ اس افسانے کے باب میں

توصیف تبسم
توصیف تبسم

ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ 

محمد حمید شاہد کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ‘ دنیا سے متعلق ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا ہی نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے‘ یعنی ہم محض بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ نئی یافت سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں۔ بقول مبین مرزا فکشن محمد حمید شاہد کا مشغلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ فن سے سچی اور کھری وابستگی نے افسانہ نگار کو ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جہاں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی مل کر ایک ہو گئی ہیں ۔ انسانی زندگی کاا لمیہ ہویا سیاسی وسماجی حالات کا دھارا‘ محبت کے کومل جذبے ہوں یا رشتوں کی مہک‘ ریاستی گروہی جبر ہو یا عالمی دہشت گردی یا پھر تہذیبی حوالوں کو نگلتی بازاری ثقافت ‘محمد حمید شاہد کا قلم یکساں روانی اور تخلیقی وقار کے ساتھ سب کو سمیٹتا چلا جاتا ہے۔
فن کار کا ایک منصب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ کرے۔ محمدحمیدشاہد نے اپنے بیانیے کو ایک سے زائد سطحوں پر یوں متحرک کرلیا ہے کہ وہ مطلق طور پر انسانی آہنگ میں ڈھل گیا ہے۔ اسی لیے تو احمد ندیم قاسمی کو کہنا پڑا کہ” محمد حمید شاہد کے افسانوں کا ایک ایک کردار ‘ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔“ خود شعوریت سے جہاں افسانہ نگار نے متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری کی ہے وہاں انہوں نے اپنے افسانوں کو ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ بھی سجھا دی ہے ۔ محمد حمید شاہد کے ہاں نوحقیقت پسندی کے حوالے سے عمدہ مثال بن جانے والے افسانوں میں” برف کا گھونسلا“ ” برشور“ ” لوتھتکلے کا گھاﺅ“ ” ملبا سانس لیتا ہے“ ” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ”جنم جہنم“”چٹاکا شاخ اشتہا کا“ ” آدمی کا بکھراﺅ“ ”پارہ دوز“ اور ” مرگ زار“ جیسے افسانے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بقول ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی دراصل زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے جسے جدیدیت پسندوں کی نافہمی اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کر دیا تھا۔ محمد حمید شاہد کےافسانے سورگ میں سور“”گانٹھ “ اور مرگ زار“  پاکستان اور اردو ادب کے شاہکار تسلیم کیے جائیں گے

ڈاکٹر توصیف تبسم


،،



محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …