M. Hameed Shahid
Home / افسانے / رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہد

رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہد

ruki hui zindgi

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا – ندیدہ ہو کر۔
عاطف اُسے دِیکھ رہا تھا – ہک دَک ۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا – یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔
وہ بھوکا تھا۔
شاید بہت ہی بھوکا‘ کہ سالن کی رکابی اور روٹیوں کی چنگیر پر پوری طرح اوندھا ہو گیا تھا۔
جتنی دیر وہ چپڑ چیک چپڑ چپاک کر کے کھاتا رہا – عاطف اُس کے پراگندہ بالوں کے نیچے اور پیچھے چھپ جانے والے چہرے کو ڈھنگ سے دیکھنے کے جتن کرتا رہا اور اُن معصوم لکیروں کو تلاش کرتا رہا جو کبھی تھیں – اَب کہیں نہیں تھیں۔ وقت کی سفاکی نے سب کچھ مِٹا کر ایک نئی تحریر لکھ دی تھی ۔
ایسی تحریر جو پورے بَد ن میں اِضمحلال بھر رہی تھی۔
وہ پوری طرح جھکا ہوا تھا۔
اور اُس کے جبڑوں اورہونٹوں کے باہم ٹکرانے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔
وہ بہاول پور سے عاطف کے ہاں پہنچا تھا ۔ کیوں؟ یہ اُس نے نہیں بتایا تھا۔
شاید اس کا ابھی موقع بھی نہیں آیا تھا کہ وہ تو دفتر سے گھر واپسی پر اُسے گیٹ پر ہی مل گیا تھا۔
عاطف جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں کوئی اور اَصول ضابطہ ہو نہ ہو – چھٹی وقت پرمِل جایا کرتی۔ وہ سیدھا گھر پہنچتا کہ شائستہ اُس کی منتظر رہتی تھی۔
شروع شروع میں عاطف کو یقین تھا کہ یہ سچ مچ کا اِنتظار تھا – اَندر سے اُٹھتی تاہنگ والا – تبھی تو اُسے سیدھا گھر آنے کی عادت ہو گئی تھی مگر بعد اَزاں یہ ہوا کہ سب کچھ اُس کے معمولات کا حصہ ہو گیا۔
شائستہ کو بھی پہلے پہل اِنتظار میں لطف آتا تھا ۔ کھٹا میٹھا لطف۔
اگرچہ اوجھ جیسے وجود نے پہلے ہی دِن اُس کے اَندر کراہت کی ایسی گولی سی رکھ دی تھی جو اُسے دیکھتے ہی خود بخود دُھواں چھوڑنے لگتی مگر کہیں نہ کہیں سے لذت کی مہک بھی اٹھتی رہتی۔ دوسرے بَد ن کو چھو لینے کی لذت یا پھر اُسے دِیکھنے اور دِیکھے چلے جانے کی لذّت۔
وہ جیسا بھی تھا؛ اُس پر نظر ڈالتا تھا۔ ایک تار نہ سہی؛ جھجک جھجک کر سہی اور لُکنت زدہ لفظوں سے اتنی پھسلن بنا ہی لیتا کہ وہ اُس پر کوشش کر کے ہی سہی – پہروں پھسل سکتی تھی اور دُور تک‘ بہت دُور تک جا سکتی تھی۔
مگر رَفتہ رَفتہ عجب اُفتاد آن پڑی کہ پہر سُکڑنے لگے ۔
اور یُوں لگتا تھا کہ وہ دونوں لذّت کے زور سے جتنی دُور جا سکتے تھے – جا چکے‘ کہ اَب تو بَد ن میں کساوٹ اُترنے لگتی اور شائستہ کو کوفت ہوتی تھی۔
جب اُس نے آ ہی جانا ہوتا تو اِنتظار کیوں؟ اور اضطراب کیسا؟؟
غیر مانے – عادت نہ مانے۔ عادت نہ کہیں بَد ن کَہ لیں۔
عادت کی ڈوری میں بندھا بَد ن دُکھتا تھا ۔ دُکھتا تھااور ٹوٹتا تھا۔
اس ٹوٹتے بَد ن کو پھر بھی اِنتظار کی گرہ دِی جاتی رہی حتّی کہ عادت معمول ہو گئی۔
دونوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ معمول کے اِس دائرے کو توڑ ڈالیں۔
یوں نہیں تھا کہ عاطف گھر آتا تو پھر باہر نکلتا ہی نہیںتھا۔ لاہور ایسا شہر تھا جو کئی کئی گھنٹوں کے لیے مصروف رَکھ سکتا تھا ۔ بے تکلف دوستوں سے ملتا۔ اِحباب کی مہذب مجالس میں بیٹھتا یا پھر اُس سے ملتا جو سارے فاصلے ختم کر ڈالنے کے ہنر جانتی تھی۔
وہ فاصلے یوں ختم کرتی تھی‘ جیسے کہ وہ ہوتے ہی نہیں تھے۔
پہلے وہ اُن موضوعات کو چھیڑتی جو عاطف کی کم زوری تھے یا پھر عاطف جن پر سہولت اور رغبت سے کچھ کَہ سکتا تھا۔ وہ اَپنی بات کَہ رہا ہوتا تو وہ چپکے سے اَپنے جذبوں کے دھاگے کا سرا‘ اُس کی چلتی بات کے ساتھ باندھ دِیتی اور پھرگِرہ پرگِرہ دِیے چلی جاتی۔
یہ جذبے اُس فتنے کی خیزش سے بندھے ہوتے جو عاطف کو گھر پلٹنے تک برف کا تودہ بنا دیا کرتے تھے۔
اکثر یوں ہوتا کہ عاطف گھر لوٹتا تو شائستہ کا بَد ن خفگی کے تناﺅ کی لہریں چھوڑ رہا ہوتا۔
بَد ن کی کوسوں کے اُوپر ہی اُوپر تیرتی یہ لہریں ایسے لمس کی تھپکی مانگتی تھیں جو عاطف کے اَندر رُوبی نے باتوں کے کھانچے میں کہیں یخ بستہ کر دِی تھی۔
جب کہ شائستہ غصے سے کھولتی تھی۔ کھولتی تھی اور کچھ نہ بولتی تھی۔
کہ وہ پہل کر کے بولے چلے جانے کی عادِی نہیں ہوئی تھی۔
عاطف کبھی کبھی چاہتا کہ وہ اُس پر برس پڑے – لڑے جھگڑے اور جو کچھ اُس کے بَد ن کی سطح مرتفع پر لہریں سی چھوڑ رہا تھا اُسے چیختے چنگھاڑتے لفظوں میں ڈال دِے۔ یوں کہ عاطف کے لیے اَپنی بات کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔
وہ بات جس سے خیزش کی تانت بندھی ہوتی ہے۔
مگر اس کا بَد ن سمندر کی بھوکی بپھری لہروں کی طرح اُوپر نیچے ہوتا رہتا اور ایسا شور چھوڑتا – جوماحول کا حصہ ہو کر سکوت میں ڈَھل جاتا ہے یا پھر ایسا شور جواَپنی دہشت سے پَرے دھکیل دِیتا ہے اور سماعتوں کو بند کر دیتا ہے۔
وہ سننا چاہتا مگر کچھ بھی سُن نہ پاتا تھا کہ ایک سکوت تنا ہوا تھا۔ گاڑھا – گھمبیر اورگھمس والا سکوت۔ یا پھر شاید ایک دہشت کاتناﺅ تھا – دِل کھینچ لینے والی دِہشت کا طالح تناﺅ۔
معمول کبھی کبھار ٹوٹ بھی جاتا تھا ۔ ایسے کہ جیسے کوئی بے دِھیانی میں ایک ہاتھ دُوسرے ہاتھ کی طرف لے جاتا ہے۔ دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں بائیں کی اُنگلیوں میں بٹھاتا ہے – ہتھیلیوں کو سامنے کر کے دونوں کہنیوں کوتان لیتا ہے اور پھر عین انگلیوں اور ہتھیلیوں کے جوڑ سے چٹخارے نکال دِیتا ہے۔
احباب کے دَائرے میں وہ ایک مثالی جوڑا جانے جاتے تھے۔ جب کبھی تقاریب میں اُنہیں اکٹھے شریک ہونا پڑتا – تو وہ ایک دوسرے کے آس پاس ہی رہتے۔
شاید اُس فاصلے کو پرے دھکیلنے کے لیے – جو دونوں کے بیچ تھا۔
وہ ایک دوسرے کو احتیاطاً دِیکھ لیا کرتے – کھسیانے ہوتے – ہنس دِیتے اور لوگ اُن کا یوں مسکرا کر ایک دوسرے کو دِیکھنا حسرت اور لطف سے دیکھا کرتے تھے۔
مگر کچھ تو تھا – جو دُونوں کے بیچ تھا اور کچھ اَیسا بھی تھا – جو دونوں کے بیچ نہیں تھا۔
مرد اَپنی عورت سے چھپ چھپا کر باہر جو کچھ کرتا ہے – عورت اُسے جان لیا کرتی ہے۔
شاید اِس لیے کہ باہر کی ساری کارگزاری وہ بے خبری میں اَپنے تن پر لکھ لایا کرتا ہے‘ یوں کہ وہ خود تو اُس تحریر سے بے خبر ہوتا ہے مگر عورت اُسے پڑھ لیتی ہے ۔ ایک ایک لفظ کو۔ ایک ایک شوشے اور نقطے کو اور اُن وقفوں کو بھی جو اِن لفظوں اور سطروں کے بیچ پڑتے ہیں۔
شائستہ نے عاطف کے بَد ن کے اوراق پر لکھے متن کو جب پڑھا تھا تو وہ رُوبی کی خُوشبو تک سے آگاہ ہو گئی تھی۔
اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتی تو وہ بِپھر جاتی مگر وہ ایسی عورتوں میں سے تھی ہی نہیں – جو کسی بھی بات کو خود ہی آغاز دِے لیا کرتی ہیں۔
اُسے تو خود آغاز چاہیے تھا۔ بھیگا ہوا آغاز۔
ایسا کہ جس کا اَنجام بھی بھیگا ہوا ہو۔
عاطف کے پاس اَیسے الفاظ کہاں تھے جو پہل قدمی کاہنر جانتے ہوں کہ ایسے اَلفاظ تو ہر بار اُس کے بَد ن کی جھولی میں رُوبی ڈالا کرتی تھی۔
اور وہ اسی کا عادی تھا۔
اِس عادت نے شائستہ کے بَد ن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی – شاور لیتی تو پانی کی پھوار تلے سے نکلنا جیسے بھول ہی جاتی – حتیٰ کہ اُسے یوں لگنے لگتا جیسے جسم کے اُوپر ایک جِھلی سی نمودار ہو گئی ہو۔ وہ لرزتے ہاتھوں کی لمبی پوروں سے اُس جِھلی کو چھوتی تو لمس بَد ن کے اُوپر ہی اُوپر تیرتا رہتا۔ اِدھر سے اُوب کر باہر نکلتی تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر آئینے میں خود کو دِیکھے جاتی۔ پورا کمرا‘ اِمپورٹیڈ باڈی لوشنز اور پرفیومز سے مہکنے لگتا ۔ اِسی مہک میں کپڑوں کی سرسراہٹیں جاگتیں ‘ ویکسنگ اور پفنگ کے بعد بلش آن اور کاسمیٹکس کے اِنتخاب میں ایک مُدّت گزر جاتی۔ جب وہ اَپنے اطمینان کی آخری حد تک سنور چکی ہوتی – تو وہ آئینے میں خود کو پہلو بَد ل بَد ل کر دیکھتی ۔ دیکھتی اوردیکھے چلے جاتی – حتیٰ کہ آئینہ وہ منظر دکھانے لگتا تھا جِس میں وہ نہیں ہوتی تھی۔
اِسی اَثنا میں کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی آ جاتی تو اُسے کئی کام سوجھ جاتے۔ جلدی جلدی ٹشو پیپرز سے چہرے پر جمی میک اَپ کی تہیں اُتار دِیتی۔ جب ٹشو پیپرز کا ڈھیر لگ جاتا تو اُس کی مصروفیت کا ڈھنگ بَد ل جاتا۔ گھر کو خوب چمکایا لشکایاجاتا ۔ صاف ستھری چادروں کو پھر سے بَد لا جاتا۔ اِدھر اُدھر دیواروں پر چھینٹے ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیے جاتے۔
یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو جا تی ۔
ایک اِنتظار کے لیے موزوں حد تک نڈھال۔
پھر وہ آ جاتا تو اُس کے بَد ن پر لہریں سی اُٹھتیں ۔
لہریں اُٹھتی رہتیں اور اُس کا بَد ن ٹوٹ جاتا ؛ اُن لفظوں کی چاہ میں جو آگے بڑھ کر اُس کی ساری تھکن چُوس سکتے تھے ۔
مگر عاطف تو خود پہل قدمی والے الفاظ کہیں سے مُستَعار لینے کا عادی تھا۔
رُوبی سے اور رُوبی سے پہلے ایک اور لڑکی تھی فرحانہ – اُس سے۔
وہ بھی تو رُوبی جیسی ہی تھی۔
شائستہ بہت بعد میں اُس کی زِندگی میں آئی۔ تب جب دونوں نے اُس کا بَد ن اوجھ جیسا بنا دیا تھا۔
کچوکوں سے بیدار ہونے والا۔
یوں جیسے اس کا بَد ن نہ ہو مٹی میں مٹی ہو کر اور مکر مار کر پڑ رہنے والا وہ لسلسا کیڑا ہو جسے پھل سنگھی اَپنی لمبی چونچ کے ٹھونگوں سے جگاتی ہے۔
جب بہاولپور سے آنے والا میلا کچیلا شخص اُسے دروازے پر ملا – تب تک شائستہ کا ساتھ ہوتے ہوے بھی کچوکوں سے بیدار ہونے کی عادت کو ساتواں برس لگ چکا تھا۔
اِس سارے عرصے میں وہ دو سے تین ہو چکے تھے ۔ ڈیڑھ برس پہلے ہی اُن کے ہاں ننھے فرخ نے جنم لیا تھا جو اَب پوری طرح شائستہ کو اَپنی جانب متوجہ کیے رَکھتا۔
بہ ظاہر گھر مکمل تھا۔ مکمل اور پرسکون دِکھنے والا۔
سب کچھ ایک ڈَھنگ سے ہوتا نظر آتا تھا۔
مگر وقت کی ڈِھینگلی کے سرے سے بندھا معمولات کا بوکا جو پانی باہر پھینکتا تھا – وہ دونوں کی زبانوں پر پڑتے ہی کھولتا رَصاص ہو جاتا تھا – آبلے بنا دینے والا۔
ایساکیوں ہوتا ہے ؟
یہ سوال دونوں کے سامنے آتا رہا مگر وہ اِس کا صحیح صحیح ادراک کر سکنے اور اِس پر قابو پا لینے کی صلاحیت نہ رَکھتے تھے۔ وہ تو شاید اِس ساری صورتحال کے مقابل ہونے کو تیار ہی نہ تھے۔ تب ہی تو عاطف کے ہوتے ہوے بھی شائستہ ننھے فرخ ہی سے مصروف رہے چلے جانے کو ترجیح دِیا کرتی۔
وہ جانتا تھا کہ وہ کیوں فرخ کو گھٹنوں پر اوندھا کیے مالش کیے جاتی ہے؟ کس لیے اُس کے پاﺅں کے تلووں پر گال رَگڑ رہی ہے؟ اُس کے پیٹ پر منھ رکھ کر پھوکڑے مارتی ہے تو کیوں؟ اُس سے باتوں میں مگن رہنا – لاڈ سے ہونٹوں میں لوچ ڈال لینا اور وہ کہے جانا جس میں کوئی ربط نہ ہو – عاطف کی سماعت سے ٹکرا کر مربوط ہو جاتا مگر عاطف تو صرف اپنے اوجھ بَد ن پر کچوے چاہتا تھا لہذا ننھے وجود کی نازک جلد پر نرم نرم چکنے ہاتھوں کا یوں پھسلنا – اُسے گیلے ہونٹوں کی لرزش دَبا کر بوسے دینا – ہونٹ جما کر اور پٹاخ کی آواز پیدا کرتے ہوئے – ماتھے پر‘ ہونٹوں‘ گردن‘ ناف اور رانوں پر‘ حتیٰ کہ دائیں یا بائیں پاﺅں کے انگوٹھے کے گرد ہونٹوں کو رَکھ کر گھما لینا – سب کچھ رائیگاں چلا جا رہا تھا۔
تاہم فرخ اِس پیار کی بوچھاڑ سے کھل کھل ہنستا – غوں غوں کرتا اور زور زور سے اَپنے پاﺅں مارنے لگتا تھا۔
جس روز بہاولپور سے اُن کے ہاں مہمان آیا – اس روز شائستہ پروگرام بنائے بیٹھی تھی کہ عاطف کے آتے ہی وہ ننھے فرخ کو نیم گرم پانی سے نہلائے گی کہ وہ اُسے قدرے مَیلامَیلا لگ رہا تھا مگر جب وہ مہمان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا نظر آیا جو اَزحدمَیلا تھا تو وہ اَپنا پروگرام بھول چکی تھی۔
اُس کے وجود میں لسلسلے وجود کی پہلے سے موجود کراہت کے ساتھ عجب طرح کی باسی گِھن بھی گُھس بیٹھی تھی۔
عاطف اَپنے مہمان کو بٹھا کر ذرا فاصلے پر کھڑی شائستہ کے پاس آیا – بوکھلایا ہوا۔
جب اُسے کچھ کہنا ہوتا اور شائستہ کسی دوسری کیفیت کو چہرے پر سجائے ہوتی تو وہ یوں ہی بوکھلا جایا کرتا تھا۔
شائستہ کچھ سننے کے مُوڈ میں نہ تھی ۔ اُس نے مہمان کے سلام کا بھی کوئی نوٹس نہ لیا تھا کہ اِس نئے وجود سے اُمنڈتی گھِن کو اپنے بَد ن میں موجود کراہت کے پہلو میں بٹھا چکی تھی‘ حتیٰ کہ سب کچھ نفرت میں ڈَھل کر اُس کے چہرے سے چھلکنے لگا۔ شائستہ کے لیے اَپنے اِن شدید جذبوں کے ساتھ وہاں رُکنا ممکن نہ رہا تو وہ اَپنے قدموں پر گھومی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔ اِسی اثنا میں عاطف کچن میں خود کو معمول پر لاتا رہا۔ اگرچہ وہ مہمان کے لیے پانی لینے آیا تھا مگر ریفریجریٹر سے بوتل نکالنے کے بہانے اُسے پوری طرح کھول رکھا تھا۔ یوں کہ اُس کاسینہ اور چہرہ – دونوں یخ جھونکوں کے سامنے رہیں۔
اُسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب شائستہ اُس کے عقب میں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ تو تب بَدحواس ہو کر ایک طرف ہو گیا – جب اُس نے اَپنے دائیں ہاتھ سے اُس کے بائیں کندھے کو قصداًذرا زور سے دبا کر اُسے ایک جانب دھکیلا تھا۔
وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا جہاں بوکھلا کر پہنچا تھا۔ شائستہ نے پانی کی بوتل نکالتے ہی قدرے جَھٹکے سے ریفریجریٹر کا دروازہ بند کیاتھا۔
پھر اُس نے سینک کے کونے میں پڑا وہ گلاس نکالا جو دونوں کے اِستعمال میں نہیں آتا تھا اور اس چنگیر کی جانب لپکی جس میں پہلے سے روٹیاں لپٹی ہوئی پڑی تھیں ۔ شائستہ بچ جانے والی روٹیوں کو اِسی چنگیر میں رَکھتی تھی کہ صفائی والی ماسی آتی تو لے جایا کرتی۔
رکابی میں سالن بھی پہلے سے موجود تھا – شوربا – جس کی سطح پر ایک جھلی سی بن گئی تھی۔ شوربے کے بیچ میں پڑا ہوا اکلوتا آلو اَپنی رنگت بَد ل کر گہرا بھورا ہو گیا تھا۔ یقینا ماسی آج نہیں آئی تھی۔ اُس نے اَپنے یقین کے استحکام کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کوئی اور نشانی تلاش کر لیتا – شائستہ نے اُسے پھر چونکا دیا۔ وہ ایک ٹرے میں پانی کی بوتل – گلاس – چنگیر اور رکابی رکھ کر اُس کی سمت بڑھانے کے بعد لفظوں کو چبا چبا کر کَہ رہی تھی ۔
”جب وہ کھانا کھا چکیں تو اصرار کر کے انہیں روک نہ لیجئے گا۔“
اُس نے اُسے نہیں روکا تھا مگر وہ خود ہی رُک گیا تھا۔
شائستہ سارا وقت اَپنے بیڈ روم میں اُوندھی پڑی رہی اور بہت دیر بعد جب عاطف کمرے میں آ کر آنے والے مہمان کی بابت اُسے بتا رہا تھا تو اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں ۔ اُسے کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا۔ ”ضرورت مند“۔ ”پرانا کلاس فیلو “ اور ”مدد“ جیسے الفاظ اُس کے کانوں میں پڑے تھے۔ ایک میلے کچیلے شخص کی اوقات کے لیے یہ کافی تھے لہذا اُس نے اَپنی سماعتوں کو بند کرلیا – پہلو بَد ل کر لیٹ گئی اور سارے بَد ن کو موج دَر موج اُچھل جانے دیا۔
اَگلے روز ناشتے تک وہ نہیں اُٹھا تھا۔ دفتر کے لیے تیار ہونے کے بعد اور ناشتے کے لیے بیٹھنے سے پہلے – عاطف نے ڈرائنگ روم میں جھانکا ۔ وہ وہیں صوفے پر – عین اُسی رُخ لیٹا ہوا تھا ؛ رات اصرار کر کے جس رخ لیٹ گیا تھا۔ مہمانوں کے لیے بیڈ روم اوپر تھا مگر وہ وہیں صوفے پر لیٹنا چاہتا تھا۔ لیٹ گیا اور اَب اُٹھنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ عاطف نے دِل ہی دِل میں اسے وہی گالی دِی جو اُسے بچپن میں دِیا کرتا تھا او ر ناشتے میں مگن ہو گیا۔
جب وہ دفتر کے لیے نکلنے لگا تو عاطف میں ہمت نہ تھی کہ وہ شائستہ کو مہمان کے حوالے سے کوئی ہدایت دِیتا یا فرمائش کرتا۔ کوٹ کی جیبوں کو ٹٹول کر اپنا چرمی پرس نکالا – اُس میں سے اَپنا وزیٹنگ کارڈ الگ کیا اور اُس میز پر رَکھ دِیا جس کے قریب پڑے صوفے پر وہ یوں بے خبر سو رہا تھا کہ سارا ڈرائنگ رُوم اُس کے خراٹوں سے گونجتا تھا۔
بے اِختیار وہی گالی عاطف کے ہونٹوں پر پھر سے گدگدی کرنے لگی ۔
اُس کے ہونٹ بے اختیار پھیلتے چلے گئے۔ وہ منھ ہی منھ میںبڑبڑایا اور باہر نکل گیا۔
دفتر میں وقفے وقفے سے اُسے مہمان کا خیال آتا رہا۔
رات اُس نے جو دلچسپ باتیں کی تھیں – اُنہیں یاد کرتا تو مسکرانے لگتا۔ شائستہ کے روّیے کے باعث اُسے جو خفت اُٹھانی پڑی تھی وہ اُسے ملول کرتی تھی لہذا اُس نے اپنے تئیں طے بھی کر لیا تھاکہ وہ اُس کی کیا مدد کرے گا۔
جب بھی ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی – اُسے گماں گزرتا کہ گھر سے کال ہو گی حتیٰ کہ اُسے تشویش ہونے لگی۔ پھر وہ چاہنے لگا کہ خود فون کر کے مہمان کی بابت پتا کرے۔ اُس نے دوبار نمبر گھمایا بھی – مگر اِس خیال سے کہ فون شائستہ اُٹھائے گی – اُس نے اِرادہ ملتوی کر دیا ۔ تیسری بار وہ گھر کا نمبر ملاتے ملاتے نہ جانے کیوں رُوبی کو ڈائل کر بیٹھا۔
وہ تو جیسے اُسی کے فون کی منتظر تھی۔
پہلے تو باتوں میں اُلجھا لیا – پھر جذبوں کی ڈوری سے اُسے یوں باندھا کہ وہ دفتر سے غائب ہو کر سیدھا اُس کے پاس پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔
جب وہ گھر میں داخل ہو رہا تھا تونہ جانے کیوں اُسے یقین سا ہو چلا تھا کہ مہمان جا چکا ہو گا مگر وہ تو وہیں تھا۔
اُس نے مدھم مدھم آواز کو سنا تو اُسے یقین نہ آتا تھا۔
شوخ سی آواز – مسلسل بولنے کی ۔ تھوڑے تھوڑے وقفے دے کر۔ اور الفاظ یوں شباہت بناتے تھے کہ جیسے انہیں اَدا کرنے والے ہونٹ لوچ دَار ہو گئے ہوں۔ باتوں کے وقفوں میں قہقہے اُمنڈتے تھے۔ شائستہ کے شیریں حلقوم سے۔ اس جھلی کو توڑتے ہوے جو ایسے قہقہوں سے الگ رہنے کے سبب اُس کی آواز کے اوپر بن گئی تھی۔
یہی قہقہے سننے کی اُسے حسرت رہی تھی۔ اُسے اَچنبھا ہوا کہ شائستہ ایسے رسیلے قہقہے اُچھال سکتی تھی اور اُچھال رہی تھی۔
وہ تقریباً بھاگتا ہوا ڈرائنگ روم کے دَروازے تک پہنچا اور اُسے لگا کہ جیسے سارا ڈرائنگ روم مہمان کی دھیمی ‘مسلسل باتوں سے اور شائستہ کے بے اختیار قہقہوں سے کناروں تک بھر چکا تھا اور اَب چھلکنے کو تھا۔
مہمان نے اَپنے گیلے کھچڑی بالوں کو سلیقے سے یوں پیچھے سنوارا ہوا تھا کہ کنپٹیوں کی سفیدی دَب گئی تھی اور اُس کی آنکھوں میں چمک تھی جو اُس کے سارے چہرے پر ظاہر ہو رہی تھی۔ – یہاں تک کہ جبڑوں کی مسلسل نمایاں نظر آنے والی ہڈیاں بھی اِسی چمک میں کہیں معدوم ہو گئی تھیں۔
جو شخص بول رہا تھا اس کے بَد ن پر عاطف کا پسندیدہ لباس تھا جو اگرچہ اُس پر چست نہ بیٹھا تھا مگر اُسے بارعب بنا گیا تھا۔
دُھلا دُھلایا صاف ستھرا شخص – اُس شخص سے بالکل مختلف ہو گیا تھا جسے وہ صبح صوفے پر خراٹے بھرتا چھوڑ گیا تھا۔
وہ مسلسل بول رہا تھا اور اُس کے ہونٹ ایک طرف دائرہ سا بنا رہے تھے ۔
وہ عاطف کی نظر آنے تک بولتا رہا۔
شائستہ کے قہقہے اُچھلتے رہے۔
عاطف کے نظر آنے پر بھی وہ کسی رَخنے کے بغیر اُچھلتے رہے – حالاں کہ بولنے والا شخص خاموش ہو چکا تھا۔ عاطف کو لگا – شائستہ قہقہے نہیں اُچھال رہی تھی – ننھا فرخ اُس کے گھٹنوں پر اُوندھا پڑا کلکاریاں مار رہا تھا جب کہ نرم ملائم جلد پر مخروطی اُنگلیاں پھسل رِہی تھیں اور پھسلے ہی جاتی تھیں۔
ٍ


کچھ اس افسانے کے باب میں

منظر‘ پس منظرکے ساتھ

سیّد مظہر جمیل
سیّد مظہر جمیل

”رُکی ہوئی زندگی“ ،” لوتھ“، ” پارینہ لمحے کا نزول“،” تکلے کا گھاﺅ“، ”آٹھوں گانٹھ کمیت“ اور” معزول نسل“ جیسی کہانیاں جہاں تیزرفتاری سے بدلتی ہوئی انسانی صورت حال کی تصویریں دکھاتی ہیں ‘وہیں وہ انسانی رشتوں میں آہستہ خرام اور سبک پا ہونے والی شکست و ریخت کی کہانیاں بھی سناتی ہیں۔ ہر کہانی زندگی کے ایک نئے رُخ ‘ نئے پہلو‘ نئے واقعاتی و حسی ماجرائیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
محمد حمید شاہد واردات و ماجرائیت کا کہانی کار نہیں ہے ‘ کسی واقعے اور حادثے کی رپورٹنگ اس کا منصب نہیں ہے۔ وہ توواقعات و حوادث اور افتاد و گداز سے پیدا ہونے والی حسی لہروں کو اپنے تجربے کے انٹینا کی مدد سے اپنے احساس میں جذب کر لیتا ہے اور پھر انہیں تخلیقی طور پر تصویروں کی صورت میں نشر کر دیتا ہے ۔ کہیں یہ تصویریں اپنے منظر‘ پس منظرکے ساتھ رواں دواں دکھائی دیتی ہیںاور کہیں وہ ان کے اقتباس اور پر چھائیوں سے فضا سازی کاکام انجام دیتا ہے کہ رعایت اور علامت نگاری بھی حمید شاہد کی فنی دسترس سے باہر نہیں رہے ہیں۔

سیّد مظہر جمیل



محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

26 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » دوسرا آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *