M. Hameed Shahid
Home / افسانے / پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہد

پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہد

pareena lamhey ka nazool

parina-lamhay-ka-nazol-laaltain-890x395_c
http://www.laaltain.com

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار سکا تھا۔
ایسے جملوں پر فوری یقین کے لیے کچی عمر کی جو نرم گرم زمین چاہیے ہوتی ہے وہ دائرہ دردائرہ گزرتے گھومتے ایک سے یخ بستہ دِنوں کی تہ در تہ برف تلے کب کی گَل کر نیچے بہت دُور کھسک چکی تھی – ایسے میں وہ جملہ جو سماعت بیچ جلترنگ بجا گیا تھا – پکی عمر کی پتھریلی سطح کے کرخت پن سے پھسل کر بدن کی کھنکتی مٹی پر جھنکار چھڑکنے لگا تھا ۔ کیوں کہ بدن کی تنی کمانوں کی تانت جو کب کی ڈِھیلی پڑنے لگی تھی – پھر سے تن گئی تھی۔
یقین نہ تھا – ہاں گماں تھا۔ گُماں بھی یوں تھا کہ اِنتظار کی ڈِھیلی ڈور کے اُس سرے پر اُوپر کی بے آبرو ہوا میں جھولتی پتنگ اَبھی تک بہ ہرحال تھی‘ اگرچہ نہ ہونے کے برابر تھی کہ ہتھیلی پر کشید لکیروں سے لگی ڈور اُنگلیوں کی پوروں کو تو کاٹتی تھی مگر کوئی بھی تُنکا بے حیثیت ہوا میں ڈولتی پتنگ تک منتقل نہ ہونے دیتی تھی ۔
میں اُوپر دیکھتی تھی اور جھولتی پتنگ کے سنگ خودبھی جھول جاتی تھی کہ آنکھ چندھیاتی تھی اور اُوپر سے برستی دُھوپ بارش سارا بدن بھگوتی تھی۔ کچھ خبر نہ تھی کہ ڈور کے اس سرے پر پتنگ بندھی تھی یا اُس سرے پر میں خود۔ ایسے میں یقین دل کے بیچ کیوں کر اُترتا مگر اِنتظار کی ڈُور سے لگا اُمید کا مانجھا تھا اور لپٹتی چرخی – جو مسلسل لپیٹے جا رہی تھی …. تاہم جھول تھا کہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ اِنتظار دَھاگے کو دُھوپ بارش میں کھنچتے کھنچتے سارا بدن پاﺅں کی اس اِیڑی جیسا ہو گیا تھا جس کی جلد تڑخ کر منھ کھول دِیتی ہے اور تب تک کھولے رَکھتی ہے جب تک مرہم اُس کے بیچ نہ اُترے۔
اَیسے ہی دِنوں میں سے ایک دِن تھا جب میرا باپ اَپنی حویلی کے طویل آنگن کو پاٹتا – بارہ دری طے کرتا – گھمن گھیری ڈالتے زِینے چڑھتا وہاں آیا جہاں مجھ پر دُھوپ کی عجب بارش برس رہی تھی۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ تو پہلے ہی روز سے مجھے بھلائے ہوے تھا‘ پھر وہ یہاں تک چل کر کیسے آیا۔ مگر جب میں نے اُس کے ہاتھ میں تھمی ہوئی وہ لاٹھی دِیکھی جو اس کا سارا وجود سہارے ہوے تھی تو میں نے حیرت کی پھیلی چنی سمیٹ لی کہ اس کی ساری مجبوری سمجھ آنے لگی تھی۔
اس کی پہلی مجبوری یہ تھی کہ پہلی دو میں سے ایک کی کوکھ خالی بھڑولے کی طرح نکلی تھی جب کہ دوسری سے میں برآمد ہوئی تھی حالاں کہ وہ کچھ اور اُمید باندھے بیٹھا تھا۔ پھر اِنتظار کے طویل برآمدے سے گزر کرکئی اور کوکھیں اُس نے قدموں تلے کچل ڈالی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ لڑکھڑا گیا اور اَب اِس لڑکھڑاہٹ کے خوف نے وجود کو سہارے کے لیے اس کے ہاتھ میں لاٹھی تھما دی تھی؛ جو اس کی دوسری مجبوری تھی۔
یوں تو میرا وجود بھی محبوری کی بِیل بَن کر اُس کے خالی خولی آنگن میں اس کے اندیشوں کی دیوار پر چڑھتا چلا جاتا تھا مگر میرا یہ وجود اُسے تب نظر آیا جب اس کے ہاتھ دوسری مجبوری لگی تھی۔ اُس نے گھوم کر پہلے اَپنی حویلی کے طول و عرض کو دیکھا۔
ایسا کرتے ہوے اُس کا ہاتھ اُس کے دِل پر تھا۔
پھر اُس نے کلف لگے شملے کو تھام کر بے توقیر ہوا میں ڈولتی پتنگ کو دیکھا اور نفرت سے منھ موڑ کر حدِ نظر تک پھیلے سرسبز قطعات کو دیکھنے لگا جنہیں دیکھنے سے نظر نہ بھرتی تھی۔ اُس کی نظر ابھی تک نہ بھری تھی مگر اس کے کلف لگے شملے کا بوجھ اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ اُس کی نگاہ خود بخود اس لاٹھی پر جا پڑی جو کچھ عرصے سے اُس کے بدن کا حصہ بن گئی تھی۔ میں نے اُس لاٹھی کو دِیکھا جو میرے باپ کے بدن سے کوئی مَیل نہ کھاتی تھی مگر اُس کے پورے وجود کو سہارے ہوے تھی۔
میرے باپ کے رَعشَہ زَدہ ہاتھوں نے میرے ہاتھوں سے ڈور تھام لی اور پتنگ بے توقیر ہوا سے اُتر کر اُس کے قدموں میں لوٹنے لگی‘ پھر وہیں ڈھیر ہو گئی؛ اس زمین پر کہ جس پر فقط میرے باپ کا نام لکھا تھا۔ ایسے میں – مَیں نے اُسے دِیکھا تھا – جو میرے باپ کی لاٹھی بن کر آیا تھا اور اُس کا وہ جملہ سنا تھا جو میرے چٹختے وجود کے بیچ پوری طرح سما گیا تھا۔
یوں نہیں تھا کہ اس کے صدق کی ایسی آنچ مجھ تک نہ پہنچ پائی تھی جو بدن میں یقین اُتارتی۔
اور یہ بھی نہیں تھا کہ میرے دِھیان کا دَھاگہ سپنوں کی کوئی اور پوشاک بن رہا تھا۔
وہ اَپنے پورے مگر کچے بدن کی پوری سچائیوں کے ساتھ میرے مقابل تھا اور میں اَپنے سارے مگر کرخت وجود کی مکمل صداقت کے ساتھ اُس کے سامنے تھی۔ تاہم بیچ کے نامعلوم پانیوں میں یقین کی ایسی سنہری مچھلی تھی‘ جو گرفت میں نہ آتی تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ لمحہ میری حیات کے عناصر منتشر ہونے تک میرے پلّو سے بندھا رہے گا اور مجھے اپنے پلّوسے باندھے رکھے گا۔
میں نے جس لمحے کو ایک خاص مُدّت سے ماپ کر نشان زدّ کیا ہے (اس میں آپ اب مزید سترہ سیکنڈ کا اِضافہ کر سکتے ہیں) میرے بدن کی کھنکتی ٹھیکری کے بیچ یوں جھنکار چھڑکتا رہا ہے کہ مجھے گزری مُدّت کو ماپنے کے لیے اب تک کوئی کلینڈر نہیں دیکھنا پڑا؛ کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر نہیںڈالنا پڑی۔ نہ اُسے دِیکھنا پڑتا ہے اور نہ ہی آئینے میں خود کو ……اَندر ہی اَندر ٹک ٹک ہوتی رہتی ہے اور وقت ساعت ساعت پہلے سے موجود حاصل جمع کا حصّہ بنتا رہتا ہے۔ یوں کہ جیسے ہر مظہر کی لہر شعور کے پانیوں کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔
ایک خاص لمحہ عجب طور پر میرے اَندر ٹھہر سا گیا تھا جو اگرچہ ایک ساعت کی کئی ہزارویں تقسیم کی رفتار سے پرے کھسک رہا تھا مگر اپنے حوالے کی ڈور مضبوطی سے لمحہ موجود سے باندھے ہوے تھا۔ بہت پہلے کہ جب مجھے اوپر کی بے توقیر ہوا سے سابقہ نہ پڑا تھا تاہم مہکتے پھولوں کا طواف کرتی تتلیوں کو پوروں سے چھو لینے اور کچے رنگوں کی ملائمت کو اُنگلیوں کے بیچ مسلنے کا عرصہ گزر چکا تھا‘ تب مجھ پر لفظوں کے گہرے پانیوں میں غوطہ زَن ہونے اور پہروں سانس روک لینے کاخبط سا ہو چلا تھا ۔ اُن ہی دِنوں میں نے مارکیز کو پڑھا تھا اور وہاں کہ جہاں اُس نے وقت کوایسے ماپا تھا جیسے بعد ازاں میں ایک خاص لمحے کو ماپتی رہی ہوں تو مجھے حیرت ہوتی تھی …. مگر اب مجھے حیرت نہیں ہوتی۔
یہ سارا عمل ابھی چند سکینڈ پہلے تک حیرت کے پانیوں سے پَرے عین یقین کی دَھرتی پر یوں ہوتا رہا ہے جیسے سانس لی جاتی ہے – دیکھا جاتا ہے – سونگھا جاتا ہے۔ غیر محسوس طریقے سے – جانے بوجھے بغیر – بے خبری میں…. یوں‘ کہ جیسے میرا بیٹا میری نظر کے سامنے اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ میرے ہی ہونٹوں اور گالوں پر بوسہ دینے سے جھجکنے لگا تھا۔
میں معمول کی طرح آنکھیں بند کیے چہرہ اُس کے سامنے کیے بیٹھی رہی۔ منتظر تھی اور پریقین بھی کہ ابھی میرے بیٹے کے ہونٹ تتلیوں کی طرح میرے ہونٹوں اور گالوں پر اُتریں گے اور اپنے لمس کی خُوشبو اور نمی کے دھنک رنگوں سے مجھے نہلا ڈالیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ گذشتہ سارے عرصے میں کرتا آیا تھا اور جس کی سرشاری میں – مَیں اس لمحے کی جھنکار کو بدن ہی کے بیچ سمیٹے ہوے تھی۔
میں منتظر تھی…. منتظر رہی۔
اور وہ جھجک کر دور کھڑا سراسیمہ نظروں سے دیکھتا رہا۔
اگرچہ میری آنکھیں بند تھیں مگر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اُلٹے قدموں دُورہو رہا تھا۔
مجھے یوں لگا جب وہ دور ہو رہا تھا تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں پارینہ لمحے کے بوکے سے بندھی رَسی تھی جو بدن کی چرخی سے گھوم کر سارے درد کاپانی باہر نکال لائی تھی۔
درد کا یہ پانی رُکا کب تھا؛ اَندر ہی اَندررِستا رہا تھا مگر اَب کے یوں لگا کہ میرے بیٹے کی جھجک نے بوکا بھر کر اس پڑچھے میں ڈال دیا تھا جو سیدھا بدن کے باہر گرتا تھا۔
میں نے آنکھیں پوری طرح کھول کر پَرے کھڑے دِیوار سے لگے بیٹے کو دیکھا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ‘جیسے وہ میرا بیٹا نہ تھا – وہ تو وہ تھا جس نے کبھی میرے بدن کی کمانوں کی ڈھیلی تانت تن دِی تھی۔
میں بھاگ کر وہاں گئی جہاں ایک کونے میں وہ بیٹھتا تھا جس کا عکس میں نے اپنے بیٹے کے چہرے پر دیکھا تھا؛ وہ وہیں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا تھا۔ کتابوں کے ڈِھیر کے بیچ بیٹھا کچھ لکھتا رہتا۔ اُس کے اِرد گرد کاغذ ہی کاغذ تھے یا پھر بس کتابیں۔ ہاں‘ ملنے والے آ جاتے (جو اکثر آتے رہتے) تووہ ان سے باتیں کرتا رہتا۔ حکمت کی باتیں – دانش بھری باتیں – بڑی بڑی باتیں ….ایسی باتیں کہ جو اس کا قد میری نظر میں اور پستہ کرتی رہتیں۔ تاہم یہی وہ باتیں تھیں جو اُس سے ملنے والے اُسی جیسے لوگوں میں‘ اس کے لیے عقیدت بڑھاتی رہتی تھیں۔
میں دیکھتی ہوں…. مگر…. وہ نہیں دیکھتا ۔
یک لخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا تھا۔ اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی۔ اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا اور میں کہیں بھی نہیں تھی ۔ حالاں کہ اس سے پہلے میں سارے گھر میں تھی ۔ اس سارے گھر میں کہ جس کے باہر اس کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی اور وہ خود کہیں نہیں تھا۔ اس کونے میں‘ کہ جہاں وہ بیٹھا رہتا‘ شاید وہاں بھی نہیں تھا۔
اس نے میرے وجود کے اجنبی پن سے گھبرا کر جہاں پناہ لی تھی ‘وہاں تخلیق کی دِیوی اس پر مہربان ہوئی…. یوں کہ وہ اَپنے اندر اور باہر دونوں سمت پھیلتا چلا گیا۔ جب کہ وہ نہ تو میرے اندر تھا اور نہ ہی میرے باہر۔
نہیں – شاید وہ میرے اَندر بھی تھا اورمیرے باہر بھی – اپنے اس جملے کی طرح جو بہت پہلے میرے بدن کی تنی کمان کی تانت بن گیا تھا۔
بس میں ہی اَپنی آنکھیں بند کیے ہوے تھی – اندر کی بھی اور باہر کی بھی۔
وہ میرے لیے ناکارہ – بے حیثیت وجود کی طرح تھا جو ایک کونے میں پڑا‘ ایسے لفظ جنم دیتا رہتا تھا جو اسے میری نظر میں معتبر نہ کر سکتے تھے۔
مجھے اس کے لفظوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔
مجھے اس سے بھی کوئی سروکار نہ تھا۔
بس اتنا تھا(اوریہ کافی تھا) کہ وہ تھا اور میرے بیٹے کے لیے اس کا نام تھا۔ ایک ایسانام جو اس گھر کی چاردیواری سے باہر بہت محترم تھا۔ اس کا اپنا وجودمیرے لیے بے حیثیت تھا – بے مصرف‘ کاٹھ کباڑ جیسا ‘جس پر دھول جمتی رہتی ہے۔
وہ پہلے پہل مجھ سے محبت جتلاتا رہا ۔ میں اس کی محبت کے دعووں کو قہقہوں میں اڑاتی رہی۔
پھر وہ میرے وجود کے گلیشئر سے لگ کر یخ بستہ ہو گیا۔
اور بیچ میں وہ خاص مُدّت گزر گئی جس میں اب آپ کو مزید اکیس سکینڈ جمع کرنے ہوں گے۔
اِس سارے دورانیے میں ہم دونوں کے بیچ کچھ نہ رہا۔
محبت نہ نفرت
بے حسی نہ گرم جوشی
عزت نہ تحقیر
نہ وہ میرے لیے تھا اور نہ میں اس کے لیے تھی۔
جب کوئی اُس سے ملتا اور میرے لیے تعریف کے کچھ جملے کَہ دِیتا تو اُسے خُوش ہونا پڑتا حالاں کہ یہ اس کے لیے نہ تو کوئی خُوشی کی بات ہوتی نہ دُکھ کی خبر۔
جب اُس کا نام اخبارات میں چھپتا – اس کی تخلیقات کے ساتھ – اس کے اعزاز میں تقاریب ہوتیں یا دوست احباب اس کے بہت اچھا ہونے کی اطلاع دیتے تو میرے چہرے پر خُوشی آ جاتی – اطلاع دینے والے کے لیے‘ حالاںکہ میرے اندر اس کے لیے کوئی جذبہ نہ تھا۔
مگر اَبھی اَبھی – چند لمحے پہلے ‘مجھے بھاگ کر وہاں آنا پڑا تھا کہ میرا بیٹا جھجک کر پرے کھڑا ہو گیا تھا اور اُلٹے قدموں دور چلا گیا تھا اور اس کے چہرے سے اس کا چہرہ جھلک دینے لگا تھا۔
وہ ایک کتاب پر جھکا ہوا تھا…. میں اُس پرجُھک گئی۔
اُس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ اِس حیرت پر اُن سارے لمحوں کے جالے تنے تھے جن میں اب آپ کو مزید اِتنی صدیاں جمع کرنا ہونگی جن کی گنتی میں اَب بھول چکی ہوں۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پورا وجود اس کے سامنے کر دیا۔ یوں کہ بہت مُدّت پہلے ادا کیا گیا جملہ دوسرے سیارے سے آٹھ ہزار سال کے بعد پہنچنے والے سگنل کی طرح میرے بدن کے فلک کا پارچہ پھاڑتا عین میرے دِل کے بیچ اُترا‘ اور سنگلاخ چٹانوں کو توڑتا اندر کی مہکتی سوندھی مٹی کے قطعے میں بیج کی طرح دفن ہو گیا۔
میں نے آنکھیں بند رکھیں…. اس لمس کے اِنتظار میں‘ جس میں مہک تھی اور اُس نمی کے لیے‘ جس سے دَھنک رَنگ پھوٹتے تھے۔

ٍ


کچھ اس افسانے کے باب میں

کرافٹ پر محمد حمید شاہد کی غیر معمولی دسترس کا ثبوت

افسانہ ”پارینہ لمحے کا نزو ل “ کرافٹ پر محمد حمید شاہد کی غیر معمولی دسترس کا ثبوت فراہم کرتاہے۔ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ اور مشکل سے مشکل موضوع کو کہانی میں ڈھال لینے کا ہنر جانتے ہیں۔

توصیف تبسم
توصیف تبسم

اس کہانی میں وہ اسی ہنر کو بروئے کار لائے ہیں۔ کہانی وقت کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں کاٹنے سے شروع ہوتی ہے اور جلد ہی اپنے قاری کو اس خلا کے مقابل کر دیتی ہے جس میں اس کہانی کی مرکزی کردار کا بے آبرو وجود زندہ لاش کی صورت پڑا ہوا ہے ۔ ” پارینہ لمحے کا نزول“میں جہاں تیزرفتاری سے بدلتی ہوئی انسانی صورت حال کی تصویردکھائی گئی ہے ‘وہیں انسانی رشتوں میں ہونے والی شکست و ریخت کو بھی بیان کردیا گیا ہے۔ یہ کہانی زندگی کے ایک نئے رُخ ‘ نئے پہلو‘ نئے واقعاتی و حسی ماجرائیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

ڈاکٹر توصیف تبسم


منظر‘ پس منظرکے ساتھ

سیّد مظہر جمیل
سیّد مظہر جمیل

”رُکی ہوئی زندگی“ ،” لوتھ“، ” پارینہ لمحے کا نزول“،” تکلے کا گھاﺅ“، ”آٹھوں گانٹھ کمیت“ اور” معزول نسل“ جیسی کہانیاں جہاں تیزرفتاری سے بدلتی ہوئی انسانی صورت حال کی تصویریں دکھاتی ہیں ‘وہیں وہ انسانی رشتوں میں آہستہ خرام اور سبک پا ہونے والی شکست و ریخت کی کہانیاں بھی سناتی ہیں۔ ہر کہانی زندگی کے ایک نئے رُخ ‘ نئے پہلو‘ نئے واقعاتی و حسی ماجرائیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
محمد حمید شاہد واردات و ماجرائیت کا کہانی کار نہیں ہے ‘ کسی واقعے اور حادثے کی رپورٹنگ اس کا منصب نہیں ہے۔ وہ توواقعات و حوادث اور افتاد و گداز سے پیدا ہونے والی حسی لہروں کو اپنے تجربے کے انٹینا کی مدد سے اپنے احساس میں جذب کر لیتا ہے اور پھر انہیں تخلیقی طور پر تصویروں کی صورت میں نشر کر دیتا ہے ۔ کہیں یہ تصویریں اپنے منظر‘ پس منظرکے ساتھ رواں دواں دکھائی دیتی ہیںاور کہیں وہ ان کے اقتباس اور پر چھائیوں سے فضا سازی کاکام انجام دیتا ہے کہ رعایت اور علامت نگاری بھی حمید شاہد کی فنی دسترس سے باہر نہیں رہے ہیں۔

سیّد مظہر جمیل



 

محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 


 

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

30 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » واپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *