M. Hameed Shahid
Home / افسانے / نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہد

نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہد

narmalneer

 

اِدھر اُدھرجَل تھا۔ جَل ہی جَل۔ پَوِتر جَھرجَھرگِرتا۔
وہ جو مدَمتا تھی‘مدمَاتی‘مَدَن مَد۔
وہ ا ِسی جَل میں اَشنَان کرتی‘ چھینٹے اُڑاتی‘ دوڑتی پھرتی تھی۔
ا ِس جَل کے بیچوں بیچ وہ جتنا آگے جاتی اتنا ہی جَل اور بڑھ جاتا۔
وہ تھی۔ بس وہ۔ اورجَل۔
ایک بگھی اُس کے واسطے تھی‘ رَنس سے بنی ہوئی‘ جَگرجَگر کرتی۔
جِس کی راہ میں کوئی وِگھن نہ تھی
اس کے آگے بارہ بدلیاں جتی ہوئی تھیں۔
بدلیاں بھی ایسی‘ کہ جن کے پاﺅں میں بجلیاںبھری ہوئی تھیں‘ ہر دم‘ تازہ دم۔
لگامیں اُ س کے ہاتھ میں تھیں ۔
وہ اِس جَل کے اُوپر اِس بگھی کو دوڑاتی پھرتی تھی۔ قہقہے لگاتی یا پھر ہنس ہنس کر دوہری ہوہو جاتی۔
ایسے میں اُس کا سُندَر بدن اورسُندَر ہو جاتا۔
تارِے جِھل مِل کرتے ساری کرنیں اُس پر نچھاور کردِیتے۔
اور لہریںاُچھل اُچھل کر اُس کااَ نگ اَنگ چومنے لگتیں۔
تب وہ شانت ہو جاتی۔
کہ ‘ وہ تھی ا ورجل تھا۔
جل تھا اور وہ تھی۔
ایک روز کہ وہ اپنے جوبن میں مست تھی۔
ایک کَنّی اُس پر اُتری۔
اُتری اور قطرہ بن گئی۔
قطرہ بن گئی اور ٹھہرگئی۔
پوری طریوں ٹھہری بھی نہ تھی‘ وہیں لرزتی جاتی تھی۔
اور عین اُس کے بیچ ایک رَنس سمٹی ہوئی تھی جو‘ مَن کے بیچ کھبتی تھی۔
اس نے اَپنے تئیں سوچا۔
کہ وہ تو اِس سَنمانی کَنّی کے سمان ہے قطرہ بننے والی‘ رَنس سمیٹے ہوئے۔
تب اِسی طرح کی ایک اورکَنّی اُوپر سے بَرسی ۔
وہیں پہلی کے آلے دَوالے۔
دونوں ایک دوسرے کے اور کھسکیں اور مل گئیں۔
دو سے ایک ہوئیں۔
سنجوگ کیا ہوا‘ دونوں جوا َب ایک ہو گئی تھیں‘ اپنے جَوبن پر آگئیں۔
وہ جَل میں یوں ملیں کہ جَل اُن کی چَھب میں چُھپ گیا۔
یہ جَل اب سارے میں لہروں کی طرح اُچھلنے لگاتھا۔
اُس نے جانا یہ سارا جَل جو پہلے جھرجھر گرتاتھا؛ اور اَب اِدھر اُدھر شُوکتا پھرتا ہے‘دوبوندوں کے سنجوگ کے سمان ہے۔
دوبوندیں ‘ جو پہلے دو کنّیاں تھیں ۔ اور اَب جَل ہی جَل تھا‘ شُوکتا‘شور مچاتا‘اُچھلتا کودتا۔
تب اُس کے بِھیتَر سے شانت نے شما چاہی۔
اور عجب طرح کی جوالا بھڑکنے لگی۔
اُسے اَپنی سُرَت نہ رہی۔
وہ شانتی جو اُس کی دَھروٹ تھی‘دو بوندوں کے کارن لٹ گئی تھی
وہ سوچتی:
ایک کَنّی جو بوندبنی ‘ وہ تو وہ خود تھی مگر دوسری ؟
پھر اُسے چِنتا ہوئی:
وہ سمندر کے سمان کیسے ہو سکے گی؟…. کیسے؟؟….کیسے؟؟؟
یہ جَل جو کبھی اُسے مَدھُو لگتا تھا۔
اَب اَگنی بن کر اُسے جلاتا تھا۔
اُس کے اندر سے ساری للک نچڑ گئی۔
ایک کلپنا تھی جو اُسے کلپاتی تھی۔
ایک ہی چِت تھی جس میں وہ اَپنی بُدھ کھو بیٹھی تھی۔
اُس کی بڑھوتری اِسی جل میں ہوئی تھی۔
مگر اب اُسے لگتاتھا ‘وہ اور تھی اورجَل اور۔
یہ کیسا یُدھ تھا جو اس کے اندر ہو رہا تھا۔
اس نے لہروں کے ساز پر مَدھُمَات کو چھیڑا ۔
یہ ُسر پہلے اُسے شانت کرتا تھا ‘اب تڑپانے لگا۔
عین اُس سمے اُس نے اوپر سے نیچے جھانک لیا۔
نیچے‘ بہت نیچے ‘ڈابھ کے اندر‘ ڈَابک کی چمک تھی‘یوں کہ جھلک پڑنے پر آنکھیں چندھیاتی تھی۔
اُس نے جانا‘پَرنتو ‘ وہ ڈابک نہیں‘اک کَنّی ہے دوسری کنی۔ قطرہ بنے اُس کی منتظر ۔
اُس نے اَپنی بگھی کی لگامیں اُس اور موڑ لیں۔
اور دھرتی پر اُتر آئی۔
ڈابک میں مِل جانا تو اس کے مقدّر میں نہ لکھا تھا‘مَن میں جا اُتری۔
اور آنکھوں میں جا سمائی۔
اور اَب قطرہ قطرہ دَامن بھگوتی رِہتی ہے۔

ٍ


 

توصیف تبسم
توصیف تبسم

کچھ اس افسانے کے باب میں

یہ افسانہ اپنی زبان اور تیکنیک سے ایک جمال پارہ بن گیا ہے ۔

محمد حمید شاہد کے افسانوں میں‘اپنی زبان اور تیکنیک کے لحاظ سے ”نرمل نیر“ حددرجہ قابل ذکر افسانہ ہے۔ افسانہ نگار نے ہندی اساطیر کے آہنگ میں رکھ کر اس افسانے کو لکھتے ہوئے ‘انسانی مقدر کو گرفت میں لینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ایک طرف جَل ہی جَل ہے پَوِتر جَھرجَھرگِرتا اور دوسری طرف مدَمتا ہے جو ا ِسی جَل میں اَشنَان کرتی‘ چھینٹےں اُڑاتی‘ دوڑتی پھرتی ہے۔ کہانی اس کے جَگرجَگرکرتی رَنس سے بنی ہوئی ہوئی بگھی کی سواری سے شروع ہوتی ہے جمالیاتی منظر بناتے ہوئے اس حقیقت کو کھو لتی ہے کہ آدمی کا مقدر یہی ہے کہ آنسو بہائے اور قطرہ قطرہ دَامن بھگوتا رہے۔یہ افسانہ اپنی زبان اور تیکنیک سے ایک جمال پارہ بن گیا ہے ۔

توصیف تبسم



محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

32 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *