M. Hameed Shahid
Home / افسانے / ناہنجار|محمد حمید شاہد

ناہنجار|محمد حمید شاہد

nahanjaar

 

میں سارے بے مصرف اور اُکتا دینے والے کام کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ عمل شدید اُکتا دینے والا لگتا ہے کہ جمعے کے جمعے تھیلا اُٹھاﺅں اور پشاور موڑ سے ادھر لگنے والے ہفتہ وار سستے بازار سے روپے دو روپے کے ٹینڈوں‘مرچوں‘توریوں‘بینگنوں اور شلجموں کے لیے بس یوںہی بکتا جھکتا پھروں۔ ’ بس یوں ہی‘ کے الفاظ میں نے بس یوں ہی اِستعمال نہیں اِستعمال کر لیے‘ اِ س کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اَپنی جانب سے پوری احتیاط اور کوشش کردیکھی مگر سودا دینے والے نے کوئی نہ کوئی باسی ‘پلپلا یا پھر داغی دانہ ضرور ڈال دِینا ہوتا ہے۔ اَب اگر وہ ایسا نہ کرے تو اگلی با ر چھابہ کیسے لگائے اور کہاں سے لگائے؟
ایک اور بات جس پر مجھے بہت اُلجھن ہوتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ بندہ آگے کو جھکا بھاﺅ تاﺅ کر رہا ہوتا ہے اور عقب سے گزرنے والے‘بہ جائے اس کے کہ اس کے سیدھا ہونے کا انتظار کرلیں‘ خوب رَگڑا لگا کر گزرتے ہیں۔ کبھی کبھی تو اِس زور کا رگڑا لگتا ہے کہ جس کا بھاﺅ بنایا جا رہا ہوتاہے بندہ منھ کے بل اُسی پر جا گرتا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ بھیڑ بھاڑ والی ایسی جگہوں پر توایسا ہوتاہی رہتا ہے۔ ہوتارہتا ہوگا۔ مجھے تو ایسے بازاروں میں خریداری کی ایسی مشقت کی سمجھ آ سکی نہ اِس قدر بھیڑ کی۔ گھر پہنچ کر باسی اور پلپلی سبزیوں کا ایک طرف ڈھیر لگایا جائے اور کھانے پکانے کے لیے باقی بچ رہنے والی ترکاری الگ کرکے جمع تفریق کی جائے تو ایسے سستے بازاروں کی اضافی دین یا تو وہ دَھکے رہ جاتے ہیں جو آپ کواَب تک لگ چکے ہوتے ہیں یا پھر وہ خواری جو بچوں کی ماں کی طرف سے آپ کے مقدّر کا حصہ ہو نے والی ہوتی ہے۔
میں جب بھی تھیلے اُٹھائے‘ پسینے میں شرابور اور پھولے سانسوں کے ساتھ گھر پہنچتا رہاہو ں تو منے کی ماں کا پہلا اور چبھتا ہوا یہ جملہ سننے کو ملتا رہا ہے :
” خیر سے فوجیں پلٹ آئیں‘میں تو سمجھی تھی ‘حضرت کسی اور ہی مہم پر تشریف لے جا چکے ہوں گے۔“
ایسی جلی کٹی سن کر ایک دفعہ تو تلووں میں بھڑکتی آگ کے شعلے مغز کو چاٹنے لگتے ہیں۔ مگر وہ شخصیانی میری جانب دیکھے بغیر ‘تھیلا ہاتھوں سے چھین کر فرش پر اوندھا دِیتی ہے اور ڈھیر میں سے ایک ایک دانہ اُٹھااُٹھا کر یوں دیکھنے لگتی ہے جیسے اُن کا طبی معائنہ کر رہی ہو۔ ایسا کبھی نہیں ہوا‘ اُس نے بھولے سے ہی کَہ دیا ہو‘’ آپ نے کمال کیا اتنی اچھی ترکاری لے آئے ‘یا پھر کم از کم اتنا ہی کہا ہو‘ ’مناسب ہیں کام چل جائے گا‘کہ لائی جانے والی سبزی کبھی مناسب نہ نکلتی۔ اس لیے کہ سبزیوں اور لڑکیوں کو بہت قریب سے دیکھیں تو اُن میں کوئی نہ کوئی عیب نکل ہی آتا ہے۔
جس وقت وہ سبزیوں کے ڈھیر کا بغور معائنہ کر رہی ہوتی ہے ‘میں بھی سانس روکے ایک ڈھیر سا ہو جاتا ہوں۔ شرمندہ شرمندہ۔ یوں کہ جیسے ادھر بازار میں وہ گندی مندی سبزیاں جو ڈھیر پر پھینک دِی گئی تھیں‘ اُنہیں میں چپکے سے اُٹھا لایا ہوں۔ دِل ہی دِل میں دُعا مانگے جاتا ہوں کہ اللہ کرے اُس کا دھیان کہیں اور بٹ جائے۔ اُس کی آنکھیں دُھندلا جائیں۔ اُسے کچھ نظر نہ آئے۔ مگر یہ کبھی نہ ہواکہ میری یہ دعا ئیںقبول ہو گئی ہوں۔ میں اِمتحاں میں کام یاب ٹھہرتا ‘ نہ اُسے نظریں دھوکا دیتیں۔ ہاں یہ اکثر ہوتا رہاکہ اُس نے میری نظروں پر طنز کیا‘ میری آنکھوں کے گول سیاہ حصوں کو شفاف کالے کن ڈوڈوں سے تشبیہہ دی اور یہاں تک پوچھ ڈالا کہ کیا ترکاری لیتے ہوے میں کسی سے نظر بازی کے مشغلے میں مگن تھا؟
نظربازی میرا مشغلہ نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوا کہ میں کسی عورت کے جسم کو جان بوجھ کر مَس کرکے گزرا ہوں۔ حالاں کہ جب سے یہ بازار لگ رہے ہیں کئی شوقین تو اِن میں جاتے ہی اِس مقصد کے لیے ہیں۔ تاہم یہ تسلیم کرلینے میں کیا حرج ہے کہ جب بھی کوئی مختلف سا ‘ نیا سا‘دِل کش اور چمکتا ہوا چہرہ نظروں میں آ جاتا ہے‘ نظر بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ جی کرتا ہے اُسے اُس وقت تک دیکھتے چلے چلو جب تک کہ وہ چہرہ عمومی بل کہ بے ہودہ سے چہروں کے پیچھے چھپ نہ جائے۔ ایسے بے ہودہ چہروں کے پیچھے کہ جنہیں دیکھنے سے یہ بہتر لگے کہ آدمی گوبھی‘تر‘لوکی‘ کریلے یا پھربینگن کو دیکھنے لگ جائے ۔ یا پھرعقب سے گزرتے ہوے کوئی اِس زور سے ہچکا لگادے کہ بندہ ادھر دیکھتے دیکھتے منھ کے بل ٹماٹروں کے ٹوکرے میں گر کر ٹماٹر ہو جائے۔
اِتنی طولانی تمہید کا سبب وہ لڑکی ہے جس کے ایک ہاتھ میں کناروں تک بھرا ہوا تھیلا تھااور دوسری طرف بغل میں ایک تربوز۔ تربوز نہ تو بہت بڑا تھا اور نہ ہی بہت چھوٹا۔ لڑکی کا دوپٹہ اکٹھا ہو کر گردن کے ساتھ رگڑ کھاتا کاندھوں کے پیچھے یوں لٹک رہا تھا کہ اُس کا ایک پلو زمین کو چھو رہا تھا۔ اُ س کے ہاتھ دودھ کی طرح اُجلے نہ تھے۔ بس یوں سمجھ لیں جیسے ملائی میں تھوڑا سا شنگرف ملا ہو۔ میں نے جلدی سے اُس کا چہرہ دیکھنے کے لیے نظریں اُوپر اُٹھائیں لیکن اِس سے پہلے ہی میری آنکھوں کی سکت جواب دِے گئی اور وہ اَپنی منزل کے آدھے راستے ہی میں ڈھیر ہو گئیں۔ نظریں جہاں ڈھیر ہوئی تھیں‘ وہیں دو ڈھیریاں تھیں جن میں اُس کے چلنے کی اَدا‘ اور سانسوں کے ردھم نے اُودھم مچایا ہوا تھا ۔ اگرچہ بغل میں دَبے تر بوز کا سبز چھلکا دَمک رہا تھا مگر اُس میں اُس زِندگی کی ذرہ برابر رمق نہ تھی جس نے اُس کی ہمسائیگی میں محشر بپا کر رکھا تھا۔
اُس لمحے تک میرے اندر اُس کا چہرہ دیکھنے کی معمولی سی خواہش بھی نہ جاگی تھی۔
ممکن ہے اس کا سبب یہ ہو کہ جس قیامت کے الاﺅ میں میری نظریں گر چکی تھیںاُس سے سنبھل ہی نہ سکی تھیں۔سنبھلتیں اور نکلتیں تو کچھ اوپر دیکھ پاتیں نا۔ دوسری وجہ وہ واقعہ ہے جو آن کی آن میں کچھ یوں ہو گیا تھا کہ میں سب کچھ بھول کر اُس کی سبز آنکھیں دِیکھ رہا تھا جو آنسوﺅں سے جل تھل ہو گئی تھیں۔
اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ میں جان بوجھ کر اُس کی آنکھوں اور آنسوﺅں کا تذکرہ اِس لیے لے بیٹھا ہوں کہ کہیں آپ کواُس کے خال و خد ہی نہ بتانا پڑ جائیں۔ میرا یقین کیجئے کہ میں اُس کا چہرہ پوری طرح دِیکھ ہی نہ سکا تھا۔ دیکھتا بھی کیسے ؟کہ اُس کے آنسوﺅں نے میرے جیسے حوصلے والے آدمی کو بھی منھ زور سیلابی لہروں کی صورت دِے دِی تھی ۔ میں نے اَپنا تھیلا وہیں پھینکا اور لپک کر اُس بدبخت کو جا پکڑا جو اُس لڑکی کے پاس سے یوں گزرا تھا کہ اُس کا کندھا وہ سارا احاطہ بُری طرح روندتا چلا گیا تھا جس میں قیامت کی سی اُتھل پتھل مچی ہوئی تھی۔
پہلے پہل اُس نے اپنا بازو چھڑوانے کے لیے خوب زور لگایا‘ دھمکیاںدیںاور آخر کارمِنتوں پر اُتر آیا۔ میں نے اُس کا بازو چھوڑنا تھا ‘نہ چھوڑا۔ کیسے چھوڑدیتا؟ وہ جو دیکھ رہی تھی۔ وہ رونی صورت بنا کر کہنے لگا :
” باﺅ جی‘ مجھے جانے دیں۔ میں نے جان بوجھ کر تو کندھا نہیں مارا“
میں اور بھی بھڑک اُٹھا۔ اِس لیے کہ وہ صاف جھوٹ بول رہا تھا یا پھر شاید میں یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ جھوٹ بک رہا تھا۔ میں نے منھ بھر کر ماں بہن کی دوتین گالیاں اُس کی جانب لڑھکادیں۔ اُڑنگا لگایا‘ اُسے منھ کے بل گرایا اور اوپر سے دوچار شدید ٹھوکریں بھی رسید کردیں۔ یوں لگتا تھا لوگ بھی اِسی لمحے کے منتظر تھے۔ ایک بھیڑآگے بڑھی اور خود ہی اُس کی ٹھکائی شروع کر دی۔
اَب ادھر میری ضرورت نہ تھی۔ لوگوں نے اَپنا کام ذِمہ داری سے سنبھال لیا تھا۔ میں اُس لڑکی کی جانب مڑا جس کے لیے میں اِتنا زِیادہ بہادر بن گیا تھا۔ نظروں نے اِس بار بھی اُتنا ہی فاصلہ طے کیا‘ جتنا کہ وہ پہلے کر سکی تھیں۔
مجھے یوں لگا جیسے میرے کندھے پر کوئی گداز سا لمس تھا۔
میں نے اپناہاتھ اپنے کندھے پر رکھااور اس ناہنجار کی جانب دِیکھاجسے لوگ ابھی تک بُری طرح پیٹ رہے تھے۔
میری آنکھیں ٹھہر سی گئیں اورمجھے شدیددھچکا لگا۔ یقین نہ آ یا۔ سمجھ بھی نہ آ رہا تھالیکن جب میں نے آنکھیں مل مل کر دیکھا تو ہوش اُڑ گئے‘اِس لیے کہ مار کھانے والا کوئی اور نہیں میں خود تھا۔
(یہ کہانی پہلے پنجابی میں لکھی گئی تھی)


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

ٍ

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

32 comments

  1. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » مرگ زارM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: اپنا سکّہ|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *