M. Hameed Shahid
Home / افسانے / موت کا بوسہ|محمد حمید شاہد

موت کا بوسہ|محمد حمید شاہد

maut ka bosa

 

جب اُس کا جنازہ اُٹھا تو شوروشیون نے دِل کو برچھی بن کر چھید ڈالا تھا۔
مرنے والے مر جاتے ہیں …. دنیا سے منھ پھیر تے ہی اس شورِقیامت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں ‘ جو اُن کے پیاروں کی چھاتیاں ٹوٹ کراِدھراُدھر ڈھیر کر دیتی ہیں۔
بیٹے ‘بیٹیاں‘بیوہ‘ بھائی بہنیں‘ عزیزواقارب‘ دوست احباب…. جو جتنا قریب ہوتا ہے اُس کا سینہ اتنی ہی شدت سے ٹوٹتا ہے اور تڑاخ کی آواز چیخ بن کر اُتنے ہی آسمانوں کو چھوتی ہے۔
مسلم ٹاﺅن کی گلی نمبر پانچ سے جب اُس کا جنازہ اُٹھا تھا تو رونے والوں کی چیخیںمیرے سینے میں برچھی کی طرح اُتری تھیں۔
اور جب اُس کا جنازہ کندھوں پر اُٹھا کر گلی سے باہر لے جایا جا رہا تھا تو میں سوچ رہا تھا کہ زِندگی اور موت کو کیوں کر سمجھا جا سکتا تھا؟
سارتر جب بچہ تھا اُسے مادام پکارڈنے چمڑے کی جلد والی ایک ایسی کتاب دِی تھی جِس کے اوراق کے کنارے سنہرے تھے۔
میں مرنے والے کے بہت زیادہ قریب نہیں رہا(ویسے بھی کوئی کسی کے بہت زیادہ قریب ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟)تاہم اتنا فاصلہ بھی نہیں تھا کہ میں اس کی شخصیت کی آنچ کو محسوس نہ کر سکتا۔ میری اُس سے کئی ملاقاتیں ہوئیں….وہ سب ملاقاتیں اور ان میں ہونے والی باتیں مجھے یاد ہیں۔ مگر اِن یادوں اور باتوں میںگردے کا عارضہ کہیں نہیں تھا۔ اُس کے دِل کی خستگی بھی مجھ پر نہ کُھلی تھی اور میں اس تھائی راڈ کے بارے میں جان نہ پایا تھا جو ہزار میں سے ایک مریض کے ہاں باہر سے اندر منتقل ہوجاتا ہے۔ کچھ عرصہ سے اُس کے بیمار رہنے کی خبریں آنے لگی تھیں‘ مگر میرے سامنے ہمیشہ ایک مضبوط دِل والا شخص ہی رہا۔ ایساشخص جو کچھ بھی نہ تھا اور اَپنی ہمت سے بہت کچھ بن گیا تھا۔
میں اُسے ایسی کتاب کی طرح سمجھتا رہا جس کی جلد سرخ چرم سے بنائی گئی تھی اور جس کے صفحات کے کنارے سنہرے تھے …. اِتنے سنہرے کہ سارے میں روشنی سی کھنڈنے لگتی تھی اور مجھے معلوم ہی نہ ہوسکا کہ وہ تو زِندگی کی کتاب کھول چکا تھا….اوراُس میں موجود سوالات کا سامنا کر رہا تھا۔
یہ تو مجھے تب پتہ چلا جب میں نے یونہی اپنے دوست علی کے گھر فون کیا اور بھابی سے اس موت کی خبر ملی جس کا میں تذکرہ کر رہا ہوں…. سُرخ کتاب کے خُونی سوالات میرے سامنے تھے۔ہر موت پہلے پہل بوکھلا دیا کرتی ہے۔ اُس کی موت نے بھی ایسا ہی کیا۔ مجھے یقین نہ آرہا تھا مگر ایسا ہو چکا تھا۔
سارتر کا کہنا تھا کہ وہ نو عمری ہی میں کتابیں پڑھنے کا عادی ہو گیاتھا۔ اُس کی ماں کو یہ بات بہت کََھلتی تھی ‘ مگر مادام پکارڈ کا خیال تھا ؛ اگر کتاب اچھی ہو تو اُس کا پڑھنا نقصان دِہ نہیں ہوتا۔ اِس حوصلہ افزائی سے سارتر نے ہمت پاکر ”مادام بواری“ پڑھنے کی اِجازت مانگ لی تھی۔ اس کی ماں نے سنا تو پریشان ہو اُٹھی‘ کہا:
”اگر میرا بیٹا اس عمر ہی میں اِس نوع کی کتابیں پڑھنے لگا تو بڑا ہو کر کیا کرے گا“
سارتر نے معصومیت سے جواب دیا تھا:
” وہی جو اِن کتابوں میں لکھا ہوتا ہے….“
اور کیا ‘ آدمی وہی نہیں کرتا جو اس کے مقدّر میں لکھا ہوتا ہے؟
مگر یہ جو کتابوں میں آدمی مقدور بھر لکھتا ہے‘ کیا کوئی عین مین وہی کر پاتا ہے….؟
شاید نہیں….لکھنے والا‘ نہ پڑھنے والا…. کہ دونوں کے لیے نارسائی گھات لگائے بیٹھی رہتی ہے۔
مرنے والا بے شک کتاب اور قلم سے وابستہ رہا مگر زِندگی اس کے لیے کبھی ویسی نہ رہی تھی جیسی کہ اس نے پڑھی….اور نہ ہی ویسی ‘ جیسی کہ تخلیقی لمحوں کی عطا کے سبب اس نے لکھ دی۔ ایک لکھنے والا جب اِنتہائی اِعتماد سے(یا پھر کمال معصومیت سے) لامکاں سے پرے رسائی کی بات کر رہا ہو تا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ نارسائی ہی نے اُس کا مقدّر ہونا ہے شاید وہ ایسا جاننا ہی نہیں چاہتا )…. وہی نارسائی جومرنے والے جیسے ہرسیلف میڈآدمی کی ذات سے ہونی شُدنی کی طرح بندھ جاتی ہے۔
میں بتاآیا ہوں کہ جب تک وہ زندہ رہا کتاب سے وابستہ رہا …. اور اب مجھے صاف صاف بتانا ہے کہ وہ کتاب سے زِندگی کی لذّت کشید کرتا تھا۔ جو کتاب سے یوں وابستہ ہو جاتا ہے اُس کی لیے زِندگی ذرا سی مختلف اور کچھ کچھ حوصلہ افزا ہو جاتی ہے۔ لفظ تھوڑی سی جرا ¿ت اور کچھ خوف کے ساتھ ساتھ چپکے سے فرار کاراستہ بھی سجھادیتا ہے۔ آپ کتاب پڑھ رہے ہوں یا لفظوں کو اپنے لہو سے غسل دِے کر ایک متن تخلیق کر رہے ہوں….تو….جہاں آپ بہادر ہوتے ہیں عین اُسی لمحے میں بزدل بھی ہوتے ہیں۔لفظوں کو ڈھال ‘ تلوار اور پناہ گاہ بنانے والے بہادر بزدل….یہ کیفیت ایک لکھنے ولے کو مختلف بھی بنا دیتی ہے۔
سارتر ابھی پڑھنے کے لطف کا اسیر ہوا تھا ‘لکھتانہ تھا ….مگر طرفہ یہ ہے کہ پڑھنے کے سبب ہی مختلف ہو گیا تھا….مختلف بھی اور عجیب و غریب بھی….بہادر بھی ‘بزدل بھی۔ جب اس نے معصومیت سے تڑاق پڑاق کَہ دیا تھاکہ وہ بڑا ہوکر وہی کرے گا جو کتاب میں لکھاہوا ہے تو مادام پکارڈ کا یوں لذّت لینا اچھا لگتا تھا….
ایک لکھنے والا جب لکھتا ہے‘ تو فورا ہی لکھنے نہیں بیٹھ جاتا پہلے وہ حیرت سے زمانے کو دیکھتا ہے ….اِتنی حیرت سے کہ وہ سنسنی بن کر اُس کے بدن میں دوڑ جا تی ہے …. تب کہیں اُس کے لفظوں کو زمانہ حیرت سے دیکھتا ہے ‘یوں جیسے مادام پکارڈ نے ننھے سارتر کو دیکھا تھا۔ زِندگی کا ماحصل لکھنا ہو تو لکھنا مشغلہ نہیں رہتا زِندگی بن جاتا ہے …. اور یہی مرنے والے کی زِندگی تھی جس نے اُسے مختلف کر دیا تھا۔
سارترکی ماں کو مادام پکارڈ کا یوں لذّت لے کر سارتر کے معصوم جملے دہرانا اچھا نہ لگتا تھا۔ وہ کہتی تھی :
” تم اس لڑکے کو بگاڑ دو گی۔“
جب کہ سارترخود مادام پکارڈ کی لذّت سے لطف کشید کرتا تھا….اِتنا کہ اُسے وہ موٹی‘بھدی‘بوڑھی اور بے ڈھب عورت اپنے چہرے کی زردی کے ساتھ نہ دِکھتی تھی….وہ عین وسط سے اُسے دیکھتا تھااور اُسے ایک سکرٹ نیچے قدموں میں ڈھیر ہوتا نظر آتا تھا…. پھر وہ دیکھتا تھا….دیکھنے جیسا دیکھتا ….اور دیکھتا ہی رہتا تھا۔
میں نے سارتر کی یہ دلچسپ کہانی پڑھی تو یوں لگا کہ جیسے زِندگی مادام پکارڈ کی طرح ہے …. موٹی ‘بھدی‘زرد رو…. جس میں مادام بواری کی سطروں جیسی لذّت ہے …. ایسی لذّت کہ جس کے سبب اس کا بھدا پن‘زردی اور بدصورتی اس کے جامے سمیت اُس کے قدموں میںڈھیر پڑی ہے ۔
اِس زِندگی کے ہاتھ میں وہ کتاب ہے جس کی جلد سُرخ اور جس کے کنارے سنہرے ہیں۔
اور جس میں سوال ہی سوال ہیں۔
ایسے سوال ‘کہ جن کا کوئی حتمی جواب نہیں ہوتا….بس ایک گماں کا ہیولا اُٹھتا ہے اور ہمیں اس پر جواب کا التباس ہونے لگتا ہے۔
جب تک معصومیت مادام پکارڈکے بھرے بھرے کولہوں کی لذّت سے جدا ہو کر زِندگی کی سُرخ کتاب کھولتی ہے‘ تب تک اس کے سوالات دہشت اور خوف قطرہ قطرہ دِل میں اُنڈیل چکے ہوتے ہیں۔
مجھے یا د ہے‘ میں نے اُس کے مرنے کی خبر سنی تھی توشدید دُکھ نے فوری طورپرمجھے گرفت میں نہ لیا تھا۔ ایسی گرفت میں کہ جس میں دُکھ خنجر کی طرح پوست کاٹتا ہے‘ گوشت چھیدتا سیدھا دل کو چھوتا ہے‘ اَپنی تیز نوک سے۔ تاہم مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب اس کی نعش مسلم ٹاﺅن کی ایک تنگ سی گلی سے چیخوں کے بیچ اُٹھائی گئی تھی تو دُکھ کا یہی خنجر میرے دِل کے پار ہو گیا تھا….جب کُری روڈ کے قبرستان کے باہر اُس کی نماز جنازہ پڑھائی جا چکی اور لوگ قطار بناکر اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے تو میں ہک دَک پار کھڑا یہ محسوس کر رہا تھا کہ موت کا چہرہ دیکھنے والے کیسے بالکل مختلف ہو جاتے تھے۔ جب وہ قطار کے ِاس طرف ہوتے تھے تو اُن کے چہروں پر اِشتیاق اور تجسس ہوتا تھا‘ مگر جب وہ نعش کی دوسری طرف اُترتے تھے تو تھوڑی سی موت کی زردی بھی اُن کے چہروں پر ملی ہوئی ہوتی تھی۔
تو کیا زِندگی کا انجام یہی موت کی زردی ہے؟
موت کو منہا کردیں تو دم بہ دم بدلتی کائنات میں زِندگی ہمیں کتنی دِل کش دِکھنے لگتی ہے مگر موت اور فنا کے اس کریہہ چہرے کے ساتھ….اُف ‘ نہ صرف یہ زِندگی بل کہ پوری کائنات کا وجود بھی اِعتبار کھونے لگتا ہے۔
زِندگی کی حقیقت جاننے کے جتن کرنے والے کچھ لوگ پہلے پہل کائنات کو ٹھہرا ہوا‘ اور جامد قرار دیتے رہے مگر بہت جلد مردود ٹھہرے کہ بگ بینگ کے نظریے نے جامد کائنات والی جامدفکر کے پڑ خچے اُڑا دیے تھے ….یہ جو ایک عظیم دھماکے سے دنیا بنی ہے ‘قطرہ قطرہ اور خلیہ خلیہ بکھر رہی ہے۔ ہم جُرعہ جُرعہ موت سے مانوس ہو چکے ہیں۔
مسلم ٹاﺅن کی گلی نمبر پانچ میں جب چیخیں اُٹھی تھیں تو مجھے لگا تھا جیسے اس کا مرنا اس کے پیاروں کے لیے بگ بینگ جیسا تھا….اور….ذرا سا فاصلے سے نظارہ کرنے والوں کے لیے کائنات کے فلک سے محض ایک ستارہ ٹوٹنے کا نظارہ…. جو ٹوٹتا ہے‘ توجہ حاصل کرتا ہے اور گم ہو جاتا ہے….اور پھر یہ زِندگی لشٹم پشٹم آگے بڑھنے لگتی ہے۔
ہم سب قطار میں تھے‘علی‘اصغر‘سعیداور کئی دوسرے….جنہیں میں جانتا تھا وہ بھی….اور جنہیں میں نہیں جانتا تھا وہ بھی۔ کچھ قطار میں مجھ سے آگے ‘کچھ پیچھے۔ قیوم اِس قطار میں نہ تھا؛کہ وہ سمجھتا تھا‘ دوستوں کا صرف زندہ چہرہ ہی دیکھنا چاہیے ۔ جب موت بدن بیچ دندناتی پھرتی ہو‘ تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی قطار سے باہر رہ جائے؟
سب کو اسی قطار میں لگنا پڑتا ہے…. بس یوں ہے کہ کوئی سوال کے ساتھ آتا ہے اور کوئی اِستعجاب کے ساتھ۔
”دُکھ تو یہ ہے کہ اس کے سب بچے ابھی چھوٹے ہیں “
ایک آواز سرسراتی ہے …. میں پورا دھیان اس آواز پر لگا دیتا ہوں۔
”اور جو کچھ اس کے پاس تھا اُسی کی بیماری پر اُٹھ گیا ہے….“
دوسری آواز اتنی ہی تلخ حقیقت میری سماعتوں میں اُنڈیلتی ہے۔
سارتر کو جب مادام پکارڈ کی سرخ کتاب تحفہ میں ملی تھی اور اُس نے اُسے اپنے نا نا کی میز پر رکھ کر کھول لیا تھا تو بہت مایوس ہوا تھا کہ کتاب میں زِندگی کا اِستعجاب نہ تھا‘بس سوال ہی سوال تھے۔
جنگ کے بعد کا زمانہ تھا۔ سارتر اور اُس کی ماںاس قدر قریب تھے کہ دونوںایک دوسرے کو ہم سِن سمجھنے لگے تھے۔ ماں تو اپنے بچے کو کبھی کبھی اپنا محافظ ‘ سردار‘اور کبھی ننھا عاشق کَہ کر پکارتی…. مگر کچھ اور بھی تھا جو دونوں کے بیچ ٹھہر سا گیا تھا…. شاید موت…. ہاںوہی موت جو زندہ بدنوں میں اُنڈیل دِی جاتی ہے۔
جب سارتر کی ماں جوان تھی تو حسن اُس پر ٹوٹ کر برسا تھا….سروقد ایسی کہ سب سے پہلے اسی پر نظر ٹھہرتی تھی…. نظر ٹھہرتی کہاں تھی اُس کی شفاف جلد پرپھسلتی رہتی۔ ایک چالیس سالہ بیمار مرد نے اُسے دیکھا تو اُس کا بوسیدہ دِل زور زور سے دھڑکنے لگا…. یوں کہ اُس نے آگے بڑھ کر اُسے پا لیا ‘شادی کر لی اور خوب خوب تیمارداری کرائی۔ پھر ایک بچہ اُس کی گود میں ڈالا اور مر گیا۔ سارتر نے موت کو یوں دیکھا تھا‘ لہذا جب سنہرے کناروں والی سرخ کتاب کھول کر نانا کی میز پر بیٹھا اور یہ سوال پڑھا کہ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو اُس نے لکھا تھا:
” ایک سپاہی بن کر مرنے والوں کا بدلہ لینا‘ ‘
میں رفتہ رفتہ قطار میں آگے بڑھتا رہا….حتّٰی کہ وہاں پہنچ گیا جہاں اُس کا چہرہ موت کا بوسہ لے کر ساکت پڑا تھا ۔ ایک سیلف میڈ مرا ہواآدمی۔ ایک ساکت نعش۔ موت کے ہاتھوں بُری طرح نچڑا ہوا جسم ۔
میں نے پلٹ کر انہیں دیکھا جو اُس کے پیچھے رہ گئے تھے اور جن کے سامنے مرنے والے کا سارا سفر کالعدم پڑا تھا۔ مجھ سے دیکھا نہ گیا۔
موت کے بوسے کی زردی سارے میں کھنڈ گئی تھی۔
میں نے چٹکی بھرزردی وہاں سے اچک لی‘ جہاں سے وہ پھوٹ رہی تھی اور چپکے سے اپنے چہرے پر مل کرسوچا‘ یوں بھی تو موت سے بدلہ لےا جا سکتا تھا۔ مگر حادثہ یہ ہوا ہے کہ مرنے والے نے میرا بدن پہن کر موت کا جامہ میری طرف اُچھال دیاہے۔ اور لطف یہ ہے کہ یہ جامہ میرے بدن پرخوب چست بیٹھا ہے۔ میں اس میں خُوش ہوں اور اسے پہن کر ایسی سرخ کتاب کھول چکا ہوں جس کے کنارے بلا شبہ سنہرے سہی مگر اس میںزِندگی کا ایک بھی اِستعجاب نہیں ہے اگرہیں تو بس سوال ہی سوال ہیں ۔


کچھ اس افسانے کے باب میں


ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جو لکھنے والے کے ہاتھ سے ، قلم خود چھین لیتا ہے

زندگی موت کی امانت ہے۔ اس لیے زندگی سے محبت کرنے والے لوگ ، موت کے زیر بار احسان رہتے ہیں۔ یہ ایسی کشش ہے جس کے دائروں سے نکل 11256550_1088447974504060_2644028451102300550_nبھاگنا ان لوگوں کے لیے سہل نہیں، جو زندگی کو ہر پہلو سے چھو کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ موت ایک اسرار ہے اور اسرار اپنی طرف بلاتے ہیں، آواز دیتے ہیں۔ حمید شاہد کی کتاب، ”مرگ زار“ اسی آواز پر لبیک کہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اس کتاب میں کل پندرہ کہانیاں ہیں۔ اور تقریباً ہر کہانی میں موت کی آہٹ ہے۔ جذبوں کی موت، قدروں کی موت، چھوٹی بڑی انسانی مسرتوں کی موت،وعدوں کی موت، ارادوں کی موت، خوابوں کی موت اور سب سے بڑھ کر جیتے جاگتے، زندہ لہو سے گرمائے ہوئے بدنوں کی موت جس کی اذیت محض اس خیال سے کم نہیں ہو سکتی کہ جسم کی موت سے انسان نہیں مر سکتا۔ موت انسانی ذہن و خیال اور جسم کی حرکت کے خاتمے کا نام ہے۔کیونکہ عام عقائد کے مطابق، جسمانی موت کے بعد اس کا خیال اگر متحرک ہو گا تو اس حرکت کی نوعیت انفعالی ہو گی، فاعلی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ موت کا تصور ایک احساس محرومی سے آشنا کر دیتا ہے۔ زندگی دامان ِ خیال ِ یار کی طرح ہاتھ سے چھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ریت کے ذروں کی طرح مٹھیوں سے چھن چھن کر گرتی ہوئی۔ ہاتھ میں صرف ایک احساس ِ زیاں کی تلچھٹ باقی رہ جاتی ہے۔
”مرگ زار“کی بیشتر کہانیاں اسی تلچھٹ کو کریدتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ہاتھوں میں کہیں سوالوں کی تیسیاں، کہیں تحیّر کی سوئیاں، کہیں بے بسی کی چھینیاں اور کہیں احتجاج وبغاوت کی کسیّاںہیں۔ یہ اقرار و انکار کے مخمصے میں پھنسے ہوئے انسان کی بے چارگیوں کا آئینہ ہیں۔ ایسا انسان جسے سادہ اور معصوم زندگی کے لطف و اہتزازکی تلاش بھی رہتی ہے اور اس شعور و آگاہی کا لپکا بھی ہے جو اس معصومیت کی قیمت پر ملتی ہے۔ اکیسویں صدی میں ایک چھوٹی مچھلی کے ٹرانس پی ¿رنٹ پیٹ میں رہنے والا انسان، جو بڑی مچھلیوں کی نقل و حرکت بھی دیکھ سکتا ہے اور ان کے ارادے اور نیت بھی سمجھ سکتاہے۔ اسے اپنے میدان ِ عمل کی تنگ دامانی کا احساس بھی ہے اور صور تحال کی نزاکت کا ادراک بھی۔ بھینس بننے سے انکار بھی ہے اور لاٹھی کی طاقت کا اندازہ بھی۔ وہ کبوتر کا تنِ نازک سہی مگر اسے آنکھیں بند کرنا پسند نہیں۔ اکیسویں صدی کی چھوٹی قوموں کے افراد جو اپنے گردو پیش کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور اپنی اپنی تہذیب و ثقافت ، لسانی و علاقائی شناخت اور مخصوص روایات و اقدار کو ایک بے ہنگم اور بے شکل و صورت ملغوبے کے بلیک ہول میں گرتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں، جس اندوہناک کربِ بے بسی سے دوچار ہیں، اس کی ایک واضح اور نمایاں جھلک اس کتاب میں دکھائی دیتی ہے۔
پندرہ میں سے چار کہانیوں کے تو عنوان ہی سے موت جھلکتی، بلکہ ٹپکتی ہے۔ ”مرگ زار“،” موت کا بوسہ“،” موت منڈی میں اکیلی موت کاقصہ“اور” دکھ کیسے مرتاہے“ ایسی کہانیاں ہیں جو اپنے تیز ناخنوں سے اپنا ہی کلیجہ چھیل چھیل کر ہی لکھی جا سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”موت کا بوسہ “ میں وہ لکھتا ہے:
”ایک لکھنے والا جب لکھتا ہے تو فوراً ہی لکھنے نہیں بےٹھ جاتا۔ پہلے وہ حیرت سے زمانے کو دیکھتا ہے۔۔۔ اتنی حیرت سے کہ وہ سنسنی بن کر اس کے بدن میں دوڑ جاتی ہے۔ ۔۔ تب کہیں اس کے لفظوں کو زمانہ حیرت سے دیکھتا ہے۔ “
زمانہ اس کے لفظوں کو حیرت سے دیکھے یا نہ دیکھے مگر ان میں و ہ سنسنی ہی نہیں ، وہ اذیت بھی دکھائی دیتی ہے جو زمانے کو دیکھ کر اس کے دل میں برچھی کی طرح اتر رہی ہے۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

27 comments

  1. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » مرگ زارM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *