M. Hameed Shahid
Home / افسانے / مَرگ زار|محمد حمید شاہد

مَرگ زار|محمد حمید شاہد

margzaar

 

وہ دھند میں ڈوبی ہوئی ایک صبح تھی ۔
مری میں میری پوسٹنگ کو چند ہی روز گزرے تھے اور جتنی صبحیں میں نے اس وقت تک دیکھی تھیں سب ہی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں ۔
کلڈنہ روڈ پر ہمارا دفتر تھا ۔ ابھی مجھے گھر نہیں ملا تھا لہذا میں روزانہ پنڈی سے یہاں آیا کرتا تھا گذشتہ ہفتے کے آخری تین روز تو مناظر اَپنی طرف کھینچتے اور جی لبھاتے رہے مگر اگلے ہفتے کے پڑتے ہی دل پر عجب بے کلی کی دھند چھانے لگی تھی‘ بالکل ویسی دھند جو گذشتہ ہفتے مری کی صبحوں کو آغوش میں لے کرسہلاتی رہی تھی اور اب تیور بدل کراس کی چھاتی بھینچے جاتی تھی ۔
وہ صبح میری چھاتی بھی بھینچ رہی تھی۔
میں ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی چیخ اٹھی ۔ دوسری جانب سے ایک مانوس آواز لرز رہی تھی جو یک بہ یک سسکیوں میں ڈھل گئی۔ نواز کَہ رہا تھا تمہارا بھائی مصعب شہید ہو گیا۔ مزید ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو سکا کہ اس کی ا ٓواز سسکیوں میں ڈوب گئی تھی۔
شدید دُکھ میرے پورے وجود میں تیر گیا اور لفظ شہادت کی تکرار میرے اندر گونجنے لگی۔
”دعا کرنا امی اللہ مجھے شہادت نصیب کرے“
”دعا کرنا بھائی میں خدا کی راہ میں شہید ہو جاﺅں“
”باجی دعا کرنا اللہ مجھے شہدا کے قافلے میں شریک کرے“
امی کے نام ‘ بھائیوں کے نام اور بہن کے نام اس نے جتنے خطوط لکھے وہ بس اسی تکرار پر تمام ہوتے تھے ۔ لفظ شہادت کے ساتھ جو تقدس وابستہ تھا اس کے باعث میں بغیر سوچے سمجھے آمین کہتا رہا مگر ہر باریوں ہوتا تھا کہ یہ لفظ میرے ہونٹوں سے پھسلتے ہی مجھے بوکھلا دیتا پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ جاتی اور میں بوکھلا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جاتا۔حتی کہ پچھتاوا مجھے جکڑ لیتا اور میں خلوص دل اور گہرے تاسف سے سوچتاکہ جسے میرے ہونٹوں سے لڑھکتی آمین کو سننا تھا وہ تو سن کر کوئی فیصلہ دے بھی چکا ہوگا ۔
نواز میرا قریبی عزیز تھا اس تک جو خبر پہنچ چکی تھی وہ اسے مجھ تک منتقل کرنے میں دِقت محسوس کر رہا تھا کہ سسکیاں لفظوں کو راہ ہی نہ دے رہی تھیں ۔ کسی اور نے اس سے ٹیلی فون لے لیا اور پشاور کا ایک نمبر دیتے ہوے کہا آپ مزید تفصیلات اس پر معلوم کر سکتے ہیں ۔میں نے پشاور والے نمبر پر فون کیا اور جوں ہی اپنا نام بتایا ‘دوسری طرف سے کہا گیا
”آپ سے رابطہ کرتے کرتے بہت دیر ہو چکی ہے آپ کو مبارک ہو آپ کا اور ہمارا بھائی مصعب شہادت کی منزل پاگیا۔ “
مبارک….مبارک ….مبارک ‘ایک گونج تھی جو سیدھی چھاتی پر پڑتی تھی اور ایک بوچھاڑ تھی کہ آنکھوں سے برس پڑی تھی ۔
اطلاع دینے والی آواز جیسے چابی سے چل رہی تھی ‘بغیر کسی وقفے کے آتی چلی گئی ۔
”زِندگی میں مصعب نے جس سعادت کی موت کی تمنا کی تھی وہ اسے نصیب ہوئی۔“
میں تو پہلے ہی چپ تھا اب اُدھر کی چابی بھی ختم ہو گئی تھی ‘ دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔ بس ایک میرے سینے کی دھمک تھی جو سارے میں دندناتی پھرتی تھی ۔
میں نے چھاتی کو دبایا اور خود کو کچھ کہنے کے لیے مجتمع کیا‘بہ مشکل کہا :
” بھائی کی لاش….“
ترت جواب آیا:
” جی لاش ہمارے پاس ہے ‘ مگر ….“
میں بے حوصلہ ہو گیا اور لگ بھگ چیخ کر کہا :
”جو کچھ کہنا ہے ایک ہی دفعہ بک کیوں نہیں دیتے “
چابی والی آواز رک رک کر آنے لگی جیسے جس کَل سے آواز آہی تھی اسے چلانے والی گراریاں پھنسنے لگی تھیں ۔
وہ جو کچھ کَہ رہا تھا مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آرہا تھا تاہم جب اس نے یہ کہا کہ تابوت ہمارے پاس پڑا ہے تو اس کی آواز پھر سے صاف اور واضح ہو گئی تھی ۔وہ کَہ رہا تھا:
”کوئی ساڑھے پانچ بجے جلال آباد کے اگلے مورچوں پر شہادت کا واقعہ ہوا ۔ ہمیں دو تین گھنٹے لاش اکٹھا کرنے میں لگ گئے اور….“
میں ایک دفعہ پھر چیخ رہا تھا:
’ ’ کیا کَہ رہے ہو …. یہ لاش اکٹھا کرنے سے کیا مراد ہے تمہاری؟ “
وہ چپ ہو گیا ‘ اتنا چپ جیسے ادھر دوسری جانب کوئی تھا ہی نہیں ۔ حتی کہ مجھے ”ہیلو ‘ہیلو“ چلا کر اسے بولنے پر مجبور کرنا پڑا ۔
”دیکھیں ہمیں آپ کا تعاون درکار ہے ۔“
”تعاون ؟“
”جی اور اجازت بھی“
”کس بات کی اجازت؟“
”ہمیں شہید بھائی کی وصیت پر عمل کرنا ہے ‘ آپ تعاون کریں گے اور اجازت دیں گے تو ایسا ممکن ہو پائے گا ۔ پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے ۔“
”کیا وصیت کی تھی بھائی نے…. اور…. کب ؟“
”دیکھیں جی ظاہر ہے وصیت اس نے شہادت سے پہلے کی تھی اور وصیت کے مطابق اسے دوبارہ جلال آباد لے جانا ہے ۔“
”دوبارہ جلال آباد …. مگر کیوں ؟“
” اس لیے کہ اس کی وصیت یہ تھی کہ شہید ہونے کی صورت میں اسے جلال آباد کے شہداءکے قبرستان میں دفن کیا جائے ۔“
”پھر لاش ….“
”خدارا زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں ۔ ہمیں اجازت دیں کہ شہید کی وصیت پر عمل کر سکیں۔“
میں بے بس ہوتا جارہا تھا کہا :
”میں کیسے اجازت دے سکتا ہوں….وہ…. امی جان سے ….“
”جی ان سے رابطہ کی کو شش کی گئی مگر ان سے بات نہ ہو سکی ‘بس پیغام دیا جا سکا ہے ۔“
”میں بڑ بڑایا ‘ میں کیسے اجازت….؟“
شاید میری بڑبڑاہٹ اس تک پہنچ گئی تھی تبھی تو اس نے فوراً کہا تھا:
”جی مجبوری ہے ؟“
”گویا میں اجازت دوں نہ دوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ ‘
میں روہانسا ہو کر چیخا۔ میری آواز پھٹ گئی تھی اور پھٹی آواز کے دندانے میرے حلقوم کوبھی پھاڑ گئے تھے ۔

(نوٹ: اب مجھے کَہانی روک کر یہاں وضاحت کر ہی دینی چاہیے کہ یہ کَہانی میں انور کی اصرار پر لکھ رہا ہوں ۔ انور آج کل موت کے کنول پر منڈلاتی کَہانیوں کا اسیر ہے خود بھی زِندگی کی بہ جائے موت کی کَہانیاں لکھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مجھے بھی اپنے پاس موجود کسی بھی ایسی کَہانی کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے ۔اس کا خیال ہے کہ آج کل کی زِندگی کی کَہانیوں سے کہیں زیادہ جَوہر موت کی اِن کَہانیوں میں ہوتا ہے ۔ میں اس کی بات سے متفق نہیں تھا لہذا اس کَہانی کو اسے سنانے کے باوصف لکھنے سے احتراز کرتا رہا اور جس قدر کتراتا رہا اتنا ہی اس کا اصرار بڑھتا گیا یہاںتک کہ اوپر کی سطور قلم زد ہوگئیں ۔ یہاں پہنچ کر مجھے بہت سی وضاحتوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے مگرمیں سمجھتا ہوں کہ جب کَہانی اپنے زور سے بہہ رہی ہو تو وضاحتوں کو موخر کر دینا چاہیے۔لہذا کَہانی کا سرا وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے یہ ٹوٹی تھی۔ اس کے لیے مجھے کَہانی کے راوی کی کھال میں گھسنا ہے ‘ وضاحتوں کے لیے مناسب مَقام تلاش کرتے ہی پھر حاضر ہو جاﺅں گا۔)

میں منت سماجت کرنے پر مجبور ہو گیا تھا گھگھیا گھگھیا کر کہنے لگا:
” مجھے بھائی کا چہرہ دیکھنا ہے“
ادھر سے بالکل سپاٹ آواز میں کہا گیا:
”آپ کے آتے آتے تو بہت دیر ہو جائے گی۔“
میں ہتھے سے اُکھڑ گیا ‘پھٹی ہوئی آواز کو اور لیر لیر کرتے ہوے چلایا:
” تم جھوٹ بولتے ہو تمہارے پاس لاش ہے ہی نہیں ورنہ تم ….“
میں نے اَپنی بات قصداً نامکمل چھوڑ دی ۔ سارے میں سناٹا چھا گیا۔ پورا دفتر میرے کمرے میں جمع ہو گیا تھا اور کوئی بھی کچھ نہ کَہ رہا تھا۔ ٹیلی فون کے دوسری طرف بھی کچھ دیر کا سکوت اتنا دبیز تھا کہ چھاتی پر بھاری سل کی طرح اپنا دباﺅ بڑھا تا چلا گیا‘ حتی کہ مجھے گماں گزرنے لگاکہ میری پسلیاں چٹخ جائیں گی۔ دفعتاًریسیور میں سے چابی بھری آواز نے آکر بھاری سل سرکادی :
” آپ آجائیں‘…. ….ابھی“
میں نے لمبا سانس لیا اور فورا کہا :
”جی میں آتا ہوں ‘ میرا انتظار کیجئے …. اور امی کو بھی ساتھ لیتا آﺅں گا“
”نہیں اس طرح تو بہت دیر ہو جائے گی “
اس نے رٹا رٹایا جملہ دہرادیا اور ساتھ ہی تاکید بھی کردی:
”بس آپ خود ہی آجائیے مگر دیر نہ کیجئے گا“
اس خدشے کے پیش نظر کہ میں پھر سے نہ بول پڑوں اس نے حیات آباد کے ایک مکان کا نمبر مجھے دیا اور کہا:
”ہم اس پتے پرآپ کا دو اڑھائی گھنٹے ہی انتظار کر پائیں گے “
فون بند ہو گیا ۔ ساتھ ہی میرا دل بھی جیسے دھڑکنا بند ہو گیا تھا۔ میں جہاں تھا‘ وہیں کھڑا رہا اور دوسری طرف سے کچھ سننے کے لیے سماعت کو پوری طرح حاضر رکھا‘یہاں تک کہ لائن کٹ گئی ۔ میں دونوں ہاتھوں کو میز پر رکھ کر کرسی پر یوں ڈھے گیا تھا جیسے بدن عین وسط سے کٹ گیا تھا۔ میں رودینا چاہتا تھا‘دھاڑیں مار مار کر ‘ اَپنی چھاتی پیٹ ڈالنا چاہتا تھا ….عین وہاں سے جہاں دل پسلیوں میں گھونسے مار رہا تھا مگر میرے اردگرد سارا دفتر جمع ہو گیا تھا ۔

(وضاحت نمبر ۱:
کہانی کے راوی نے اَپنی ماں کو ساتھ لانے کی بات کی اور باپ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ ممکن ہے یہ بات کسی قاری کو الجھائے لہذا یہاں وضاحت ضروری ہو گئی ہے کہ راوی کا باپ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا ۔
وضاحت نمبر ۲:
راوی کے بھائی کی شہادت کا واقعہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ہوا جب کہ حیات آباد اس کے اپنے ملک کے ایک شہر پشاور میں واقع ہے ۔
وضاحت نمبر ۳:
اس خدشے کے پیش نظر کہ اسے ایک دہشت پسند کی کَہانی نہ سمجھ لیا جائے یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ قدرے پرانا ہے‘ اتنا پرانا کہ ابھی آزادی اور خود مختیاری کی جدوجہد کرنے والے دہشت گرد قرار نہیں پائے تھے انہیں فلسطین میں فدائی‘ کشمیر‘ چیچنیا میں حریت پسند اور افغانستان میں مجاہدین کہاجاتا تھااور ان کی حمایت اورباقاعدہ سر پرستی ہماری قومی ترجیحات کا لازمی جزو تھا۔
وضاحت نمبر ۴:
ابھی دو میں سے ایک بڑی قوت یعنی روس کو ٹوٹنا تھا تاہم وہ آخری دموں پر تھاجب کہ ہمیں امداد دے کر اَپنی جنگ کو ہمارے لیے جہاد بنانے والے امریکہ نے ہمیں یقین دلایا ہوا تھا کہ پڑوسی ملک میں ہونے والی جد و جہد دراصل ہمارے اپنے ملک کی بقا کے لیے جہاد کا درجہ رَکھتی ہے۔
وضاحت نمبر ۵:
راوی کا خاندان ایمان اور زمین دونوں سے جڑا ہوا تھا ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد جب یہ خاندان ایک قافلے کے ساتھ یہاں آرہا تھا تو راوی کا تایا بلوائیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا جبکہ اس کی ایک جوان پھوپھی اٹھا لی گئی تھی ۔ اس خاندان نے اس قربانی کو اللہ کی منشا جان کر قبول کر لیا تھا۔
وضاحت نمبر ۶:
راوی خود تقسیم کے معاملے کو ایمان سے زیادہ معاشی آزادی کی جدوجہد قرار دیتا تھا۔ راوی کا باپ اَپنی زِندگی میں اپنے اس بڑے بیٹے کی ان باتوں سے بہت نالاں رہتا تھا ۔وہ اس پر بہت برہم ہوتا اور کہتا کہ اس طرح تو تقسیم میں جان قربان کرنے والے شہید کہلائے جا سکیں گے نہ اٹھا لی جانے والی عورتیں اپنے وجود کے گرد تقدس کا ہالہ بنا کر نئے ملک میں آ کر بسنے والوں کے لیے محترم ہو پائیں گی ۔ مگر باپ کے مرنے کے بعد راوی کو یوں محسوس ہوا جیسے ایمان اور زمین سے جڑنے والی ساری نسل مر مرا چکی تھی۔
وضاحت نمبر ۷:
چوں کہ وہ شروع ہی سے اپنے خاندان سے الگ سوچتا تھا اور اپنے پورے خاندان کو سادہ فہم اور جذباتی سمجھتا تھا لہذا اس شہادت پر بھی اس کا ردعمل ایک ایسے آدمی کاتھا جو اس ساری جنگ کو ایمان اور زمین سے نہیں جوڑتا۔ وہ صرف اتنا ہی سوچ پایا تھا کہ مارا جانے والا اس کا اپنابھائی تھا ‘ وہ بھائی ‘جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا۔
وضاحت نمبر ۸:
راوی ماں کے ساتھ بھی بہت محبت کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ بیٹے کی لاش ماں اَپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر چہ وہ اس کو ضروری نہیں سمجھتا تھا کہ اس وصیت پر عمل بھی کیا جائے جو اَپنی ہی دھن میں مگن اس کا بھائی کر گیا تھااور اگراس پر عمل کرنابہت ضروری ہے تب بھی ماں اس کی لاش کو خود جلال آباد کے لیے رخصت کر ے مگر اس کے لیے اسے اپنے قصبے جانا پڑتا جو ایک سو پچھتر کلو میٹر دوسری سمت واقع تھا۔ یوں دیا گیا وقت وہاں پہنچنے میں ہی صرف ہو جا نے کا احتمال تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہ انتظار کئے بغیربھائی کی لاش واپس جلال آباد لے جائیں گے۔ )

میں گاڑی جتنی تیزی سے مری کے پہاڑوں سے اتار سکتا‘ اُتار لی ۔اسلام آباد‘ترنول ‘ ٹیکسلا‘ حسن ابدال ‘اٹک کا پل‘ نوشہرہ غرض سب کو روندتا آگے بڑھتا رہا۔ مجھے خد شہ تھا کہ میرے پہنچنے سے پہلے کہیں وہ بھائی کی لاش واپس جلال آباد نہ لے جائیں ۔دو تین مَقامات پر گاڑی بے قابو ہو کر ٹکراتے ٹکراتے بچی تاہم میں کسی بھی صورت دیئے گئے وقت کے اندر اندر پہنچ جانا چاہتا تھا۔
اور میں واقعی اتنے کم وقت میں وہاں پہنچ گیا تھا۔
وہ میرا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے یوں جیسے میں نے بہت دیر کر دی تھی ۔
وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے ان سب کاعجب طرح کا سفاک استقلال میرے احساسات کی شدت کو پچھاڑ رہا تھا۔
وہ باری باری مجھ سے بغل گیر ہو رہے تھے اور مجھے بھائی کی شہادت کی مبارک باد دہے تھے
میں بھائی کو دیکھنا چاہتا تھا اور اس کی لاش سے لپٹ کر رونا چاہتا تھا ۔زور زور سے منھ پھاڑ کر اور سینہ پیٹ پیٹ کر ۔ میرا اندر دکھ سے ابل رہا تھا مگر وہ سب بھیگی داڑھیوں والے مجھے مبارکباد دے ہے تھے اور کَہ رہے تھے کہ میں خُوِش نصیب تھا کہ میں ایک شہید کا بھائی تھا ۔
وہ ختم ہونے میں ہی نہ آتے تھے مجھے لگا میری چھاتی پھٹ گئی تھی اور آنکھیں پھوٹ گئی تھیں‘ سماعتیں بند ہو گئی تھیں اور میں ان میں سے کسی کی بانہوں میں جھول گیا تھا ۔
میں فوری طور پر اندازہ نہیں کر پایا کہ مجھے کتنی دیر بعد ہو ش آیا تھا تاہم جب ہو ش آیا تو میں نے خود کو ایک نیم تاریک کمرے میں قالین پر پڑا پایا۔ مجھے یہ جان لینے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ میں کہاں تھا ۔ وہ کمرا گلاب کی خو شبو سے کناروں تک بھرا ہوا تھا۔ بہت جلد مجھے یہ باور ہو گیا کہ لاش کہیں پاس ہی تھی ۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھتے ہی ان میں سے کئی ایک مجھ پر جھک گئے تھے اور یوں میں آزادی سے گردن گھماکر کمرے کا جائزہ نہ لے سکتا تھا ۔ ان میں سے ایک ‘جوکچھ زیادہ ہی گٹھے ہوے جسم کا مالک تھا‘ دوسروں کو پیچھے دھکیلتا میرے چہرے پر جھک گیا اورکہا کہ مجھے اٹھ کر وضو کر لینا چاہییے کہ پہلے نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔ بے قراری سے اِدھر اُدھر دیکھا ۔ کمرا خالی تھا…. بالکل خالی بھی نہ تھا….اس میں بچھے اس ایرانی قالین پر وہ سب ننگے قدموں سے کھڑے تھے ‘ جس پر کچھ دیر پہلے میں لیٹا پڑا تھا ۔ سارے میں ایک بوجھل خُوِشبو پھیلی ہوئی تھی جو نتھنوں میں گھسے آتی تھی۔ میں نے اپنے پاس کھڑے ہونے والوں کی ٹانگوں کے بیچ سے دائیں دیوار کے پاس پڑا ایک تابوت بھی دیکھ لیا جوگلاب کی پتیوں سے لدا ہوا تھا۔
دل میری چھاتی کے شکنجے سے نکلا اور حلق کی سمت اچھلا ۔ میں تابوت کے پاس جانا چاہتا تھا اور اس کا تختہ اکھیڑ کر اندر پڑی لاش کی چھاتی سے لگ جانا چاہتا تھا مگر ان ….

( نوٹ: یہاں پہنچ کر راوی نفرت یا پھر غصے کے سبب خاموش ہوجاتا ہے لہذا کچھ اندازے لگانا پڑتے ہیں :
اندازہ نمبر ۱ :
کَہانی کے اس مرحلے پرراوی کی عقل ماری گئی ہوگی تب ہی تو اس نے بے قابو ہوکر گالی بک دینا چاہی تاہم وہ تہذیب یافتہ شخص تھا لہذا کسی اور احساس یا پھر اَپنی آپ کو ناحق برہم پاتے پا کر ندامت سے دوچار ہوااور گالی کو ہونٹوں میں دبالیا ہوگا ۔
اندازہ نمبر ۲ :
راوی نے یہ نہیں بتایا کہ ان سب کی داڑھیاں کیوں گیلی تھیں لیکن اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا سبب ان کی آنسو نہیں ہو سکتے تھے ۔ وہ سب یقینا وضو کرکے اس کا انتظار کررہے ہوں گے۔ انہیں بارڈر پار جانا تھا وہ روشنی میں سرحد پار کرنا چاہتے تھے اس کے پہنچنے اور جنازے میں شامل ہونے کے بعد ہی لاش کو واپس لے جایا جا سکتا تھا مگر راوی اتنے کمزور ایمان اور بودے دل والا نکلا کہ اس عظیم وقوعے کو صبرواستقامت سے برداشت کرنے اور وقار سے اپنے شہید بھائی کو رخصت کرنے کی بہ جائے بے ہوش ہو گیا تھا۔
اندازہ نمبر۳ :
وہ غالبا روشنی میں اس لیے سرحد تک پہنچ جانا چاہتے تھے کہ ادھر سے انہیں پوری محافظت دینے والوں کا یہی حکم ہوگا۔ جب کہ رات کو کچھ اور خطروں کے جاگ اٹھنے کا احتمال بھی ہوگا۔
اندازہ نمبر۴:
ہو ش میں آنے کے بعد بھی انہیں اسے وضو کرنے اور جنازہ پڑھنے تک شہید کی لاش سے قدرے فاصلے پر رکھنے میں بہت دِقت کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔
ان اندازوں کے بعد کَہانی راوی کے بیان سے جڑ جاتی ہے۔ )

خدا خدا کرکے نماز جنازہ ہوچکی تو میں بھاگ کر تابوت تک پہنچا میں اتنی تیزی سے تابوت کی طرف لپکا تھا کہ اوپر کا تختہ الٹنے تک وہ مجھ تک نہ پہنچ پائے تھے ۔
تختہ الٹ دینے کے بعد وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔
وہ سب جو مجھے قدم قدم پر روک رہے تھے‘ وہ بھی نہیں ۔
میں جو تابوت پر جھکا ہوا تھا ‘میں بھی نہیں۔
وہ لاش جسے تابوت میں ہونا چاہیے تھا حتی کہ وہ بھی نہیں۔
میں نے کفن کی اس جانب کو ٹٹولا جہاں سر ہونا چاہیے تھا ….وہاں سر نہیں تھا۔ میں نے کفن الٹ دیا وہاں سرخ سرخ بوٹیوں کا ڈھیر پڑا تھا ۔ میں نے وہاں ہاتھ سرکایا جہاں کندھے ہوتے ہیں وہاں کندھے بھی نہ تھے چھاتی بھی گوشت کا ڈھیر تھی خُون کی پھٹکیوں اور مہک میں بسا ہوا گوشت کا ڈھیر ۔
مجھے گمان گزرا ایک لمحے کے لیے کہ وہ میرے بھائی لاشہ نہیں تھا اس سے پہلے کہ میں انہیں جھوٹا کَہ کر ان پر چڑھ دوڑتا میری انگلیاں ایک جگہ سلامت جلد کا لمس پاکر رک گئیں۔ میں نے وہاں سے کفن الٹ ڈالا لہو میں ڈوبا بازو میرے سامنے تھا ۔ میںنے پہچان لیا وہ سب جھوٹے نہیں تھے ‘یہ بازو میرے بھائی ہی کا تھا۔ اس کی دو انگلیاں اندر کو مڑی ہوئی انگوٹھے کو چھو رہی تھیںجبکہ دوسری دو اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں ‘ جیسے کوئی تتلی اڑان بھر رہی ہو۔ میں نے بازو کو وارفتگی میں اٹھا کر بو سہ دینا چاہا تو وہ کہنی سے کٹا بازو میرے ہاتھوں میں جھولنے لگا یوں کہ میں بو سہ دینا بھول گیا اور ڈھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔وہ مجھے سنبھال رہے تھے اورمیں روتے روتے ایک بار پھر بے ہوش ہو گیا تھا ۔

( نوٹ : راوی یہاں پہنچ کر چپ ہو جاتا ہے اور کچھ وقفے کے بعد کَہانی سے بر گشتہ باتیں کرنے لگتا ہے یوں‘ جیسے وہ سننے والوں کو نظر انداز کرکے خود سے کلام کر رہا ہو ۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں کَہانی سے جوڑنے میں مجھے دِقت ہو رہی ہے لہذا قوسین کے بعد اس نوٹ کی ذیل میں ان کو صرف اشاروں کی صورت دے رہا ہوں تاکہ راوی کی ذہنی کیفیت کا دُرُست دُرُست اندازہ لگایاجا سکے ۔

پہلی بر گشتہ بات کا اشارہ :
راوی نے مٹھیاں بھینچیں اور کہا اب سارے بھیگی داڑھیوں والے اور خود کو ملت واحد کہنے والے بھیگی بلیاں بنے ہوے ہیں ۔

دوسری بر گشتہ بات کا اشارہ :
اب کون ہے جو اس زمین پر ٹکنا چاہتا ہے ۔ ایسی زمین پر جہاں قربانی حماقت ہو گئی ہے ‘ نیکی بے وقوفی اور ایمان سے وابستگی تنگ نظری ۔ ایسا کہتے ہوے راوی کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی (جب راوی کی سسکی نکلی تو میرا گمان ہے کہ راوی نے اپنے اس تایا کو یاد کیاہوگا جو ہجرت کرتے ہوے مارا گیا تھا اور اس پھوپھی کی بابت بھی سوچا ہوگا جو اٹھالی گئی تھی۔)

تیسری بر گشتہ بات کا اشارہ :
راوی نے ایک پرانا اخبار جیب سے نکالا تھا جس میں اس ہیرو کی تصویر چھپی ہوئی تھی جو اب ہیرو نہیں رہا تھا اور قہقہہ لگاتے ہوے الفاظ چبا چبا کر کہا تھا وہ جس کی ہم جوتیاں چاٹتے ہیں وہ جب چاہتا ہے ہمارے ہاتھوں سے ہمارے ہیرو کو زیرو بناتا ہے جب چاہتا زیرو کو ہیرو بنوالیتا ہے ۔ہم اپنے پیاروں کو خود رسوا کرتے ہیں اور اپنے غداروں کو خود کندھا دیتے ہیں۔ اس کے بعد راوی کئی روز کے لیے خاموش ہو جاتا ہے ۔اس کی خاموشی بھی کَہانی سے برگشتہ باتوں پر عین محرم کی دسویں کو ٹوٹی تھی۔

چوتھی برگشتہ بات کا اشارہ:
راوی یہ بات بتاتے ہوے خود رونے لگا تھا کہ ماں اب مصعب کو یاد کرکر کے روتی تھی اور زور زور سے بین کرتے ہوے انہیں بھی یاد کرتی تھی جن سے کوفے والوں نے غداری کی تھی اورجنہیں کربلا میں شہید ہونا پڑا تھا ۔ وہ ان مقدس ہستیوں کو روتے روتے تقسیم کے دوران اپنے بچھڑے ہوے پیاروں کو یاد کرنے لگتی تھی اور وہ سارے آنسو بہا دینا چاہتی تھی جو بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر اس نے روک لیے تھے)

۔۔۔۔۔

( پیارے انور ایک نوٹ تمہارے لیے :یہاں موت کی کَہانی ختم ہونے کے قریب ہے ۔ وہ کَہانی جو تم لکھوانا چاہتے تھے اس کَہانی کے اندر ہی کہیں تحلیل ہوگئی ہے اب چاہے کوئی ماں کی کوکھ سے جنم لیتے لیتے سانسیں توڑ بیٹھے ‘ اپنے بستر پر طویل عمر پاکر بے بسی کی موت مرے‘ سڑک پر چلتے چلتے کسی ٹرک تلے کچلا جائے یا کسی اعلی آدرش کے لیے جان دے دے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ بعد میں سب موتوںکے معنی بدل جانے ہوتے ہیں ۔ اب تو کَہانیوں کاوہ متن بھی بے وفا ہو گیا ہے ‘جسے تم نے یا میں نے لکھا ہوتا ہے کہ پڑھنے والا اس پر زیادہ استحاق رکھنے لگا ہے۔ بالکل اسی طرح‘جس طرح ہم جس کے تصرف میںہیں ‘ اکیلے اکیلے یا ایک گلے کی صورت میں‘وہ جس طرف چاہتا ہے ہماری زِندگیوں کو ہانک لے جاتا ہے اور جب چاہتا ہے ہماری شہادتوں کو تہمت بنادیتا ہے ۔ لو میں بھی بہک گیا ہوں راوی اِدھر ہی کو آرہا ہے لہذا میں اَپنی بات موقوف کرتا ہوں راوی کے آخری جملے سن لو کہ کَہانی تکمیل کو پہنچے )

۔۔۔۔۔

ماں اس وقت بالکل نہ روئی تھی جب میں گھر پہنچا تھا ‘ ہاں ماسی جو پاس ہی بیٹھی تھی ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا اٹھا کر بین کرنے لگی تھی ۔ ماں نے ماسی کے اٹھے ہوے ہاتھ جھٹک کر گرا دیئے اور اسے رونے سے منع کر تے ہوے کہا تھا کہ شہیدوں پر رویا نہیں کرتے ۔ میں ماں کے حوصلے پر دنگ اور اس کی سادگی پر برہم تھا….لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ تب ایمان کے معاملے میں وہ اندر سے اتنی مضبوط تھی کہ میں اندر سے کافر ہوتے ہوے بھی اسے ٹوک نہ پاتا تھا ….مگر یہ تو تب کی بات ہے جب ایمان اور زمین کی کوئی وقعت تھی اب تو ماں روتی ہے اور رلاتی بھی ہے ۔ اتنا زیادہ ‘اور اتنے تسلسل سے ‘کہ میں بھی رونے لگتا ہوں اور بچھڑے ہوﺅں کو یاد کر نے بیٹھ جاتا ہوں۔ میں بچھڑے ہوﺅں کواتنا یاد کرتا ہوں کہ اندر کا کافردل پسیج کرایمان اورزمین سے وابستہ ان جذبوں کو اپنے ہی اندر سے ڈھونڈنکالتا ہے‘ جو وہاں کبھی تھے ہی نہیں ۔

 مرگ زار


کچھ اس افسانے کے باب میں

محمد حمید شاہد نے معاصر دنیا اور زندگی پر غیر مشروط اور غیر جانبدارانہ نظر ڈالی ہے

ناصر عباس نیر،افتخار عارف، فتح محمد ملک، محمد حمید شاہد، منظر نقوی
ناصر عباس نیر،افتخار عارف، فتح محمد ملک، محمد حمید شاہد، منظر نقوی

”مرگ زار“ کے مرادی مصنّف کی بھی ایک آئیڈیالوجی ہے ‘ جس کی مدد سے اس نے دنیا کو سمجھا اور سمجھایا ہے ۔ اسے ”خود شعوریت“ (سیلف ری فلیکسیویٹی) کا نام دے سکتے ہیں۔ خود شعوریت”مرگ زار“ میں کئی صورتوں میں اور کئی سطحوں پر کار فرما ہے ۔ پہلی صورت میں یہ مصنف کو اپنے تخلیق کار ہونے کا احساس پیہم دیتی ہے ۔ اپنے تخلیق کار ہونے کا احساس سادہ اور عام سی بات نہیں ہے ۔ یہ احساس نوعیت کے اعتبار سے ”آئیڈیالوجیکل “ ہے ۔ یعنی اس احساس کو حاوی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مصنف کا دنیا کے ساتھ رشتہ تخلیقی ہے ۔ وہ دنیا کی تفہیم اور آگے اس کی ترسیل تخلیقی پیرائے میں کرتا اور دیگر پیرایوں کو بے دخل اور غیر مو ¿ثر کرتا ہے ۔ دیگر پیرایوں میں سا ئنس‘ صحافت‘ فلسفہ‘ تاریخ وغیرہ بھی شامل ہیں اور وہ نظریے بھی جو اپنی اصل میں سیاسی یا اخلاقی ہیں‘ مگر جنہوں نے چولا جمالیات کا پہنا ہوا ہے ۔ تخلیقی پیرایہ اپنی اصل میں ڈس انٹرسٹڈ ہوتاہے۔ یہ دنیا اور زندگی پر آزادانہ ‘ غیر جانبدارانہ اور غیر مشروط نظر ڈالتا ہے۔ واضح رہے کہ آزادانہ نظر کا مطلب کلی آزادی یا چوائس نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا مو قف ہے جو پہلے سے طے شدہ حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ مخصوص اور واحد نظریے کے اجارے کو مانتا ہے ۔ یہ زندگی سے غیر متعصبانہ اور کھلا ڈلا معاملہ کرتا ہے۔ ”مرگ زار“ کے محمد حمید شاہد نے بھی معاصر دنیا اور زندگی پر غیر مشروط اور غیر جانبدارانہ نظر ڈالی ہے ۔
تخلیق ادراک سے اظہار تک جو سفر طے کرتی ہے ‘ اسے سمجھنا آسان نہیں۔ مگر ”مرگ زار“ کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے مصنف کواس سفر میں برابر اپنے تخلیقی منصب کا شعور رہتا ہے اور وہ اظہار کے منفرد تخلیقی قرینے وضع کرتا چلا جاتاہے۔ محمد حمید شاہد کے افسانے کی ہر سطر سے تخلیقی شان اور تخلیقی خود شعوریت کا اظہار ہوتا ہے ۔ وہ ماجرا کہیں یا کسی کردار کے اوضاع و اطوار کو پیش کریں‘ کسی کیفیت کا بیان ہو یا کوئی نفسیاتی تجزیہ‘ جمالیاتی طور کا بطور خاص اہتمام ہوتا ہے ۔ بعض اوقات کسی سادہ قصے کے بیان میں سجی سنوری عبارت کی گنجائش نہ بھی ہو تو وہ گنجائش نکال لیتے ہیں ۔ افسانے کا اسلوب ‘ بیان کنندہ(نریٹر) کی شخصیت ‘ ذہنی سطح اور کہانی میں اس کے کردار کے تابع نکال لیتے ہیں۔ محمد حمید شاہد اس بات کا ادراک رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ افسانہ ایسے بیان کنندہ کی زبانی کہلواتے ہیں جو قصے کی جزیات کو نفسیاتی بصیرت کے ساتھ پیش کرنے کی ذہنی اہلیت رکھتا ہے ۔
”مرگ زار“ میں خود شعوریت کی کار فرمائی کی دوسری صورت یہ ہے کہ اس میں شامل بعض افسانوں میں‘ افسانویت اور افسانہ سازی کے عمل کا شعور موجود ہے ۔ ان افسانوں کے راویوں کو پیہم یہ احساس اور دھیان رہتا ہے کہ وہ کہانی کہہ رہے ہیں‘ جیسے ”تکلے کا گھاﺅ“ اور ”مرگ زار“ میں راوی‘قاری کو یہ تاثر دینے کی مسلسل سعی کرتا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کی کہانی کہہ رہا ہے ۔ ان افسانوں میں راوی نے ایک مصنف کا بہروپ بھرا ہوا ہے۔ اس طرز کی کہانیاں ہمیں بعض سوالات قائم کرنے اور دنیا اور ادب کے رشتے کو سمجھنے کی کچھ نئی راہیں سجھاتی ہیں (اور یہ معمولی بات نہیں۔)
ایک سوال یہ کہ جس دنیا کو کہانی میں لکھا جا رہا ہے ‘ کیا وہ دنیا خود بھی ایک کہانی ہے ؟ یہ سوال اُٹھانا اس لیے روا ہے کہ مذکورہ افسانوں میں دو کہانیاں ایک ساتھ چلتی ہیں ۔ ایک کہانی راوی کی ہے اور دوسری ‘جو وہ کہہ رہا ہے ۔ ہر چند راوی یہ تاثر دینے کی سعی پیہم کرتا ہے کہ وہ کہانی سے الگ ہے ‘ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتا ۔ اور اس کی یہ کو شش کہانی کے عمل کا حصہ بن جاتی ہے ۔ چناں چہ یہ پو چھا جا سکتا ہے کہ اگر راوی (جو دنیا کا نمائندہ ہے) کی کہانی اس کی کہی جانے والی کہانی سے الگ نہیں ہے تو پھر ان دونوں میں رشتہ کیا ہے ؟ کیا کہی جانے والی کہانی‘ کہنے والے کی کہانی کا عکس محض ہے؟ یہ بات ترقی پسندوں اور نفسیاتی نقادوں کے مفروضات پر یقین رکھنے والوں کو تو قابل قبول ہوئی‘ مگر ”مرگ زار“ کے مصنف کو نہیں ۔ اس بات کی صداقت تسلیم کر لینے کا مطلب افسانے کے تخلیقی امکانات کو محدود کرنا ہے اور افسانے کو خارجی اور معلوم دنیا کا سیدھا سادا اور” سچا“ بیانیہ بنا ڈالنا ہے ۔”مرگ زار“ کا مصنف اپنی افسانوں میں دنیا کو لکھتا ہے ‘مگر جب یہ دنیا لکھی جاتی ہے تو کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے ۔ افسانوی تخلیقی عمل دنیا کو بدل دیتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں” مرگ زار“ کا افسانہ ہمیں جس دنیا سے آشنا کرتا ہے ‘ وہ اس کی اپنی ڈھالی ہوئی اور تشکیل دی گئی دنیا ہے ۔ اس کتاب کے افسانوں کو پڑھنے سے دنیا سے متعلق فقط ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے ۔

ناصر عباس نیر


سید مظہر جمیل
سید مظہر جمیل

مرگ زار میں محمد حمید شاہد نے تکنیکی اعتبار سے ایک ذرا جداگانہ وتیرہ اختیار کیا ہے

حمید شاہد کی کہانیاں بالخصوص ”مرگ زار“ ، ” گانٹھ“ ،” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ایسی کہانیاں ہیں جنہیں معاصر کہانی کے بند دروازے پر دی جانے والی ایسی دستکیں سمجھنا چاہیے جو بے حس ضمیروں پر جمی برف کو پگھلا سکتی ہوں یا نہیں لیکن حمید شاہد نے ان کہانیوںکے توسط سے زبوںحال انسانوںپر توڑے جانے والے ظلم‘ تشدد ‘جبر‘ سفاکیت‘ دہشت اور ہلاکت آفرینیوں کے خلاف تخلیق کے محضر نامے پر اپنا استغاثہ ‘ اپنی گواہی ‘ انحرافی رد ِعمل اور احتجاج ضرور رقم کر دیا ہے

” مرگ زار“ ایک ایسی کہانی ہے جو افغانستان کے چٹیل اور سخت کوش معاشرے میں گزشتہ تین عشروں سے جاری وحشت و بربریت ‘ خوں آشامی‘ قتال عظیم اور انسانیت کی تذلیل و شکستگی کی طا غوتی عملداری کے پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔ ایک دور وہ تھا جب افغانستان میں کفر اور اسلام کا جہاد فی سبیل اللہ بپا تھا‘ہلاکت و سفاکیت کا ایک آتشیں الاﺅ تھاجس نے نکبت کے شکار معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ روس کی بے دین فسطائیت پر خدائے واحد کی حاکمیت اور دین اسلام کی رحمتوں کا فروغ ہی وہ اعلی نصب العین تھے جو بیک وقت مجاہدین اسلام اور سرکارِ امریکہ کو عزیز تھے کہ وہی اس جہادِ فی الدین کا سب سے بڑا مربی اور حلیف تھا۔ اس آتشیں الاﺅ کو دہکائے رکھنے کے لیے عالم اسلام سے سرفروش مجاہدین کے غول کے غول تھے جو شہادت کی دولتِ بے بہا کی طلب میں قیمتی جانوں کا نذرانہ گزارتے نہ تھکتے تھے۔ یہ عالمی جہاد کا وہ کار زار تھا جو کشمیر ‘ افغانستان ‘ فلسطین ‘ چیچنیا اور بوسنیا جیسے دور دراز خطوں تک پھیلا ہوا تھا اور جہاں کھیتوں کھلیانوں تک مجاہدوں‘ فدائیوں اور حریت پسندوں کے لیے شہادت کی سبیلیں کھولی جا چکی تھیں ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے موسم بدلا کہ جہاد کی عبادت گزاری کو دہشت گردی کی غلیظ گالی کا مترادف قرار دیا گیا۔ اور مغرب کے متمدن معاشروں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اکنافِ عالم میں ان دہشت گردوں کو ‘ جو کبھی فدائین‘ کبھی مجاہدین اور حریت پسند وں کے القابات سے پکارے جارہے تھے‘ چن چن کر قتل کیا جانے لگا۔ ان کی بستیاں ‘ ان کے شہر‘کھیت‘ کھلیان‘ کچے پکے جھونپڑے‘ عبادت گاہیں‘ اسکول‘ اسپتال غرض سب ٹھکانے نیست و نابود کر دیے گئے۔ عالمی سپر طاقت اور ان کے باج گزارحلیفوں نے افغانستان کے مفلوک الحال باشندوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔
ظاہر ہے موضوعاتی سطح پر یہ ایک نہایت چیختا چنگھاڑتا موضوع ہے جس سے ہلاکت آفرینی کے بے شمار گوشے نکلتے ہیں ۔ اس خون آشام موضوع پر ایک بلند بانگ للکارتی ہوئی کہانی ہی لکھی جا سکتی تھی۔ جس میں نالہ و شیون کی اذیت ناک کراہیں بلند ہوتیں یا حز یمت خوردہ زخموں کی للکاریں ‘ لیکن محمد حمید شاہد نے انتہائی محتاط اسلوب سے کہانی کو فنی دائرے سے باہر نکلنے سے باز رکھا ہے اور کہانی ماجرائیت کی سطح سے لے کر اختتامی فقروں تک فطری اظہار کا زینہ طے کرتی دِکھائی دیتی ہے ۔ واقعاتی سطح پر تو کہانی میں کوئی ندرت نہیں ہے کہ اس زمانے میں ایسے سانحے معمول کی بات تھی۔ ایک نوجوان (مصعب) افغانستان میں بپا جہادی مورچے میں شہید ہوجاتا ہے اور مجاہد تنظیم کے لوگ اس کی لاش کے منتشر ٹکڑے اکٹھے کر کے پشاور لاتے ہیں اور کہانی کے راوی کو جو شہید کا بھائی ہے ‘ اس کی شہادت کی ”خوشخبری“ سناتے اور مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ وہ بھائی کی لاش حاصل کر نے مری سے پشاور تک کا سفر کرتا ہے لیکن جہادی تنظیم والے شہید کی وصیت کے مطابق اس کی لاش کے باقیات کو جلال آباد کے گنجِ شہیداں میں دفن کرنا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے اس کی اجازت چاہتے ہیں ۔ کہانی کا سارا تاروپود ایک بے حس میکانکیت کا اظہار ہے ۔ جہادیوں کے قول و عمل میں شہادت کی دولتِ بے بہا پر مبارکبادیاں ہی مبارکبادیاں ہیں۔ انسانی زندگی کے اتلاف پر دکھ اوررنج کی ہلکی سی لہر بھی نہیں ۔ ایک جیتا جاگتا پرجوش نوجوان جس کے سامنے عالمِ امکان پھیلا ہوا ہے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے لیکن اس کا کٹا پھٹا لاشہ بھی محترم ہے کہ وہ شہید کے ارفع وعالی مقام پر فائض ہو چکا تھا تو وہ ”شہادتیں“ جو نقل مقانی اور ہجرت کے دوران وقوع ہوئی تھیں اور جنہیں بھلانے میں ایک مدت لگی ہے‘ اس شہادت سے کیوں کر مختلف ہو سکتی ہیں ۔ اب وقت گزرنے کے بعد سب موتیں ایک ہی جیسا صدمہ بن کر رہ جاتی ہیں فرق صرف نکتہ ¿ نظر کی تبدیلی کا ہوتا ہے اور اس عقیدے کا کٹر پن انسان سے دل گداختگی کی حرارت چھین لیتا ہے۔ کہانی میں جذباتیت اور سنسنی خیزیت کا احساس نہیں ہوتا۔ بس حزن و ملال کی اتنی ہی کیفیت طاری رہتی ہے جتنی ایک ایسے عمومی واقعے میں ہونا چاہیے تھی اور ایسا کیوں کر ممکن ہو سکا؟ یہ سوال بجائے خود کہانی کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ یہ کہ ”مرگ زار میں محمد حمید شاہد نے تکنیکی اعتبار سے ایک ذرا جداگانہ وتیرہ اختیار کیا ہے یعنی فکشن اور نان فکشن کے اختلاط سے فضا سازی کاکام لیا ہے ۔ جو باتیں کہانی میں بیان نہیں کی جاسکتی تھیں انھیں وضاحتوں کے زمرے میں بیان کر دیا گیا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ دونوں حصے ‘فکشن /نان فکشن ایک دوسرے سے مربوط ہو کر کہانی کے مجموعی تاثر کو مزید گہرا کرتے ہیں ۔ بے شک ” مرگ زار“ اس موضوع پر لکھی گئی اچھی کہانیوں میں ضرور شامل کی جائے گی اور اس میں برتی گئی تکنیکی تدبیر کاری کی افادیت اور تاثیریت پر متعلقہ حلقوں میں غور بھی کیا جائے گا۔

سید مظہر جمیل


ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جو لکھنے والے کے ہاتھ سے ، قلم خود چھین لیتا ہے

ڈاکٹر نجیبہ عارف
ڈاکٹر نجیبہ عارف

زندگی موت کی امانت ہے۔ اس لیے زندگی سے محبت کرنے والے لوگ ، موت کے زیر بار احسان رہتے ہیں۔ یہ ایسی کشش ہے جس کے دائروں سے نکل بھاگنا ان لوگوں کے لیے سہل نہیں، جو زندگی کو ہر پہلو سے چھو کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ موت ایک اسرار ہے اور اسرار اپنی طرف بلاتے ہیں، آواز دیتے ہیں۔ حمید شاہد کی کتاب، ”مرگ زار“ اسی آواز پر لبیک کہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اس کتاب میں کل پندرہ کہانیاں ہیں۔ اور تقریباً ہر کہانی میں موت کی آہٹ ہے۔ جذبوں کی موت، قدروں کی موت، چھوٹی بڑی انسانی مسرتوں کی موت،وعدوں کی موت، ارادوں کی موت، خوابوں کی موت اور سب سے بڑھ کر جیتے جاگتے، زندہ لہو سے گرمائے ہوئے بدنوں کی موت جس کی اذیت محض اس خیال سے کم نہیں ہو سکتی کہ جسم کی موت سے انسان نہیں مر سکتا۔ موت انسانی ذہن و خیال اور جسم کی حرکت کے خاتمے کا نام ہے۔کیونکہ عام عقائد کے مطابق، جسمانی موت کے بعد اس کا خیال اگر متحرک ہو گا تو اس حرکت کی نوعیت انفعالی ہو گی، فاعلی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ موت کا تصور ایک احساس محرومی سے آشنا کر دیتا ہے۔ زندگی دامان ِ خیال ِ یار کی طرح ہاتھ سے چھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ریت کے ذروں کی طرح مٹھیوں سے چھن چھن کر گرتی ہوئی۔ ہاتھ میں صرف ایک احساس ِ زیاں کی تلچھٹ باقی رہ جاتی ہے۔
”مرگ زار“کی بیشتر کہانیاں اسی تلچھٹ کو کریدتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ہاتھوں میں کہیں سوالوں کی تیسیاں، کہیں تحیّر کی سوئیاں، کہیں بے بسی کی چھینیاں اور کہیں احتجاج وبغاوت کی کسیّاںہیں۔ یہ اقرار و انکار کے مخمصے میں پھنسے ہوئے انسان کی بے چارگیوں کا آئینہ ہیں۔ ایسا انسان جسے سادہ اور معصوم زندگی کے لطف و اہتزازکی تلاش بھی رہتی ہے اور اس شعور و آگاہی کا لپکا بھی ہے جو اس معصومیت کی قیمت پر ملتی ہے۔ اکیسویں صدی میں ایک چھوٹی مچھلی کے ٹرانس پی ¿رنٹ پیٹ میں رہنے والا انسان، جو بڑی مچھلیوں کی نقل و حرکت بھی دیکھ سکتا ہے اور ان کے ارادے اور نیت بھی سمجھ سکتاہے۔ اسے اپنے میدان ِ عمل کی تنگ دامانی کا احساس بھی ہے اور صور تحال کی نزاکت کا ادراک بھی۔ بھینس بننے سے انکار بھی ہے اور لاٹھی کی طاقت کا اندازہ بھی۔ وہ کبوتر کا تنِ نازک سہی مگر اسے آنکھیں بند کرنا پسند نہیں۔ اکیسویں صدی کی چھوٹی قوموں کے افراد جو اپنے گردو پیش کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور اپنی اپنی تہذیب و ثقافت ، لسانی و علاقائی شناخت اور مخصوص روایات و اقدار کو ایک بے ہنگم اور بے شکل و صورت ملغوبے کے بلیک ہول میں گرتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں، جس اندوہناک کربِ بے بسی سے دوچار ہیں، اس کی ایک واضح اور نمایاں جھلک اس کتاب میں دکھائی دیتی ہے۔
پندرہ میں سے چار کہانیوں کے تو عنوان ہی سے موت جھلکتی، بلکہ ٹپکتی ہے۔ ”مرگ زار“،” موت کا بوسہ“،” موت منڈی میں اکیلی موت کاقصہ“اور” دکھ کیسے مرتاہے“ ایسی کہانیاں ہیں جو اپنے تیز ناخنوں سے اپنا ہی کلیجہ چھیل چھیل کر ہی لکھی جا سکتی ہیں۔
”مرگ زار“ تیزی سے رنگ بدلتی دنیا کے اس اضطراب کی نقش گری ہے جس میں
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
وقت کے جبر میں الفاظ کیسے اپنا اعتبار ہی نہیں ، مفہوم بھی کھو بےٹھتے ہیں اور وقت کا جبر بھی کوئی صدیوں کی بات نہیں۔ چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے اقدار و روایات کا چہرہ کیا سے کیا ہو گیا ہے۔ واقعات جس عجلت سے رونما ہو رہے ہیں اس سے محسوس ہونے لگا ہے کہ کسی نہ کسی کا انجام قریب ہے۔ مگر کس کا انجام؟ شاید ایک عہد کا ، شاید ایک نظریے کا، شاید ایک دستورِ حیات کا، شاید ایک اندھی قوت کا۔ سب کے اپنے اپنے خواب ہیں اور اپنا اپنا خیال۔ مصنف کا خیال کیا ہے، کہانی سے یہ معلوم نہیں ہوتا مگر وہ بے قراری ضرور دکھائی دیتی ہے جو ہر انجام سے ذرا پہلے پھیل جایا کرتی ہے۔ وہ آثار ضرور نظر آتے ہیں جو بعد میں ایک واضح خیال اور پھر ایک خواب اور پھر ایک جوشِ جنوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ کہانی کے آخری جملے اس اندیشے کی تصدیق کرتے ہیں:
”ماں نے ماسی کے اٹھے ہوئے ہاتھ جھٹک کر گرا دیے اور اسے رونے سے منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہیدوں پر رویا نہیں کرتے۔ میں ماں کے حوصلے پر دنگ اور اس کی سادگی پر برہم تھا۔ ۔۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ میں اندر سے کافر ہوتے ہوئے بھی اسے ٹوک نہ پاتا تھا۔ ۔۔ مگر یہ تو تب کی بات ہے جب ایمان اور زمین کی کوئی وقعت تھی۔ اب تو ماں روتی ہے اور رلاتی بھی ہے۔اتنا زیادہ اور اتنے تسلسل سے کہ میں بھی رونے لگتا ہوں اور بچھڑے ہوو ¿ں کو یاد کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ میں بچھڑے ہووں کو اتنا یاد کرتا ہوں کہ اندر کا کافر دل پسیج کر ایمان اور زمین سے وابستہ ان جذبوں کو اپنے ہی اندر سے ڈھونڈ margzaarنکالتا ہے، جو وہاں کبھی تھے ہی نہیں۔“
کہانی کا یہ اختتامیہ دراصل اس کتاب کابھی اختتام ہے۔ یہ اختتام بالکل ویسا ہی ہے جیسے علامہ اقبال اپنی ہر نظم میں حضرت انسان یا مسلمانوں کو اچھا خاصا آئینہ دکھانے کے بعد اس کاانجام اس قدر رجائی انداز میں کرتے ہیں کہ پیشین گوئی کا سا لہجہ اپنا لیتے ہیں۔ محمد حمید شاہد ایک تخلیق کار ہے اور تخلیق کے لمحوں میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جو لکھنے والے کے ہاتھ سے ، قلم خود چھین لیتا ہے اور جو چاہتا ہے لکھ دیتا ہے۔ تخلیق کار خود ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ مجھ سے کیا لکھا گیا۔ ہوسکتا ہے محمد حمید شاہد کی اس کہانی کے یہ اختتامی جملے بالکل شعوری ہوں اور التزاماً لکھے گئے ہوں لیکن اس عہد بے اماں میں ایمان اور زمین سے وابستہ جذبوں کا اعتراف ایسی جرات رندانہ ہے جسے صرف شک کا فائدہ دے کر ہی معاف کیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ خیال ضرور پریشان کرتا ہے کہ اگر مصنف نے اس خیال کو واقعی عام کر دیا تو انجام اور بھی قریب آجائے گا۔ امید ہے مصنف کے احباب انہیں اس فعل سے روکے رکھیں گے۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

34 comments

  1. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » آفاق:خاص شمارہM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *