M. Hameed Shahid
Home / افسانے / منجھلی|محمد حمید شاہد

منجھلی|محمد حمید شاہد

manjhali

 

 

 

 

اَب سوچتا ہوں کہ میں نے اِتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا‘ تو حیرت ہوتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اِتنا بڑا فیصلہ میں نے نہیں کیا تھا‘ خود بخود ہو گیا تھا۔
دراصل بھائی اور بھابی دونوں اِتنی محبت کرنے والے اور خیال رکھنے والے ہیں کہ اُن کے لےے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
بیگم نے بھی مخالفت نہ کی تھی۔
بس ہکا بکا مجھے دِیکھتی رِہی تھی۔
اگرچہ وہ کچھ نہ بولی تھی مگر اس کی آنکھیں نمی سے بھر گئی تھیں۔
اور اَب جب کہ میرے اَندر بھیگی آنکھوں کی فصل اُگ آئی ہے‘ سوچتا ہوں؛میں نے اَپنا فیصلہ بدل کیوں نہ دیا تھا۔
پھر یوں ہوا کہ اس نے میرا فیصلہ اَپنا فیصلہ بنا لیا۔
سب کو کہتی پھرتی۔
”دیکھو جی گڑیا ابھی دودھ پیتی ہے اور بڑی بھی تو ناسمجھ ہے‘ بات بے بات ضد کر بیٹھتی ہے توسنبھالے نہیں سنبھلتی۔ میں منجھلی کو کیسے سنبھالوں گی؟اَپنی دادی اور پھوپھی سے بہت مانوس ہے‘ بھابی اور بھائی بھی تو ماں باپ جیسے ہیں‘ پیچھے رہ لے گی۔“
اور وہ پیچھے رہ گئی۔
پہلی رات میں سو نہیں سکاتھا۔
ننھی منی معصوم منجھلی آنکھوں کے سامنے گھومتی رہی۔
میں نے بیگم کو دِیکھا‘ وہ بھی پہلو بدل رہی تھی۔ پوچھا:
”نیند نہیں آرہی؟“
”جی ‘ نئی جگہ ہے نا!“
پھر نئی جگہ پرانی ہوگئی۔ مگر‘ وہ حوصلہ نہ ہاری۔
اور منجھلی بھائی اور بھابی کی بیٹی بن کر ان کے پاس رہتی رہی۔
وہ اُنہیں ابو اور امی کہتی ہے جب کہ ہمیں بابا اور ماما۔
شروع شروع میں جب ہم جاتے تھے تو وہ ہمارے ساتھ آنے کے لےے ضد کرتی۔ رو رو کر بے حال ہو جاتی مگر رَفتہ رَفتہ وہ چُپ چَاپ ہمیں دِیکھتی رِہتی۔
اور جب حسرت سے یوں دِیکھتی تو میرا دِل کرتا ‘ کاش وہ کُھل کر رو لے۔
بیگم کا خیال تھا: اُس کے آنسواُس کے اَندر پڑرَہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بیگم کو گاﺅں سے واپسی پر چپ سی لگ جاتی۔
بات یہ نہیں ہے کہ اُوپر تلے ہماری تین بچیاں ہوئی اور ایک بھائی بھابی کو دِے دِی۔ نہ ہی یہ درست ہے کہ ہمارا تبادلہ ہوگیا اور دوسرے شہر میں ان تینوں کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا کہ اَپنی اولاد کے لےے مشکلات سہنا ہی تو زِندگی کو پُر لطف بنا تا ہے۔
اصل واقعہ یوں ہے کہ
جب گڑیا پیدا ہوئی تھی تو بھابی اُسے گود میں اُٹھا کر دِیر تک دِیکھتی رہی تھی۔
پھر اُس نے ہونٹوں سے گڑیا کے گال چوم لےے تھے اور اُس کے گالوں سے اَپنے گال رگڑتی رہی تھی۔
ایساکرتے ہوے اُس کی آنکھیںبھر آئی تھیں۔
اُس نے اپنے آنسوﺅں کو بہہ جانے دِیا اور انگلی سے ہونٹوں کو سہلایا تھا ؛یوں جیسے محبت کے اِس لمس کو پوروں پر محسوس کرنا چاہتی ہو۔
پھر بے اختیار اُسے اَپنے سینے سے لگا لیا اور کہا:
”اوہ میری بچی“۔
میں یہ سب کچھ دِیکھ رہا تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ کہا:
”بھابی یہ آپ ہی کی بچی ہے۔“
اس نے میری جانب دیکھا:
”میری بچی ۔ کہیے نا؟ یہ میری ہی بچی ہے نا؟“
اُس کے چہرے پر عجب سی کیفیت تھی۔ حیرانی ؛ محض حیرانی ہی نہیں۔ محبت ؛ صرف محبت کا جذبہ ہی نہیں۔ حسرت ؛ شاید وہ بھی پوری طرح نہیں۔
بے قراری‘ چاہت‘ بے یقینی‘ طلب مجھے نہیں معلوم‘ اُس کے چہرے پر آئی کیفیت کوکِس لفظ سے بیان کروں۔
میں وہ آنکھیں دِیکھ رہا تھا‘ جو آنسوﺅں سے بھر گئی تھیں۔
اور وہ ہونٹ دِیکھ رہا تھا جو جذبوں کی شدّت سے کپکپا رہے تھے۔
”دیکھو! تم اَب اِسے دودھ نہیں پلاﺅ گی۔“
اُس نے میری بیگم کی طرف منھ کر کے کہا اور فیصلہ دِے دِیا:
”یہ میرے ساتھ رہے گی۔ میری بیٹی بن کر۔“
پھر وہ اُسے اَپنے کمرے میں لے گئی۔
اَمّی جان یہ سارا منظر دِیکھ رہی تھیں ۔ کبھی ہنستیں‘ کبھی رو دِیتیں۔ جب ذرا سنبھلیں تو گڑیا کی چیزیں سمیٹ کر کمرے سے نکل گئیں۔ چند لمحوں بعد بھابی کے کمرے کے دروازے کی چرچراہٹ سنائی دی۔ گویا امی سیدھی وہاں گئی تھیں۔
ہمارے کمرے میں سناٹا گونج رہا تھا۔
میں نے بیگم کو دِیکھا وہ اَبھی تک بند دروازے کو دِیکھ رہی تھی۔ اس کا ہاتھ اس جگہ کو سہلا رہا تھا‘ جہاں تھوڑی دیر پہلے تک گڑیا لیتی ہوئی تھی۔
میں نے اُس جگہ کو چھوا‘گڑیا کے بدن کی گرم گرم لپٹیں ابھی تک اُٹھ رہی تھیں۔
پتا نہیں کتنا وقت یوں ہی گزر گیا۔
نہ اُس نے کچھ کہا‘ نہ مجھے بولنے کی ہمت ہوئی۔
میری ساری حسیات دوسرے کمرے کی سمت مرتکزتھیں۔ یوں کہ مجھے وہاں کی ہلکی ہلکی آواز تک سنائی دے جاتی تھی۔
ایسا عام حالات میں ممکن نہ تھا۔
مگرحیرت ہے میں اَندازہ کرسکتا تھاکہ کون کمرے میں اِدھر اُدھر چل رہا ہے۔ اور کون اَب گڑیا پر جُھکا ہے۔ اور کون اُس کے پوتڑے درست کر کے رکھ رہا ہے۔ اور کون اس کے لےے فیڈ ر صاف کر رہا ہے۔
دفعتاً گڑیا کے رونے کی آواز سنائی دِی۔ بیگم نے تڑپ کر میری طرف دیکھا۔ وہ بھی غالباً ساری ساری وہیں تھی۔
”سنیں“
”ہوں“
”گڑیا رو رہی ہے“
”ہاں‘ مگروہ چپ ہو جائے گی“
”دیکھیں“
میں نے اُسے دیکھا۔
”وہ یوں چپ نہیں ہوگی“
”کیوں؟“
”اُسے بھوک لگی ہوئی ہے۔“
اُس نے آنکھیں بند کر کے یوں سر جھکا لیا جیسے اَپنے اَندر مچلتی دودھ کی دَھاروں کو محسوس کر رہی ہو۔
”امی فیڈر لے گئی ہیں‘ فیڈ بنا دیں گی۔“
”سنیں“
”ہوں“
”وہ ابھی تک رو رہی ہے“
”ہاں‘ مگر نہ جانے کیوں رو رہی ہے؟“
تشویش میرے اندر اُترنے لگی۔
”جا کر پتا کر لیں نا!“
”امی ہیں نا!…. سنبھال لیں گی“
وہ چپ ہو گئی۔ مطمئن نہ ہو پائی تو چپ نہ رہ سکی۔
”آپ خود دیکھ آتے۔“
تشویش میرے چہرے پر آگئی مگر میں اَپنی جگہ سے اُٹھ نہ سکا۔
”اس کے پیٹ میں درد ہے شاید“۔
”ہاں۔شاید“
”جنم گھٹی پڑی ہے یہاں۔“
”اس سے کیا ہوتا ہے؟“
”پیٹ درد کے لےے اچھی ہوتی ہے۔“
”امی ہیں نا!ضرورت ہوگی تو لے جائیں گی؟“
”مگر گڑیا ابھی تک رو….“
اُس نے اَپنی بات اَدھوری چھوڑ دی۔ قدموں کی مدہم چاپ ہماری سمت تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ امی آرہی ہیں۔ دروازہ کھلا۔ بیگم نے امی کو دیکھا اور بے تابی سے کہا:
”گڑیا رو رہی ہے ‘ کیوں رورہی ہے میری بچی؟“
امی نے وہیں رُک کر بہو کو دیکھا‘ پھر میری طرف نگاہ کی۔ کہا:
”شاید پیٹ میں تکلیف ہے۔ گھٹی رکھی تھی‘ ادھر؟“
”یہ رہی“
میں نے جنم گھٹی اُٹھا کر امی کو تھما دِی۔
امی نے ایک نظر ہم دونوں کو دیکھا اور کمرے سے نکل گئیں۔
ہمارا دھیان پہلے کی طرح دوسرے کمرے میں جاپہنچا۔
تھوڑی دیر کے لےے گڑیا چپ ہو گئی۔
بھابی کی مدہم آواز آتی رہی۔ وہ گڑیا سے لاڈ کر رہی تھی۔
ہم دونوں خاموش تھے۔
خاموش رہے۔
خداجانے کتنے ہی لمحے اسی خاموشی میں گزر گئے۔
گڑیا پھر رونے لگی۔
”سنیں“
”ہوں“
”گڑیا پھر رو رہی ہے۔“
”ہاں“
”وہ اُن سے چپ نہیں ہوگی۔“
”ہو جائے گی۔“
وہ چپ ہو گئی‘ مگر گڑیا روتی رہی۔ حتّٰی کہ میں بے قراری سے کمرے میں ٹہلنا شروع ہو گیا۔
”وہ چپ نہیں ہوگی“
اُس نے دہرایا۔ تشویش میرے لبوں تک آگئی۔
”ہاں….شاید“
اُس نے میری تشویش سے حوصلہ پکڑا اور واضح بے قراری سے بولی۔
”وہ اُسے چپ نہیں کراسکیں گے۔“
میں چڑ گیا۔
”ارے بابا امی ہیں نا!“
وہ میرے لہجے کی پروا کےے بغیر بولتی چلی گئی۔
”امی ہیںتو مگر….“
میں تقریباًچیخ پڑا۔
”مگر کیا؟“
میرے لہجے کی کاٹ دیکھ کر اَب کے وہ چپ ہو گئی۔
گڑیا کے رونے کی آواز آتی رہی۔
مجھے بھی یقین ہو گیاوہ اُن سے چپ نہیں ہوگی۔ میں نے اُسے دیکھا وہ اب کچھ بھی نہیں کَہ رہی تھی مگر اس کی آنکھیں جل تھل تھیں۔
مجھے اپنے لہجے پر افسوس ہونے لگا۔
”سنو“
”ہوں“
”جب بھابی نے گڑیا کو اَپنی بچی بنا لیا ہے تو ہماری مداخلت یہ تاثر دے گی کہ شاید ہم اَپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔“
اِتنا کہتے کہتے میرا گلا رندھنے لگی۔
وہ چپ رہی۔
میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہ تھا۔
گڑیا کے رونے بھابھی کے بہلانے اور امی کے دھیرے دھیرے بولنے کی آوازیں آتی رہیں۔
اِس کمرے کی خاموشی دوسرے کمرے کی ساری آوازوں کو جذب کرتی رہی۔
اِسی کیفیت میں جانے کتنی رات گزر گئی تھی‘ مجھے ٹھیک سے یاد نہیںکہ باہر قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں جان گیا‘ امی اور بھابی دونوں آرہی تھیں۔
ساتھ ایک مہک تھی‘ جو دروازے کی درزوں سے گھس کر اندر آرہی تھی۔
یہ گڑیا کی مہک تھی۔
دروازے پر ہلکی سے دستک ہوئی۔
میں نے آگے بڑھ کر دروازہ چوپٹ کھول دیا کہ وہاں تک نہ جانے میںپہلے ہی کیسے پہنچ گیا تھا۔
بھابی کی گود میں گڑیا تھی اور آنکھوں میں آنسو۔
پیچھے امی تھیں۔
میں ایک طرف ہو گیا۔
وہ اندر آگئی اور میری بیگم کے پہلو میں گڑیا کو لٹا دیا۔
بیگم نے اُچک کر روتی گڑیا کو سینے سے لگا لیا ور قمیض اُٹھا کر اندر گھسیڑ لیا۔
روتی گڑیا چپ ہوگئی۔
مگر بھابی دَھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔
کسی میں ہمت نہ تھی کہ اُسے حوصلہ دیتا۔
ٍ
آٹھ برس ادھر کی بات ہے مگر مجھے ذراذرا سب یاد ہے۔
بھولتا تو کیسے ‘کہ ایک ایک لمحہ میرے اندر منجمد ہوتا رہا ہے۔
ہمیں بچوں کے ساتھ دوسرے شہر منتقل ہونا پڑا تھا کہ میرا تبادلہ وہاں ہو گیا تھا۔
بڑی اور چھوٹی ہم ساتھ لے آئے مگر منجھلی کو وہیں چھوڑ دیا۔
بھابی اور بھائی نے اُسے ڈھیروں محبت دی؛ اتنی کہ شاید ہم بھی اَپنی بچیوں کو نہ دے پائے ہوں گے ۔
ہم مطمئن ہو گئے۔
جب کبھی ہم جاتے تو شروع شروع میں وہ ہمارے ساتھ چلنے کی ضد کرتی۔ بھابی نے بتایا‘ جونہی ہم نظروں سے اوجھل ہوتے تھے‘ وہ بہل جاتی اور کھلونوں سے کھیلنے لگتی تھی۔
بیگم اکثر کہتی:
”بڑے حوصلے والی ہے ہماری بچی“
سچ تو یہ ہے کہ بیگم کا بھی بڑا حوصلہ ہے۔ اُس نے اِن آٹھ برسوں میں کوئی دِن ایسا نہیں گزارا کہ منجھلی کو یاد نہ کیا ہو اور اپنی آنکھیں نہ بھگوئی ہوں مگر مجھ سے شکوہ نہیں کیا کہ اُسے کیوں دِے دِیا ۔جب کہ میں اندر ہی اندر سے کبھی کبھار پچھتاجاتا ہوں۔
جب جب منجھلی مجھے یاد آتی ہے میرے اَندر ہی اَندر سے کچھ کٹنے سا لگتا ہے۔
مگر میں نے کہا نا! بھابھی اور بھائی نے اُسے اِتنی محبت دِی ہے کہ….
بھائی اور بھابھی محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ جب سے ابا جی فوت ہوے ہیں ان دو ہی نے نہ صرف سارے بھائی بہنوں کو‘ بل کہ سب عزیز رشتہ داروں کو بھی محبت کی ڈوری میں تسبیح کے موتیوں کی طرح پرو رَکھا ہے؛ ورنہ خالی حویلی اب تک بھائیں بھائیں کررہی ہوتی۔
ملازمت‘ بچوں کے سکول‘ دوست احباب‘ یہ کام‘ وہ کام۔ میرے پاس مصروفیت کے سو بہانے ہیں۔ میں ان میں الجھ جاتا ہوںاور الجھا ہی رہتا ہوں۔
خود کو اس دلدل سے نکالنا چاہوں بھی تو نہیں نکال پاتا۔
ایسے میں وہ دونوں آجاتے ہیں‘منجھلی کو لے کر۔ ہمیں ملانے۔
پچھلے ہفتے بھی وہ آئے تھے۔ اور یوں لگتا ہے ابھی تک گئے نہیں ہیں۔ اندر ہی اندر میرے دِل میں بس گئے ہیں۔
وہ دونوں بھی اور منجھلی بھی۔
میری بڑی بچی سیانی ہو گئی ہے۔ اِتنی سیانی کہ منجھلی کو بتا سکے:
”اصل میں تم ہماری بہن ہو“
گڑیا بھی اس کی پڑھائی ہوئی پٹی پڑھنے لگی ہے۔
”جب تم ہماری بہن ہو تو ہمارے پاس کیوں نہیں ہو؟“
منجھلی کہتی ہے۔
”مجھے معلوم ہے کہ ہم بہنیں ہیں۔ میرا دِل کرتا ہے‘ میں تم دونوں کے پاس رہوں مگر دیکھو نا ! امی ابو کی کوئی اولاد نہیں ہے نا۔ پھر ان کے پاس کون رہے گا؟ وہ کسے بیٹی بنائیںگے؟ اور کسے اِتنا ڈھیر سارا پیار کریں گے؟“
میری سسکاری نکل جاتی ہے۔
وہ باتیں کرتی رہتی ہیں۔ میں اَپنی سماعتیں بند کر کے دوسری سمت دیکھنے لگتا ہوں۔ اُدھر بھابھی اور بیگم نے بھی شاید کچھ سن لیا ہے‘ تبھی تو وہ دونوں اپنے دوپٹوں سے آنکھیں صاف کر رہی ہیں۔



محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

45 تعليق

  1. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » دوسرا آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » جنم جہنمM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  35. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  36. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  37. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  38. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  39. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  40. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  41. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  42. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  43. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  44. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  45. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *