M. Hameed Shahid
Home / افسانے / مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہد

مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہد

malba sans lyta ha

جب آوی کے پاس فرشتے اترے
ماسٹر فضل جُو ٹھیک ٹھیک آنکنے میں ناکام رہے تھے کہ اُنہوں نے کِتنی دِیر تلاوت کی تھی ۔ رمضان کے عین آغاز میں ہی وہ تخمینہ لگا چکے تھے کہ روزانہ اِتنا پڑھیں گے تو ستائیسویں کو ختم القرآن کی مطلوبہ تعداد مکمل ہو گی۔ مگر جو ں جوں روزے ایک ایک کرکے کم ہو رہے تھے اُن کی تَشویش بڑھتی جا رہی تھی۔جِس قدر اُنہیں پڑھنا چاہیے تھا ‘ وہ پڑھ نہیں پا رہے تھے اور بعض روز تو یوں ہوتا تھا کہ وہ اپنے تئیں رات بھر تلاوت کرتے رہتے تھے مگر جو ورق اُلٹ پلٹ کر دیکھتے توخود کو کوسنے اور شیطان مَردُودکو پَھٹکار نا شروع کر دیتے کہ آخر تلاوت کرتے کرتے وہ کہاں چلے جاتے تھے ۔
تو یوں تھا کہ آج بھی وہ کہیں اور تھے ۔
رَات تَراوِیح سے لوٹے تو یہی کوئی گھنٹہ پون گھنٹہ ہی کمر سیدھی کر پائے ہوں گے کہ انہیں لگا جیسے کوئی روئی جیسے ملائِم ہاتھوں سے اُن کے پاﺅں کے تَلوے سہلا رہا ہو۔ اُنہیں مزا آرہا تھا مکّر مار کر پڑے رہے حتیٰ کہ تراویح میں مُسلسل کھڑے رہنے سے ٹانگوں میں جمع ہو کر جم جانے والا خُون نرم و گدازلمس کی لطیف حرارت سے پھر رواں ہو گیا ۔ ایسے میں ہی شاید ‘دائیں پاﺅں کے تلوے کی عین ڈھلوان میں ‘وہاں جہاں پوست قدرے زیادہ ڈھیلا پڑ جانے کی وجہ سے سہولت سے چٹکی میں آجاتاہے‘ چٹکی میں لا کر مسل دیا گیا۔ چٹکی میں آنے والے پوست سے لگے گوشت نے لمحہ بھر کے اندر اندر ایک میٹھے درد کوپورے بدن میں جھونک دیا ۔ وہ ہڑ بڑا کر اُٹھے اور ابھی نظر کا چشمہ تلا ش نہ کر پائے تھے کہ ایک کھنک سی فضا میں تیر گئی ۔ اُن کے سنبھلتے سنبھلتے سارا کمرا گہری خاموشی اور اکیلے پن کے احساس سے گونج رہا تھا۔
کمرے میں مدھم روشنی والا بلب‘ فینسی شیڈ کے اندر سے اُن کے بستر سے قدرے دور‘ دبیز قالین پر‘ایک دائرے میں روشنی پھینک رہا تھا۔ وہ کچھ بھی سوچے بغیر بٹر بٹر اس دائرے کو بہت دیرتکتے رہے حتی کہ خواب میں بدن کا حصہ ہو جانے والا لطیف احساس خود بخود معدوم ہو گیا۔ اب انہیں اس ماہ مبارکہ کی پاکیزہ ساعتوں کے یوں ہی گزر جانے کا احساس تڑپا رہا تھا لہذا اُٹھے اور سیدھے واش روم میں گھس گئے۔
وضو تازہ کرنے کے بعد وہ تب سے پڑھنے بیٹھے تھے ‘ اور سحری کے لیے جگانے والے سرکاری سائرن کی دوسری لمبی گھوں پر وہ بوکھلا کر سیدھے ہوگئے تھے۔ یہ بوکھلانا اتنا شدید اور غیرمتوقع تھا کہ گود میں پڑا ہوا قرآن پھسلنے لگا تھا ۔ انہوں نے فوراً اُسے تھام لیا ۔ ہڑ بڑاہٹ کچھ کم ہوئی تو اس نشانی کو تلاش کیا جہاں سے انہوں نے تلاوت کا آغاز کیا تھا ۔ پھرتیز تیز ورق اُلٹتے الٹتے وہاں پہنچے جہاں تک ‘وہ اَپنی دَانست میں پڑھ چکے تھے۔
”ہائیں ‘ بس اتنا ہی “
یہ انہوں نے قدرے اُونچی آواز میں کہا تھا اور ابھی تک فضا میں اُن کی بات ٹھہری ہوئی تھی کہ اُنہوں نے قرآن پاک کو دونوں طرف سے اور وسط میں بار بار بوسے دینے اوردائیں بائیں آنکھوں سے لگانے کے بعد چھاتی سے یوں بھینچ لیا جیسے فضیلت بھینچ لیا کر تی تھی ۔
جب اُس کی ڈولی اُٹھی تھی توفضیلت جان کو سولہواں لگا تھا ۔ اَلہڑ اِتنی کہ ِایڑھیاں زمین پر ٹکتی نہ تھیں ۔ قد نکلتا ہوا ‘ رَنگ کِھلتا ہوا اور آواز یوں کہ آدمی سنے تو مست ہو جائے ۔ جب وہ آئی تھی تو اس کا نام فضیلاں تھا اور اسے بہت ساری باتوں کی سمجھ بھی نہ تھی ۔ جیجو کمہار کی بے ماں بیٹی ‘ جو باپ کے ساتھ مٹی ڈھوتے‘ اسے گوندھتے‘صحنکیں‘ گھڑے‘ بٹھل‘ چھونیاں‘ کوزے ‘ چلمیں اور ہویجے چاک پر چڑ ھاتے اور ان کی صورتیں بناتے ہوے خود ایسی بھولی بھالی صورت میں ڈھل گئی تھی کہ اٹھی نظر ہٹتی نہ تھی۔ جیجو خود بھی اسے دیکھتاتو اس کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔ فضیلاں کے پیدا ہونے اور فضیلاں کی ماں کے مرنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا ۔ تب سے اب تک وہ اس کے لیے امتحان تھی ۔ اور جب اس کا امتحان اس کی برداشت سے باہر ہو گیا تو خدا نے اس کی مشکل خود ہی آسان کر دی۔
یہ مشکل یوں آسان ہوئی تھی کہ فضل جُو بھی اُس کے گھر کے پھیرے لگانے لگا تھا۔
فضل جُو‘جو ابھی خاکوٹ کے پرائمری اسکول میں ماسٹر نہیں لگا تھا‘ دوسرے نوجوانوں کی طرح بلاسبب کئی کئی بار مٹی کے تباخ اور صراحیاں خرید چکا تھا۔ وہ اس کے گھر کے چکر کیوں لگا رہا تھا؟ وہ بہت جلد سمجھ گیا تھا اور یہ بھی جان گیا تھا کہ وہ یہاں سے جو کچھ خرید لے جاتا تھا ‘گھر نہ لے جاتا تھا ۔ اگر لے گیا ہوتا تو پیش امام صاحب ‘ اور بی بی صاحبہ کو ضرور کھٹک جاتا۔ تاہم وہ بے بس تھا اور اِتنا کم حیثیت کہ کوئی خدشہ یا کوئی شکایت منھ پر لانے کا سوچتا بھی تو اس کی کمر کے کپڑے گیلے ہو جاتے تھے ۔
واقعات کے اِسی تسلسل میں ‘ جب جیجو مایوسی کی اس انتہا کو پہنچ گیا تھا جس میں خودسے خدشہ ہونے لگتا ہے کہ اس روگ سے تنگ آکر کہیں اَپنی جان کا نقصان ہی نہ کر بیٹھے‘ ایک ایسا واقعہ ہوا کہ مایوسی اس کے بدن سے خود بخود نچڑ گئی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ فضل جُو گاﺅں کے دوسرے لونڈوں سے اُلجھ پڑا تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور جیجو کی آوی کے چکر لگائے ۔ یہ اکیلا تھا اور وہ چار ‘لہذا انہوں نے فضل جُو کی ہڈیاں کوٹ کر رَکھ دِی تھےں۔ یہ واقعہ اگرچہ خُوشگوار نہ تھا مگر اس ایک واقعے نے کل تک گاﺅں بھرکے دوسرے لونڈوں جیسا نظر آنے والے فضل جُو کو ان سب سے مختلف ہو کر دیا تھا جو اس کی بیٹی فیضلاں پر شرمناک نظریں گاڑنے اورلَپ لَپ رَالیں ٹپکانے والے تھے ۔
پیش اِمام صاحب جتنی بار مسجد جاتے تھے‘ فضل جُو لگ بھگ اتنی ہی باربہانے بہانے سے جیجو کے گھر کے پھیرے لگا آتا۔ فضل جُوکا باپ گاﺅں کی مسجد میں پیش امام تھا اور جیجو کمہار ماشکی۔ جیجومسجد کا پانی تو باقاعدگی سے بھرتا تھا مگر نمازی وہ عید بقر عید والا تھا کہ اس بہانے اسے کپڑوں کا نیا جوڑا پہننے کو مل جاتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نئے کپڑے جسم پر نماز کے بعد ہی حلال ہوتے اور زیادہ عرصے تک چلتے تھے۔ کپڑوں کے نئے جوڑے میں برکت کی نیت سے وہ مسجد کے اندرجاکر ماتھا ٹیک آتا تھا مگر پوری یکسوئی سے نمازاس لیے نہ پڑھ پاتا کہ رکوع میں جاتے ہوے یا پھرسجدہ کرتے ہوے کپڑوں کا نیا پن اسے اَپنی طرف متوجہ رَکھتا تھا ۔ نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے نکلتے ہی اسے فکر لاحق ہو جاتی تھی کہ سجدہ کرتے اور رکوع میں بیٹھتے ہوے اس کے کپڑے گھٹنوں تلے آکر مسک گئے ہوںگے ۔ وہ تسلی کرنے لیے راہ میں کئی بار جھک کر انہیں دیکھتا ‘ ہاتھوں میں تان کر اور پھٹک کر جانچتا۔ ایسا کرنے میں وہ اس قدر مگن ہوجاتا تھا کہ اکثرراہ گیروں سے ٹکرا جاتا تھا۔ ایسے میں اسے تو بہت خجالت کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب کوئی بڑی عمر کی خاتون اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتی تھی ۔
گاﺅں کی دوسری روایات کی طرح کمہار ہونے کی حیثیت سے ماشکی کا کام بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ نمازیوں کی خدمت کا جذبہ اس کے اندر شاید اس لیے پیدا نہ ہو سکا تھا کہ مسجد کا حوض بھرتے بھرتے اس کی کمر دوہری ہوگئی تھی۔ جب بھی اس کے کپڑے پھٹتے تھے ‘ یا تو کمر سے پھٹتے ‘جہاں وہ مشک ٹکایا کرتا تھا یا پھر عین گھٹنوں کے اوپر سے۔ اسے ہربار شک ہوتا کہ پہلے روز سجدہ کرتے وقت گھٹنوں تلے آکر کپڑا زمین سے رگڑکھا کرپتلا ہوگیا ہوگا اور چھاننی بن جانے والا کپڑاتو ایک روز پھٹ ہی جایا کرتا ہے۔ ایسے میں وہ خلوص ِدِل سے تمنا کرتا کہ کاش وہ ماشکی نہ ہوتا اورصرف کمہار ہوتا مگر دوسرے ہی لمحے اسے اَپنی حماقت پر رونا آجاتا تھا کہ بھلا کیسے ممکن تھا ؛ایک آدمی کمہار تو ہو اور ماشکی نہ ہو؟
کمہار ہو کر مسجد کا ماشکی ہونا اسے وراثت میں ملا تھا ۔ اس کا باپ‘ بہت پہلے شدیدسردیوں میں ‘ابھی تاروں کی چمک مدہم نہیں ہوئی تھی اور شیدے بانگی نے فجر کی اذان بھی نہیں دی تھی‘ پانی بھرکر لاتے ہوے عین مسجد کی پرلی نکر کے پاس ‘ٹھوکر کھاکر منھ کے بل گر گیا ۔ یوں کہ‘ چمڑے کی مَشک کے منھ پر مضبوطی سے جما اُس کا ہاتھ ڈِھیلا پڑ گیا ‘ اور گڑ گڑ کرتا پانی نکل کر اسے پوری طرح بھگو گیا تھا ۔ اُسے گھٹنے پر چوٹ آئی ‘ چوٹ اگر چہ زیادہ نہ تھی مگر کسی پتھر کی نوک پر پڑنے سے گھٹنے میں اتنی فوری اور شدیدتکلیف ہوئی تھی کہ اس کی آنکھوں کے آگے تِرمِرے ناچ گئے تھے ۔ جب تک اس درد کی شدت مدھم ہوئی‘ مشک کا یخ پانی اسے پوری طرح بھگو چکا تھا ۔ گھر پہنچا تو وہ ٹَھرّوںٹَھرّوں کر رہا تھا ۔ پھر اسے تپ چڑھا اور اس تپ نے اسے اتنی ہی مہلت دی کہ مشک بیٹے کو تھمادیتا ۔ بیٹے کی مسیں ابھی پوری طرح بھیگی نہ تھیں کہ بھیگا ہوا باپ ٹھٹھر کر مر گیا۔ اسے مشک سے نفرت ہو گئی…. مگر وہ اس نفرت کے ساتھ زندہ رہنے پر مجبور تھا۔
جیجو اپنے مرحوم باپ کی طرح وضو خانے سے ملحق حوض کو پانی سے بھرتا رہتا۔ حوض ہر نماز کے بعد خالی ہو جاتا تھا ۔ اسے ان لوگوں پر بہت غصہ آتا جو اس کے گمان میں زیادہ پانی خرچ کرتے تھے۔ ان میں سے جازو جولاہے‘ فیقے مستری اور میر شفیع کو وہ مسجد سے واپس آتے ہوے ہر بار اس حال میں دِیکھا کرتا کہ ان کی قمیضوں کے دَامن ‘داڑھیاں یا پھر شلواریں گھٹنوں تک تر نظر آتی تھیں۔ سودے لُون کے بارے میں توگاﺅں بھر میں لطیفہ مشہور تھا کہ اسے اپناایک ایک عضو بھگونے کے لیے الگ سے بھرا ہواپانی کا لوٹاچاہیے ہوتا ہے۔
جیجو جب بھی خالی مشکیزہ کندھے پر جماکر سائیں سوجھے کی چِٹّی قبر کے پیچھے سے ہوتا پہاڑی کے مُڈھ سے بَل کھا کر گزرتے پتلاپانی تک پہنچتا تھا تو اس کے پاﺅں کے پنجے ڈھلوان میں مسلسل اُترنے کی وجہ سے اوپر اٹھنا بھول چکے ہوتے تھے۔ اسے وہاں سے مشکیزہ بھرنا ہوتا تھا وہاں پتھروں پر آگے ہی آگے چھچھلتی پھسلتی چلے جانے والی اُتھلے پانی والی یہ ندی پیالہ بن کر لمحہ بھر کے لیے پانی ٹھہرا کر آئینہ بنالیتی تھی۔
وہ مشکیزہ بھر کر اس کا منھ مٹھی میں دَبالیتا اورشیشہ بنے پانی میں خاکوٹ کے مکانوں کے عکس دیکھتا تو اس کا دِل بیٹھ جاتا تھا۔ ایسے میں جھک کر کندھے پر مشکیزے کواٹھانا اور بھی مشکل ہوجاتا ۔ تاہم وہ بوجھل دِل کے ساتھ اوپر کو چل دیتا تھا ۔ مسجد تک پہنچتے پہنچتے اسے سودے لُون سے جازو جولاہے تک جو بھی یاد آتا اس کی دِل ہی دِل میں ماں بہن ایک کرتا جاتا ۔ تاہم وہ واقعہ جس نے اس کے روّیے کو تبدیل کرکے رکھ دیا تھا‘ وہ فضل جُو کا گاﺅں کے دوسرے لونڈوں سے مار کھانا تھا ۔ اَب وہ اوپر سے پتلے پانی تک جس طرح بھاگتا ہوا جاتا تھااور جیسے پانی سے بھر اہوا مشکیزہ اٹھا کرپنجوں کے بَل اچھلتا کودتا اوپرپہنچتاتھا‘اُس پر سائیں سوجھے کی چٹی قبر ہر بار اسے حیرت سے دیکھنے لگتی تھی۔
بُری طرح پِٹ کر زخمی ہونے والے فضل جُو کو جب لوگوں نے اُس کے گھر پہنچایا تو اس کی ماں ‘ جو بچیوں کو قرآن پڑھانے کی نسبت سے گاﺅں بھر میں محترم تھیں اور سب انہیں بی بی صاحبہ کہتے تھے ‘ پہلے تو بیٹے کی حالت دیکھ کر چکرا کر گریں ‘ اور جوں ہی ہوش آیا ‘ چھاتی پیٹ پیٹ کر اپنے بچے پر یہ ظلم ڈھانے والوں کو کوسنے لگیں۔ پیش امام صاحب عصر کی نماز کے بعد مسجد گئے تو واپس پلٹنے کی بہ جائے اپنے مُرشد کے ملفوظات کی کتاب پڑھنے کے لیے وہیں حجرے میں بیٹھ گئے تھے ‘ خلاف معمول اَپنی بی بی کی کوسنے اٹھاتی آواز سنی تو ہڑ بڑا کر حجرے سے باہر نکلے اور مسجد کے دروازے سے ملحق اپنے گھر کے دروازے پرجمع ہجوم کو چیرتے اندر گھس گئے۔ لوگوں نے اتنے قلیل عرصے میں وہ اشارے کر دے دِیے تھے جو بیٹے کی حالت دیکھ کراور بی بی کے بین سن کر انہیں سارا معاملہ سمجھا گئے تھے۔ تاہم اس لمحے جب وہ اپنے گھر کے آنگن میں کھڑے تھے‘انہیں نہ تو زخمی بیٹا نظر آ رہا تھا نہ پڑوسنوں کے درمیان کھڑی چھاتی کوٹتی اور گالیاں بکتی بی بی کہ وہ تو اَپنی اس نیک نامی اور عزت کو خاک میں ملتا دیکھ رہے تھے جو عمر بھر کی ریاضت کا حاصل تھی۔ انہوں نے چھاتی کو وہاں زورسے دبایا جہاں انہیں بوجھ محسوس ہو رہا تھا ‘ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا لہرانے لگا۔ اس خدشے کے باعث کہ کہیں چکرا کر وہ گر ہی نہ جائیں وہیں زمین پر بیٹھ گئے۔ بی بی صاحبہ نے پیش امام کو یوں زمین پر بیٹھتے دیکھا تو ان کی آواز حلقوم ہی میںڈھے گئی تھی۔
شام کی نماز سے پہلے پہلے وہ ہوش میں آگئے تھے ‘ مگر ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ مسجد جائیں۔ تاہم انہوں نے یہ نماز قضا نہیں ہونے دی ۔ اور جب وہ رو رو کر اپنے ان گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے جو ان کی یادداشت سے باہر پڑے تھے اور جن کی سزا اُنہیں اِس رُسوائی کی صورت مِل رہی تھی تو آنسوﺅں سے اُن کی داڑھی بھیگ گئی تھی ۔ وہ بہت دیر بعد مصلے سے اٹھے‘ زخمی فضل جُو کا ہاتھ تھاما ‘ یوں زور سے جَھٹکادے کر اُسے چارپائی سے اتار‘ کہ اگر وہ نہ اُترتا تو ہو سکتا تھا اُس کا بازو ہی کندھے سے اُترجاتا ۔ بی بی صاحبہ نے یہ دِیکھا تو بھاگتے ہوے بیچ میں آئیں ۔ پیش امام صاحب نے اسے دوسرے ہاتھ سے پرے دھکیل دیا ۔ وہ فضل جُو کو گھسیٹتے ہوے باہر نکل گئے ۔ گاﺅں والے ایک بار پھر بی بی صاحبہ کی چیخیں سُن رَہے تھے۔
جیجو کے لیے اَن ہونی ہو گئی تھی۔ پیش امام صاحب نے کچھ نام لیے اور انہیں فوراً بلا لانے کو کہا۔ جیجوسب کو بلا لایاحالاں کہ یہ سارے وُہ لوگ تھے‘ جن کی داڑھیاں ‘ دامن یا گیلی شلواریں ہمیشہ اسے جی ہی جی میں مغلظات بکنے پر مجبور کیاکرتی تھیں۔ مگرجب وہ ان سب کو آوی کے پاس اَپنی ٹوٹی ہوئی ان دوچارپائیوں پر بیٹھا دیکھ رہا تھا جن کے علاوہ اس کے گھر بیٹھنے کو کچھ تھا ہی نہیں‘ تو یہ بھی دِیکھ رہا تھا کہ ان کے چہرے نور دھارے نے اجال رکھے تھے ۔ پیش اِمام سمیت یہ سارے لوگ اُسے آسمان سے اُترے ہوے فرشتے لگ رہے تھے۔

لذت کہاں تھی؟
ماسٹر فضل جُو اب مڑ کر فضیلت کے بارے میں سوچتے تھے تو انہیں یوں لگتا تھا جیسے وہ تو ان کے لیے آسمان سے اُتری تھی ‘ پنکھ لگاکر۔ وہاں جہاں جیجو کی آوی تھی ۔ گاﺅں کے لڑکوں سے پٹنا‘ ماں کا چھاتی کوٹ ڈالنا‘ ابا کا چکرا کر گرنااور پھر گاﺅں والوں کا جیجو چاچے کی آوی پر اکٹھے ہو کر اس کا نکاح کر دینا بس ایک بہانہ اور وسیلہ تھا۔
جب وہ چھاتی سے قرآن لگائے فضیلت کو سوچنے لگتے تو ڈھیروںوقت تیزی سے معدوم ہو جاتا تھا۔ جتنا وقت ا نہوں نے فضیلت کو سوچتے گزار دیا تھا‘ اتنا تو وہ ان کے پاس رہی بھی نہیں تھی۔ جس طرح فضیلت کو جنم دیتے ہوے اس کی ماں مر گئی تھی بالکل اسی طرح ‘اَپنی شادی کے لگ بھگ چوتھے سال‘ جب کہ ابھی وہ محض انیس سال کی تھی‘ ماسٹر فضل جُو کے بیٹے کو جنم دیتے ہوے وہ خود بھی دم توڑ گئی تھی۔ ان چار برسوں کی رفاقت انہوں نے کھینچ تان کر ساری عمر پر پھیلا لی تھی۔ چپکے سے چلے جانے والی ‘ پنجوں کے بل چل کر آجاتی تھی اور سارے میں اُجالا پھیل جاتا تھا۔
” فضیلت ادھر آﺅ تمہیں پڑھنا سکھا دوں“
وہ اُسے پاس بلاتے ‘ قرآنی قاعدہ کھول کر پہلے حرف پر انگلی رَکھتے اور اس کی بھولی صورت دیکھ کر ” آ“ کی آواز نکالنے کو کہتے ۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی ۔
یہ کیا پڑھنا ہوا جی ‘ اس طرح تو میں ابا کے کہنے پر شیدو ہاتو کی مرغیاں گھیرا کرتی تھی….آ‘آ‘آ“
فضیلت اتنے بھولپن سے یہ کہتی تھی کہ فضل جُو کی بھی ہنسی چھوٹ جاتی۔
وہ فوراًہی مچلنے لگتی کہ اسے اسی طرح پڑھنا سکھایا جائے جس طرح خود لہک لہک کر ماسٹر جی تلاوت کرتے تھے۔ وہ بھاگ کر جاتی اور کارنس سے قرآن پاک اٹھالاتی۔ محبت سے اس کا غلاف الگ کرتی۔ اسے دائیں اور بائیں آنکھ سے لگا کر چومتی اوردونوں بازﺅوں میں یوں بھینچ لیتی تھی جیسے وہ اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینے میں اتار لینا چاہتی ہو۔ ماسٹر فضل جُو کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اَپنی بیوی کی اس خواہش کو کس طرح پورا کرے ۔ وہ شدید خواہش رَکھتے ہوے بھی لفظوں کو پوری صحت کے ساتھ اور صحیح مخرج سے ادا کرنے پر قادر نہ تھی ۔ بعض اوقات تو وہ سبق دہرانے میں اتنی شدید غلطیاں کر جاتی تھی کہ وہ” نعوذ باللہ ‘نعوذبا للہ“ کا ورد کرنے لگتے تھے۔ انہیں ساری عمر افسوس رہا تھا کہ وہ اسے نہ تو ڈھنگ سے نماز پڑھنا سکھا پائے تھے نہ قرآن۔ مگر جس طرح وہ سینے سے قرآن لگا کر لہک لہک کرگاتی رہتی تھی اس کی بابت سوچتے تو پورے بدن میں ایک عجب طرح کا کیف اور مستی بھر جاتی تھی:
”اَتُل کھرسی وِچ قرآن
آسوں پاسوں‘تو رحمان
لوہے دِیاں کنجیاں ‘تَرامے دِے تالے
یا نبی تُساں کرماں والے
کول میرے ہن کوئی نئیں تھوڑ
اللہ والے مینوں تیری لوڑ
یانبی دِی چڑھی سواری
چواں گُٹھاں دِی خبر داری“
اپنے پاک نبی کی اِس خبرداری میں وہ نہال رہتی تھی۔ تاہم”آیت “ اور ”کرسی“ کے عام سے الفاظ بھی وہ صحیح طور پر ادا کرنے پر قادر نہ تھی ۔ ”آیت“ اور” ال “ کو ملا کر پڑھتی تو ”اَتُل “ ہو جاتا اور ”کرسی “ کی بہ جائے وہ ”کھرسی “ کہتی تھی ۔ ماسٹر صاحب سمجھاتے :
”کھرسی نہیں کرسی“
اور وہ سوچے سمجھے بغیراِنتہائی عقیدت اور محبت سے دہراتی:
”کھرسی نہیں کھرسی“
جتنی بار اس کی تصحیح کی جاتی وہ اتنی بار‘ ویسے ہی پڑھ دیتی تھی جیساکہ کوئی لفظ شروع سے اس کی زبان پر چڑھا ہواہوتا تھا ۔ تاہم جب وہ خود تلاوت کرنے لگتے تو اصرار کرتی کہ آوازذرا بلند رکھی جائے ۔ وہ لپٹ لپٹا کر پاس ہی بیٹھ جاتی اور ہر آیت میں حروف کی ادائی کے دوران جس طرح آواز اوپر نیچے ہوتی اس کی سانسیں بھی پھولنا شروع ہو جاتیں۔ حتی کہ وہ ہچکیاں باندھ کر رونے لگتی تھی ۔ نمازکے لیے وہ اماں بی بی صاحبہ کی طرح دوپٹہ خوب اچھی طرح لپیٹ لیتی تھی۔ پانچوں وقت مصلے پر ضرور کھڑا ہوتی ۔ ماسٹر صاحب یہ سوچ کر کہ وہ نماز میں کیا پڑھتی ہو گی اپنے تئیں بہت شرماتے رہتے مگر نماز میں اس کی حضوری کا عالم دیکھتے تو خود پر شرماتے تھے ۔ انہیں بہت جلد اِحساس ہو گیا تھا کہ قرآن پڑھنے کا معاملہ ہو یا نماز روزے کا نادُرُست ہو کر بھی وہ سب کچھ اتنے یقین‘ محبت اور اہتمام سے کرتی تھی کہ انہیں اس کے مقابلے میں اپنا ایمان اور علم دونوں ہیچ لگنے لگتے تھے۔ وہ مر گئی تو بھی ماسٹر صاحب اس کے مقابلے میں خود کو کمتر سمجھتے رہے ۔ اسے خوابوں میں بلاتے اور اس سے اس خالص پن کا سبق لیتے جو اس کے وجود سے نور بن بن کر چھِن رہا تھا۔
مگر‘ کچھ دنوں سے یہی نور اُن کی آنکھوں میں چبھتا اور سینے میں چھید کرتا تھا ۔ شاید اب ماسٹر فضل جُو کچھ زیادہ ہی زودحِس ہو گئے تھے ۔ انہیں فضیلت کا یوں آنا بار بار ستانے کے مترادف دِکھنے لگا تھا۔ تاہم اس کاتو وہی معمول تھا جو ہمیشہ سے رہا تھا۔ رات کے کسی پہر چلے آنے والا‘ پنجوں کے بل ….اورچپکے سے وجود میں سرایت کر جانے والا…. اس معمول میں کبھی رخنہ نہیں آیا تھا۔ اور شاید اس سے کم پر فضیلت خود بھی راضی نہ تھی ۔
ماسٹر صاحب نے خوب اِحتیاط سے ان زیادہ ستائے جانے والے دنوں کا حساب لگایا تو یہ اتنے ہی بنتے تھے جتنے دنوں سے وہ اپنے بیٹے کے ہاں اُٹھ آئے تھے ۔ اَب پیچھے پلٹ کر دِیکھتے تھے توبیٹے کے ہاں اُٹھ آنا انہیں یوں لگنے لگتا جیسے زِندگی یکدم رس سے خالی ہو گئی ہو۔ ایک خوب صورت سنہرے سیب جیسی زِندگی ‘ جوماسٹر صاحب کی دَست رَس میں تھی‘ وہ اس پر اپنے دانت گاڑھ سکتے تھے مگر اس میں سے لذّت نکلتی ہی نہ تھی۔ ہر بار منھ پھوگ سے بھر جاتا تھا۔

زمین کے چلنے سے پہلے
جو زِندگی وہ تج کر یہاں آگئے تھے اُس کے آخری حصے میں ان کی روح کے لیے اگرچہ لذّت کے ہلکورے باقی تھے مگر بدن کے ضعف نے اس میں سو طرح کے رَخنے ڈال دےے تھے ۔ اُن کی سانسیں ناہم وار رہتیں اور جوڑوں میں درد بھی وقفے وقفے سے جاگ اُٹھتا تھا۔ ایسے میں ماسٹر فضل جُو نے وہ جو عمر بھرکی ریاضت سے دین اور دنیا میں توازن کاایک نظام قائم کرلیاتھا ‘اس میں انہیں سو طرح کی خرابیاں نظر آنے لگتیں۔ ان کی زِندگی کرنے کا وتیرہ ان کے بہشتی باپ سے بالکل مختلف تھا ۔ گزرے ہوے زمانے کے ایک پیش امام کی دنیا ہو بھی کتنی سکتی تھی ۔ ڈیڑھ دوسو گھروں پر مشتمل چھوٹی سی بستی خاکوٹ میں زِندگی تھی بھی بہت سادہ اور اکہری مگر پیش امام اس سے بھی دست کش رہے تھے ۔ مسجد ‘ اس کا حجرہ یا پھر ایک کمرے اور پسار والا گھر۔ مسجد سلکھنی کے صحن سے گاوں کے بچوں اور ان کے گھرسے بچیوں کے سبق دہرانے کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں….یوں‘ جیسے سپارے نہ پڑھے جا رہے ہوں‘بہتاپانی پتھروں سے پھسلتا‘ گنگنا کر گزرے چلا جاتا ہو۔
بی بی صاحبہ کی زِندگی کی ضروریات تو پیش امام کی ضرورتوں سے بھی کم تھیں۔ چولہا بھی کبھی کبھار ہی جلنے پاتا تھا کہ گاﺅں والوں نے اپنے آپ ہی دِن باندھ لیے تھے ۔ کسی نے دِن کے اُجالے میں پیش اِمام اور بی بی صاحبہ کوآپس میں بات کرتے نہ دیکھا تھا۔ حتّی کہ فضل جُو کو بھی ماں باپ کاباہم صلاح کرنایا کسی بات پرکُھل کرقہقہہ لگانا یاد نہ آتا تھا۔ بعد میں جب بھی انہوں نے اپنے باپ کو ذہن میں لانا چاہا اُن کے دھیان میں مسجد سلکھنی کا‘ روئی کے گالوں جیسی داڑھی والا پیش اِمام آجاتا تھا ‘جس کا سر ہمیشہ کروشیئے والی سفید ٹوپی اوربُمَل بندھے چارخانوں والے رومال سے ڈھکا رہتا تھا ۔
پیش امام صاحب گھر میں داخل ہونے کے بعد جوں جوں پسار کی طرف بڑھتے توں توں اُن کی گردن جھکتی چلی جاتی۔ اس اثنا میں اُن کی ماں کا گھونگھٹ بھی نکلنے لگتا تھا۔ وہ اَپنی انگلیاں ماتھے کے وسط سے اوپر‘ وہاں سے چادر کو گرفت میں لے کر لمبا گھونگھٹ نکال دِیتی تھیں‘ جہاں سے چاندی جیسے بالوں کے درمیان ‘بالکل سیدھ میں مانگ نکلی ہوتی تھی۔ اُن کا گھونگھٹ اِتنا لمبا ہوتا کہ وہ اس لمحے فضل جُو کی ماں یا اس کے باپ کی بیوی نہ رہتی تھی بی بی صاحبہ ہو جاتی تھیں۔ ایسے میں فضل جُو کی سماعتوں میں پسار کے اند رسے پتلے پانی کے بہاﺅ کی رچی بسی گنگناہٹ خود سے جاری ہو جاتی تھی۔
فضل جُومیں حوصلہ تھا نہ ہمت کہ وہ پیش امام صاحب جیسی زِندگی کواپنے لیے اختیار کرتے ۔ محکمہ تعلیم میں نوکری مل گئی تھی ‘ ہر طرف سے احترام ملاجسے دیکھو ‘ماسٹر صاحب ‘ماسٹر صاحب ‘کہتے تھکتا نہ تھا۔ لوگ سلام کرنے میں پہل کرتے۔ جہاں وہ تھے وہاں ابھی استاد ہونا یا صاحب علم ہونا واقعی لائق تکریم تھا ۔ جب ہر طرف سے اتنی عزت ملی تو چھاتی پھولنے اور شملہ تننے لگا۔ تاہم اس سب کو وہ اس کی عطا سمجھتے رہے تھے جس کے لیے اُن کے اَبا جی نے دنیا تج دِی تھی۔
جب تک وہ اَپنی زِندگی میں رُجھے رہے ‘سب کچھ ٹھیک ٹھیک چلتا رہا۔ مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ‘ اور اَپنی عمر سے مات کھا کر ‘جب سے وہ بیٹے کے ہاں اُٹھ آئے تھے اُن کے اَندر بہت توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔ انہیں جس خدا سے معاملہ رہا تھا وہ اس جدید طرز کے ٹاور کے کسی اور حصے میں ہو تو ہو وہاں نہیں تھا جہاں اُن کا بیٹااور بہو رہتے تھے۔ شاید یہی سبب ہوگا کہ اپنے کمرے میں انہیں اسے پاس بلانے رابط خاص قائم کرنے اور اس کا ہو جانے میں بہت جتن کرنے پڑتے تھے ۔ اگرچہ اس گھر میں اشیاءنے بہت جگہ گھیر رکھی تھی تاہم یہ خلوص سے جتن کرتے تھے تو وہ راہ بناتا چلا آتا تھا۔
اس رات کہ‘ جس کے معدوم ہو چکنے کے بعد بھونچال کوچپکے سے آکر سب کچھ تلپٹ کر کے رَکھ دِینا تھا‘عین اسی رات کو فضیلت نے آکرماسٹر فضل جُو کو بہت ستایا تھا۔ وہ پڑھتے ہوے بار بار اونگھتے اور اِسی اونگھ جھپکی میں لمبا غوطہ کھا جاتے ‘ یوں جیسے پینگ ہلارے لیتے لیتے ایک لمبی جست لے اوربادلوں میں اترکر واپس آنا بھول جائے۔ خواب کے اس لمبے ہلارے نے جن بادلوں میں انہیں اتارا تھا ‘وہاںفضلیت تھی‘ جو بار بار پوچھے جاتی تھی:
” ماسٹر جی تم ان کے لیے کیوں پڑھتے ہو جو خود پڑھ سکتے ہیں‘ مگر پڑھنا نہیں چاہتے ؟‘ ‘
ماسٹر جی چپ رہے تو وہ تن کر اُن کے سامنے کھڑی ہو گئی :
”دیکھیں جی‘ میں جو ہوں آپ کے سامنے ‘ بالکل کوری‘ ایک بھی مبارک لفظ ڈھنگ سے نہ پڑھ سکنے والی ‘ لیکن ایک ایک لفظ کے لیے اپنے پورے وجود کو سماعت بنا لینے والی …. آپ میرے لیے کیوں نہیں پڑھتے جی؟“
انہیں کوئی جواب نہ سوجھا تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھ گئے اور پورے بدن کو جھلا جھلا کر پڑھنے لگتے ۔ غالباً وہ تیسرا یا چوتھا جھلارا ہوگا کہ ایک سرگوشی کی سنسناہٹ پورے کمرے میں تھرا گئی:
’ ’ کوئی نہیں سن رہا“
انہوں نے اس آیت پر انگلی رکھی جسے پڑھ رہے تھے اور کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔ چپکے چپکے اورٹھہر ٹھہر کر ۔ یوں جیسے انہیں یقین ہو کہ وہاں کوئی تھا مگر اَپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے ان کی نظروں میں آنے سے بچ رہاتھا۔ تھک ہار کران کی نظر یں پاک صحیفے پر سرنگوں اَپنی شہادت کی انگلی پر آکر رک گئیں مگرزبان تالو کے ساتھ چمٹی رہی ۔ انہوں نے قرآن پاک کو وہیں سرہانے پر کھلا رکھ دیا اور ٹانگیں سیدھی کرکے پلنگ سے لٹکانا چاہیں ۔ ایک آدھ لمحہ اُس اینٹھن کو جَھٹکنے میں لگ گیا جوایک ہی رخ بیٹھے بیٹھے ان ٹانگوں میں ہونے لگی تھی ۔ تاہم جب ٹانگوں پر بوجھ ڈال کر کھڑے ہو ئے تو وہ بہت جلد توازن برقرار رکھنے کے قابل ہو چکے تھے ۔
انہوں نے کھڑے کھڑے فضا میں متحرک ان مقناطیسی لہروں کو محسوس کیا جو پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی تھیں۔ یہ لہریں اُن کے جسم پر یوں رینگنے لگیں جیسے چیونٹیاں رینگتی ہیں‘ جس سے ان کے بدن کا رواں رواں کھڑا ہو گیا۔ اُن کے دِل پر بھی خُون کا دباﺅ بڑھ رہا تھا جس نے انہیں بوکھلا دِیا ۔ اس بوکھلاہٹ میں ان کے قدم دروازے کی سمت اٹھنے لگے ۔ جب وہ دروازے کی طرف جا رہے تھے توانہیں یوں لگا تھا؛جیسے عین ان کے عقب میں فضلیت بھی پنجوں کے بل چلی آتی تھی۔ وہ غصے میں دھونکنی کی طرح چلنے والی اس کی سانسوں کی آنچ بھی اَپنی گردن پر محسوس کر رہے تھے :
”وہاں کوئی نہیں ہے “
اُنہوں نے پیچھے مڑ کر دِیکھا وہاں آواز نہیں ‘ایک سسکاری تھی۔ دِل بیٹھنے لگا تو دھیان ہٹانے کے لیے آگے بڑھ کر دروازہ چوپٹ کر دیا ….
وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔
لاونج کے خالی پن کو چیر کر ان کی نظر یں اپنے بیٹے اور بہو کے بیڈ روم کے بند دروازے پرپڑیں۔ ایک عجب طرح کی بے پرواہی وہاں ٹھہری ہوئی تھی۔
دروازے میں کھڑے کھڑے جب اُن کے سوچنے کے لیے کچھ نہ رہا تو ماسٹر فضل جُو نے گردن موڑ موڑ کر کمرے میں دیکھنا بھی معطل کر دیا تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ وہاں اب کسی کی خُوشبو تھی نہ قہقہے‘ سرگوشیاں تھیں نہ لہجے کی وہ آنچ جو کب سے ان کی محسوسات کا حصہ تھی۔ وہاں فقط برہم اور اجنبی سی مقناطیسی لہریں تھیں ۔ تعطل کے اسی عرصے میں انہیں یاد آیا کہ وہ بستر کے سرہانے قرآن کھلا چھوڑ آئے تھے :
”بیٹا قرآن یوں کھلا نہیں چھوڑتے ‘ شیطان پڑھنے لگتا ہے“
یہ بی بی صاحبہ کی آواز تھی۔ نحیف سی آوازجو انہوں نے مُدّت بعد سنی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ شیطان کے قرآن پڑھ لینے والی بات محض اس لیے کی جاتی تھی کہ بچیاں قرآن پڑھنے کے بعد غلاف میں لپیٹ کر اور کارنس پر رَکھ کر جایا کریں ۔ تاہم بعد میں انہوں نے اس کا یہ مفہوم خودسے اخذ کر لیا تھا کہ مومنین کے لیے ہدایت بنتی آیات کو شیطان مردود کھلے قرآن سے اُچک کر ان میں سے اپنے مطلب کے معنی نکال کر اِدھر اُدھر پھیلا دیتا ہوگا؛ تب ہی تو پہلی عمر میں تواتر سے سنے گئے اس جملے کے سچا ہونے کا انہیں یقین سا ہو چلا تھا۔ انجانے خوف کے زیرِ اثر وہ بھاگتے ہوے اپنے بیڈ تک پہنچے ‘ سرہانے سے قرآن پاک کو اُٹھا کر تَہ کرتے ہوے کئی بار بوسے دیئے ۔ اسے آنکھوں سے لگا کرسینے کے ساتھ چمٹایااور دروازے میں آکھڑے ہوئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب زمین اپنے آپ چل پڑی تھی۔

ملبا درد کی گرہیں کھولتا ہے
کہتے ہیں جب پیش امام صاحب ‘ نے کچی لکیر پار کی تھی تو پیش امام نہیں تھے۔ وہ تو اُدھرپونچھ میں صاحب حیثیت آدمی تھے ۔ ماں باپ نے لس جُو نام رکھا اور اِسی نام سے پکارے جاتے تھے۔ ایک بار یوں ہوا کہ وہ حضرت بل کے پاس سے گزرتے ہوے بے ارادہ اندر داخل ہو گئے۔ دِل پر ایسا رُعب پڑا کہ کئی گھنٹے باہر نہ آسکے۔ اِسی بے خودی کے دورانیے میں اُنہیں کچی لکیرپھاند لینے کا حکم ہوا۔ انہوں نے سب کچھ سے ہاتھ جھٹکا‘اور ادھر اٹھ آئے تھے۔ کچھ کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ ان کا جوان بھائی مار دِیا گیا اور مارنے والے ان کے تعاقب میں تھے لہذا ادھر آنے کا حیلہ انہوں نے اَپنی جان اور نسل بچانے کے لےے کیا تھا ۔
لس جُو نے جان بچالی تھی مگر اس کی نسل کے قدموں تلے‘ اب جو زمین تھی ‘وہ اپنے آپ چل پڑی تھی ۔
جب لس جُو پونچھ سے تتری کوٹ آئے تھے تو ان کا وجود ایک عجب طرح کے شدیداِحساس سے لرزتا رہتا تھا۔ یہاں ادھر کی خبریں آتی رہتی تھیں جو احساس کے عُجب اور شدت میں اضافہ کرتی رہتیں۔ پوری طرح سمجھ میں نہ آنے والا یہ اِحساس انہیں کبھی تو ایک بار پھر کچی لکیر پار کرنے پر اکساتا اور کبھی اس سے دور پٹخ دیتا تھا۔ اس پراسرار اِحساس سے چھٹکاراپانے کے لیے انہوں نے اپنا گھر کاندھے پر رَکھ لیا اور پہاڑوں کے اندر بھٹکنے لگے۔ کبھی گڑمنڈہ‘ سدھن گلی‘ کامی منجہ اورحسّہ تو کبھی پرس ‘ بٹل اور چناری حتی کہ وہاں سے خاکوٹ آگئے جس نے انہےں اپنے اندر بسالیا تھا۔ پہلی بار تتری میں رہائش اِختیار کرنے کی مناسبت سے وہ ایک عرصہ تک لس جو تتری کہلاتے رہے۔ پھر یوں ہوا کہ مسجد سلکھنی کی پیش امامی ان کی زِندگی کا وظیفہ ہو گئی جس نے ان کا اصل نام سب کے ذہنوں سے محو کر دیا تھا۔
جس روز بھونچال آیا تھا‘اس روز دن ڈھلے تک سب یہ سمجھ رہے تھے کہ اسلام آباد کے پوش علاقے میں بس ایک ملٹی سٹوری ٹاور گرا تھا۔ وہی‘ جس کے چھٹے فلو ر پر ماسٹر فضل جُو شیطان کی نظر کھلے ہوے قرآن پر پڑنے کے خدشے سے اپنے بیڈ تک آئے تھے اور قرآن چھاتی سے چمٹا کر واپس دروازے کی چوکھٹ میں جاکھڑے ہوے تھے۔ عین اس وقت کہ جب بہت سارے کیمروں کو گواہ بنا کر حکومت کا سربراہ اس ٹاورکے ملبے پر چڑھ کر اعلان فرما رہے تھا کہ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ‘ اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ ادھر پہاڑوں پرکتنی بڑی قیامت ڈھے چکی تھی۔ وہاں زمین نے کئی پلٹے کھائے اور پہاڑوں نے بُھربُھرا ہو کر خاکو ٹ کواپنے اندر چھپالیا تھا۔ مسجدسلکھنی کے میناروں ‘ پیش امام صاحب اور بی بی صاحبہ کی قبروں ‘ جیجو کی اجڑ چکی آوی اوراوپر سے نیچے کو دھیمے سروں میں بہنے والے پتلے پانی‘ اور اس کے مکینوں کی نارسائیوں اور معصومیت سمیت سب کچھ خاک کا رزق ہو چکا تھا ….کہ اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔
لگ بھگ یہ وہی وقت بنتاہے‘ ملبے کے اوپر چڑھ کر تصویریں بنوانے والا‘ اور وہ بھی یوں جیسے کوئی شوباز شکاری پہلے سے مرے ہوے شیر کو دیکھے اور اس کے بدن پرپاﺅں رکھ کر لوگوں کے دلوں پر دھاک بٹھانے کے لیے تصویریں اتروانا شروع کردے ‘…. ہاں‘ عین مین وہی وقت ‘ جب اوپر سے کدال پڑنے ‘ اور لوہا کاٹنے کی آوازیںآنے والے کے پروٹو کول میں کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئی تھیں۔ تب سیمنٹ اور سریے کی کئی تہوں تلے ماسٹر فضل جُو کو اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوا تھا۔ بہت جلد زِندگی کے اِس اِحساس کوان کی دمچی سے ‘ ٹانگوں ‘پنڈلیو ں اورکمر سے بازﺅوں‘ گردن اور گدی سے اٹھنے والے درد نے پچھاڑ دیا تھا۔ وہ بے بسی اور درد سے جس قدر بلبلا سکتے تھے بلبلائے ‘رو ئے اورپھر سسکتے چلے گئے۔ مگر جب اُنہیں اِحساس ہوا کہ اُن کی چیخوں اور رونے دھونے کو سننے والا وہاں کوئی نہیں تھاتو وہ یوں چپ ہوگئے جیسے ازل سے بولنا جانتے ہی نہ تھے۔ تب انہیں اپنا بیٹا اور بہو ایک ساتھ یاد آئے۔ اپنے بہشتی ماں باپ کی طرح انہیں بھی انہوں نے آپس میں کم ہی صلاح کرتے یا کھل کھلا کر ہنستے دیکھا تھا ۔ تاہم اس ایک وتیرے کی تاثیردونوں کے ہاں بالکل مختلف اور متضاد ہو جاتی تھی۔ وہ دونوں‘جو اندر تھے ان کی آنکھوں کے سامنے والے دروازے کے پیچھے ‘ یقینا وہ ایک بیڈ پر ہوں گے مگر وہ اندازہ کر سکتے تھے کہ مصروفیت کی تھکن نے انہیں دونوں کناروں پر ہی گرادیا ہو گا ؛یوں کہ وہ پہلو بدل کر قریب بھی نہ ہو پائے ہوں گے۔ اس فاصلے کو انہوں نے ان کے بیڈ روم کے دروازے پر کھدا ہو دیکھ لیا تھا ۔ یہ جو آنے ولا وقت اُن کی محسوسات پر دستک دینے لگتا تھا اس سے بچنے کے لیے انہوں نے اندازے لگانا بند کر دیے تھے ۔
ابتدا میں جو اندازے لگائے جارہے تھے وہ سارے ہی غلط ہو چکے تھے۔ تتری کوٹ سے خاکوٹ تک پہاڑوں پر بستیاں لاشوں سے بھری پڑی تھیں اور انہیں بے گوروکفن پڑے اتنا وقت گزر چکا تھا کہ وہ تعفن چھوڑنے لگی تھیں ۔ انہیں یا تو دفنانے والا کوئی نہ بچا تھا اور اگر کوئی بچ گیا تھا تو اپنوں کی اتنی لاشیں زمین میں دبا چکا تھا کہ اس کے ہاتھ شل ہو چکے تھے ۔ ادھر شہر کے وسط میں ڈھے جانے والے ٹاور سے بھی لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔ ملبے میں سے گاہے گاہے زندہ لوگ بھی نکل آتے تھے ۔ اور جب ایسا ہوتا تو متحرک اور ساکت تصویریں بنانے والے کیمروں کو اٹھائے میڈیا کے منتظر لوگ بھاگ بھاگ کر اس کی تصویریں اتارنے اور رپورٹیں نشر کرنے میں سبقت لے جانے میں مگن ہو جاتے ۔ ایسے میں یوں لگتا تھا جیسے موت کے سناٹے سے زِندگی کی ہماہمی نے یک لخت جنم لے لیاہو۔ تاہم ابھی تک نہ توماسٹر فضل جُو کو دریافت کیا جا سکا تھا اور نہ ہی ملبے کے ڈھیر میں دبی ہوئی ایک بیڈ کے دونوں کناروں پر پڑی ان کے بیٹے اور بہو کی لاشوں کو نکالا جا سکا تھا۔
ماسٹر فضل جُو اِس سارے عرصے میں دَرد سہے چلے جانے کے لائق ہو گئے تھے ۔ اسی دوران میںانہیں یہ اِحساس بھی ہوا تھا کہ قرآن پاک اُن کی چھاتی سے لگا ہواتھا۔ تاریکی کی بے شمار تہوں کے باوجود اُنہوں نے چاہا کہ اُسے کھول کر پڑھیں۔ اَپنے بازوﺅں پر زور لگا کرایسا کرنا بھی چاہا مگر بازو جہاں تھے‘ وہیں جمے رہے۔ ملبے نے چاروں طرف سے اُن کے بازوﺅں کو جسم سمیت دَبا رکھا تھا ‘ یوں کہ وہ ذرا سی حرکت بھی نہ کر سکتے تھے۔ تب اُنہیں ایک بار پھر ایک نحیف سی آواز سنائی دے گئی تھی؛وہی شیطان سے چوکنا کرنے والی ماں کی آواز ۔انہوں نے بازﺅوں کو کو کھولنے کے جتن ترک کر دِیے تھے۔
جب ٹھہرے ہوے وقت اور تاریکی کو کاٹ ڈالنے کا کوئی بھی حیلہ ان کے ہاتھ نہ لگا تو انہوں نے اَپنی یادداشت پر زور ڈال کر کچھ آیات تلاوت کرنا چاہیں مگر ہوا یہ کہ وہ سورة زلزال کی اِبتدائی آیات کے بعد سورة والعصر کی اِنسان کو خسارے میں بتانے والی آیات پڑھ گئے تھے ۔ انہوں نے پھر سے درست درست پڑھنا چاہا تو ایسا متشابہ لگا کہ کہیں سے کہیں نکل گئے۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو رہا تھا۔ اس پر وہ اتنا بوکھلائے کہ اُمید کا دامن اُن کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ ایسے میں انہیں اِحساس ہوا کہ وہاں تو سانس لینے کے لےے ہوا ہی نہیں تھی۔
اور جب ماسٹر فضل جُو نے اَپنے تئیں ملبے کے اَندر پھنسی ہوئی ہوا کو کھینچنے کے لیے آخری حیلہ کیا تو اُن کی پسلیاں چٹخنے لگیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سیمنٹ اور سریے کی تہیں کاٹ کرفضیلت وہاں پہنچ گئی تھی؛ سارے غصے کو تھوک کر‘ اور اُن ساری آوازوں کو ساتھ لے کر ‘جو ملبے میں دبنے والوں کے دُکھ سے بوجھل ہو گئی تھیں۔ یہ آوازیںگنتی میں نہ آنے والے لوگوں کے سینوں سے اُبل اُبل کر ویسی ہی گنگناہٹ پیدا کر رہی تھیں جیسی ماسٹر فضل جُو کی سماعت میں خاکوٹ کے پتلا پانی نے بسا رَکھی تھی۔ تب ماسٹر صاحب کو یوں لگا تھا کہ جیسے ان کے بازو تو ویسے ہی جکڑے ہوے تھے مگر اُن کے حصار میں موجود‘ ایک مُدّت سے خوابیدہ سارے مبارک اور روشن لفظ‘ خودبخود ان کی چھاتی کے اندرمقطر ہو رہے تھے۔ فضلیت نے آتے ہی اَپنے ہاتھوں کے ملائم لمس سے اُن کے وجود کی ساری گرہوں کو کھولنا اور سارے دَردوں کو سمیٹنا شروع کر دِیا تھا ۔
وہ اَپنی ہی دُھن میں مگن رہی‘ حتی کہ اس کی ریاضت مستجاب ہوئی اور اسے اپنے سنگ آنے والی ساری آوازوں کے ساتھ ان کے وجود کے اَندر حلول کر جانے کا اِذن ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی زِندگی کی لذّت میں گندھا ہوا تازہ ہواکا لطیف جھو نکا ملبے میں گھس کر ان کے ڈھے جانے والے وجود کے اندر بہت گہرائی میں اترگیا …. اب صرف وہی سانس نہ لیتے تھے‘ پورا ملبا سانس لیتا تھا۔
ٍ


 


کچھ اس افسانے کے باب میں

توصیف تبسم

ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ 

محمد حمید شاہد کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ‘ دنیا سے متعلق ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا ہی نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے‘ یعنی ہم محض بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ نئی یافت سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں۔ بقول مبین مرزا فکشن محمد حمید شاہد کا مشغلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ فن سے سچی اور کھری وابستگی نے افسانہ نگار کو ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جہاں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی مل کر ایک ہو گئی ہیں ۔ انسانی زندگی کاا لمیہ ہویا سیاسی وسماجی حالات کا دھارا‘ محبت کے کومل جذبے ہوں یا رشتوں کی مہک‘ ریاستی گروہی جبر ہو یا عالمی دہشت گردی یا پھر تہذیبی حوالوں کو نگلتی بازاری ثقافت ‘محمد حمید شاہد کا قلم یکساں روانی اور تخلیقی وقار کے ساتھ سب کو سمیٹتا چلا جاتا ہے۔
فن کار کا ایک منصب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ کرے۔ محمدحمیدشاہد نے اپنے بیانیے کو ایک سے زائد سطحوں پر یوں متحرک کرلیا ہے کہ وہ مطلق طور پر انسانی آہنگ میں ڈھل گیا ہے۔ اسی لیے تو احمد ندیم قاسمی کو کہنا پڑا کہ” محمد حمید شاہد کے افسانوں کا ایک ایک کردار ‘ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔“ خود شعوریت سے جہاں افسانہ نگار نے متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری کی ہے وہاں انہوں نے اپنے افسانوں کو ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ بھی سجھا دی ہے ۔ محمد حمید شاہد کے ہاں نوحقیقت پسندی کے حوالے سے عمدہ مثال بن جانے والے افسانوں میں” برف کا گھونسلا“ ” برشور“ ” لوتھتکلے کا گھاﺅ“ ” ملبا سانس لیتا ہے“ ” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ”جنم جہنم“”چٹاکا شاخ اشتہا کا“ ” آدمی کا بکھراﺅ“ ”پارہ دوز“ اور ” مرگ زار“ جیسے افسانے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بقول ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی دراصل زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے جسے جدیدیت پسندوں کی نافہمی اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کر دیا تھا۔ محمد حمید شاہد کےافسانے سورگ میں سور“”گانٹھ “ اور مرگ زار“  پاکستان اور اردو ادب کے شاہکار تسلیم کیے جائیں گے

ڈاکٹر توصیف تبسم


۸ اکتوبر کا سانحہ ایک لرزہ خیز اور دل دہلا دہنے والا سانحہ ہے۔ جس کا تصور اور احساس ممکن نہیں۔ قیام پاکستان کے دوران بھی سانحات رونما ہوئے تھے لیکن آج کل ان کی شدت کا احساس نہیں کیا جا سکتا۔ زلزلہ کے سانحہ نے اس کی شدت کا احسا س بھی دلایا ہے۔ عموماً شعر کی صورت میں اس پر زیادہ لکھا گیا لیکن فکشن میں شاید یہ پہلا افسانہ ہے ۔ افسانے میں ماسٹر فضل جواور فضیلت کا کردار بہت اہم اور مضبوط ہیں۔
اصغر عابد(تنقیدی اجلاس ،حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ۲ دسمبر ۲۰۰۵)
http://halqa3.tripod.com/id8.html
۔۔۔۔۔۔۔
حمید شاہد کا یہ افسانہ ہمہ گیر پہلو رکھتا ہے۔ شہری زندگی کے خارجی اور ظاہری حوالے موجود ہیں۔ یہ افسانہ چار حصوں پر محیط ہے جس میں دیہات کی زندگی کو بہت خوب صورتی سے پینٹ کیا گیا ہے۔ وہاں ایک بحث ہے کہ خدا، قرآن اور انسان کے کتنے شیڈوز ہیں جو عورت صحیح قرآن نہیں پڑھ سکتی،وہ جن کیفیات سے گزرتی ہے،دوسرا کردار بہت کم اُن احساسات کو محسوس کرتا ہے۔ افسانے میں مجموعی کردار کو دکھایا گیا ہے کہ مذہب ایک کلیشے کی صورت اختیار کر گیا ہے اور پوری طرح انسان کے اندر نہیں اترا ۔ یہ انسانی رشتوں کے درمیان بنت کی کہانی ہے۔ گاؤں سے شہر ک طرف ہجرت کی کہانی ہے، دیہاتی ماحول میں جن رشتوں کے درمیان جڑت تھی وہ اب نئے ماحول میں موجود نہیں۔ پورے افسانے پر افسانہ نگار کی گرفت مضبوط ہے۔ لفظیات اور کیفیات میں ایک روانی پائی گئی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ کہانی اس لمحے سے شروع ہوتی ہے،جب کردار ملبے کے نیچے آ جاتا ہے۔ یعنی موت اور زندگی کے درمیان والی زندگی کا ایک فلیش بیک بھی دراصل کہانی ہے۔
شہزاد انجم (تنقیدی اجلاس ،حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ۲ دسمبر ۲۰۰۵)
http://halqa3.tripod.com/id8.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانے کے چار حصے نہیں بلکہ تین نسلیں اور پچاس سال اس افسانے کی کلیدی چیزیں ہیں ۔ ماسٹر فضل جو جو درمیانی نسل سے ہے اور پچھلی نسل کو دیکھ چکا ہے وہ اب اگلی نسل کو دیکھ رہا ہے۔ پہلی نسل میں میاں بیوی آپس میں بات بھی نہیں کرتے تھے لیکن اگلی نسل کے مسائل سے بخوبی آگاہ تھے۔ مذہب پورے افسانے میں بنیادی تھریڈ ہے ، دوری اور قربت کے رویے میں اس دور میں ان مسئل پر بات کرنا ایک بڑا کام ہے۔ یہ خوب صورت افسانہ ہے
علی اکبر عباس(تنقیدی اجلاس ،حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ۲ دسمبر ۲۰۰۵)
http://halqa3.tripod.com/id8.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ موضوع افسانے سے زیادہ ناولٹ کے انداز میں لکھا گیا ہے۔ اسلوب،جذبات نگاری، کلچراور دیہاتی فضا کو ظاہر کرتا ہے۔یہی دراصل کہانی کا حسن ہے کہ تمام کیفیات اور روایات ملبے کے نیچے دفن ہو گئی ہیں۔ یعنی ایک شخص کے ذریعے پوری معاشرت مائی صاحبہ،فضیلت کا سارا پس منظر اور جیتی جاگتی زندگی فضل جو کی صورت میں ملبے کے نیچے سانس لیتی ہے، اگر یہ چوتھے حصے سے کہانی کو شروع کرتے توپھر آورد یا گھڑ کر لکھی گئی کہانی لگتی۔ اب وہ پورے ثقافتی پس منظر کے بعد زلزلے تک آتے ہیں تو کہانی اچھی لگتی ہے۔ فضلیت کا کردار خلوص کا کردار ہے جو فوت ہونے کے باوجود بھی فضل جو کے ساتھ زندہ ہے۔
منشایاد(تنقیدی اجلاس ،حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ۲ دسمبر ۲۰۰۵)
http://halqa3.tripod.com/id8.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانے کا موضوع خطر ناک ہے۔شاید اس موضوع پر ہم لکھنا نہیں چاہتے۔ اس کہانی میں افسانہ نگار کانپ ضرور رہا ہے مگر بزدل نہیں ہے۔ کہانی میں ڈیپتھ موجود ہے۔
آغا گل(تنقیدی اجلاس ،حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ۲ دسمبر ۲۰۰۵)
http://halqa3.tripod.com/id8.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now


 

 

 

 

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

39 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » آدمیM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » دوسرا آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  35. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  36. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  37. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  38. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

  39. Pingback: تماش بین|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *