M. Hameed Shahid
Home / افسانے / لوتھ|محمد حمید شاہد

لوتھ|محمد حمید شاہد

loath

 

اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔
ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاﺅ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے . . . .ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوںپرچلتا رہا تھا ……مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے تھے اورچڑھواںدرد گھٹنوں کی جکڑن بن گیا تھا …. حتّٰی کہ دَردوں کی تپک اس کے حواس معطل کرنے لگی۔ اُسے سمتوں کا شعور نہ رہتا تھا ۔ جدھر جانا ہوتا- اُدھر نہ جاتا بل کہ اُلٹ سمت کو نکل کھڑا ہوتا۔
اُسے بار بار ڈھونڈ کر لایا جاتا۔
ہر بار اُس کے زخم رِس رہے ہوتے تھے۔
زخم تھے تو بہت پرانے مگر بیٹے پر اُن کے کُھلنے اور حواس پر شب خُون مارنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ اس کا بیٹا ٹی وی کے سامنے بیٹھا بار بار دِکھائے جانے والے وقت کے عجوبہ سانحے کو حیرت سے دِیکھ رہا تھا۔ پہلے ایک طیارہ آیا- قوس بناتا ہوا …… اور …… ایک فلک بوس عمارت سے ٹکرا گیا- شعلے بھڑک اُٹھے …… اور اَبھی آنکھیں پوری طرح چوپٹ ہو کر حیرت کی وسعت کو سمیٹ ہی رہی تھیں کہ منظر میں ایک اور طیارہ نمودار ہوا۔ پہلے طیارے کی طرح …… اور پہلی عمارت کے پہلو میں اُسی کی سی شان سے کھڑی دوسری عمارت کے بیچ گھس کر شعلے اُچھال گیا۔
وہ اپنے بیٹے کے عقب میں بیٹھا یہ سارا منظر انوکھے اطمینا ن سے دیکھتا رہا- جیسے یہی کچھ ہونا تھا …… یا پھر جیسے یہی کچھ ہونا چاہیے تھے۔ اَگلے روز اطمینان کی جگہ بے کلی نے لے لی …… حتّی کہ کچھ ہی دنوں میں وہ دہشت زدہ ہو چکا تھا۔
جب پہلی بار یہ منظر سکرین پر دِکھائی دِیا تھا- انوکھی طمانیت کی بھبک کے باعث اُس نے اَپنے ہی تلووں کے زخمی حصے کو سختی سے دَبا لیا تھا جس کے سبب اس کے ہونٹوں سے سسکاری نکل گئی تھی۔
بیٹے نے پلٹ کر باپ کو دِیکھا اور فوری طور پر اس سسکاری کے کچھ اور معنی نکالے تھے…. تاہم جب اُس کی نظر رِستے ہوے تلووں پر پڑی تو بہت پریشان ہو گیاتھا۔
اُسے گلہ تھا کہ آخر اُس سے ان زخموں کو اوجھل کیوںرَکھا گیا تھا؟
وہ اَزحد فکرمندی ظاہر کرنے لگاتھا- ….اور شاید فکر میں مبتلاہو بھی گیا تھا….لگ بھگ اِتنا ہی فکر مند‘ جتنا کہ دونوں فلک بوس عمارتوں کے ساتھ طیاروں کے ٹکرانے کے بعد ہوا تھا۔
بعد کے دنوں میں دَرد اور تشویش میں اِضافہ ہوتا چلا گیا حتّی کہ دونوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔
پھر یُوں ہوا کہ بیٹے نے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرنے والی ملٹی نیشنل اداروں کے ڈاکٹروں کی ٹیم سے رابطہ کیا۔ غیر ملکی ڈاکٹروں نے یہاں کے ڈاکٹروں کو مشورہ دِیا اور اُن صورتوں پر غور ہونے لگا جو اُس کے باپ کے علاج کے لیے ممکن تھیں۔
مگر اُس کا باپ اِن ڈاکٹروں کے نام ہی سے بِد کنے لگا تھا۔ اُسے نہ جانے کیوں اُن کی صورتیں اس کمپنی کے کارپردازان کی سی لگنے لگتی تھیں‘ جنہوں نے اپنے پراجیکٹ ایریا تک بہ سہولت رسائی کے لیے سامنے کی پھلواری بھی ایکوائر کروا لی تھی۔ اُس کے باپ کا خیال تھا کہ تب جوزمین کو زخم لگے تھے اُس کے پاﺅں کے تلووں نے سنبھال لیے تھے۔ اُس کا بیٹا کورآباد کو نکلتی سراب اُچھالتی شاہراہ پر لمبی ڈرائیو کرتے ہوے اُن باتوں کی بابت سوچتا اور قہقہے مار کر ہنستا تھا۔
وہ قہقہے مار مار کر ہنستا رہا حتّی کہ قہقہوں کے تسلسل سے اُس کی آنکھوں میںکسیلا پانی بھر گیا۔
جب اُس کا باپ رَفتہ رَفتہ اَپنے حواس کھوتا چلا جا رہا تھا‘ تب بھی اُس کی آنکھوں میںایسا ہی کسیلا پانی تھا۔
پہلے پہل یوں ہوا تھا کہ ٹی وِی پر دونوں عمارتوں سے جہاز ٹکراتے دِیکھ کر وہ بھی قہقہہ بار ہوا- اور ہوتا چلا گیا…. حتّی کہ آنکھیں کڑوے پانیوں سے بھر گئیں ۔ جب اُس کی آنکھیں‘ بار بار نشر کیا جانے والا منظر‘ دیکھنے کے قابل ہوگئیں تووہ عجیب طرح سے سوچنے لگا تھا۔ منظر میںتوجہاز جڑواں فلک بوس ٹاورز کے بیچ گھستے تھے مگر اُسے یوں لگتا ‘جیسے وہ دونوں ٹاورز لوہے اور سیمنٹ کے نہ تھے‘ اُس کی اَپنی ہڈیوں اور ماس کے بنے ہوے تھے۔
اُدھر سے جب بھی شعلے اُٹھتے تھے اِدھر اس کے درد کی چاہنگیں اُسے جکڑ لیتی تھیں۔
دَرد بڑھتا گیا- اِس قدر…. جس قدر کہ وہ بڑھ سکتا تھا۔
جِن ڈاکٹروں کے ساتھ بیٹے نے رابطہ کیا تھا‘ اُن سب کا کہنا تھا ‘ بہت دِیر ہو چکی تھی۔ ٹانگوں کا کٹ جانا اُس کے باقی بدن کی بقا کے لیے ضروری ہوگیا تھا
اُس کے باقی بدن کو بچا لیا گیا۔
اس بدن کو‘ جس کے زِندہ یا مردہ ہونے کے بیچ کچھ زیادہ فاصلہ نہ تھا۔
خود اُسے بھی اَندازہ نہ ہو پایاکہ اَپریشن کے بعد وہ کتنے عرصہ تک بے سُدھ پڑا رَہا … تاہم اس سارے دورانیے میں اُس درد کی شدت کا سلسلہ شاید ہی معطل ہوا ہو گا‘ جو اَندر یوں گونجتا تھا کہ باہر کی سمت چھلک مارنے لگتا تھا۔
دَرد کی کَسمَساہَٹ جب ہونٹوں تک پہنچی تو اُس نے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے جکڑ لیا .. دَرد چہرے کے خلیے خلیے کو تھرّانے لگا …… حتّی کہ پورے بدن پر لرزہ سا تَیر گیا۔
اور یہ وہ آخری لَرزَہ تھا جو اُس نے اَپنے پورے بدن پر بکھر جانے دِیا تھا۔
بدن پر لوٹتی تھراہٹ کے سبب اُس کے چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ سب سے زِیادہ فکر بیٹے کو لاحق تھی ۔ بدن سے باہر چھلکتے درد کے باوصف اَبھی تک وہ باہر کی دنیا سے بہت دور تھا ….. کہ وہ تو وہاں تھا- جہاں درد کے دَھارے کے ساتھ بسین نالے کا پانی تھا۔
اس پانی کے بہاﺅ کی شوریدگی تھی
اوروہ ساری دہشت بھی تووہیں تھی جسے پرے دھکیلنے کے وہ عمر بھر جتن کرتا رہا تھا۔

ٍ

بسین نالہ- جہاں وہ رہتا تھا- وہاں سے سات میل ادھر پڑتا تھا۔ اَپنے اُن دِنوں کے دوستوں کے ساتھ وہ برسوں اس نالے پر جاتا رہا تھا۔ وہ عمر کے اس مرحلے میں تھا کہ جب بہتے پانیوں کو دِیکھ کر خواہ مخواہ نہانے کو جی کرتا ہے۔ وہ اَپنی شلوار نیفے میں اُڑس لیا کرتا تھا- بڑے پَلّوں والی بھاری شلوار کو اِتنے بَل دِیئے جاتے کہ اُس کا آسن کاٹنے لگتا تھا۔ وہ بسین میں گھس جاتا تو اُس وقت تک پانی سے باہر نہ نکلتا تھا جب تک کہ اُس کا آخری دوست بھی باہر نہ نکل آتا۔ بسین کا پانی اُچھالنا- اُس کی ریت پر ننگے پاﺅں چلنا اور پانی کے بہاﺅ کی آواز سننا- مَدّھم سی اور مَدُھر سی- اُسے اَچھا لگتا تھا۔
وہ اَپنے دوستوں سے اِس قدر وابستہ ہوتے ہوے بھی اُن جیسا نہ ہو سکا تھا۔ اُس کے ساتھی عین اس وقت کہ جب وہاں سے ریل کو گزرنا ہوتا تھا- اُسے کھینچ کر اُدھر اوپر لے جاتے …… وہاں جہاں تنگ سے پُل کے اُوپر سے ریل گزرتی تھی تو سارے میں ریل کے گزرنے کی گڑ گڑاہٹ بھر جاتی تھی۔ ریل گزرنے کے لمحات میں وہ سب پُل کے نیچے سے اُوپر کا نظارہ کرتے اور قہقہے مارتے تھے …. مگر وہ دہشت زَدہ ہو کر وہاں سے بھاگ نکلتا تھا۔ قہقہے مزید بلند ہوتے- وہ ساری قوت مجتمع کرکے قدم اُٹھاتا- اِتنی بھرپور قوت سے کہ جیسے اُس کا اگلا قدم وہاں پڑے گا جہاں نالہ دَم توڑ دِیتا تھا۔
بعد کے زمانے میں وہ اس چھوٹے سے نالے کی بابت سوچتا تھا تو اُس کا دَم ٹوٹتا تھا۔
وہ کوشش اور ہمت سے اس کی یادوں کو حافظے پر سے پرے دھکیلتا رہا۔
جب تک وہ حواس میں رہا‘ اَپنی اِس کوشش میں کام یاب بھی رہا۔
مگر بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔
پہلے پہل کا دِھیرے دِھیرے بہنے والا بسین نالہ‘ بپھر کر دَریا بن چکا تھا۔
وہ پُل‘ جس کے نیچے کی چھاجوں برسنے والی دہشت ‘اسے پَرے پھینک دِیتی تھی- پانیوں کی تندی میں بہہ گیا تھا۔
اور وہ فاصلہ- جو وہ بچپن میں اپنے دوستوں کے ساتھ پیدل ہی طے کر لیا کرتا تھا- ٹرین پر طے ہوا تھا۔
ٍ

ٹرین پراُس کے لٹے پٹے مسافروں سے کہیں زِیادہ خوف لدا ہوا تھا
دہشت میں گندھا خوف- چیخیں اور سسکیاں اُچھالتا ہوا۔
پُل ٹوٹ جانے کے سبب پٹڑی اُکھڑ کر پانیوں کے سنگ بہہ رہی تھی …… اور رِیل گاڑی کو‘ کوس بھر پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔
ریل کے رُکتے ہی دہشت کا منھ زور ریلا اُمنڈ پڑا ‘جو بسین کے کِنارے کِنارے دورتک پھیل گیا تھا۔ اُوپر کہیں شدید بارشیں ہوئی تھیں- یہاں بھی مینہ کم نہ برسا تھا اور ابھی تک پھوار سی پڑ رہی تھی مگر اُوپر کی بارشوںنے نالے کو دَریا بنا دیا تھا۔ حوصلے تو پہلے کے ٹوٹے ہوے تھے‘ آگے کا پُل ٹوٹ گیا تھا اوربلوائی کسی بھی وقت ان تک پہنچ سکتے تھے۔ بسین کا بپھرا ہوا پانی سامنے تھا- بلوائی نہیں پہنچے تھے مگر اُن کی دہشت پہنچ گئی تھی۔
شُوکتی ہوئی اور خوخیاتی ہوئی دَہشت….
خوف سینوں سے سسکاریاں کشید کرتا تھا….اتنی زیادہ اور اس تسلسل سے کہ یہ سسکاریاں بسین کے پانیوں کے شور شرابے پر حاوی ہو رہی تھیں۔
وہاں کچھ ہمت والے بھی تھے جو خوف کو پرے دَھکیلتے دَھکیلتے اُکتا گئے تھے۔ اب اُنہیں اُن کے حوصلے اُکساتے تھے لہذا‘ اُنہوں نے بپھرے پانیوں میں اَپنے قدم ڈال دیے۔
کئی پار چڑھ گئے تو اسے بھی یقین سا ہونے لگا کہ وہ بھی پار نکل جائے گا ۔ اس نے اَپنی بیوی کا ہاتھ تھاما- ننھّی بیٹی کو کندھے سے لگایا اور ہمت والوں کے ساتھ ہو لیا۔ اُس نے بیوی کو نگاہ سامنے کنارے پر جمائے رَکھنے کی تلقین کی اور خود بھی پار دِیکھ کر آگے بڑھنے لگا۔
اُس کی بیوی کو آٹھواں آدھے میں تھا۔ پانی دِیکھ کر اُسے چکر آنے لگتے تھے- ایک قدم آگے بڑھاتی تھی تودو پیچھے کو پڑتے تھے۔ وہ سامنے کنارہ دیکھتی تھی مگر اُچھلتا چھل اُچھالتا منھ زور پانی اس کا دھیان جکڑ لیتا تھا…. حتی کہ وہ چکرا گئی- پاﺅں اُچٹ گئے اور وہ پانیوں پر ڈولنے لگی۔
اُس نے بیوی کو چکرا کر پانی پر گرتے ہوے دِیکھا تو اُسے سنبھالنے کو لپکا۔ ننھی بیٹی جو کندھے سے لگی تھی اس پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ بیوی کو سنبھالتے سنبھالتے بیٹی پانیوں نے نگل لی ۔ اُس نے بہت ہاتھ پاﺅں مارے مگر وہ چند ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
وہ عین بسین کے وسط سے دُکھ سمیٹ کر واپس پہلے کنارے پر پلٹ گئے۔ وہیں انہیں رات پڑ گئی اسی کنارے پر قافلے کی عورتوں نے رات کے کسی سمے اَپنی اَپنی اوڑھنیوں سے اوٹ بنائی اور سسکیوں کے بیچ ایک معصوم کی ننھی چیخوں کا استقبال کیا۔
یہ وہی معصوم تھا جو اَب اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اُس نے خود ہی باپ کی ٹانگیں کٹوانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بیٹا ڈاکٹروں کے پینل سے پوری طرح متفق ہوگیاتھا کہ پاﺅں کا گھاﺅ پھیلتے پھیلتے اوپر تک پہنچ چکا تھا۔ وہ چلنے سے باز نہ آتا تھا…..یوں بقول اُن کے- زخم تازہ ہو جاتے تھے۔ ان زخموں سے اُٹھنے والا سلسلاہٹ جیسا مسلسل درد اُس کے نچلے دَھڑمیں اِتنا شدید ہو جاتا کہ ُاس کی چیخیں نکلتی رہتیں۔ اِتنی بلند اور اِتنے تسلسل کے ساتھ کہ پڑوسی اُدھر ہی متوجہ رہتے تھے۔
ڈاکٹروں کے مطابق گھاﺅ زہر بن گئے تھے لہذا اپریشن ضروری تھا۔ بیٹا بھی قائل ہو گیا تھا کہ اس ضمن میں باپ سے رائے لینا مناسب نہیں تھا اور وہ سمجھنے لگا تھا کہ اس کا باپ کوئی معقول رائے دینے کے اہل نہیں رہا تھا۔
بیٹے کو یقین ہونے لگا تھا کہ وہ ساری صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکتا تھا لہذا اَپنے طور پر ہی ڈاکٹروں سے متفق ہو گیا ۔ اپریشن خاصا طویل تھا- اپریشن ہو گیا تو ڈاکٹروں نے حسب عادت اُسے تسلی دیتے ہوے کہا‘ اس کا باپ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا….
مگر جب باپ کو ہوش آیا تو وہ اپنے ہی بیٹے سے ایک اور گھاﺅ پوری طرح چھپا لینے کے جتن کر رہا تھا۔
یہ اس کے دِل کا گھاﺅ تھا۔
ایسا گھاﺅ- جس کے اندر سے دَرد کا عجب غراٹا اٹھتا تھا …..
وہ غراٹا ‘جو بدن کو تھرانے کے بہ جائے اسے لوتھ کا سا بنا دیتا تھا۔

مرگ زار


کچھ اس افسانے کے باب میں

nasir-abbas-nayyer
ناصر عباس نیر

خود شعوریت سے جہاں محمد حمید شاہد کے افسانوں میں متن در متن یا فریم نیریٹوکی صورت پیدا ہوئی ہے ‘ وہاں یہ افسانے نئی قسم کی حقیقت نگاری کے مظہر بھی بن گئے ہیں ۔”برشور“ ”لوتھ“”تکلے کا گھاﺅ“” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ اور ”مرگ زار“ محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی کی عمدہ مثالیں ہیں ۔ واضح رہے کہ ان کی حقیقت نگاری نہ تو سماجی حقیقت نگاری ہے‘ نہ مارکسی حقیقت نگاری اور نہ نفسیاتی یا باطنی حقیقت نگاری۔ ان کی حقیقت نگاری دراصل معاصر زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے ۔اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے ‘جسے جدیدیت پسندوںاور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کیا تھا۔ جدیدیے داخلی زندگی کو اور ترقی پسند خارجی زندگی کو ہی حقیقت سمجھنے لگے تھے۔ محمد حمید شاہد جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں‘ اس نے دونوں کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور زندگی کے دونون رُخوں کو یکساں اہمیت دی ہے۔ اور اہمیت دینے کے ضمن میں ایک طرف دونوں سے استفادہ کیا ہے تو دوسری طرف دونوں تحریکوںسے ہٹ کر موقف بھی اختیار کیا ہے۔ محمد حمید شاہد کے یہاں یہ دونوں صورتیں موجود ہیں ۔ مثلاً افسانہ” معزول“ کا مرکزی مسئلہ فرد کی شناخت ہے‘ جسے جدیدیت نے اپنا مرکزی سروکار بنایا تھا۔ ”تکلے کا گھاﺅ“ میں بھی داخلیت ‘ تنہائی اور اجنبیت کے اسی گہرے نجی کرب کو موضوع بنایا گیا ہے ‘جسے جدیدیت نے وجودیت سے اخذ کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کی افسانوی نثر میں جو شعریت موجود ہے ‘ وہ بھی جدیدیت سے استفادے کی گواہ ہے‘ مگر انہوں نے جدیدیت کے سروکاروں کو پیش کرتے ہوئے کہانی پن کو قائم و بر قرار رکھا ہے اور یہ جدیدیت سے انحراف کی صورت ہے ۔ اسی طرح انہوں نے ترقی پسندوں کے زاویہ  نظر کو بھی جزوی طور پر برتا ہے ‘جیسے ”برشور“ میں۔ اس افسانے کا زرگل استحصال پسند طبقے کی علامت ہے‘ جو معاشی ہتھکنڈوں سے تاج محمد ترین کی بیٹی اور جائیداد کو ہتھیا لیتا ہے مگر اسے فارمولا بناکر اپنی کہانیوں میں نہیں برتا۔
محمد حمید شاہد اور اس کے ہم عصرافسانہ نگاروں کو جو بات ان کے پیش رووں سے الگ کرتی ہے وہ دراصل زندگی اور دنیا کو غیر مشروط مگر کلی طور پر افسانے میں برتنے کا رویہ ہے ۔

ناصر عباس نیر


 

منظر‘ پس منظرکے ساتھ

سیّد مظہر جمیل
سیّد مظہر جمیل

”رُکی ہوئی زندگی“ ،” لوتھ“، ” پارینہ لمحے کا نزول“،” تکلے کا گھاﺅ“، ”آٹھوں گانٹھ کمیت“ اور” معزول نسل“ جیسی کہانیاں جہاں تیزرفتاری سے بدلتی ہوئی انسانی صورت حال کی تصویریں دکھاتی ہیں ‘وہیں وہ انسانی رشتوں میں آہستہ خرام اور سبک پا ہونے والی شکست و ریخت کی کہانیاں بھی سناتی ہیں۔ ہر کہانی زندگی کے ایک نئے رُخ ‘ نئے پہلو‘ نئے واقعاتی و حسی ماجرائیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
محمد حمید شاہد واردات و ماجرائیت کا کہانی کار نہیں ہے ‘ کسی واقعے اور حادثے کی رپورٹنگ اس کا منصب نہیں ہے۔ وہ توواقعات و حوادث اور افتاد و گداز سے پیدا ہونے والی حسی لہروں کو اپنے تجربے کے انٹینا کی مدد سے اپنے احساس میں جذب کر لیتا ہے اور پھر انہیں تخلیقی طور پر تصویروں کی صورت میں نشر کر دیتا ہے ۔ کہیں یہ تصویریں اپنے منظر‘ پس منظرکے ساتھ رواں دواں دکھائی دیتی ہیںاور کہیں وہ ان کے اقتباس اور پر چھائیوں سے فضا سازی کاکام انجام دیتا ہے کہ رعایت اور علامت نگاری بھی حمید شاہد کی فنی دسترس سے باہر نہیں رہے ہیں۔

سیّد مظہر جمیل


نوحقیقت پسندی کی عمدہ مثال

توصیف تبسم
توصیف تبسم

محمد حمید شاہد کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ‘ دنیا سے متعلق ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا ہی نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے‘ یعنی ہم محض بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ نئی یافت سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں۔ بقول مبین مرزا فکشن محمد حمید شاہد کا مشغلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ فن سے سچی اور کھری وابستگی نے افسانہ نگار کو ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جہاں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی مل کر ایک ہو گئی ہیں ۔ انسانی زندگی کاا لمیہ ہویا سیاسی وسماجی حالات کا دھارا‘ محبت کے کومل جذبے ہوں یا رشتوں کی مہک‘ ریاستی گروہی جبر ہو یا عالمی دہشت گردی یا پھر تہذیبی حوالوں کو نگلتی بازاری ثقافت ‘محمد حمید شاہد کا قلم یکساں روانی اور تخلیقی وقار کے ساتھ سب کو سمیٹتا چلا جاتا ہے۔
فن کار کا ایک منصب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ کرے۔ محمدحمیدشاہد نے اپنے بیانیے کو ایک سے زائد سطحوں پر یوں متحرک کرلیا ہے کہ وہ مطلق طور پر انسانی آہنگ میں ڈھل گیا ہے۔ اسی لیے تو احمد ندیم قاسمی کو کہنا پڑا کہ” محمد حمید شاہد کے افسانوں کا ایک ایک کردار ‘ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔“ خود شعوریت سے جہاں افسانہ نگار نے متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری کی ہے وہاں انہوں نے اپنے افسانوں کو ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ بھی سجھا دی ہے ۔ محمد حمید شاہد کے ہاں نوحقیقت پسندی کے حوالے سے عمدہ مثال بن جانے والے افسانوں میں” برف کا گھونسلا“ ” برشور“ ” لوتھتکلے کا گھاﺅ“ ” ملبا سانس لیتا ہے“ ” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ”جنم جہنم“”چٹاکا شاخ اشتہا کا“ ” آدمی کا بکھراﺅ“ ”پارہ دوز“ اور ” مرگ زار“ جیسے افسانے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بقول ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی دراصل زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے جسے جدیدیت پسندوں کی نافہمی اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کر دیا تھا۔ محمد حمید شاہد کےافسانے سورگ میں سور“”گانٹھ “ اور مرگ زار“  پاکستان اور اردو ادب کے شاہکار تسلیم کیے جائیں گے

ڈاکٹر توصیف تبسم


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

32 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » مرگ زارM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *