M. Hameed Shahid
Home / افسانے / کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہد

کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہد

kitabulamwat

جس قدیم کتاب کو اُنہوں نے موت سے منسوب کر رکھا تھا اُس کے نیم تصویری باب میں ایک بہت بڑی ترازو تھی جس کے پلڑوں میں زنگار نے سوراخ کر دیے تھے۔ قدیم کتاب کے پاورقی حاشیے میں جو عبارت لکھی ہوئی ملی اس کو پڑھ لینے کا دعویٰ رکھنے والوں نے بتایا ہے کہ اس ترازو کو میزانِ عدل کا نام دیا گیا تھا۔ کتاب الاموات پر تحقیق کرنے والوں نے گزر چکے وقتوں کی نامانوس عبارت سے اِس واقعے کو بھی اخذ کیا ہے کہ اس میزانِ عدل پر خود کو تلوانے کی خواہش رَکھنے والوں کو پہلے اس آتشیں گڑھے میں اُترنا ہوتا‘ جو راہ میں پڑتا تھا۔ اس ترازو کی راہ میں اور بھی بہت کچھ پڑتا تھا‘ گہری دھند ‘ سرمئی بادل ‘ کڑکتی بجلیاں اور کالی بارشیں ۔ قدیم کتاب کے اُن صفحات پر جو ابھی تک کِرم خوردہ نہیں ہوے ‘اِس طرح کی عبارت کی بھی نشاندہی ہوئی ہے جس کے مطابق یہ راہ کی رکاوٹیں دراصل شیطان مردُود کی طرف سے ہوا کرتیں کہ جس کی آخری لمحے تک یہی کوشش رہتی تھی کہ کوئی میزانِ عدل تک نہ پہنچ پائے ۔
اِس قدیمی میزان ِعدل پر جسم نہیں روحیں تُلتی تھیں ۔
جسے ہم نے اَپنی سہولت کے لیے اوپر شیطان مردُود لکھ دِیا گیا‘ اُسے اِن خستہ اور بوسیدہ اوراق میں ’سَت‘ کانام دِیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ دِیوتا تھا۔ یہ وہی سَت دِیوتاہے جس نے اَپنے بھائی ’اَسر ‘ کو قتل کر دیا تھا ۔ سَت اور اَسر کا یہ قصہ یوں دِلچسپ ہو جاتا ہے کہ اَسر قتل ہونے کے بعد پھرزندہ ہو گیا تھا ۔ اور اِس زِندہ ہوجانے والے دِیوتا پر قاتل دِیوتا نے کئی گھناﺅنے الزامات لگائے اور اُسے میزانِ عدل تک کھینچ لایا تھا ۔
کتاب ُالاموات کے عبارت والے حصے میں بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ نے سَت کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ کوئی قتل ہو کر کیسے زندہ ہو سکتا تھا ؟ بعد کے زمانے کے اپنے قاری کو اس مخمصے میں پڑنے سے بچانے کے لیے قدیم متن نے یہ وضاحت بھی محفوظ رکھی ہوئی ہے کہ مقتول سَت بھی دیوتا تھا ۔ اِنصاف کا دیوتا۔ لہذا اُس کا یوں قتل ہونا بنتا ہی نہیں تھا۔ ایک دیوتا اگر اپنے دیوتا بھائی کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا توانہی قدیم روایات کے مطابق اُس کا پھر سے جی اُٹھنا بھی لازم تھا۔
بوسیدہ کتاب کے وہ حصے جو اَبھی تک زمانے کی دست برد اور تصرف ِبے جا سے محفوظ رہ گئے ہیں اُن میں مرقوم ہے کہ پہلے دونوں بھائیوں میں ایسی مخاصمت نہ تھی کہ ایک‘ دوسرے کو قتل کر دیتا اور دوسرا ‘اپنا مُقدّمہ لے کر میزان عدل کی جانب رجوع کرتا۔ وہ بھائی جسے اُوپر شیطان سے تشبیہہ نہیں دِی گئی ہے وہ سَت کی خباثتوں کو دَرگزر کر دِیا کرتا تھا۔ اِس لیے کہ ایک تو وہ اُس کا بھائی تھا اور دوسر ایہ کہ وہ بھی تو آخر کوایک دیوتا تھا۔ ضابطہ جو اپنایا جا رہا تھا ‘ یہ تھا کہ ایک دِیوتا بھائی کو اپنے دِیوتا بھائی کاپاس ہونا ہی چاہیے۔ اِس عبارت کی تفہیم کرنے والوں نے کہا ہے کہ اَسر دِیوتا کو بھائی کا پاس تھا یا نہیں اِس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم یہ یقینی تھا کہ وہ اپنے بھائی کی طاقت سے بہت خائف تھا ۔ اُس کے بھائی کے پاس ایسے لوگوں کی سرداری بھی تھی جو اَپنی پیٹھوں پر ڈھالیں اور بغل میں تلواریں سجائے رَکھتے تھے اور گروہ کی صورت آگے بڑھتے تھے۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تب تک کسی دِیوتا کو میزانِ عدل کے سامنے لاکھڑا کرنے کی روایت نہیں پڑی تھی۔ کیسے پڑتی کہ سَت دِیوتا کے جی میں جو آتااَپنے پشت پناہوں کے بِرتے پر نڈر ہو کر کرتا تھا ۔
سَت کیا کِیاکرتا تھا؟ اس ضمن میں اِس قدیم نوشتے میں ایک مُفصَّل باب موجود ہے۔ اِسی باب میں ‘ذَرا آگے چل کر‘ بتایا گیا ہے کہ سَت دِیوتا نے میزان ِعدل کی طرف جانے والوں کو روکنے کے لیے توات کے علاقے کو بچھا دیا تھا ۔ توات کے ایک سرے پر‘ چُوں کہ آسمانی سمندر کی نیلی لہریں ٹکرا ٹکرا کر ایک بھید بھری گونج پیدا کرتی رہتی تھیں لہذا وہاں وہ لوگ بستے چلے گئے جن سے ان کے اپنے پاﺅں کی زمینوں کے بھید چھین کر اُنہیں باہر دھکیل دِیا گیا تھا۔ ان لوگوں کی اس زمین بدری کو ان کی مجبوری بنا ڈالنے کا وظیفہ سَت دیوتانے اپنے ایک پیارے کے ذمہ لگایا تھا۔ اِس پیارے نے توات کو ایسا علاقہ بنا ڈالا جس میں لوگوں کو سہولت سے اغوا کیا جاسکتا اور اُن کے پہلوﺅں میں چُھرے گھونپے جاسکتے تھے ۔ اُنہیں بوریوں میں بند کر دِیا جاتا۔ حتّٰی کہ اُن کی روحیں الگ ہو جاتیں۔ اِن الگ ہوجانے والی روحوں کو اُن سیاہ گھوڑوں پر بٹھا کر اَمن تت لے جایا جاتا ‘ جن کی چھاتیاں سفید تھیں ۔
امن تت کی ترکیب سے اس علاقے کے امن سے تعلق کا مغالطہ ہو سکتا ہے۔ تاہم پرانی عبارتوں کو خواب جیسا جان کر ان کی تعبیر کرنے والے ایک معَبّر نے وضاحت کی ہے کہ امن تت علاقے کا نقشہ اور اس میں جنگل اُگانے کی ترکیب میں یہ قرینہ تو ضرور پیش نظررہا ہوگا کہ اُس کے اَندر کوئی جھانک نہ سکے ۔ اور جوکوئی دُور سے دِیکھے وہ اس سر سبز علاقے کو امن کا خطہ جانے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ اِس علاقے کا اِنتخاب ہی اِس لیے کیا گیا تھا کہ میزان ِعدل اور اُس کے بیچ ایک اوٹ میسر آجائے ۔
تو یوں ہے کہ وہ اوٹ میسر تھی ۔
سَت کے حوصلے بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ اُسے میسر آڑ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اِنصاف کا دیوتا اس کا اپنا ہی دِیوتابھائی تھا۔ وہ بھائی جس کے دِل میں اُس کی قوت کا سہم بیٹھ چکا تھا۔ جن روحوں کو کالے گھوڑوں پر سوار کرکے امن تت لایا جاتا‘ اُنہیں ایک آرے سے چیر کر اُس گہرے گڑھے میں پھینک دِیا جاتا تھا جس میں روح خور درندے رہتے تھے۔ قدیم متن کے مطابق ارواح کے وہ حصے‘ جن کا تعلق بدنوں کے زِیریں حصے سے ہوتا تھا‘ اِن درندوں کی چیر پھاڑ سے محفوظ رہتے تھے۔ تاہم بدنوں کے اُوپر والے حصے وہ رغبت سے کھاتے تھے ۔ اپنا مرغوبہ کھاجا شکموں میں اُتارنے کے بعد وہ باقی بچ جانے اور تڑپے چلے جانے والے آدھے حصوں سے منھ موڑ لیتے۔ ایسے میں وہ منھ بلند کرکے ایسی خوفناک آوازیں نکالا کرتے تھے کہ آدھی تڑپتی روحیں اپنا تڑپنا بھول جاتی تھیں ۔
موت کی اِس بوسیدہ کتاب کے جس حصے میں آدھی روحوں کا قصہ بیان ہوا ہے وہ بہت کٹا پھٹا ہے۔ اتنا کٹا پھٹا کہ قدیم عبارتوں کو پڑھنے کا ہنر رکھنے والے اسے ڈھنگ سے نہیں پڑھ سکے ہیں۔ تاہم کتاب کے دوسرے حصوں کی عبارات کو اس حصے کے غیر مربوط متن سے ملا کر پڑھنے کے بعدیہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ روح خور درندوں کا اِس طرح اُوپر دِیکھ کر مکروہ آوازیں نکالنے کا مطلب اِس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تھا کہ ان کا دیوتا سَت ان کی طرف متوجہ ہو اور اسے یہ اطلاع بھی ہو جائے کہ وہ اپنا کام کر چکے تھے ۔ اَمن تَت کے گڑھے سے آدھی بچ جانے والی روحوں کو گھسیٹ کر باہر نکالاجاتااور اُنہیںسیاہ گھوڑوںپرلاددِیاجاتا۔ یہی سیاہ گھوڑے اُنہیںیہاں لائے تھے ۔ اِس بار چوں کہ اُن پر پہلے کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم وزن لدا ہوتا تھا لہذا گھوڑے برق رفتار ہو جاتے ۔
آدھی روحوں کو اُٹھا کر واپس بھاگنے والے گھوڑوں کی رفتا ر حد سے حد پہلے کے مقابلے میں دو نی ہو جانی چاہیے تھی۔ مگر قدیمی متن چغلی کھاتا ہے کہ واپسی پراُن کی رفتا ر اس قدر تیز ہوتی کہ امن تت کی جانب جاتے سمے کی چال سے اس نئی چال کے تناسب کا تخمینہ ممکن ہی نہ تھا۔ دانش وروں اور ماہرین نے اِس سے یہ اِستخراج کیا ہے کہ ان روحوں کا غالب وزن اوپر والے اس حصے کا تھا جو دماغ اور دِل سے کھینچ کر باہر نکالی گئی تھیں اور جنہیں روح خور درندے چٹ کر گئے تھے۔
امن تت کا گڑھا اُس گڑھے سے مختلف تھا جو میزان عدل کی راہ میں پڑتا تھا ۔ میزانِ عدل کے ذِکر کے ساتھ جس گڑھے کا حوالہ آتا ہے‘ اُسے آتشیں گڑھے سے موسوم کیا جا چکا ہے اور اُس کی بابت یہ بھی بتایا جا چکا کہ اُس میں سے ہو کر ہی انصاف کے ترازو تک رَسائی ہو سکتی تھی ۔ اُوپر جہاںیہ بتایا گیا ہے کہ سَت دِیوتا اس جانب آنے والے لوگوں کو روکنے کا ہر حیلہ کیا کرتا تھا ‘وہیں گہری دُھند ‘ سرمئی بادلوں ‘ کڑکتی بجلیوں اور کالی بارشوں کا ذِکر ہوا تھا اور انہیں شیطانی حیلوں کے زُمرہ میں رَکھا گیا تھا۔ جب کہ بادل‘ بارش اور حاملہ ہوائیں قدرت کی عطا تسلیم کی جاتی رہی ہیں۔ قدیمی نسخوں کے ماہرین نے سارے حوالے اِکٹھا کرنے کے بعد کہا ہے کہ قدرت کے معاملات کا تعلق چوں کہ کتاب کے دوسرے حصوں میں سَت دیوتا کے بہ جائے اسَر دیوتا سے جوڑا گیا ہے لہذا یہاں یہ معاملہ مشکوک ٹھہرتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہو نہ ہو سفید چھاتیوں والے سیاہ گھوڑے آدھی روحوں کو اُٹھا کر پلٹتے ہوے ‘وہیں اُوپر سے ‘جسَت لگاتے ہوے گزرتے تھے ۔ اُن کے بدنوںکی باقی ماندہ سیاہ جلد چھاتی کے سفید رنگ میں مل کر سرمئی ہو جاتی تھی ۔ وہ اِتنی اونچی زقند بھرتے کہ نیچے سے اُن کے بدن سرمئی بادل لگنے لگتے ۔ برق رَفتارگھوڑوں کے سُم ٹھٹھری ہوے منظر کی چٹان پر پڑتے تو چنگاریاں اُٹھتیں۔ اِن چنگاریوں کو بجلی کا لپکا سمجھا جاتا۔ وہ پانی جو گھوڑوں کے بدن چھوڑتے اُس پر بارش کا گمان ہوتا تھا۔
قدیم متون کا دَرک رَکھنے والے اس مخمصے میں پڑتے رہے ہیں کہ جب عدل سے منسوب اسَر دیوتا نے اپنے دیوتا بھائی سَت کی جانب سے سیاہ پٹی باندھ کر اَپنی آنکھوں کوبند کر رکھا تھا تو آخر وہ کیا افتاد ٹوٹ پڑی تھی کہ سَت کو اِسی کی میزان سے رجوع کرنا پڑا۔ اِس پرانے نسخے میں لکھا ہوا ہے کہ اسَردیوتا کو اُن لوگوں کے بارے میں بہت تشویش تھی جو مسلسل غائب ہو رہے تھے۔ غائب ہونے والے جب کہیں بازیاب ہوتے تو وہ محض لس لس کرتے وجود رہ جاتے تھے ۔ یہیں یہ المناک حقیقت بھی لکھی ہوئی ملتی ہے کہ وہ عہد سوچنے سمجھنے اور بے ریا محبت کیے چلے جانے والوں سے بہت سُرعت سے خالی ہوتا جارہا تھا۔ جب عدم پتہ ہو جانے والوں کی عورتوں کے بین جگر پھاڑنے لگے تو اسَر دِیوتا کواَپنی کالی پٹی تھوڑا سا سرکانا پڑی ۔ اُس نے ازخود نوٹس لے کر حقیقت کو میزانِ عدل پر چڑھاناچاہا۔ اُس کے بھائی سَت دیوتا نے اسے اپنے خلاف ایک سازش جانا اور بپھر گیا۔ اُس نے طیش میں اپنے دیوتا بھائی کو آتشیں گڑھے کے اُوپر سے اَپنی جانب گھسیٹنا چاہا مگر ترازو کے اوپر نکلے ہوے بانس پر بیٹھے چوکس بندر نے اَپنی بصیرت سے خطرہ بھانپ لیاتھا۔ اس نے خوب شورمچایا۔ سَت دیوتا نے بوکھلا کر اپنے دیوتا بھائی کوقتل کر دیا۔
کتاب الاموات کے چند اور اوراق پلٹیں تو اوپر کو نکلے بانس پربیٹھنے اور شور مچانے والا بندر اس دِیوی میں بدل گیا تھا جس کے نیچے کا بدن ڈھکا ہوا ہوتا تو اس کی زبان سچ بولتی تھی اوردیوی لباس گرادیتی تو سارے بدن سے شہوت ٹپکتی تھی۔ یہ دِیوی جو سَت دِیوی پر بہت مہربان تھی ‘ اس کے چہرے کی کرختگی کو پڑھ کر نامہربان ہو گئی تھی اور اپنابدن سمیٹ کر سب کو اس کے مذموم ارادوں کی خبر دے رہی تھی ۔ قتل کرنا سَت دِیوتا کے لیے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا مگر اس بار یہ اُسے مہنگا پڑا۔ وہ دِیوی جس نے بندر کی جگہ لے لی تھی اور کتاب میں جسے معات دِیوی کا نام دِیا گیا تھا‘ جگر پھاڑدینے والی آوازوں میں اَپنی آواز ملانے لگی۔ پھر کیا تھا ہر طرف سے اِحتجاج کے نعرے بھی گونجنے لگے ۔
جسے قتل کر دیا گیا تھا‘ اسے ان آوازوں نے زندہ کر دیا تو سَت نے میزان عدل سے رجوع کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ کچھ معَبّر یہ کہتے ہیں کہ اسَر دِیوتا کو ان گونجتی آوازوں نے نہیں بل کہ پسد جسَت نے زندہ کیا جو‘ بقول اُن کے‘ ایسے منصف دیوتاﺅں کی مجلس تھی جو ترازو ہاتھ میں لیتے وقت آنکھوں پر سیاہ پٹی نہیں باندھا کرتے تھے۔ دوسرے معَبّر اس تعبیر کو ماننے سے اِنکاری ہیں۔ وہ اس خوف کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو اس مجلس کے ہر رکن کے دِل میں کپکپاہٹ پیدا کرتا تھا۔ خیر حقیقت کچھ بھی ہو میزان عدل قائم کر دی گئی تھی ۔ کوئی نہیں جانتا ‘یہ کتنے وقت کے لیے تھی۔ وہ جسے قتل کیا گیا تھا‘ نیم زِندہ ہو گیاتھا ۔ عجب مُقدّمہ تھا‘ جس میں سے کئی اور مقدمے پھوٹ نکلے تھے۔ وہ دُھول اُڑائی جارہی تھی کہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ سَت دِیوتا مسلسل اُن گناہوں کی فہرست سب کو سناتا رہا تھا جو‘ بقول اس کے‘ اسَر دیوتا سے سرزد ہوے تھے ۔ امن تت کے علاقے سے بھی اس کے حق میں آوازیں اٹھتی تھی کہ بقول اس کے یہ علاقہ بھی اُس کی طاقت کااستعارہ تھا۔
کتاب الاموات کی اس قدیم میزان ِعدل کا قصہ بھی عجیب ہے ۔ قتل کا معاملہ سامنے کا تھا اورقاتل کو بہ سہولت اَپنے انجام تک پہنچایا جا سکتا تھا مگر دِلوں کو لرزانے والے خوف کی ابتلا نے انہیں بوکھلا رکھا ہے۔ وہ فیصلے پر فیصلہ دیتے ہیں مگر ہر فیصلہ ادھورا رہ جاتا ہے حتّٰی کہ انہیں کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی ۔ ادھورے فیصلوں میں کئی اور قتل گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ دِیوتاﺅں کے قوانین کی کتابیں ایک طرف دَھری کی دَھری رہ جاتی ہیں۔ یوں لگنے لگتا ہے کہ وہ بے معنی دلیلوں اور نامکمل فیصلوں کو ہی کافی سمجھنے لگے ہیں۔ اپنے اپنے مقتولین پر بین کرنے والیوں کے گلے رُندھ گئے ہیں ۔ احتجاجی نعروں کی گونج ماند پڑ گئی ہے اور معات دِیوی ادھر سے اُوب کر اپنا جامہ گراکر لوگوں کو رُجھانے میں مگن ہو جاتی ہے۔ وہ مُقدّمہ کون جیتا؟ اسَر دِیوتا یا سَت دیوتا ؟ کتاب ُالاموات کے اگلے سارے صفحات کو دِیمک نے کچھ اِس طرح چاٹ ڈالا ہے کہ یہ سوال ہی بے معنی ہو گیا ہے ۔


کچھ اس افسانے کے باب میں

ہماری قومی زندگی کا سانحہ ایک نئی معنویت پاتا ہے

قدیم کتاب کے موت سے منسوب نیم تصویری باب کی بڑی ترازو سے شروع ہونے والی کہانی ”کتاب الاموات سے میزان عدل کاباب“میں ہماری قومی زندگی کا سانحہ ایک نئی معنویت پاتا ہے ۔

توصیف تبسم
توصیف تبسم

اس نئی کہانی میں بتایا گیا ہے کہ آتشیں گڑھے سے پار قائم کی گئی قدیمی میزان ِعدل پر جسم نہیں روحیں تُلتی تھیں ۔ سَت دِیوتاجس نے اَپنے بھائی ’اَسر ‘ کو قتل کیا تھا ۔ اور اَسر‘ جو قتل ہونے کے بعد پھرزندہ ہو گیا تھا اس کہانی کے دو بنیادی کردار ہیں ۔ کہانی میں غائب ہونے والے لوگوں اور مظلوموں کی دل خراش چیخوں کا تذکرہ ہوتا ہے اور ان لاشوں کا بھی جو امن تت کے علاقے میں گرائی جاتی تھیں۔ میزان عدل کے اوپر کو نکلے بانس پربیٹھے اور شور مچانے والا وہ بندر جو اس دِیوی میں بدل گیا تھا جس کے نیچے کا بدن ڈھکا ہوا ہوتا تو اس کی زبان سچ بولتی تھی اوردیوی لباس گرادیتی تو سارے بدن سے شہوت ٹپکتی تھی‘ کی علامت بھی ایک معنیاتی نظام تشکیل دیتی ہے۔ محمد حمید شاہد کا کہانی بیان کرنے کا اندازجو اس کہانی میں برتا گیا ہے حد درجہ منفرد اور اچھوتا ہے۔ یہ کہانی پڑھ کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں کہانی کے عصری حوالے سیدھے سبھاﺅ آگے چلنے سے انکارکردیں تو وہاں اساطیر کے بوسیدہ اوراق سے استفادہ نئی معنویت اجاگر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر توصیف تبسم


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

35 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » آدمیM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

  35. Pingback: اپنا سکّہ|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *