M. Hameed Shahid
Home / افسانے / برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

Burf ka ghonsla

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔
اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھے پر برس بڑی۔
بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں وہیں ٹھہری رہیں۔
”اِس سے بہتر تھا ہم اُسی دور افتادہ مَقام پر پڑے رہتے کم از کم آپ شام کو تو وقت پر گھر پلٹ آیا کرتے تھے۔“
بچیاں مسکراتی رہیں…. وہ پیچ و تاب کھاتی رہی…. اور میں اپنے حق میںوہ دلیل جو مسلسل کئی روز سے دہرا رہا تھا‘ ایک مرتبہ پھر دہرانے سے ہچکچا رہا تھا۔
جس وقت مجھے مری میں تعینات کیا گیا تھا وہ بہت خُوِش تھی۔ اسے ہنی مون والے دن ےاد آرہے تھے جن کے سحر سے وہ ابھی تک نہ نکلی تھی۔ وہی گہرے بادلوں کا زمین پر اُترنا‘ ٹھنڈی ہواﺅں کا بَد ن چوم کر گزرنا‘ گیلی سڑک پر پھسل کر گرنا‘ چوٹ لگنا اورچوٹ سہلانے کے لیے ہیئر ڈرائر کا اِستعمال کرنا۔ محض ایک گرم بالٹی پانی کا ملنا اور دونوں کا نہانے کو اکٹھے باتھ روم میں گھس جانا کہ کہیں ایک کو ٹھنڈے پانی سے نہ نہانا پڑے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مال روڈپر چہل قدمی کرنا۔ پہروں Lintottsمیں ےا پھر پوسٹ آفس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں کا نظارہ بھی وہ نہ بھول پائی تھی۔
مگر اب اکتاہٹ اُس کے بَد ن کے خلےے خلےے میں اتر رہی تھی۔ میں جانتا تھا‘ ایسا کیوں تھا۔ مگر میں کیا کرتا؟ سیزن ختم ہونے کو تھا‘ لیکن لوگ تھے جو پھر بھی جوق در جوق چلے آرہے تھے۔ دفتر سرکاری مہمانوں سے بھرا رہتا تو گھر دوستوں اور عزیزو اقارب سے…. جو بھی آتا اس خواہش کے ساتھ آتا کہ ایک تو اس کے قیام و طعام کا بندوبست کیا جائے گا اور دوسرا اسے گھمانے پھرانے لے جایا جائے گا۔ اور ےوں نہ چاہتے ہوے بھی‘ میں گھر وقت پر نہ پلٹ سکتا تھا۔ جب کہ وہ بے چاری صبح صبح مہمانوں کے بستر سنبھالتی‘ صفائیاں کرتی‘ پانی گرم کر کے باتھ روم میں رَکھتی‘ ناشتہ تیار کرتی‘ دن بھر کبھی کھانا پکاتی‘ دستر خوان پر سجاتی‘ تو کبھی چائے اور سموسوں سے مہمانوں کی تواضع کرتی۔ اُن کے بچوں کے منھ صاف کرتی‘ اَپنی بچیوں کو سمجھاتی بجھاتی‘ مہمانوں کے جوٹھے برتن دھوتی‘ پھر جب شام کے دراز سائے چھتنار درختوں سے اُتر کر رات کے روپ میں ڈھلنا شروع ہو جاتے تو وہ بستر بچھا دیتی اور مہمانوں کی واپسی کا بیٹھے بیٹھے انتظار کرتی کہ وہ سیر سے پلٹیں تو اُسے بھی کمر سیدھی کرنے کو موقع ملے…. ایسے میں اس کی اکتاہٹ اور چڑچڑا پن بجا تھا۔
اسے ہول آرہے تھے کہ ہواﺅں میں ےخ بستگی بڑھ گئی تھی اور ےہ سن سن کر‘ کہ ےہاں کی برفانی سردیاں تو ناقابل برداشت حد تک سرد ہوتی ہیں‘ بہت زیادہ متفکر تھی۔
”دیکھے ہیں لحاف آپ نے‘ جگہ جگہ سے روشن دان بن گئے ہیں….اوڑھو نہ اوڑھو ایک برابر…. دسمبر ہے کہ بھاگا چلا آرہا ہے…. اِن کا کچھ کرو جی ‘ان کا….“
اُن دنوں مری میں بنے بنائے لحاف نہیں ملتے تھے اور نہ ہی دھنیایا ایسا فرد ملتا جو ان کو ادھیڑ کر روئی نکالتا‘ اسے دھنکتا اور پھر لحاف بھر کر سی دیتا۔ پھر ہمارے پاس اتنے لحاف بھی نہ تھے جو اپنے اور مہمانوں کے لیے انہیں اِستعمال کرتے اور ےہ میں اس مقصد کے لیے پنڈی دے آتا۔
”لکڑےوں کا بندوبست کرو جی…. خشک لکڑیاں نہ ہوں گی تو ان ننھی جانوں کو سردی سے کیسے بچاﺅ گے؟…. دیکھو ساتھ والوں نے لوہے کی انگیٹھی بنوائی ہے‘ بارہ سو میں۔ اس کے اوپر پائپ لگوا کر روشن دان سے ایک سرا باہر نکال دیا ہے کہ دھواں کمرے میں نہ بھر جائے۔ میرے مانو تو ویسی ہی بنوالو کہ برفیلی راتوں میں لکڑیاں نہیں جلائیں گے تو کمرا گرم نہیں ہوگا….“
وہ ٹھیک کہتی تھی…. مگر بارہ سو روپئے!…. مہمانوں نے بجٹ اس قدر متاثر کر دیا تھا کہ انگیٹھی بنوانے کی تجویز کو میں نے سنا اَن سنا کر دیا۔ رات ایسی بے شمار تجاویز کے ساتھ شروع ہوتی۔ نتیجہ ےہ نکلتا کہ نہ میں اس کے بَد ن کے گداز پن کو محسوس کر سکتا‘ نہ وہ میرے بازو پر سر رَکھتی‘ نہ ہی میرے سینے کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی …. وہ بولتے بولتے تھک جاتی اور میں’ہاں‘’ہوں‘ کرتا رہتا۔ وہ غصے سے پہلو بَد ل کر سو جاتی اور میں دیر تک اس کے بَد ن کی جاگتی مہک سونگھتا سونگھتا بَد ن توڑ بیٹھتا…. پھر نہ جانے کب مجھے نیند آتی تو صبح ہونے تک رات کی ساری تجاویز اور باتیں بھول چکا ہوتا۔
ابھی پو نہ پھٹی ہوتی کہ میری آنکھ چڑےوں کی چہکار سے کھلتی۔ میں نے ایسی چڑیا میدانی علاقے میں نہ دیکھی تھی۔ لمبوترا سا بَد ن‘ دل کش رنگت‘ سر پر سیاہ کلغی‘ گردن گانی سے مزین‘ لمبی دُم‘ مٹکتی آنکھیں…. میری آنکھ کھلتی تو وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ میرے بستر پر ہی پھدک رہی ہوتی۔
”ےقینا انہیں بھوک لگی ہو گی…. راتیں بھی تو لمبی ہو رہی ہیں“
میں سوچتا اور اٹھ کر کچن سے ان کے لےے چوگا تیار کر کے کمرے میں ہی ایک طرف رکھ چھوڑتا۔ کچن کا ایک دروازہ صحن میں کھلتا تھا اور دوسرا اسی سونے والے کمرے میں…. اور میری بیگم اس پر گھر بنانے والے کو داد دیتی کہ ےوں وہ کچن میں رہتے ہوے بھی بچیوں اور گاہے گاہے مجھ پر نظر رکھ سکتی تھی۔ کچن کے دونوں دروازوں والی دیواریں جہاں چھت سے جا ملتیں‘ بالکل وہیں اس چڑیا نے ایک گھونسلا بنا رکھا تھا۔ ادھر میدانی علاقوں میں‘ میں نے ایسا گھونسلا بھی نہیں دیکھا۔ گندھی ہوئی مٹی‘ جو چڑیا اَپنی چونچ میں بھر کر لاتی رہی تھی‘ اس کے چھوٹے چھوٹے دانوں کو ایک ترتیب سے باہم چپکا کر‘ اس نے ایک مضبوط سا گھر چھت اور دیواروں کے سنگم پر بنا لیا تھا۔
ابھی صبح صادق کا وقت ہوتا اور ثوبیہ دونوں بچیوں کو بازوﺅں میں سمیٹے خواب کے مزے لے رہی ہوتی کہ چڑیااپنے ننھے منے بچوںکے ساتھ چوںچوں کرتے ہوے میرے سرہانے آبیٹھتی۔ میں مسکرا کر آنکھیں کھول دیتا۔ ےوں ےہ چڑیا میری محسن بھی تھی کہ جب سے میں اس گھر میں آیا تھا میری فجر کی ایک بھی نماز قضا نہ ہوئی تھی۔ ایک دن بھی میں نے سیر کا ناغہ نہ کیا تھا۔ فجر کی نماز اور صبح کی سیر اور وہ بھی مری جیسے پر فضا مَقام پر‘ ےہ وہ دو عوامل تھے کہ جن کے لےے میں اَپنی حیات کے عناصر منتشر ہونے تک مری میں رہ سکتا تھا۔
پھر ےوں ہوا کہ پتوں نے رنگ بَد لنے شروع کر دئےے۔ قرمزی‘ جامنی کلیجی‘ پیلے‘ سرخ…. غرض عجب عجب رنگ تھے جو ان پر آرہے تھے۔ جب ےہی رنگ شاخوں سے ٹوٹ کر قدموں تلے چر مر کرنے اور ےخ بستہ ہواﺅں کے سنگ اِدھر اُدھر ڈولنے لگے تو مہمانوں کی آمد میں بھی وقفے پڑنے شرو ع ہو گئے۔
اگرچہ اب وہ میرے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے نکل سکتی تھی‘ مال پر شاپنگ کر سکتی تھی‘ میری مصروفیات بھی کم ہو گئی تھیں اور میں اس کے لیے وقت نکال سکتا تھا۔ لہٰذا مزاجوں سے چڑچڑاپن نکل رہا تھا اور زِندگی معمول پر آرہی تھی۔ مگر برا ےہ ہوا کہ دونوں بچیاںےکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں….
اور ےہ اُس وقت ہوا‘ جب پہلی برف پڑ چکی تھی۔ برف پڑنے کا عمل بچیوں کے لیے بالکل نیا تھا۔ خود میں بھی مسحور ہو رہا تھا۔ ثوبیہ کی خُوِشی تو دیدنی تھی۔ وہ بچیوں کے ساتھ برف پر دوڑتی‘ ہنستی‘ ان کے پھسل پھسل کر گرنے پر قہقہے لگاتی ہوئی خود پھسلتی اور چیخیں مارتی۔ وہ اس قدر خُوِش تھی کہ خُوِشی اس کے سارے بَد ن سے چھلک رہی تھی۔ ہنستے ہنستے آنکھوں سے آنسو امنڈ آتے‘ بَد ن ہلکورے کھانے لگتا اور سرخ ناک رگڑ رگڑ کر مزید سرخ کر لیتی۔ اور مجھے ےوں لگ رہا تھا مری کا حسن ثوبیہ کے حسن کی آمیزش سے مکمل ہو گیا تھا…. مگر برا ہو‘ ےخ بستہ ہواﺅں کا کہ دونوں بچیاں ےکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں۔
اس سے پہلے کہ ثوبیہ پر پھر چڑچڑے پن کا دورہ پڑتا‘ میں لوہے کی انگیٹھی بنوا لایا۔ لکڑےوں کا بندوبست کیا‘ لحاف پنڈی سے بھروا لایا۔ مگر کمرا تھا کہ رات کے کسی پہرپھر بھی گرم ہونے کانام نہ لیتا تھا۔ بچیاں شروع ہی سے علیحدہ بستر پر سونے کی عادی تھیں مگر اب وہ بھی ہمارے بستر میں گھس آتی تھیں اور ےوں ہم پہلو بہ پہلو ایک دوسرے سے لپٹ کر سو جاتے اور رات بھر پہلو بَد لنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا کہ پہلو بَد لنے سے ےوں لگتا‘ جیسے برف کے ےخ بستر پر ننگا بَد ن دھر دیا ہو۔
ےہ وہ دن تھے جب کئی کئی فٹ برف پڑ چکی تھی۔ شاخساروں سے پتے ٹوٹ کر کب کے برف تلے دب چکے تھے۔ حدِ نظر تک دودھ جیسی سفیدی تھی۔ مکانوں کی ڈھلوان چھتوں پر‘ آنگنوں میں‘ پتھروں اور گھاس پر‘ درختوں کی ننگی شاخوں پر…. اور سارا منظر ےوں لگتا تھا‘ جیسے مر مر میں تراشا گیا ہو…. ایسے میں مجھے اس چڑیا اور اس کے بچوں پر رحم آرہا تھا جو مجھے اپنے گیتوں سے ہر سحر اسی طرح جگاتی آرہی تھی۔ حالاں کہ اس ٹھٹھرے ہوے ماحول سے ان کے ساتھ بھرا مار کر اڑنے والے سبھی پرندے ہجرت کر گئے تھے۔
بچیاں سارا سارا دِن کمرے کے اندر گھسے رہنے پر مجبور ہو گئیں۔ ثوبیہ انگیٹھی میں لکڑیاں ٹکڑے کر کے گھسیڑتی رہتی‘ پھکنی سے آگ دہکاتی اور بچیوں کو کھینچ کھینچ کر آگ کے پاس بٹھاتی رہتی۔ اگرچہ دھواں پائپ کے ذرےعے باہر پھینکنے کا بندوبست تھا مگر پھر بھی کمرے میں دھواں بھر جاتا اور اسے نکالنے کے لیے وہ دروازے کھول دیتی۔ ادھر کمرے سے دھواں نکلتا‘ ٹھنڈی مرطوب ہوائیں اندر آگھستیں۔ پھر انگیٹھی دہکتی اور کمرا گرم کیا جاتا۔
پھر یوں ہوا کہ مصروفیات کے اسی سلسلے میں سے ایک کالی صبح طلوع ہوگئی….
وہی کہ جسے میں ابھی تک بھلا نہیںسکا۔
مجھے مری چھوڑ دینا پڑی۔ نہ چھوڑتا تو راتوں کو ےوں ہی ہڑبڑا کر اٹھتا رہتا‘ سانس گھٹتی رہتی۔ وہ خواب مسلسل دیکھتا رہتا کہ مری نے برف کا سفید کفن لپیٹ رکھا ہے اور اس کفن میں ثوبیہ بچیوں کو بازوﺅں میں لپیٹے سو رہی ہے…. ےہ تھا وہ خواب‘ جو اس کالی صبح کے بعدآنے والی کئی راتوں کو میں نے مسلسل دیکھا تھا‘ ہڑبڑا کر اٹھا تھا اور سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس کی تھیں…. اور پھر…. اس سے چھٹکارپانے کے لےے مری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس کالی صبح کو میں حسب معمول بہت پہلے جاگ چکا تھا۔ چڑیا اپنے بچوں کے ساتھ چوگا چگ کر اپنے گھونسلے میں جا چکی تھی اور مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ ثوبیہ کیوں نہیں اٹھ رہی؟ جب بچیاں بھی اٹھ گئیں اور ننھّی مُنّی ناکوں کو رگڑ رگڑ کر انہیں سرخ تر کرنے لگیں تو ثوبیہ نے پہلو بَد لا۔ کہنے لگی:
”میرا بَد ن ٹوٹ رہا ہے….“
میں نے تشویش سے اسے چھوا‘ جسم بخار میں تپ رہا تھا…. کہا:
”تمہیں تو بخار ہے….“
وہ اٹھ کھڑی ہوئی‘ کپڑے دُرُست کئے‘ دوپٹے سے ناک کو رگڑتے ہوے شوں شڑاک کی آواز نکالی اور کہنے لگی:
”بس معمولی سا ہے‘ اللہ کرے بچیاں ٹھیک ہو جائیں“
جب میں ناشتہ کر چکا اور دفتر جانے کے لیے باہر نکل کھڑا ہوا تو وہ دوڑتے دوڑتے میرے پیچھے آئی‘ میں رکا‘ پلٹ کر پوچھا:
”خیریت تو ہے نا؟“
کہنے لگی:
”وہ کچن کے صحن والا دروازہ ہے نا‘ اس کے اوپر والے روشندان کا ایک شیشہ‘ جب سے ہم آئے ہیں‘ ٹوٹا ہوا ہے۔ پہلے تو خیریت رہی مگر اب رات بھر ایسی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں کہ کمرا ٹھنڈا ٹھار ہو جاتا ہے۔ آج ہو سکے تو وہاں شیشہ لگوا دیں….“
میں نے اس کی جانب دیکھا‘ بخار سے اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔
”کیوں نہیں‘ کیوں نہیں‘ شیشہ آج ہی لگ جائے گا….“
میں نے اس کے چہرے کو انگلی کی پوروں سے چھوتے ہوے کہا اور آگے بڑھ گیا۔
اگلی صبح مری کی وہ پہلی صبح تھی جب میں فجر کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکا تھا۔ پھر جب میں ہڑبڑا کر اٹھا تو صبح کا اجالا کمرے کے اندر کونے کھدروں تک گھس آیا تھا۔ میں جلدی سے بستر سے نیچے اترا۔ ثوبیہ بچیوں کو بازوﺅں میں لیے ویسے ہی سوئی ہوئی تھی۔ اِدھر اُدھر دیکھا چڑیا اور اس کے بچے نظر نہ آرہے تھے۔
”خدا کرے سب ٹھیک ہو“
میں بڑبڑاتا لپک کر کچن تک گیا۔ گھونسلے سے بھی کوئی آواز نہ آرہی تھی۔ دفعتاً نگاہ اس روشن دان پر پڑی جس میں کل ہی نیا شیشہ لگوایا گیا تھا۔ اس پر باہر کی جانب برف کے گالے جمے ہوے تھے۔ دل زور زور سے دھڑک اٹھا کچن کا دروازہ کھول کر جَھٹ باہر نکلا۔ مری سفید دوشالہ اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔ نظریں پھسلتے پھسلتے کچن کی دہلیز کے پاس ابھری ہوئی سطح پر ٹھہر گئیں۔ میں وہیں دوزانوں بیٹھ گیا اور انگلیوں سے برف کی ڈھیری کھرچنے لگا …. اور جب میں برف کھرچ چکا تو مجھے لگا‘ مری نے دوشالہ نہیں سفید کفن لپیٹ رکھا تھا اسی کفن میں چڑیا کے پر کھلے ہوے تھے اور دو ننھے منے بچے اس کے پروں تلے دبے کب کے اَپنی ماں کی طرح زِندگی کی سانسیں ہار چکے تھے۔
میرا سر گھومنے لگا۔ وہی انگلی کہ جس سے اگلی صبح میں نے ثوبیہ کے تپتے چہرے کو چھوا تھا اور جس سے ابھی ابھی برف تلے سے تین بے جان لاشوں کو برآمد کیا تھا‘ میرے چھاتی میں گھسی چلی جاتی تھی…. اندر بہت ہی اندر…. میں تیزی سی کمرے میں بھاگا۔ ثوبیہ اسی طرح بچیوں کو بازوﺅں میں لیے سو رہی تھی ….اور…. جب میں اسے دےوانہ وار زور زور سے جھنجھوڑ رہا تھا تو میری آنکھیں ابل پڑی تھیں اور حلق ہچکیوں سے بھر گیا تھا۔

to read in English

The Nest of Snow

FB_IMG_1429409451789



کچھ اس افسانے کے باب میں

توصیف تبسم
توصیف تبسم

برف کا گھونسلا:حقیقت نگاری اور علامت ایک ساتھ
’’برف کا گھونسلا‘‘محمد حمید شاہد کے پہلے مجموعے ’’بند آنکھوں سے پرے‘‘ کی پہلی کہانی ہے ۔ یہ کہانی ’’ ایکسٹرا‘‘ کے نام سے ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹررشید امجد کے۱۹۹۴ء میں مرتب کیے ہوئے انتخاب ’’پاکستانی ادب ‘‘ میں چھپی تھی ۔ تاہم اِس کی تخلیق کا لگ بھگ وہی زمانہ بنتا ہے جب افغانستان میں روس کی پسپائی ہوئی اور امریکہ نے اپنے اتحادی پاکستان کی طرف سے نہ صرف آنکھیں پھیر لی تھیں بل کہ اس کی امداد بھی بند کر دی تھی۔’’برف کا گھونسلا‘‘ پرندوں اور انسانوں پر مشتمل دو کنبوں کی کہانی ہے جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن ان کی تقدیریں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس کہانی میں بظاہر محمد حمید شاہد نے حقیقت نگاری سے کام لیتے ہوئے متن کو تشکیل دیا ہے مگر کہانی ایک سے زیادہ سطحوں پر علامت بن جاتی ہے ۔ یہ کہانی مراعات یافتہ اور مظلوم طبقوں کو ایک تمثیلی انداز میں بھی پیش کرتی ہے اور پورے ایک طبقے کو ایکسٹرا کی صورت استعمال کرنے اور وقت نکل جانے کے بعد بہلاوے کے اس سامان کو یک سر بھلا دینے والے مکروہ کھیل کو بھی نہایت سفاکی سے سامنے لاتی ہے۔ چڑیا اور اس کے بچوں پر جو گزرتی ہے وہ بہت سے انسانی خاندانوں پر بھی بیتتی رہتی ہے۔ کہانی کادرد ناک انجام قاری کو ہلاکررکھ دیتا ہے۔ بظاہر چڑیا کی موت کوئی بڑا سانحہ نہیں مگر افسانہ نگار اس سے گہرا تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔یہ کہانی بہ حیثیت فن کار ان کے باکمال ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔

محمد حمید شاہد کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ‘ دنیا سے متعلق ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا ہی نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے‘ یعنی ہم محض بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ نئی یافت سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں۔ بقول مبین مرزا فکشن محمد حمید شاہد کا مشغلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ فن سے سچی اور کھری وابستگی نے افسانہ نگار کو ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جہاں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی مل کر ایک ہو گئی ہیں ۔ انسانی زندگی کاا لمیہ ہویا سیاسی وسماجی حالات کا دھارا‘ محبت کے کومل جذبے ہوں یا رشتوں کی مہک‘ ریاستی گروہی جبر ہو یا عالمی دہشت گردی یا پھر تہذیبی حوالوں کو نگلتی بازاری ثقافت ‘محمد حمید شاہد کا قلم یکساں روانی اور تخلیقی وقار کے ساتھ سب کو سمیٹتا چلا جاتا ہے۔
فن کار کا ایک منصب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ کرے۔ محمدحمیدشاہد نے اپنے بیانیے کو ایک سے زائد سطحوں پر یوں متحرک کرلیا ہے کہ وہ مطلق طور پر انسانی آہنگ میں ڈھل گیا ہے۔ اسی لیے تو احمد ندیم قاسمی کو کہنا پڑا کہ” محمد حمید شاہد کے افسانوں کا ایک ایک کردار ‘ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔“ خود شعوریت سے جہاں افسانہ نگار نے متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری کی ہے وہاں انہوں نے اپنے افسانوں کو ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ بھی سجھا دی ہے ۔ محمد حمید شاہد کے ہاں نوحقیقت پسندی کے حوالے سے عمدہ مثال بن جانے والے افسانوں میں” برف کا گھونسلا“ ” برشور“ ” لوتھتکلے کا گھاﺅ“ ” ملبا سانس لیتا ہے“ ” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ”جنم جہنم“”چٹاکا شاخ اشتہا کا“ ” آدمی کا بکھراﺅ“ ”پارہ دوز“ اور ” مرگ زار“ جیسے افسانے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بقول ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی دراصل زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے جسے جدیدیت پسندوں کی نافہمی اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کر دیا تھا۔ محمد حمید شاہد کےافسانے سورگ میں سور“”گانٹھ “ اور مرگ زار“  پاکستان اور اردو ادب کے شاہکار تسلیم کیے جائیں گے

ڈاکٹر توصیف تبسم


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

وَاپسی|محمد حمید شاہد

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔ حالاں کہ اُس …

40 comments

  1. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » بند آنکھوں سے پرےM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » ڈاکٹر توصیف تبسم|اثباتM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  35. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  36. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  37. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  38. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  39. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  40. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *