M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / میرا تخلیقی عمل|محمد حمید شاہد

میرا تخلیقی عمل|محمد حمید شاہد

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2015-09-01&edition=LHR&id=1868704_48306162
http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2015-09-01&edition=LHR&id=1868704_48306162

وقت ایک سے تناؤ میں رہتا ہے نہ وجود کے سارے مراتب، اورغالبا یہی وجہ ہوتی ہو گی کہ میرے ہاں تخلیقی عمل کی برقی رومسلسل نہیں ہوتی اس میں رخنے پڑتے رہتے ہیں ۔میں تخلیقی عمل کے اس برقی دھارے کے غیر مسلسل بہاؤ کی بابت اندازے قائم تو کرسکتا ہوں کوئی عقلی توجیہہ نہیں کر پاتا ۔ سچ یہ ہے کہ میں ایسا ضروری بھی نہیں سمجھتا ۔ حقیقتِ کُلی ہو یا تخلیقیت کا بھید دونوں عقلِ محض کا علاقہ نہیں ہیں ان دونوں منطقوں میں عقل کو وجدان اور روح کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔عقل ہمارے روزمرہ کے تجربوں کو زندگی کے عمومی حوالوں سے دیکھتی اور پرکھتی ہے جب کہ وجدان کا معاملہ تخصیصی ہے ۔ عقل کی پیش رفت نزولی اور وجدان کی عروجی ہے ۔ اور اس کا غالبا سبب یہ ہے کہ عقل کو دلیل اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ وجدان ‘علم کا حسی ‘سریع اور براہ راست وسیلہ ہے ۔
جس زمانے میں لاشعور مجھے اپنے ہونے کا احساس دلانے لگا تھا اور وجدان کے اشاروں پرمیرے شعوری فیصلے معطل ہونے لگے تھے‘ یہ وہ زمانہ بنتا ہے جب جدید افسانے کی ڈفلی بڑے زور زور سے بجانے والے ہونکنے لگے تھے مگر لطف کی بات دیکھیے کہ تب تک مجھے اُن کا ہونکنا کَھلتا نہ تھا کہ میں بہر حال ان ( اپنے آپ کو دہرانے والوں) کے ہاں ہی ایسے افسانوں کو پڑھ چکا تھا جن میں اسلوب اور معنیاتی سطح پر ایسی تہہ داری موجود تھی ‘جو گرفت میں لیتی تھی اورعلامتیں‘ ٹکڑوں میں ہی سہی ‘اپنا ایک نظام وضح کرتی تھیں۔
اب یوں نہ اندازے لگا بیٹھیے گاکہ میں نے ٹکڑوں میں علامت کا ذکر کیا تومجھے تجرید کے تجربے سے التباس ہوا۔ معاملہ یہ ہے صاحب کہ اس سارے عرصے میں تجریدی افسانہ تو سونگھنے کو بھی نہیں ملتا تھا‘ ہاں اس کی تنقیدی ہنڈیا اس وقت کے ہر ناقد کے ہاں چڑھی ضرور مگر ہونی پر کس کا یارا ‘ کہ ہر بار عین چوراہے میں ٹوٹی ۔ خیر مجھے اُس عہد کے افسانے پر گرفت نہیں کرنی کہ میں تو اپنے اندر مچنے والے تخلیقی بھانبھڑ میں اس عہد کے ایندھن کو تلاش کر رہا ہوں اور صاحب مجھے اعتراف کرلینے دیجیے کہ میں کہانی کو باطنی سطح پر برتنے کی طرف راغب اسی عہد کے وسیلے سے ہوا۔ تاہم طرفہ تماشہ دیکھئے کہ جب میں علامت کو کہانی کی نامیاتی وحدت بنالینے کی طرف راغب ہو گیا تھا ‘ بیانیہ کہانی کو حقارت سے دیکھنے والے اسی روایتی کہانی کے پلٹ آنے کی وعید/نوید (فیصلہ آپ خود فرمالیں) سنانے لگے تھے ۔
شاید یہی وہ دورانیہ بنتا ہے جب میں تخلیقی عمل کے لیے بھیڑ چال اور تحریکوں کو زہر قاتل سمجھنے لگا تھا ۔ میرے سامنے ترقی پسندوں کی مثال بھی تھی اور ان کے رد عمل میں خارج سے مکمل طور پر کٹ کر باطن گزین ہونے والے علامتیوں کی بھی ۔ یہ دونوں گروہ اوران سے پہلے گزر چکے بھی‘ میرے ہاں روایت کے شعور میں خوب کانٹ پھانس کر چکے تھے اور مجھے یہ بھی بتا چکے تھے کہ تخلیق کا ایک عنصر بغاوت ہوتا ہے اور اس بغاوت کا وار تخلیق کار کے ہاں اندر اور باہر دونوں رخ پر ہو سکتا ہے اور یہ کہ بطون میں سمٹنے یا سماج کی اور لپکنے والی اس بغاوت کاتخلیقی عمل سے تعلق کسی منصوبہ بندی کے تحت قطعا نہیں ہوتا۔ حتی کہ میں فیصلہ کر لیتا ہوں کہ مجھے تخلیق کے کازار میں اکیلے ہی اترنا ہوگا۔
اب اگر میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو صاف صاف دِکھتا ہے کہ تخلیق کار کی حیثیت سے میں جہاں جہاں اور جتناجتنا اکیلا ہوتا چلا گیااتنا ہی میرے ہاں تخلیق ہونے والا فن پارہ عمومیت سے بچتا چلا گیا ۔ اِسی تجربے کی اَساس پر میں فیصلہ دے سکتا ہوں کہ تخلیقی عمل میں کسی سہارے اور مرعوبیت کے بغیر آگے بڑھنے سے فن کارکے ہاں اس کا اپنا وجدان اور اس کی اپنی روح جی اٹھتی ہے جو اسے عمومیت سے بچالیتی ہے ۔
میرا خیال ہے کہ چند جملوں کی تکرار ‘ مخصوص زمانے سے اٹھائے ہوئے کرداروں اور شعری وسائل کے استعمال سے فضا بندی کے خارجی وسیلوں یا پھر کچھ علامتوں سے مسلسل وابستگی کو اسلوب نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ایسا کرنے والے دراصل تخلیقی جوہر کی کمی کے عارضے کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے اس اسلوبیاتی ناغول میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔
اسلوب دراصل عصریت اور مابعد عصریت طبعیات اور مابعد طبعیات‘ رواں اور ہمیشگی اور اسی طرح زمان اور لازمانیت کی امتزاجی شرح سے متشکل ہونے والی شخصیت کا لازمی تخلیقی آہنگ ہوتا ہے جو فن پارے کے خارج میں نشان قائم کرنے کے بجائے اس کے داخل سے نور کی طرح پھوٹتا ہے ۔
مجھے اجازت دیجئے کہ اُس فضا سے ‘جو تخلیقی عمل کے دوران مجھ پر تنی رہتی ہے ان متنی امکانات کی طرف بڑھوں جن سے میں روبرو ہوتا رہتا ہوں۔ تو اس باب میں‘ میرا پہلا پڑاؤ لفظ کے ہاں ہوتا ہے ۔ اپنے روزمرہ اور مسلسل استعمال سے الفاظ اعداد کی سطح پر اتر آتے ہیں ۔ تخلیقی عمل کے دوران میرے ہاں متشکل ہونے والے معنیاتی اور جمالیاتی ساختیوں میں ایسے عددی الفاظ خود بخود پسپا ہوتے رہتے ہیں اور غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے لفظ کوایک زندہ اور مہذب انسانی وجود کی طرح جانا ہے ۔ مجھے اپنی بات کے الجھنے کا خدشہ ہو چلا ہے لہذا وضاحت کر نے کے لیے مجھے اوپر تلے تین لکیریں کھینچ لینے دیجئے سب سے اوپر والی لکیر کو میں روح کا نام دیتا ہوں ‘ سب سے نیچے والی کو نفس اور وسطی لکیر پر میں نے جسم لکھ لیا ہے ۔ ان تینوں لکیروں کو قوسین میں رکھ کر مساوی کا نشان ڈالتے ہوئے سامنے لکھتا ہوں ’’لفظ‘‘ ۔ جی ہاں ان تینوں کا مجموعہ آدمی بھی ہے اور ان تینوں کا حاصل جمع لفظ بھی ۔ تخلیقی عمل کے دوران جہاں جہاں لفظوں کو اپنے مخصوص معنی یعنی عددی سطح پر رہنا ہوتا ہے وہاں وہاں وسطی اور زیریں لکیریں مل جاتی ہیں اور جہاں اسے جمالیاتی ساختیہ بناناہوں وہاں وسطی لکیر ‘بالائی لکیر سے جا ملتی ہے۔ میرے ہاں یہ تینوں ‘الگ الگ نہیں ایک دوسری سے اتنی مربوط ہیں کہ تخلیقی برقی رو ان تینوں ہی کے اندر ایک ساتھ بہتی رہتی ہے ۔
اس طرز عمل کے سبب جملے کی ساخت میں وہ امیجز بیدار ہو نے لگتے ہیں جوا لفاظ کو اعداد کی سطح پر گرنے اور کلیشے ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ لفظ سے تخلیقی جملے کی طرف ہم خود بخود آگئے ہیں ۔ میں اپنے تخلیقی عمل کے دوران اکہرے یعنی اُتھلے اور مہمل یعنی معنیاتی حوالے سے بانجھ‘ دونوں قسم کے جملوں سے ‘ خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی جملہ اپنی تخلیقی کل سے جڑ کر ہی معنیاتی یا جمالیاتی ساختیہ بنا پاتا ہے ۔
میں تخلیقی ریزوں کو الگ الگ نہیں بلکہ پورے تخلیقی تجربے کو ایک نامیاتی وحدت میں دیکھنے کی طرف مائل رہتا ہوں۔ اور یہ جومجھے عادت سی ہو چلی ہے کہ جب تک افسانہ مجھے اپنے پورے وجود کی چھب دکھا نہ دے میں اسے لکھنے بیٹھ نہیں سکتا تو اس کے پیچھے بھی غالبا طبع کا یہی مِیلان ہے ۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے پورے افسانے کو اپنے اندر بننے دیتا ہوں ‘ اپنی جزئیات سمیت‘ اور پھر اسے کاغذ پر منتقل کرتا ہوں تو اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ لکھتے ہوئے کہانی عین مین وہی رہتی ہے جیسی اس نے پہلے چھب دکھائی تھی ۔ میرے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کہانی جوں جوں آگے بڑھتی توں توں نئی وسعتوں اور نئے نئے امکانات کے دریچے اس پر خود بخود کُھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اور جب افسانہ مکمل ہوتا ہے تو اپنی کل میں اتنا نیا اور مختلف ہوتا ہے کہ خود مجھ پر حیرتیں ٹوٹ برستی ہیں ۔

http://e.dunya.com.pk/

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *