M. Hameed Shahid
Home / افسانے / شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہد

شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہد

shakh e ishteha

اِسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ  بعض کَہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگروہ اِن ہی جیسی کسی کَہانی کو پالینے کے لیے ماضی کی دُھول میں دَفن ہو جانے والے قِصّوں کو کھوجنے میں جُتا رہتا ہے۔ تو یُوں ہے کہ جِن دِنوں مجھے پُرانی کَہانیوں کا ہَوکا لگا ہوا تھا ‘ مارکیز کا ننھّا مُنَا نیا ناول میرے ہاتھ لگ گیا ۔ پہلی بار نہیں ‘دوسری بار۔ اگرمیرے سامنے مارکیز کا یہ مختصر ناول دُوسری بار نہ آتا تو شاید میں اَپنے پاس مکر مار کر پڑی ہوئی اِس جنس میں لتھڑی ہوئی کَہانی کو یوں لکھنے نہ بیٹھ گیا ہوتا ۔
مارکیز کے ناول کودُوسری بار پڑھنے سے میری مراد میمن کے اس اُردو ترجمے سے ہے جومجھے ترجمے کا معیار آنکنے کے لیے موصول ہوا تھا۔ یہ وہی ناول ہے جس کی خبر آنے کے بعد میںانگریزی کتابوں کی دکانوں کے کئی پھیرے لگا آیا تھا ۔ پھر جوں ہی اِس کتاب کا انگریزی نسخہ دستیاب ہواتو میں نے اسے ایک ہی ہلّے میں پڑھ ڈالا تھا۔ میں نے اَپنے تئیں اِس ناول کو پڑھ کر جو نتیجہ نکالا وہ مُصنِّف کے حق میں جاتا تھا نہ اس کتاب کے حق میں ۔ خدا لگتی کہوں گا میرا فیصلہ تھا ایک بڑے لکھنے والے نے بُڑھاپے میں جنس کے سستے وسیلے سے اس ننھّی مُنّی کتاب میں جھک ماری تھی ۔
ممکن ہے یہی سبب ہو کہ جب میمن کا ” اَپنی بیسواﺅں کی یادیں“ کے عنوان سے چھپا ہوا ترجمہ ملا تو میں خود کو اُسے فوری طور پر پڑھنے کے لیے تیار نہ کر پایااورپیپر بیک میں چھپا یہ مختصر سا ناول کہیں رَکھ کر بھول گیا۔ گزشتہ دِنوں کسی اور کتاب کی تلاش میں‘جب کہ میں بہت زِیادہ اُکتا چکا تھا‘ یہ ناول اچانک سامنے آگیا ۔ میں نے اَپنی مطلوبہ کتاب کی تلاش کو معطل کرکے اُکتاہٹ کو پَرے دَھکیلنا چاہا ۔ اِسی ناول کو تھامے تھامے اَپنے بیڈ تک پہنچا‘ جِسم کو پشت کے بَل بستر پر دَھپ سے گِرنے دِیا اور اسے یوں ہی یہاں وہاں سے دیکھنے لگا۔ جب میری نگاہ مارکیز کے ہاں بے باکی سے دَر آنے والے اُن ننگے لفظوں پرپڑی جنہیں مترجم نے ایسے دلچسپ الفاظ میں ڈھال لیا تھا جو فوری طور پر فحش نہیں لگتے تھے ‘ تو میں نے ناول کو ڈَھنگ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ناول کو اِس طرح پڑھنے کے دو غیر متوقع نتائج نکلے ۔ ایک یہ کہ میں جسے مارکیز کی کھاتے میں جھک مارنا سمجھ بیٹھا تھااُس میں سے میرے لیے معنی کی ایک مختلف جہت نکل آئی اور دوسرا یہ کہ مجھے اپنا کنّی کاٹ کرنِکل جانے اور پھر بھول جانے والا ایک کردارشکیل رہ رہ کر یاد آنے لگا۔ ایک ناول جس کے مرکزی کردار نے اَپنی نوے وِیں سالگرہ کی رات ایک باکرہ کے ساتھ گزارنے کا اہتمام کیا ‘ میرے لیے اِس میں سے زِندگی کے کیا معنی برآمد ہوئے‘ میں ٹھیک ٹھیک بتانے سے قاصر ہوں ۔ ہاں اتنا کَہ سکتا ہوں کہ بارِ دِگر پڑھنے پر نہ صرف اِس ناول کا جنس کا رَسیا مرکزی کردار میرے لیے ایک سطح پر قابلِ اِعتنا ہوا‘ میں اپنے ایک متروک کردار شکیل کے بارے میں بھی ڈَھنگ سے سوچنے پر مجبور ہوا…. اور یہ کوئی کم اَہم بات نہیں تھی۔
شکیل اور مارکیز کے ناول کے مرکزی کردار میں کوئی خاص مشابہت نہیں ہے ۔ بتا چکا ہوں کہ وہ نوّے برس کا ہے جب کہ میرا شکیل بھر پور جوانی لیے ہوے ہے ۔ وہ مردِ مجرد اَپنی مثالی بَدصورتی کی وجہ سے خاکہ اُڑانے والوں کا مرغوب ‘جب کہ جس شکیل کی میں بات کررہا ہوں وہ محض نام کا شکیل نہیں ہے اور یہ شادی شدہ اور بال بچے دار ہے ۔ تاہم ایک بات دونوں میں مشترک ہے کہ دونوں جنس زَدہ ہیں اور شکیل تو اِسی جنس زدگی کی وجہ سے دوستوں میں تضحیک کا سامان ہو گیا ہے ۔ ایک مُدّت کے بعدشکیل جیسے کردار کی طرف لوٹنے کا سبب مارکیز کے ناول کے بوڑھے کی وہ جنسی خر مستیاں ہیں جنہیں ناول میں بہت سہولت سے لکھ لیا گیا ہے؛ مگر ہمارے ہاں ایسی حرکتوں کو لکھنا چوں کہ فحاشی کے زمرہ میں آتا ہے؛ لہذا مجھے شکیل کو لکھنے کے لیے بار بار مارکیز کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ہاں تو میں مارکیز کے بوڑھے کی خر مستیوں کا ذِکر کر رہا تھااور بتانا چاہ رہا تھا کہ اس بوڑھے کی ہوس کارِیوں کے باب میںجہاں اس کی اُجڈ لارنڈھی والی ملازمہ کا ذِکر آتا ہے ‘ وہی عقب سے جانے کا‘ وہیں مجھے اس وقت کے شکیل کا ‘اس کریانہ اسٹور کے مالک کا شکار بننا یادآیا جس کے پاس اس شہر میں آکر وہ پہلے پہل ملازم ہوا تھا۔ جہاں ناول کے مرکزی کردار نے اَپنے پچاس سال کی عمر کو پہنچنے پراُن پانچ سو چودہ عورتوں کا ذِکر کیا ہے جن سے اُس کا جنسی تعلق قائم ہوا ‘اور اِس گنتی میں وہ بعدازاں مسلسل اِضافہ کیے جارہا تھا‘ تو میرے دھیان میں شکیل کی زِندگی میں آنے والی وہ چٹ پٹی لڑکیاں آگئیں جن کی وجہ سے وہ شہر بھر میں جنسی بلے کے طور پر مشہور ہو ا۔ تاہم جس لڑکی کی وجہ سے شکیل کو نظروں سے گرا ہوا اور بعد میں اُسے شہر چھوڑتے ہوے دِکھایا جانا ہے وہ بہ ظاہران چٹ پٹی لڑکیوں جیسی نہ تھی ۔
اوہ ٹھہرے صاحب ! مارکیز کے بوڑھے بَد صورت کردار طرح قابلِ قبول ہوجانے والے جواں سال شکیل کی کَہانی کو یوں شروع نہیں ہوناچاہیے ‘جیساکہ میں اِسے آغاز دے چکا ہوں ۔ اس کردار کو عجلت میں یا یہاں وہاں سے ٹکڑوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اِسے ڈھنگ سے لکھنے سے پہلے مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو میں اَپنی اِس خفت سے آگاہ کرتا چلوں جو مجھے کسی جنس مارے آدمی سے مل کر اور اُس کی لذّت میں لتھڑی ہوئی باتیں سن کر لاحق ہو جایا کرتی ہے۔ اِسی خفت کا شاخسانہ ہے کہ مجھے اَپنا حوالہ جنس مارے کرداروں سے بھی کَھلنے لگتاہے ۔ شکیل جیسا کِردار میری دَست رَس میں رہا مگر اِسی خفت نے ہمارے دَرمیان بہت سے رَخنے رَکھ دِیئے تھے۔ حتی کہ میں نے یہ بھی بھلا دیا کہ شروع میں یہ کردار ایسا نہ تھا۔ یہ تو بہت بعد میں ہوا تھا کہ وہ نہ صرف لوگوں کی تضحیک کا سامان بنا میری نظروں سے بھی گر گیا تھا ۔ لیجئے اَب مارکیز کے بوڑھے نے مجھے بہلا پھسلا کر اس مردود کَہانی کے قریب کر ہی دیا ہے تو میں اسے شکیل سے اَپنی پہلی ملاقات سے شروع کرناچاہوں گا۔
شکیل سے میری پہلی ملاقات کسی تقریب میں ہوئی تھی۔ وہ وہاں دوسرے شاعروں کی طرح اَپنی غزل سنانے آیا تھا۔ صاف اور گورا رَنگ جو ناک کی پُھنگی ‘ کانوں کی لوﺅں اور چمک لیے نرم نرم گالوں سے قدرے شہابی ہوگیا تھا۔ مجھے اس کا ٹھہر ٹھہر کر شعر پڑھنا اور پڑھے ہوے مصرعے کو ایک اَداسے دُہرانا اَچھا لگا تھا۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ پہاڑیا ہے تو اور بھی اَچھا لگا کہ وہ اس کے باوجود نہ صرف ہر مصرع میں ٹھیک ٹھیک لفظ باندھنے کا اہتمام کر لایا تھا ان کی ادائیگی میں بھی کوئی غلطی نہیں کررَہا تھا۔ جو غزل اُس نے وہاں سنائی اس نے خوب سلیقے سے کہی تھی ۔ اس کی فنی مہارت کا میں یوں قائل ہو گیا تھا کہ ساری غزل ایک روندی ہوئی بحر میں مگر بہت عمدگی سے کہی گئی تھی۔ ا س میں ایک دو غیر شاعرانہ اور کھدرے لفظوں کو اِتنا ملائم بنا کر رَواں مصروں میں پیوست کردِیا گیا تھا کہ اَب وہ غزل کے ہی الفاظ لگتے تھے۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ وہ لگ بھگ ہر شعر کے مصرع اُولی میں اَپنے خیال کی کچھ اِس طرح تجسیم کررہا تھا کہ ہر بار لہجہ کے نئے پن کا اِحساس ہوتا اور ایک ایسامُقدِمہ بھی بنتا تھا جس کی طرف سننے والے کا متوجہ ہونا لازم ہو جاتا۔
جب وہ شعر مکمل کرکے سانس لیتا تو بات بھی مکمل ہو جاتی۔
ذَرا گماں باندھیے کہ ایک نوخیز شاعر ہے۔ آپ اُس سے بالکل نئے لہجے کی غزل سُن رہے ہیں۔ ایک ایسا لہجہ‘ جس میں عصرِ موجود کا تناظر اُس کی اَپنی لفظیات کے ساتھ سامنے آرہا ہے۔ اس غزل میں اِس کا اِہتمام بھی ہے کہ کوئی لفظ فن پارے کے مجموعی مزاج میں اَجنبی نہیں لگتا۔ سلیقہ ایسا کہ ہر لفظ کی اَدائیگی کا مخرج ضرورت ِشعری کی وجہ سے کہیں بھی بَد لا نہیں گیا۔ ہرلفظ ٹھیک اَپنی نشست پر‘اور وہ بھی یوں کہ ایک لفظ کی صوتیات اَگلے لفظ کوٹہوکا دینے کی بہ جائے اس میں سما کر اُس کی اَپنی صوتیات میں منقلب ہو جاتیں ۔ سچ پوچھیے تو ایسی باریکی سے غزل کہنے والے کا گمان ہی باندھا جاسکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ میرے سامنے تھا اور پورے قرینے سے غزل کَہ رہا تھا۔
لہذا میں اس کے قریب ہو گیا۔ اتنا قریب کہ ہم دونوں کے درمیان سے سارا حجاب اُٹھ گیا۔
جب وہ اسی شہر میں رہ کرخُوب خُوب دَاد‘ بے پناہ حسد اور بہت ساری نفرت اور تضحیک سمیٹ چکا تو بھی میں اُس کے قریب رہا۔ پہلے پہل شکیل کے بارے میں شہر کے شاعروں نے یہ شوشا چھوڑا ‘ ہونہ ہو اُسے کوئی لکھ کر دِیتا ہے۔ جب لوگ تجسس سے پوچھنے لگے کہ وہ کون ہے جو اُسے لکھ کر دِیتا ہوگا تو ایک ایسے بزرگ شاعر کا نام چلا دِیا گیاجو کہنے کو شعر خوب سلیقے سے کہتے اور عادت ایسی پائی تھی کہ خُوِش شکل لونڈوں میں اُٹھنے بیٹھنے کو اِس گئے گزرے زمانے میں بھی چلن کیے ہوے تھے ۔ کسی کو ایسی باتوں پریوں یقین نہیں آرہا تھاکہ وہ حضرت زُبان کے روایتی اِستعمال تک محدود رہتے تھے اور اچھا اور پکا مصرعہ کہنے کے باوجود خیال کو نیا بنالینے پر قادر نہ تھے ۔ ایسا کیوں کر ہو سکتا تھا کہ کوئی خود تو فنی طور پر بے عیب مگر بوسیدگی کا اِحساس جگانے والا مصرعہ کہنے کو وتیرہ کیے ہو اور اَپنے لونڈے کو حرفِ تازہ سے فیض یاب کرے۔ جب شکیل ایک سے بڑھ کر ایک تازہ غزل لا نے لگا تو اُس کے خلاف فضا باندھنے والوں کی جیبھیں خود بخود اَپنے اَپنے تالو سے بندھ گئیں ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اُس نے اَپنے جیسے شاعروں سے آگے نکل کر حاسدین کا گروہ پیدا کر لیا تھا۔ جو لوگ شعر میں اُسے مات نہیں دِے سکتے تھے ‘ اُس کی شخصی کمزوریوں کو اُچھال کر تسکین پاتے تھے ۔
مجھے شکیل سے یہ شکایت تھی کہ آخر وہ اِس باب میں اُنہیں خُوب خُوب مسالا کیوں فراہم کر رہا تھا۔ وہ میری بات سنتا اور ڈِھٹائی سے ہنسی میں اُڑا دِیتا تھا۔
وہ بارہ کہو سے پَرے پہاڑوں کے اُدھر جس گاﺅں سے آیا تھا‘ اُس کانام تنگ گلی تھا جو بول چال میں مختصر ہو کرتنگلی ہو گیا تھا۔ جب و ہاںاُس نے دَس جماعتیں پڑھ لیں تو آگے کرنے کو کچھ نہ تھا۔ اُس کے باپ کے پاس جو تھوڑی سی موروثی زمین تھی‘ اُسے گزشتہ سال کی مسلسل بارشوں میں لینڈ سلائیڈ کھا گئی تھی۔ میٹرک کر لینے کے بعد اُس کے لیے دو ہی راستے تھے ۔ باپ کی طرح مری چلا جائے اور وہاں سیزن کھلنے پر ہوٹلوں میں بیرا گیری کرے یا اِدھر شہر میں کسی دکان پر سیلز مین ہوجائے ‘جیسا کہ اس کے گاﺅں کے کئی اور لڑکوں نے کیا تھا۔ اُس نے دوسرا راستہ اختیار کیا ۔ تنگلی کا ایک شخص دِل محمد ادھر شہر میں ایک کریانے کے اسٹور پر ملازم تھا۔ وہ بقرعید پر گاﺅں آیا تو شکیل کے باپ نے اُس سے بات کی ۔ اس نے فوری طور پرتواسے یہ کَہ کر مایوس کردیا کہ وہاں شہر میںکام کرنے کے خواہش مند لڑکے ہرروز آتے رہتے تھے جو کم اُجرت پر کام کرنے کو تیار ہو جاتے لہذا شکیل کو وہاں بھیجنا‘ لڑکے کو ایک لحاظ سے ضائع کرنا ہی ہوگا۔ اُس کے باپ نے دِل محمد کی نصیحت کو محض ٹالنے کا بہانہ سمجھا۔ وہ اَپنے مالک کو بڑاخسیس اور گھٹیا کَہ رہا تھا جوکم اُجرت دِیتا اور کام زِیادہ لیتا تھا۔ یہ سب کچھ درُست ہو سکتا تھا مگر دِل محمد کے گھر والوں کی گزربسر ٹھیک ٹھاک ہو رہی تھی لہذااُس نے خوب مِنّت سماجت کرکے اُسے مجبورکر لیا کہ وہ شکیل کو شہر لے جائے اور اَپنے مالک سے مِلادِے ‘آگے رہی اُس کی قسمت۔ دِل محمد نے جو کہا‘ وہ جھوٹ نہیں تھا ۔ اس کا مالک نام کا گل زَادہ تھا‘ نکلا پورا حرام زادہ۔ اُسے دیکھتے ہی اُس کی رَالیں ٹپکنے لگی تھیں ۔
شکیل نے پہلے روز اُس کی رَالیں نہیں دِیکھی تھیں کہ وہ تو اَپنی ضرورت اور اَپنی مجبوریوں کو دِیکھ رہا تھا۔
گل زادہ نے شکیل کی رہائش کا بندوبست دِل محمد کے ساتھ دکان کے پچھواڑے میں کرنے کی بہ جائے اُوپر والے فلیٹ میں اَپنے ساتھ کیا تھا۔ اُس نے اَپنے ساتھ اَپنے مالک کو یوں مہربان پایا تو اُس کے قریب ہوتا چلا گیا ۔ دوسری تنخواہ تک وہ اُس پرخوب مہربان رہا اور جب اس بار بھی تنخواہ کی رقم کا منی آڈر گھربھیج چکا تو ایک رات وہ اُس کے بستر میں گھس گیا۔ سردِیوں کے دِن تھے ‘پہلے پہل اُس کا یوں لحاف میں گھس آنا شکیل کو بُرا نہ لگا تھا تاہم رَفتہ رَفتہ شکیل اس حرام زادے کی نیت اور وہ خود کھلتے اور اُسے بھی کھولتے چلے گئے۔ بعد میں وہ یہ واقعہ اَپنے آپ کو اَذِیّت دینے کے لیے قہقہہ لگا کر سنایا کرتا ۔ تاہم وہ یہ بھی کہتا تھا کہ وہ جس مشکل میں پڑ گیا تھا اس سے ہمت کرکے نکل آیا تھا ۔ جب میں نے شکیل سے اس کا یہ قِصّہ سنا تھا تو بات ایک قہقہے پر نہیں رُکی تھی ۔ قہقہے کی آواز اَبھی معدوم نہیں ہوئی تھی کہ فوراً بعد اُس کے حلقوم میں ہچکیوں کی باڑھ اُمنڈپڑی تھی ۔ اُس نے اَپنی اِس کیفیت پر قابو پانے کے لیے اَپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دِے کر کاٹ ہی ڈالا تھا۔ شکیل نے ذَراسنبھلنے کے بعد یہ بھی بتایا تھا کہ اُس کا مالک اس پرایسے میںکُھل رہا تھا جب وہ ان سہولتوں کا عادی ہوتا جارہا تھا جو اُس نے گاﺅں میں دِیکھی تک نہ تھیں۔ اُس کے باپ کے پاس بھی ایک معقول رقم پہنچنے لگی تھی۔ اس مختصر سے عرصے میں اس نے اپنے باپ کو اِتنی رقم بھیج دِی تھی ‘جتنی اُس نے کبھی اَپنے باپ کے پاس یک مُشت دِیکھی ہی نہ تھی ۔ اَپنے ہی باپ کا کفیل بننے میں اُسے لطف آنے لگا تھا ۔ یہی لطف تھا کہ جس نے اُسے فوری طور پر بے روزگار ہونے کے لیے تیار نہ ہونے دِیا۔ بعد میں جب راتیں مسلسل لذّت اور کراہت کے بیچ گزر نے لگیں تو اُس کا دِل شدّت سے اُلٹنے لگا۔ وہ وہاں ٹھہرا رہا‘ یہاں تک کہ وہ اپنے دِل کی گہرائیوں سے اُس شخص سے شدید نفرت محسوس کرنے لگا ۔ یہ نفرت اِتنی شدید تھی کہ ایک رات‘ جب کہ وہ اُوندھا پڑا اُس کاا ِنتظار کر رہا تھا‘ وہ چپکے سے باہر نکل آیا ۔
جس روز وہ گل زادہ کے فلیٹ سے باہر نکلا تھا‘اُس روز اُس نے صاف صاف ایک لذّیذسنسناہٹ کو اُس کی رِیڑھ کی ہڈّی سے دُمچی کی طرف بہتے ہوے پایا تھا ۔
مارکیز کا ناول دوسری بار پڑھنے کے بعد اَب اگر میں اُس دِن کی بابت سوچوں‘ جس روز شکیل نے مجھے اپنا یہ قصّہ سناتے ہوے قہقہہ لگایا اور فوراً بعد اَپنے دَم کوہچکیوں کا پھندالگا لیا تھا تو مجھے شکیل کی جگہ مارکیز کے ناول کی وہ باکرہ لڑکی یاد آجاتی ہے جسے نوّے سالہ بوڑھے نے دیلگدینہ کا نام دیا تھا۔ دیلگدینہ ‘ جو پانچ دسمبر کو محض پندرہ سال کی ہو رہی تھی مگر جسے اپنے گھر کے اخراجات چلانے کے لیے شہر سے باہر دِن میں دوبار بٹن ٹانکنے جانا پڑتا تھا۔ اُس لڑکی کو ایک دِن میں جب سوئی اور انگشتانے سے سو سو بٹن ٹانکنا پڑتے تو وہ اَدھ موئی ہو جاتی ۔ دیلگدینہ اور شکیل کو میں ایک ساتھ یوں دِیکھ رہا ہوں کہ دِن بھر اَپنے مالک گل زادہ کا کریانہ بیچتے اور گاہکوں کے نہ ٹوٹنے والے رَش سے نبٹتے نبٹتے شکیل بھی بالکل اس لڑکی کی طرح اَدھ موا ہو جاتا تھا۔ تاہم ان دونوں کو کَہانی کے اِس مرحلہ پر ایک جیسی مشقت میں پڑا دِکھانے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ یہ دونوں کَہانی کے باقی مراحل میں بھی ایک جیسے ہوں گے۔ شکیل ‘جو اَپنے مالک کی دُمچی میں سنساہٹ چھوڑ کر نکل آیا تھا‘ بعد میں بہت خوار ہوا۔ تاہم ایک روز آیا کہ ایک دوسرے شخص نے نہ صرف اُسے اَپنے ہاں ملازمت دِی‘ اُس کے نکاح میں اَپنی بےٹی صفیہ بھی دِے دِی تھی۔
شکیل ملازمت کے لیے آیا اور گھر داماد ہوگیا تھا۔
وہ خوب رُوتھا اور سلجھا ہوا بھی ۔ ہمت کی بھی اُس میں کمی نہ تھی۔ وہ ضرورت مند تھا اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو شرفُ اللہ بھی ضرورت مند تھا؛ اُس کی بیٹی کنواری رہ گئی تھی ۔ یہ ایسی ضرورت تھی‘ جس کے لیے شکیل کی کسی بھی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا تھا۔ لہذا اس نئے گھر میں اُس کے بارے میں بھی ویسا ہی سوچا جانے لگا جیسا کہ ایک بیٹے کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا۔ صفیہ ‘ شرفُ اللہ کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اُس کے پاس جو کچھ تھا ‘اُسی کا تھا۔ دونوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ شکیل کالج میں داخلہ لے لے ۔ سال بھر کی ملازمت اور خواری کے بعد شکیل فوری طور پر مزید پڑھنے کی طرف راغب نہ ہوپایا۔ جب اسی کی بیوی صفیہ نے ایک شفیق ماں کی طرح اُس کا حوصلہ بڑھایا اور سسر نے یقین دِلایا کہ تعلیم پر اُٹھنے والے سارے اِخراجات وہ خود اٹھائیں گے تو اُس نے کالج میں داخلہ لے لیا ۔
یہیں وہ شاعری کی طرف راغب ہوا تھا ۔
جن دنوں میں شکیل کی طرف متوجہ ہوا اُس نے ایم اے کر لیا تھا اور ایک غیر سرکاری کالج سے وابستہ تھا۔ شام کو وہ اسی کالج میں چلنے والی اکیڈمی میں پڑھا کر خوب کما بھی رہا تھا؛ تاہم اس بارے میں مطمئن نہ تھا اور کچھ نیا کرنے کی بابت مسلسل سوچا کرتا۔ ان دِنوںاس شہر میں پراپرٹی کا کاروبار بہت عروج پر تھا ۔ اُس نے دو ایک ایسے سودے کمیشن کی بہ جائے ٹاپ یعنی پلاٹ نقداُٹھا کر بیچنے کی بنیاد پر کیے ۔ اِن سودوں نے اُسے اِتنا مارجن دِیا کہ وہ یکسوئی سے اس کاروبار میں جُت گیا۔ پھر تو ٹاپے پر ٹاپا اُترنے لگااور اس کے حالات بَد لتے چلے گئے۔
اس کے حالات ہی نہیں بَد لے؛ وہ خود بھی بَد لتا چلا گیا۔
شہر بھر کے اُن شاعروں نے سُکھ کا سانس لیا جو مشاعروں میں اُس کی ساری توجہ سمیٹ لینے پر اس سے نالاں رہتے تھے ؛کہ اَب وہ اِدھر آتا ہی نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہوا کہ اُس نے تقاریب میں آنا یک دَم موقوف کر دیا تھا۔ پہلے پہل اس میں تعطل کے وقفے پڑے ۔ پھر جب کبھی وہ آتا تو مجھے بھی ساتھ اُچک کر باہر لے جاتا کہ اُسے سننے سنانے سے کوئی دِل چسپی نہ رہی تھی ۔ گاڑیاں بَد لنا اُس کا معمول ہوتا جارہا تھا کہ اِس کاروبار میں بھی اُس نے اچھی خاصی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔
یہ بَد لا ہوا شکیل دِیکھ کر میں اُس شکیل کی بابت سوچنے لگتا تھا جسے پہاڑوں سے آتے ہی مجبور پاکر گل زَادہ نے پچھاڑ لیا تھا ۔
شروع شروع میں‘ میں سمجھتا رہا تھا کہ وہ صفیہ سے شادِی کرکے مطمئن ہو گیا تھا۔ اُس کی زِندگی میں جس طرح آسائشیں آ رہی تھی ان کے جھانسے میں وہ خود بھی ایک مُدّت تک یوں ہی سمجھتا رہا تھا ۔ اس عورت کے بطن سے اُس نے ایک بےٹا اور دو بیٹیاں پیدا کیں۔ بقول اُس کے اُسے اَپنے بچوں سے بہت محبت تھی۔ یہ بعد کی بات ہے کہ اس نے گاڑیاں اور لڑکیاں بَد لنا مشغلہ بنا لیاتھا۔ اُن دِنوں اُس نے نہ صرف صفیہ کا بل کہ اَپنے تینوں بچوں کا ذِکر بھی چھوڑ دیا تھا۔ میں نے کہا نا کہ میں شکیل کے بہت قریب تھا۔ یہ بھی بتادوں کہ اُس کے بیوی بچے مجھ سے بہت مانوس ہیں؛ تاہم کہتا چلوں کہ جس تیزی سے وہ اُن سے دُور ہوا تھا ‘میں بھی انہیں ملنے سے کترانے لگا تھا۔ میں نے اَندازہ لگا لیا تھا کہ وہ شکیل کے سب لچھن جان گئے ہوں گے۔ میں نے اُن کے سامنے جاتا تو ممکن تھا کہ صفیہ ا س حوالے سے بات چھیڑ کر میری مدد مانگ لیتی ۔ میں جانتا تھا جس لذّت کی دَلدَل میں وہ اُتر چکا تھا کوئی بھی اُسے نکال نہیں سکتا تھا ۔ حتی کہ میں بھی ۔ میں اَپنے تئیں ایک آدھ بار بچوں اور صفیہ کا ذِکر کرکے اُسے اس دَلدَل سے نکالنا چاہا تھا ۔ بچوں کے نام پر تو وہ چپ ہو گیا مگر صفیہ کا ذِکر آتے ہی اُس نے ویسا ہی قہقہہ لگایا جیسا کہ وہ گل زَادہ کا نام آنے پر لگایا کرتا تھا۔
گل زادہ اور صفیہ میں اگر کوئی مشابہت ہو سکتی تھی تو وہ دونوں کا بھاری بھرکم وجود تھا جو تھل تھل کرتا تھا۔
ایک اور بات جو مجھے ہمیشہ اُلجھن میں ڈالتی رہی ہے ‘وہ شکیل کا صفیہ کے ذکر پر عجب طرح کا قہقہہ لگانا تھا‘ ایسا قہقہہ کہ بات محض اس مشابہت تک محدودنہ رہتی تھی ۔
صفیہ شکیل سے عمر میں نو دَس سال بڑی ہوگی۔ بچوں کی پیدائش کے بعد تووہ اُس کے مقابلے میں کہیں بوڑھی دِکھائی دِیتی تھی ۔ تاہم وہ اُس کے بچوں کی ماں تھی اور اس کا یوں اس کی توہین کرنا مجھے بہت کَھلتا ۔ جس روز وہ ایک قیمتی گاڑی پر آکر مجھے تقریب سے اُٹھا کر ایک ہوٹل لے گیا تھا‘ اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی عمر کے آدمی کے لیے ایک جوان عورت کے وجود کی کیا اہمیت تھی ؛ اُسی روز اُس نے اَپنے موبائل کے قدرے زِیادہ پکسل والے کیمرے سے لی گئی پانچ مختلف لڑکیوں کی تصاویر دِکھائی تھیں‘ جن میں سے ایک تصویر تو ایسی تھی جس میں وہ خود بھی موجود تھا ۔ موبائل کا ڈسپلے بڑا ‘ اور تصویریں خوب شوخ ‘ شفاف اور روشن تھیں ۔ جس تصویر میں وہ خود موجود تھا ‘ اُس کے آگے کو جھکے ہوے دَائیں کندھے سے میں نے اَندازہ لگایا کہ اسی سمت کے بازو کو آگے بڑھا کر یہ تصویر اس نے اپنے موبائل سے خود کھینچی تھی ۔ اس کے ساتھ ایک ایسی لڑکی تھی جس کی عمر ہو نہ ہو اُس کی اَپنی بڑی بیٹی سونیا جتنی تھی ۔ لڑکی اور وہ خود بھی‘ جہاں تک تصویر میں نظر آرہے تھے‘ لباس کی تہمت سے پاک تھے۔ اگر چہ تصویر میں سے لذّت اُبلی پڑ رہی تھی مگر سونیا سے اُس تصویر والی لڑکی کی مشابہت قائم کرتے ہوے میں سارا مزا کِرکِرا کر بیٹھا تھا۔
مجھے سونیا سے اُس لڑکی کا موازنہ نہیں کرناچاہیے تھا‘ جس کے ساتھ بقول شکیل کے؛ اس نے نوٹوں میں تولنے کے بعد ایک رات کی رفاقت پائی تھی۔
ماننا پڑے گا کہ مارکیز کی کَہانی کا بوڑھا عورتوں کی گنتی کے بارے میں کہیں آگے تھا۔ تاہم یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ان عورتوں پر خرچ کے معاملے میں)اگر فی کس عورت کے حساب سے خرچ کا تخمینہ لگایا جائے تو( شکیل کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ یہ بھی بجا کہ مارکیز کا بوڑھاصحافی‘ جسے چکلا چلانے والی روسا کبرکس ” اے میرے اسکالر“ کَہ کر مخاطب کرتی تھی‘ جس عورت سے بھی )اس ناول کے ترجمہ کار کی اصطلاح میں جفتی کا( تعلق بنانا چاہتا ‘ اُسے معا وضہ ضرور ادا کیا کرتا تھا‘ لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ تھا پَرلے دَرجے کا کنجوس ۔ اگر آپ نے یہ ناول مکمل طور پر پڑھ رَکھا ہے تو آپ کی نظر میں اسی مرکزی کردار کا اعترافی بیان ضرور گزرا ہوگا جس کے مطابق وہ بخیل آدمی تھا۔ اس مَقام پر پہنچ کر تو ہو نہ ہو آپ کی ہنسی ضرور خطا ہو گئی ہوگی‘ جہاں اس جنس زدہ بوڑھے نے اَپنی نوے ویں سالگرہ کی رات ایک باکرہ کے ساتھ گزارنے کے لیے خرچ کا حساب چودہ پیسو لگایا تھا۔ یعنی اخبار سے ملنے والے پورے ایک ماہ کی کالم نویسی کے معاوضے کے برابر۔ پھر جس طرح اس بوڑھے نے پلنگ کے نیچے کے مخفی خانوں سے عین حساب کے مطابق ریزگاری نکالی تھی ‘ دوپیسو کمرے کا کرایہ‘ چار مالکہ کے لیے‘ تین لڑکی کے واسطے‘ پانچ رات کے کھانے اور اوپر کے خرچے کے لیے؛سچ پوچھیں تو یہ پڑھ کر میری ناف سے ہنسی کا گولا اُٹھا اورمیرے جبڑوں کو اِتنا دُور اُچھال گیا تھا کہ وہ بہت دیر بعد واپس اَپنی جگہ پرآپائے تھے ۔ میری کَہانی کا شکیل اُن لوگوں میں سے نہیں تھا جو اِس معاملے میں بھی گِن گِن کرخرچ کرتے ہیں۔ یہ جو اُس نے لڑکی کو نوٹوں میںتولنے کی بات کی تھی تو اِس سے قطعاً اُس کی یہ مراد نہیں تھی کہ اُسے اَپنا بہت سا روپیہ خرچ ہو جانے کا احساس تھا۔
وہ تو اُس لڑکی کے دَام بالا بتا کر اُس کی قدر وقیمت کا احساس دِلانا چاہتا تھا ۔
”اَپنی سوگوار بیسواﺅں کی یادیں“ نامی کتاب میں عین وہاں سے کَہانی جنس کا چلن چھوڑ کر محبت کی ڈگر پر ہو لیتی ہے ‘جہاںیہ بتایا گیا ہے کہ قحبہ خانے کے ایک اَہم گاہک کو پویلین کے پہلے کمرے میں کوئی چاقو مار کر قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ کَہانی کے بوڑھے اسکالر نے جب خُون سے لت پت بستر پر اُبلے ہوے مرغ کی طرح پیلے ہوجانے والے اُس لحیم شحیم آدمی کی لاش کو پڑے دِیکھا تھا تو اُس کے جسم پر کپڑے کی ایک دَھجی تک نہ تھی۔ کَہانی کا یہ حصّہ پڑھ کر پہلے تو میرے وجود میں سنسنی دوڑی مگر جب یہ بتایا گیا کہ اس ننگی لاش نے جوتے پہن رکھے تھے تو میری ایک بار پھر ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ مارکیز نے کَہانی کے اس حصے میں جنس کا میٹھا اُس مُردے پر مَل کر اُسے لذّیذ بنا تے ہو ے بتایا ہے کہ مقتول کا جسم اَبھی اَکڑا نہیں تھا۔ اُس کی گردن پر ہونٹ کی شکل کے دو زخم تھے اور یہ کہ موت کے باعث اُس کے سکڑے ہوے عضو پر ایک کونڈم ہنوزچڑھا ہوا تھا۔ کَہانی لکھنے والے نے یہ وضاحت کرنا بھی ضروری جانا تھا کہ کونڈم غیر اِستعمال شدہ دِکھائی دِے رَہا تھا۔
یہاں مجھے مُترجِم سے اَپنی ایک شکایت ریکارڈ پرلانی ہے اور اُسے داد بھی دینی ہے۔ شکایت کا یہ موقع وہاں وہاں نکلتا رہا ہے جہاں اُس نے اُردو جملوں کو بھی ترجمہ کیے جانے والے مَتن کے قریب رَکھ کر اُنہیں پیچیدہ بنادِیا۔ ناول کے نام کے ساتھ بھی یہی روّیہ روا رکھا گیا ہے جب کہ اِسے تھوڑا سا بَد ل کر رَواں کرنے کے لیے ”اَپنی بیسواﺅں کی یاد میں “ کر دِیا جاتا تو زیاہ مناسب ہوتا۔ اور اَب مجھے بَرملا اس جرا ت اور سلیقے کی داد دینی ہے جس کو روبہ عمل لا کر اُس نے ان لفظوں کا ترجمہ کرلیا ہے ‘جو بالعموم ہمارے ہاں شائستگی کے تقاضے کے پیش نظر زُبان پر نہیں لائے جاتے ہیں۔ تاہم اِسے کا کیا کیجئے کہ کونڈم کا ترجمہ کرنا اُس نے ضروری نہیں سمجھا۔
شایداِس لفظ کا ترجمہ کرنا اُس کے بس میں تھا ہی نہیں ۔
یہاں شکیل سے متعلق دو واقعات کَہانی میں گھسنے کو بے تاب ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پہلا واقعہ خود بخود آگے چل کر دوسرے واقعے سے جُڑ جاتا ہے ۔ پہلے واقعہ کا تعلق اُن دِنوں سے ہے‘ جن دِنوں اس کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مڈل اسٹنڈرڈ اِمتحان کی تیاری کے لیے یونین کونسل مسیاڑی کے دفتر میںاضافی پڑھائی کا اِہتمام کیا تھا۔ امتحانوں تک اُسے اور اُس کے ہم جماعتوں کو وہیں رہنا‘ پڑھنا اور رات گئے وہیں سونا تھا۔ یہ قصّہ شکیل بہت مزے لے لے کر اور خُوب کھینچ تان کر سُنایا کرتا مگر مختصرا ً یوں ہے کہ جب ماسٹر صاحب چلے جاتے اور دِن بھر پَڑھ پَڑھ کر اُکتائے ہوے لڑکوں کو کچھ نہ سوجھتا ‘تو وہ ملحقہ کمرے میں منصوبہ بندی والی دواﺅں کے ساتھ پڑے ہوے چمکیلے لفافوں میں بند سفید غبارے چوری کرکے خُوب پُھلایا کرتے تھے ۔ یہ غبارے اَگرچہ اس طرح رنگین نہ تھے‘ جیسے تنگلی میں سُودے کی ہٹی پر مِلتے تھے مگر ان میں ایک ایسی خوبی تھی جو ان رنگین غباروں میں بھی نہ تھی کہ یہ ہوا بھرنے پر بہت پُھولتے تھے۔ اُن دِنوں دیہی علاقوں کے اس عمر کے بچوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان چِٹّے خمور غباروں کااصل مصرف کیا تھا ۔ وہ سب اس پرخُوِش تھے کہ اُن کے ہاتھ بہت سے غبارے لگ گئے تھے اور رات گئے ان میں اِس پر مقابلہ لگا رہتا تھا کہ کون انہیں سب سے زِیادہ پُھلائے گا ۔ شکیل کے مطابق اُن دِنوں اِن غباروں پر سفید رَنگ کا سفوف مَلا ہوتا تھا جس سے ان کے ہونٹ اور گال یوں ہو جاتے تھے جیسے اُن پر آٹا مَل دِیا گیا ہو۔ اِسی سفیدی نے اُن کی شرارتوں کا پول ہیڈ ماسٹر صاحب پر کھول دِیا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کو پہلے تو غصہ آیا پھر کچھ سوچتے ہوے ہنس پڑے اور کہا ” نامعقولو! یہ ناپاک ہوتے ہیں کہ اِن میں بیمار پیشاب کیاکرتے ہیں ۔“
اَگلے روز ساتھ والے کمرے پر تالا نہ پڑ گیا ہوتا تو وہ ضرور تجربہ کرتے کہ اِن غباروںکو بیمار کیسے اِستعمال کرتے تھے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات اُنہیں مزیداُلجھا گئی تھی ۔
اِسی شکیل نے‘ کہ جسے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک زمانے میں اُلجھا دِیا تھا‘ اَب اس اُلجھن سے پوری طرح نکل آیا تھا۔ اُس نے مجھے لگ بھگ ویسے ہی کُھلے مُنّھ والے غبارے کی اپنے موبائل کے قدرے زیادہ پکسل والے کیمرے سے کھینچی ہوئی تصویر تب دِکھائی تھی‘ جب میں اجلاس سے اُٹھ کر اُس کے ساتھ ہوٹل آگیا تھا اور جب وہ اَپنی دوست لڑکیوں کی پانچوں تصویریں دِکھا چکا تھا ۔ مجھے اُس کا سنایا ہوا اوپر والا واقعہ عین اِس موقعے پر یوں یاد آیا تھا کہ تصویر میں بھی لگ بھگ ویسا ہی غبارہ تھا۔ تصویر والا غبارہ بالکل سفید نہ تھا‘ ایسی جلد کی رنگت لیے ہوے تھا جس میں چمک بھی آگئی تھی۔ میں نے کراہت کو اَپنے حلقوم تک آتے پاکر اُس کا موبائل اسے لوٹانا چاہا تو نہ چاہتے ہوے بھی پھسلتی ہوئی ایک نظر اُس غبارے پر ڈال لی۔ مجھے صاف دِکھ رہا تھا کہ اس میں کسی بیمار نے پیشاب تو نہ کیا تھا‘ تاہم کچھ تھا جس سے وہ ذرا سا پھول کر ایک طرف کو ڈھلک گیا تھا ۔ پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ ساری لڑکیاں جن کی اس نے تصویریں بنا رکھی تھیں یا ان جیسی دوسری لڑکیاں جو کیمرے والا موبائل دیکھتے ہی بِد ک جاتی تھیں‘ ایک ایک کرکے اس کی زِندگی سے نکل گئیں اور ان سب کی جگہ عاتکہ لے لی تھی ۔
بتایا جا چکا ہے کہ مارکیز کے لذّت مارے بوڑھے کی دیلگدینہ پانچ دسمبر کو پندرہ برس کی ہوئی تھی اور کَہانی میں جب سالگرہ والی رات آتی ہے تو بوڑھے اسکالر کی حرکتیں پڑھ کر گمان سا ہونے لگتا ہے کہ جیسے اُسے اس لڑکی سے محبت ہو گئی ہو گی؛ مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ اسے پورا گانا سنا کر اور اس کے پورے بَد ن پر بوسے دے کر ایک بے قابو مَہک کو جگانا چاہتا تھا ۔
اُس روز وہ اس بے قابو مہک کو جگا کر اور خوب تھک کر سو گیا تھا۔
اس کی محبت تو تب جاگی تھی جب قتل والی رات کے بعد دیلگدینہ اور اُس کا مِلنا ایک عر صے تک ممکن نہ رہا تھا۔ اس کے بعد کے صفحات بوڑھے اسکالر کی اس لڑکی کی محبت میں تڑپ کا احوال سمیٹے ہوے ہیں۔ شکیل کی کَہانی میں عاتکہ لگ بھگ اِسی طرح کی تڑپا دینے والی محبت کے لیے موزوں ٹھہرتی ہے جس طرح کی محبت مارکیز کے مرکزی کردار کو اس پندرہ سالہ لڑکی سے تھی ‘ تاہم اتنی ساری مشابہتوں کے باوجود شکیل کی کَہانی بہت مختلف ہو جاتی ہے ۔
عاتکہ کو لے کر شکیل نے یہ شہر چھوڑ دیا تو مجھے اُس کی اِس حرکت پر شدید صدمہ پہنچا۔
جس خاندان نے اس شخص کو شہر میں آسرا دیا تھا‘ اس خاندان سے اُس نے وفا نہ کی تھی۔ شکیل سے قربت کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ صفیہ نے اَپنی ذات مٹا کر اُس کی خدمت اور محافظت کی تھی ۔ جس طرح مائیں اَپنی اولاد کے عیب چھپا کر اور اُن کی خطاﺅں کو بھول کر اُنہیں اَپنی محبت کی چادر سے باہر نہیں نکالتیں ؛بالکل اسی طرح کی مسلسل اور بے ریامحبت اُسے صفیہ سے ملی تھی ۔ جب کئی روز بعد شکیل کے یوں شہر چھوڑنے کی خبر ملی تو میں بھابی کا دُکھ بانٹنے اُس کے گھر پہنچ گیا؛ اس خدشے کے باوجود کہ مجھے وہاں جاکر اَپنے دوست کے حوالے سے ناحق خجالت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے اَندازہ ہوا کہ شکیل کی ساری حرکتوں کا اَندازہ صفیہ کو تھا۔ دونوں بچیاں مجھے دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئیں؛ تاہم صفیہ یوں حوصلے میں تھی جیسے وہ شکیل سے جدائی اور بے وفائی کا وار سہہ گئی تھی۔ میں نے اَندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو اس کا سبب کچھ اور تھا ۔ شاید دونوں کی عمر کا وہ تفاوت جس نے عین آغاز ہی سے دونوں کے بیچ شدید اور تندجذبوں والا تعلق قائم نہ ہونے دیا تھا۔ تاہم وہ پریشان تھی ‘ اتنا کہ جتنا کوئی اَپنی بے اِنتہا قیمتی شے کے کھو جانے پر پریشان ہو سکتا تھا۔ اب ماں کے پیار والا سارا احساس مجھے تب محسوس ہوا تھا جب اُس نے اَپنے بیٹے شہباز کو دِیکھا تھا ۔ شہباز لگ بھگ اس عمر کوپہنچ گیا تھا جس عمر میں شکیل اس شہر آیا تھا۔ جب اُس کی ماں نے یہ بتایا کہ شہباز نے کالج جانا چھوڑ دیا تھا اور کسی دکان پر کام کرکے اس گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں تو میں نے دیکھا ‘شکیل کے دِل گرفتہ بیٹے کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا تھااور اُس نے اَپنی مٹھیاں اور ہونٹ سختی سے بھینچ لیے تھے ۔
مارکیز نے آخری پیراگراف لکھتے ہوے بوڑھے اسکالر کے گھر کے باورچی خانے میں دیلگدینہ کو اَپنی پوری آواز سے گاتا دِکھا کر اَپنی کَہانی کورومانوی جہت دِے دِی تھی۔ مگر میری اس کَہانی کا المیہ یہ ہے کہ َاپنے خاتمے پر اس سے سارا رومان اور ساری لذّت منہا ہو گئی ہے۔ شکیل اَپنے ساتھ بھاگ جانے والی لڑکی سے بھی اُوب چکا ہے ۔ جس عمر میں اُسے یہ سیکھنا تھا کہ شدید اور الہڑ جذبوں کو طول کیسے دِیا جاتا ہے‘ وہ سدھائے ہوے جذبوں سے نبٹتا رہا تھا۔ وہ واپس آیا تو سیدھا گھر نہیں گیا میرے پاس آیا؛ شاید وہ اپنے گھر کی دہلیز ایک ہی ہلے میں پار کرنے کا حوصلہ نہیں رَکھتا تھا۔ میں اُسے رات بھر حوصلہ دِیتا رہا اور سمجھاتا رہا کہ اُس کے بیوی بچوں کو اُس کی ضرورت تھی اور یہ کہ اُس کے اَپنے گھر میں اُس کا اِنتظار ہو رہا تھا مگر اَگلے روز جب میں اُس کے ساتھ اُس کے گھر گیا تو اُس کے بیٹے نے اُس پر پستول تان لیا تھا ۔ صفیہ نے واقعی اَپنے شکیل کو معاف کر دیا تھا؛ تب ہی تواُس نے یوں پستول تاننے پر اَپنے بیٹے کی چھاتی پیٹ ڈالی تھی۔ شہباز نڈھال ہو کر دہلیز پر ہی بیٹھ گیا۔ صفیہ نے اُس کی طرف دِیکھے بغیر اُسے اُلانگھا اور اَپنے شوہر کی طرف لپکی۔ دہلیز پر بیٹھے نوجوان کے ہاتھ میں جنبش ہوئی اور اگلے ہی لمحہ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ایک کربناک چیخ میرا وجود چیر گئی تھی



کچھ جنم جہنم سلسلے کے افسانوں کے بارے میں

متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری

توصیف تبسم
توصیف تبسم

محمد حمید شاہد کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ‘ دنیا سے متعلق ہمارے سابق یا بھولے بسرے علم کا احیا ہی نہیں ہوتا‘ بلکہ ہمیں باہر کی دنیا کا نیا ادراک حاصل ہوتا ہے‘ یعنی ہم محض بازیافت ہی نہیں کرتے بلکہ نئی یافت سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں۔ بقول مبین مرزا فکشن محمد حمید شاہد کا مشغلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ فن سے سچی اور کھری وابستگی نے افسانہ نگار کو ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا ہے جہاں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی مل کر ایک ہو گئی ہیں ۔ انسانی زندگی کاا لمیہ ہویا سیاسی وسماجی حالات کا دھارا‘ محبت کے کومل جذبے ہوں یا رشتوں کی مہک‘ ریاستی گروہی جبر ہو یا عالمی دہشت گردی یا پھر تہذیبی حوالوں کو نگلتی بازاری ثقافت ‘محمد حمید شاہد کا قلم یکساں روانی اور تخلیقی وقار کے ساتھ سب کو سمیٹتا چلا جاتا ہے۔
فن کار کا ایک منصب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ کرے۔ محمدحمیدشاہد نے اپنے بیانیے کو ایک سے زائد سطحوں پر یوں متحرک کرلیا ہے کہ وہ مطلق طور پر انسانی آہنگ میں ڈھل گیا ہے۔ اسی لیے تو احمد ندیم قاسمی کو کہنا پڑا کہ” محمد حمید شاہد کے افسانوں کا ایک ایک کردار ‘ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔“ خود شعوریت سے جہاں افسانہ نگار نے متن در متن یعنی  فریم نیریٹو کی صورت گری کی ہے وہاں انہوں نے اپنے افسانوں کو ایک نئی قسم کی حقیقت نگاری کی راہ بھی سجھا دی ہے ۔ محمد حمید شاہد کے ہاں نوحقیقت پسندی کے حوالے سے عمدہ مثال بن جانے والے افسانوں میں” برف کا گھونسلا“ ” برشور“ ” لوتھتکلے کا گھاﺅ“ ” ملبا سانس لیتا ہے“ ” موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ ”جنم جہنم“”چٹاکا شاخ اشتہا کا“ ” آدمی کا بکھراﺅ“ ”پارہ دوز“ اور ” مرگ زار“ جیسے افسانے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بقول ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی دراصل زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے جسے جدیدیت پسندوں کی نافہمی اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کر دیا تھا۔ محمد حمید شاہد کےافسانے سورگ میں سور“”گانٹھ “ اور مرگ زار“  پاکستان اور اردو ادب کے شاہکار تسلیم کیے جائیں گے

ڈاکٹر توصیف تبسم 




محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

29 comments

  1. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » آدمیM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » دوسرا آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *