M. Hameed Shahid
Home / افسانے / ہار،جیت|محمد حمید شاہد

ہار،جیت|محمد حمید شاہد

haarjeet

جب اُن کا باپ مر گیا تھا تو ساری اُونچ نیچ کو بڑے نے سنبھال لیا۔چھوٹا پہلے بھی لاڈلا تھا اب بھی رہا۔ گویا بڑا بھائی نہ تھا‘ باپ تھا۔ مگر وہ ایسا باپ تھا کہ اُس کی اَپنی کوئی اولاد نہ تھی۔
اور اماں روشاں کا خیال تھا بڑے کو ایک اور شادی کر لینی چاہیے۔
اماں روشاں کو شیر خان کی بیوی سے ہم دردی تھی۔ وہ اُس کی اَپنی سگی تھی۔ اُسے بڑے چاہوں سے بیاہ کر لائی تھی۔ مگر صرف ہم دردی سے آنگن میں بچوں کی چہکاریں تو نہیں گونج سکتیں نا!وہ چاہتی تھی‘ شیر خان اُس کی بات مان لے اور دوسری شادی کر لے شاید نئی کے بھاگوں گھر کا سونا آنگن بھر جائے اور وہ سکون سے مر سکے۔
وہ سکون سے ےوں ہی مر جاتی مگر گاﺅں والے اُسے سُکھ سے جینے ہی نہ دِیتے تھے اور بیٹے کو دوسری شادی کرا دِینے کا مشورہ دِیتے رہتے تھے۔
وہ بڑی شاکر و صابر تھی مگر عمر کے ساتھ ساتھ صبر بھی اُس کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔
شیر خان اور فیروز خان ‘دو ہی اُس کے بیٹے تھے ۔ جب وہ شیر خان کے فرض سے سبک دوش ہوئی تب اُس کے سر کا تاج سلامت تھا۔ اُس کے لےے اَپنی مرحومہ بہن کی بیٹی ملکانی لے آئی تو فیروز خان کے لےے سوہنی سی کڑی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔ ممکن ہے وہ فیروز خان کے لےے گوہر مقصود پا لیتی مگر بیوگی کے دُکھ نے اُسے آلیا تھا۔ اس دُکھ سے سنبھلنے تک چار پانچ سال گزر چکے تھے۔ گزر چکے وقت نے اُسے ےہ سوچنے پر مجبور کر دیاتھا کہ ا ُسے فی الحال فیروز خان کی بہ جائے شیر خان کے لےے ایک اور رشتہ تلاش کرنا چاہیے۔
ےہ بات نہ تھی کہ فیروز خان کو کوئی اَپنی لڑکی دینے کو تیار نہ تھا۔ بل کہ ےوں ہے کہ وہ ابھی لنگوٹ کَسے رَکھنا چاہتا تھا کہ اُسے ابھی بڑے بڑے پِڑ مارنے تھے۔
شاید فیروز خان مان ہی جاتا اگر اُس کی ماں زیبو کے گھر جاتی اور اُسے اُس کے لےے مانگ لیتی۔ ایک زیبو ہی تھی جس کے اَندر صلاحیت تھی کہ وہ اس کے کسے ہوے لنگوٹ کے بند ڈِھیلے کروا سکے اور اُسے اَکھاڑے سے باہر کھینچ لائے۔
ابھی اماں زیبو کے گھر نہ گئی تھی اور فیروز خان میں بھی اتنی ہمت نہ پیدا ہوئی تھی کہ وہ اماں کو زیبو کے گھر چلنے کا مشورہ دے سکے۔ پھر اماں بھی اب اس کی بہ جائے شیر خان کے بارے میں فکر مند رہنے لگی تھی۔ لہٰذا اپنے لےے اماں کو بھیجنا اُس کے دِھیان کو اَپنی طرف موڑنا تھا جب کہ وہ خود بھی چاہتا تھا کہ اس کے بھائی کو دُنیا کی تمام نعمتیں مل جاتیں کہ وہ اس کا بھائی نہ تھا باپ تھا۔
وہ جو بھائی نہ تھا باپ تھا‘ اُس نے سارے حق اَدا کرنے کا گویا تہیہ کر رکھا تھا۔ زمینوں کی دیکھ بھال‘ فصلوں کی کاشت برداشت‘ مقدموں کی پیروی وکیلوں کی فیس‘ برادری کے جھگڑے اور گھر کے بکھیڑے‘ اِن سب سے فیروز خان کا کوئی سروکار نہ تھا ۔ وہ تو بس صبح و شام اَکھاڑے میں رہتا‘ اُسی کی بابت سوچتا تھا۔
شیر خان بھی ےہی چاہتا تھا وہ ہر اکھاڑا جیتے کہ ُاسے ایک آخری معرکہ سر کرنا تھا۔
وہ آخری معرکہ خانو تھا کہ جسے اُسے پچھاڑنا تھا۔
خانو کڑیل جوان تھا۔ گزشتہ کئی سالوں سے جیتتا چلا آ رہا تھا اور اب تو کچھ ےوں لگنے لگا تھا جیسے جیت اس کی تلاش میں رہتی تھی ۔
شیر خان چاہتا تھا فیروز خان کواُسے شکست دے۔
جو شیر خان چاہتا تھا وہی کچھ زیبو بھی چاہتی تھی۔
فیروز خان کو ےہ بات تب پتہ چلی جب وہ گھبرائی ہوئی آئی اُس کی راہ روکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ جب وہ خوب رو چکی اور اُس کی سسکیوں میں لفظوں کی گنجائش پیدا ہو گئی تو اس نے کہاتھا:
”فیروز ے میرا اَبا مجھے مار ڈالے گا۔“
”مارڈالے گا‘ آخر کیوں؟“
”وہ مجھے خانو کے پلے باندھنا چاہتا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا‘ تو …. تو میں مر ہی جاﺅں گی نا!“
فیروز خان کے لےے ےہ اطلاع بھی موت کے فرشتے سے کم نہ تھی۔ وہ زیبو کو دیکھتا رہا اور اس کا دِل بیٹھتا چلا گیا۔ روتی ہوئی زیبو ےک دَم بپھر گئی ‘اُسے گریبان سے پکڑ لیا اور جھنجھوڑ ڈالا۔
”فیروزے اگر تم ہمت ہار بیٹھے تو میںسچ مچ مر جاﺅں گی۔ خود کو مار ڈالوں گی‘کنویں میں چھلانگ لگا کر‘ چھت سے کود کر‘ ےاپھر نہر میں ڈوب کر“
فیروز خان کے لےے زیبو کے ےہ جملے گویا حوصلے کے لبا لب چھنّے تھے۔ اُس کے حواس درست ہوے اور اُس نے ہمت سے کہا۔
”ایسا نہیں ہوگا۔“
زیبو نے اُسے بازو سے پکڑا‘ کھینچتے ہوے کھیت کی منڈیر پر بیٹھ گئی اور ےوں بولنے لگی جیسے اس کی آواز بہت دور سے آ رہی ہو:
”فیروزے‘ تم خوب جانتے ہو میرا ابا اکھاڑے میں پلا بڑھا ہے اور ساری حیاتی اکھاڑا اُس کے حواس پر سوار رہا ہے۔ ابا کہتا ہے خانو اِس پنڈ کی عزت ہے‘ اُس جیسا کڑیل جوان اِرد گرد کے کسی بھی گاﺅں میں نہیں۔ ہونہہ‘ کیا سمجھتا ہے خانو کو؟ جب سے چوہدری فتح علی کے گاﺅں جا کر شرفو کو پچھاڑا ہے اس نے‘ بس اسی روز سے ابا کی زُبان پر صبح و شام خانو ہی کا نام ہے۔ کل رات پچھلے پہر اتفاقاً میری آنکھ کھل گئی۔ ابا اور اماں سرگوشیوں میں کچھ باتیں کر رہے تھے۔ میں بھی دَم سادِھے سننے لگی ۔ پتا ہے ابا کیا کَہ رہا تھا اماں کو؟“
فیروز خان نے زِیبو کو دِیکھا اور چپ چاپ اُسے دیکھتا رہا۔ اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ زِیبو نے اُس کے جواب کا انتظار کیے بغیر دُور خلا میں گھورتے ہوے کہا:
” ابا کَہ رہا تھا‘ خانواس پنڈ کی عزت ہے اور یہ کہ میری اور اُس کی جوڑی خوب جچے گی ہونہہ۔ ہائے اللہ میں تو مر ہی جاﺅں گی اگر ایسا ہو گیا تو۔“
فیروز خان اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا۔ اُس کی مٹھیاں بھنچ گئیں اور اس نے لفظوں کو چباتے ہوے کہا:
”زیبو نہ تم مروگی نہ میں۔ میں خانو کو ہی مار ڈالوں گا“
”تم اُسے مار ڈالو گے؟“
زیبو نے چونکتے ہوے کہا۔
”ہاں‘ ہاں۔ میں اُسے قتل کر ڈالوں گا“
زیبو اُس کے مقابل کھڑی ہو گئی۔ اس کی ننھّی مُنّی ناک کے نتھنے پھڑپھڑارہے تھے۔ شہابی رخسار خُون کی حدّت سے تمتمانے لگے اور جھیل جیسی گہری آنکھیں آنسوﺅں سے لبالب بھر گئی تھیں ۔
”تم اُسے مار ڈالو گے خوب! خود پھانسی چڑھ جاﺅ گے‘ اور میں؟“
وہ اَپنی سسکیوں پر ضبط کا بند نہ باندھ سکی اور گاﺅں کی جانب تقریباً بھاگتی ہوئی چل پڑی۔ فیروز خان کے دِماغ میں بھونچال اُٹھ رہے تھے۔ زیبو اور خانو۔ ےعنی زیبو اس کی زِندگی اور خانو۔ وہ اِس کے آگے سوچ نہ سکتا تھا۔ وہ بڑبڑایا:
”ایسا نہیں ہوگا“
”ایسا ہو جائے گا؟“
اُسے اَپنی عقب میں زِیبو کی آواز سنائی دی۔ وہ جانے کب واپس آئی تھی اور کَہ رہی تھی:
”تمہارے یوں کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ میرا اَبا اَپنی دُھن کا پکا ہے ۔ اُدھر گندم کی فصل اُٹھے گی اور اِدھر۔ ہاں ےہی کَہ رہا تھا ابا۔“
اِتنا کَہ کر وہ پھر سسک پڑی اور پہلے ہی کی طرح دوڑتی ہوئی اپنے گاﺅں کی راہ ہولی۔
فیروز خان اُسے جاتے دِیکھتا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ پلٹ آئے مگر وہ اس بار پلٹ کر نہیں آئی۔
”اُدھر گندم کی فصل اُٹھے گی اور اِدھر۔“
ےہ جملہ مسلسل اُس کے ذِہن میں گونج رہا تھا۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو اُبل پڑے۔ اُسے اَپنا وجود نمک کی طرح گھلتا محسوس ہوا۔ وہ وجود جو اُس نے بڑی ریاضت اور محنت سے بنایا تھا۔
”ایسا ہو جائے گا۔“
اُسے اَپنے عقب سے زیبو کی آواز سنائی دِی۔ وہ جلدی سے مڑا مگر وہاں زیبو نہ تھی فقط اُس کے خدشوں کی گونج تھی۔ اِس گونج نے اُس کے خُون کی حدّت بڑھا دی۔ وہ دانت چبا کر بڑبڑایا:
”ایسا نہیں ہوگا۔ میں اس کتےّ کے پِلّے کو قتل کردوں گا۔“
وہ بے شک جی دار تھا۔ بڑے سے بڑے جوان کوپِڑمیں پچھاڑ دِینے کا حوصلہ رَکھتا تھا مگر کسی کو قتل کرنے کا خیال اُس کے دِل میں پہلی مرتبہ اُترا تھا۔
”قتل؟“
اُس کے اندر ےہ لفظ زور سے گونجنے لگا۔
اُس نے اَندر کی گونج پر بڑبڑاہٹ کا پتھر پھینکا:
”ہاں ہاں قتل“
وہ اَپنے تئیں بڑبڑایا تھا مگر اُسے ےوں لگا‘ جیسے اُس کی بڑبڑاہٹ چیخ کی طرح فضا میں چاروں طرف گونجنے لگی تھی۔ اُس نے اَپنے کانوں پر ہاتھ رَکھ لےے۔ گونج اُس کے اَندر وجود کی دیواروں سے ٹکرانے لگی۔ دفعتاً ایک ایسا جملہ جو وہ بچپن سے سنتا چلا آیا تھا‘ سرگوشی کی طرح اُس کے اندر سرسرایا:
”ایک بے گناہ شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے۔“
”بے گناہ‘ اَخ تھو۔“
اُس نے زمین پر تھوک دیا اور گیلی ہوجانے والی مونچھوں کو ہتھیلی کی پشت سے کلائی تک رگڑ کر صاف کرتے ہوے ےوں مطمئن ہو گیا جیسے اس نے زمین پر نہیں خانو کے منھ پر تھوک دیا ہو۔
”زیبو‘ میری زیبو کو مجھ سے چھیننے والا بھلا بے گناہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس مردُود کا قتل تو عین واجب ہے۔“
وہ بڑبڑایا۔ اس کی بڑبڑاہٹ میں اِشتعال بھی تھا اور جھنجھلاہٹ بھی۔ اور اس نے جانا اُس کی بڑبڑاہٹ مکمل ہو گئی تھی ۔ مگر آخری جملہ انجانے میں اُس کے ہونٹوں پر ایک مرتبہ پھر پھسلنے لگا۔ کچھ رُک رُک کر:
”عین واجب ہے؟“
اب وہ اپنے آپ سے کشتی لڑ رہا تھا۔
”زیبوکو اُس کے باپ سے مانگ لینے پر خانو گناہ گار اور واجب القتل کیسے ہو گیا؟“
”زیبو تو میری تھی۔“
”تمہاری تھی مگر کیسے؟ کیا اُس کا رشتہ تم سے طے ہو گیا تھا۔“
”رشتہ؟ نہیں…. مگر“
وہ بے بسی سے تڑپا۔
”کچھ بھی ہو میں زیبو کو نہیں چھوڑ سکتا۔“
خانو بھی قتل نہ ہو اور زیبو بھی نہ چھوٹے۔ وہ اِس اِمکان پر سوچنے لگا اور بے بسی کے جال میں الجھتا چلا گیا۔
زیبو اور خانو۔
خانو اور زیبو۔
فقط دو نام تھے ‘جو اُس کے ذِہن میں گونج رہے تھے۔ اور بے بسی تھی جو اسے اپنے شکنجے میں کسے ہوے تھی۔
وہ رو پڑا۔ بلک بلک کر‘ بالکل بچوں کی طرح۔
اُس نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ اُسے شک گزرا تھا کہ شاید کوئی ہے‘ مگر وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ پھر اَپنی بے بسی کے اَکھاڑے میں چت لیٹ گیا۔ اس نے رہی سہی ہمت ےکجا کی۔ دِل کو سنبھالادِیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کی ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں۔ پیپل کے تنے کا سہارا لیا۔ اُس کی نظر گندم کی اَنگڑائی لیتی فصل پر پڑی اور اس کے چاروںجانب زیبو کی آواز گونجنے لگی:
” اُدھر گندم کی فصل اٹھے گی اور ادھر“
وہ گھٹنوں کے بل جھک گیا۔ ہاتھ بڑھا کر گندم کے ایک خُوشے کو توڑا اور دونوں ہتھیلیوں کے بیچ مسل ڈالا۔ دودھ بھرے کچے دانے اس کی ہتھیلی میں چمکنے لگے۔ اُس نے غور سے دانوں کو دیکھا اور اسے جھر جھری آ گئی۔ اس نے زور سے مٹھی بھینچ لی ۔ اُسے لگا‘ جیسے دانے اُس کی ہتھیلی کے اَندر اُس کی جلد میں چبھتے چلے جا رہے تھے ۔ اس نے بند مٹھی کو فضا میں گھماتے ہوے دانوں کو دور اُچھال دِیا اور بے بسی سے اَپنی ہتھیلیوں کو دیکھنے لگا۔ ہتھیلیوں کی لکیریں گڈمڈ ہونے لگیں۔ آنکھیں آنسوﺅں سے ایک بار پھر بھر گئیں۔ اُس نے اوپر آسمان کی طرف دِیکھا اور گڑگڑا کر دُعا کرنے لگا:
”اے خدا‘ خود ہی کوئی صورت پیدا کر۔ ےا پھر ےوں کر‘ کہ فصل کٹنے کو پہنچے تو خوب خوب بارشیں ہوں‘ ژالہ باری ہو‘ جھکڑ چلیں‘ آندھیاںاندھیر مچائیںاور ساری فصل تباہ وبرباد ہو جائے۔
اے خدا‘ اس دفعہ گندم کو بیماری لگ جائے‘ آگ جلا کر راکھ کر ڈالے۔
اے خدا‘پکھیرو بھیج کہ ساری فصل چگ لیں ےا پھر فصل کٹ چکے تو سیلاب بھیج دے جو ساری گندم بہا لے جائے۔“
نہ جانے وہ کیا کچھ دعاﺅں میں مانگتا رہا حتیٰ کہ چپکے سے شرمندگی اُس کی دعاﺅں پر غالب آنے لگی اور وہ اَپنی دعاﺅں پر پچھتانے لگا۔
”میں کتنا خود غرض ہوں دوسروں کے لےے عذاب طلب کر رہا ہوں…. توبہ توبہ“
اُس نے سنا تھا کسی کو بَد دُعا دینے سے اَپنے دِل کی زرخیز زمین بنجر ہو جاتی ہے اور دِل کی زمین بنجر ہو تو محبت کی فصل نہیں اُگ سکتی۔ اس نے اپنے دِل کو ٹٹولا۔
اُس کا دِل تو محبتوں کا خزینہ تھا۔
خانو کے لےے وہ پہلی نفرت تھی جس نے اُسے تلپٹ کر کے رکھ دیا تھا۔
”خدا نہ کرے کہ دِل سے محبتیں رخصت ہو جائیں۔“
وہ بڑبڑایا۔ اس نے ایک مرتبہ پھر اپنے دل کو ٹٹولا۔ اُس کا دِل اَب بھی محبت سے لبا لب بھرا ہوا تھا۔
وہ اِس خیال سے ہی لرز گیا تھا کہ اُس کے دِل سے زیبو کی اس محبت کی فصل اُجڑ جائے جو اس کے دِل میں لہلہا رہی تھی ےا اس کی ماں کی محبت باقی نہ رہے جو اُس کے لےے پل پل دُعائیں مانگتی تھی ےا پھر وہ بھائی کے لےے محبت سے محروم ہو جائے جس نے اُسے تمام بکھیڑوں سے آزاد کر رکھا تھا۔ اسے ےاد آیا خانو کی مات تو بھائی کی بھی خواہش تھی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے جب بھی وہ کوئی کشتی جیت کر آتا تھا تو شیر خان ےہی کہتا تھا :
”فیروز خان اب تمہارا اگلا پڑ خانو سے پڑنا چاہیے“
مگر شاید ابھی اس کا مرحلہ نہیں آیا تھا ۔ ابھی اُسے اور تیاری کرنا تھی۔
اور وہ تیاری کرتا رہا۔ منھ اندھیرے اُٹھتا‘ گھنٹوں ڈنٹر پیلتا‘ سرسوں کے تیل کی مالش کراتا‘ کئی کئی میل دوڑتا‘ اکھاڑے میں دوسروں سے زور آزمائی کرتا۔ وہ چاہتا تھا خانو کے مقابل آئے تو اس کے بڑے بھائی کو ماےوسی نہ ہو۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کے بھائی کو ذرا سا بھی دُکھ پہنچے۔ وہ اپنے اس بھائی کے لےے جان تک قربان کر سکتا تھا جس کی شفقتوں کی گھنی چھاﺅں اُسے ملی تھی۔ لہٰذا وہ تیاری کرتا رہا۔
مگر خانو عجیب انداز سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ خانو کو اُٹھا کر پرے پٹخ دے اور اس کی چھاتی کو قدموں تلے روندتا ہوا اس پار زیبو کے پاس پہنچ جائے۔ اگرچہ اس کی تیاری مکمل نہ تھی مگر گندم کے خُوشوں میں دودھ بھرے دانے اپنا رنگ بدل رہے تھے اور اس کے پاس وقت بہت ہی کم تھا۔
وقت کتنی تیزی سے گزر گیا تھا
زیبو جو کبھی انار کے اَدھ کھلے پھول کی طرح تھی‘ گلیوں میں سُرخ سا فراک پہنے گھومتی رہتی تھی‘ اُس کی نظروں کے سامنے بڑھتی بڑھتی سروقد ہو گئی تھی۔ وہ اُسے ہمیشہ اَدھ کھلے اَنار کے پھول جیسا سمجھتا رہتا کہ اک روز جب وہ پانی کے دو گھڑے بھر کر‘ ایک بغل میں اور دوسرا سر پر رکھے‘ گاﺅں کی طرف جا رہی تھی کہ بے دِھیانی میں فیروز خان سے ٹکرا گئی۔ گھڑے زیبو کی گرفت سے نکل گئے اور دونوں کے بدن بھگوتے زمین پر چکنا چور ہو گئے۔ زیبو بوکھلا گئی‘ شرم سے گال مزید سرخ ہو گئے ۔ اُس نے فیروز خان کو دیکھا تو وہ پلک جھپکائے بغیر اُسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کی نظروں کا سامنا نہ کر پائی اور بھاگ کھڑی ہوئی۔
وہ اُسے بھاگتے ہوے دیکھتا رہا۔
اسے تب پتا چلا تھا کہ جوانی کیا ہوتی ہے۔
اس نے پہلی مرتبہ اپنے اندر بھی جوانی کو محسوس کیا۔
فیروز خان عجب مخمصے میں تھا۔
اِس سے پہلے اُسے اِحساس کیوں نہیں ہوا کہ زیبو اس قدر حسین تھی۔ اِتنی حسین کہ خود اس کے اندر سوئی جوانی کو انگڑائیاں لے کر جاگنے پر مجبور کر سکتی تھی۔ تب اُسے سمجھ آیا کہ بھائی شیر خان اُسے بھولا بادشاہ کیوں کہتا تھا۔ اماں بھی کبھی کبھار بھولا بادشاہ کَہ کر چوٹ کر لیا کرتی تھیں اور عموماً ےہ اُس وقت ہوتا‘ جب اماں اس کی شادی کے لےے گاﺅں کی کسی لڑکی کا نام لیتیں اور وہ اٹھ کر وہاں سے چل دیتا۔
اُس کا خیال تھا ابھی اُسے بھائی کی خُوشی کی خاطر خانو کو پچھاڑنا تھا۔ عورت بیچ میں آ گئی تو بھائی کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
جب کہ وہ نہیں چاہتا تھا‘ بھائی کا خواب ٹوٹے کہ اس نے تو اس کا ہر طرح سے خیال رکھا تھا۔
شیر خان اگر فیروز خان کی طرح اونچا لمبا اور تگڑا ہوتا تو شاید وہ خود اکھاڑے میں اترتا مگر ایک تو اس کی ایک ٹانگ قدرے چھوٹی تھی اور دوسرے اس کی کاٹھی ہی ایسی تھی کہ اس پر دائمی بیمار ہونے کا گماں ہوتا تھا۔ حالاں کہ وہ بلا کا پھرتیلا اور ذہین تھا۔ ےہی وجہ تھی کہ گھر‘ زمینوں‘ ڈھور ڈنگر اور برادری کے سارے جھنجھٹ اس نے خود سنبھال رکھے تھے۔ جب کہ فیروز خان کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی کہ وہ اکھاڑے میں اپنا نام کمائے۔
وہ بھی خوب محنت کر کے نام کماتا رہا۔ اب وہ خانو کے مقابل ہونے کی تیاری کر رہا تھا کہ چراغ دین کی بیٹی زیبو کے گھڑوں نے ٹوٹ کر اسے جوانی کے پانی میںبھگو دیا تھا۔
ےہ نہیں تھا کہ اسے اپنے جوان ہونے کی خبر نہ تھی۔ وہ لنگوٹ کس کر اَکھاڑے میں اترتا تھا اور لوگوں کی نظریں اپنے پنڈے پر پڑتی محسوس کر تا تھا تو اسے اپنے جوان ہونے کی بابت ےقین سے بھی آگے کی حد تک خبر ہو جاتی تھی۔ جب وہ بڑے بڑے جوانوں کو اکھاڑے میں چت کرتا تھا اور لوگ بڑکیں لگاتے تھے تو جوانی کا نشہ اُسے مست کر دیتا تھا۔ مگر اب وہ جوانی ‘کہ جس کے پانی سے وہ بھیگا تھا‘ اس کا ڈھنگ ہی کچھ اور تھا۔ ایک لذّت تھی‘ جو پورے بدن میں تیر رہی تھی۔ اک سرور تھا جو اَنگ اَنگ پر چھا رہاتھا۔ اسی کیف میں کئی دِن گزر گئے۔ وہ سوتے میں مسکرانے لگتا‘ باتیں کرتے کرتے گم ہو جاتا پہروں کنویں کے چوبچے میں ٹانگیں لٹکائے پڑچھے سے گرتے پانی کو دیکھتا رہتا اور خیال ہی خیال میں بھیگتا رہتا۔
ےوں تو زیبو ہر لمحے اُ س کے سامنے تھی۔ وہ اسے دیکھ سکتا تھا۔ باتیں کر سکتا تھا۔ اس کے بدن سے اُٹھتی مہک کو سونگھ سکتا تھا ۔ اُس کے چہرے پر کھلتے سرخ رنگ سے اپنے لہو کی حدّت بڑھا سکتا تھا۔ مگر اس وقت وہ بے بس سا ہو گیا جب اس نے سوچا کہ اگر وہ زیبو کو چھو لیتا تو کیسا لگتا۔
اُسے افسوس ہوا کہ اس روز اس نے زیبو کو چھو کر کیوں نہیں دیکھاتھا۔
اور جب چھو لینے کی خواہش ضبط کا رَسا تڑانے لگی تو وہ پنڈ سرگاں کی طرف چل دیا۔
پھر ہوا ےوں کہ راہ میں چراغ دِین سے ملاقات ہو گئی۔
ایک وقت تھا چراغ دین اَکھاڑے میں اُترتا تھا تو لوگوں کی سانسیں رُک رُک جاتی تھیں مگر اب وہ دَمے کا مریض ہو گیا تھا۔ اور خود اس کی اَپنی سانسیں بسا اوقات رُک رُک کر چلتی تھیں۔ دَمے کے بعد جوڑوں کے درد کا عارضہ ایسا تھا جس نے اُسے محض اَکھاڑے کے کنارے پر لا بٹھایا تھا۔
اُس نے فیروز خان کو دیکھا تو کِھل اُٹھا۔ کہا:
”میں تمہاری طرف ہی آرہا تھا۔“
فیروز خان کی باچھیں بھی قابو میں نہ آ رہی تھیں۔ پوچھا:
” کیوں چاچا خیریت تو ہے نا۔“
کہنے لگا:
” فیروز بیٹا اس چاند کی بارہ کو اپنا شوکا ہے نا! پہلی بار اَکھاڑے میں اُتر رہا ہے‘ ایک جوڑ شرفو سے کرے گا‘ ایک تمہارے ساتھ ہو جاتا تو اُسے کھیل کے کچھ داﺅ پیچ کا پتا چل جاتا“
”ہاں چاچا کیوں نہیں؟“
وہ فوراً بول اٹھا۔
”جیتے رہو بیٹے۔ مجھے تم سے ےہی امید تھی۔ جانتا ہوں شوکا ابھی بچہ ہے تمہارا اور اس کا جوڑ نہیں مگر جب تک وہ اُن سے زور نہیں کرے گا جن سے اَکھاڑا سج سج جاتا ہے وہ بچے کا بچہ ہی رہے گا۔“
”ہاں چاچا ےہ تو ہے“
اُس نے بات آگے بڑھائی۔
”اکھاڑا تو ہمارے لےے مقدس ہے چاچا۔ جو بھی اس میں اترتا ہے اس کو اس کے داﺅ پیچ سکھانا ہم پر فرض ہو جاتا ہے۔“
”ےہ ہوئی نا بات“
چراغ دین نے خُوش ہو کر اُس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔ پھر کہا:
”تمہارے ےہ خیالات ہیں اور اُدھر خانو ہے کہ صاف مکر گیا‘ کہنے لگا‘ ےہ جوڑ اس کے برابر کا نہیں۔ تم تو بہت اچھے ہو فیروز بیٹے۔“
فیروز خان خُوشی سے پھول کرکُپا ہو گیا۔ چراغ دِین اُسے بہت اچھا کَہ رہا تھا۔ اور وہ اتنا اچھا بن گیا کہ اگلے روز صبح ہی صبح پنڈ سُرگاں چل دیا۔ سیدھا چراغ دِین کے گھر پہنچا اور چاچا‘ چاچا کی آوازیں دِینے لگا۔ چراغ دین کی بہ جائے زیبو صحن میں نمودار ہوئی۔ اُسے ےوں لگا وہ وہاں صحن میں نہ تھی عین اُس کے دِل میں آکر کھڑی ہوگئی تھی۔
”جی ابا تو گھر پر نہیں ہے“
آواز تھی ےا پائیل کی چھنکار۔ فضا میں دیر تک چھن چھن ہوتی رہی اور وہ مست اسے دیکھتا رہا۔ اور گم صم کھڑا رہا۔
وہ جھینپ گئی۔ سنبھلی تو کہا:
”وہ جی ابا گئے ہیں باہر کھیتوں کی طرف“
اب کے آواز کچھ تیز تھی۔ پائیل نہ تھی گھنگھرﺅ وں کی جھنکار تھی مگر اس کی گونج بھی فضا میں معلق ہو گئی وہ اُسے سنتا رہا۔ سنتا رہا اور دیکھتا رہا۔ پھرجب اُس نے مزید سرخ ہوتے ہوے منھ پھیر لیا اور دو پٹے میں خود کو لپیٹتے ہوے کہنے لگی:
” اندر آ جائیں جی چار پائی دھری ہے ادھر صحن میں‘ بیٹھیں۔ ابھی ابا آجائے گا“
تب وہ بیدار ہوا۔ جلدی سے صحن میں بچھی چارپائی تک پہنچااوراس پر دھڑام سے جا گرا۔
زیبو ہنس دی۔ ہنس کیا دِی پورا صحن جگمگا اُٹھا ۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیل گئی۔
وہ جلدی سے گئی‘ پیتل کا بھرا ہوا لسی کا چھنا اُٹھا لائی اور اُس کی جانب بڑھایا۔
اُس نے چھنا نہیں تھاما‘ زیبو کے ہاتھ کو تھام لیا۔ چھنا ہاتھوں سے پھسلتا دور جا گرا اور وہ ہاتھ چھڑا کر زمین سے چھنا اُٹھانے کو جھکی تو چراغ دین کے کھنگورے نے اسے مزید بوکھلا دیا:
”خیر ہے پتر لسی گر گئی دوسرا چھنا بھر لا‘ بڑا بیبا مہمان آیا ہے ہمارے گھر۔“
وہ بھی بوکھلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
”سلام چاچا۔“
اور پھر سانس لےے بغیر کہنے لگا:
”چاچا کون سی تاریخ بتائی تھی تم نے جوڑ کی“
چراغ دین اوپر نیچے ہوتے سانسوں کے بیچ کچھ کہنے ہی کو تھا کہ شوکی جو اپنے باپ کے پیچھے پیچھے آ پہنچا تھا‘ جھٹ بولا:
”چاند کی بارہ بھائی فیروزے“
پھر وہ فیروز خان کے گلے جا لگا اور ہنس کر کہنے لگا:
”اپنا با بھی عجیب ہے‘ تمہیں ےہ تو بتا آیا کہ جوڑ ہوگا‘ ےہ نہیں بتایا کہ کب ہو گا؟“
چراغ دین کھسیانی ہنسی ہنس دِیا۔ اُسے ےاد نہیں آ رہا تھا کہ اس نے تاریخ بتائی بھی تھی ےا نہیں۔ ےہ پہلا بہانہ تھا جو اس نے زیبو سے ملنے اور اُسے چھونے کے لےے گھڑا تھا اور جب چاند کی بارہ گزر گئی تو بھی اُس نے بہانے بہانے سے پنڈ سرگاں جانے اور زیبو سے ملنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ےہاں تک یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر جینے کا سوچنے کو بھی گناہ تصور کرنے لگے۔
پھر ےوں ہوا کہ خانو بیچ میں آگیا۔
خانو شاید پہلے ہی بیچ میں تھا مگر نہ تو زیبو کو اُس کی خبر تھی نہ فیروز خان کو۔
اب کیا ہو گا؟ اک سوال سامنے تھا۔
وہ نئے حوصلے کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوا۔
”میں خانو کو گندم کی کٹائی سے پہلی ہی پچھاڑ دوں گا۔پھر میں دیکھوں گا چراغ دین مجھے کیسے نظر انداز کرتا ہے؟“
اس نے اپنے گاﺅں پہنچتے ہی خانو کو پیغام دِے بھیجا۔
جوں ہی ےہ خبر شیر خان کو پہنچی وہ بھاگتے ہوے اکھاڑے میں آیا۔ خُوشی سے فیروز خان کو اَپنی بانہوں میں بھر کر اس کا ماتھا چوم لیاٍ
”خدا تمہیں کام یاب کرے“
پھر اُس نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اور کہا:
”میں تو مُدّت سے تمہارے منھ سے ےہ سننے کو ترس رہا تھا‘ مجھے ےقین ہے خانو ضرور شکست کھائے گا۔ ہاں وہ بڑی بُری طرح مار کھائے گا۔“
فیروز خان نے ڈنٹر پیلنے کی تعداد اور رفتار بڑھا دی۔ کئی کئی میل دوڑنا‘ پھر شاگردوں سے زور آزمائی‘ تیل کی مالش‘ مرغن غذائیں اور پہلے سے کہیں زیادہ زور کی مشق ؛ےہ اُس کے روز کے معمول کا حصہ تھے۔
جس روز دونوں شہتیر جیسے جوان اَکھاڑے میں اُترے‘ ےوں لگتا تھا ارد گرد کسی بھی گاﺅں میں ایک بھی مرد ایسا نہ بچا تھاجو پیچھے رہ گیا ہو۔ کس انہماک سے سب دونوں کے چکنے جثوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ اندازہ ہی نہ کر پا رہے تھے کہ کون پچھاڑے گا؟ خانو اتراتا ہوا آگے بڑھا۔ فیروزے نے اپنے ہاتھوں کی اُنگلیاں اکڑاتے ہوے اس کی ہتھیلیوں پر ٹکا دِیں اور پورے بدن کا زور ہتھیلیوں پر منتقل کر دیا۔ پھر انگلیوں کی کنگھی سے اس کی انگلیاں جکڑ لیں۔ خانو ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔ ےوں کہ فیروز خان کا پورا بدن ڈگمگا گیا۔ ابھی وہ سنبھلا بھی نہ تھا کہ خانو پھرتی سے اپنے قدموں پر گھوما۔ وہ چاہتا تھا کہ قینچی کا داﺅ لگاتے ہوے لڑکھڑاتے فیروز کی ٹانگیں قابو کر کے مروڑ ڈالے۔ مگر فیروز خان سنبھل گیا۔ اپنے ہی قدموں پر اُچھلا اور دونوں پاﺅں اُس کی جانب اُچھال دئےے۔ پاﺅں اگرچہ چھاتی پر نہیں پڑے تھے لیکن ےوں لگا تھا کہ جیسے اس کے کندھوں پر فیروزے کے پاﺅں جم سے گئے تھے۔ وہ درد سے بلبلا اُٹھا اور پرے جا پڑا۔ دونوں پھرتی سے اُٹھے اور پھر پنجوں میں پنجے پھنسالےے۔ اب کے فیروز خان نے اَپنے ہاتھوں کو اُوپر سے نیچے کچھ ےوں جھٹکا دیا کہ وہ لڑکھڑا کر اُس کے بدن سے آلگا۔ اُس کے بازو گھمائے ‘ گردن سے دبوچا‘ پٹخنی دی اور نیچے گرا لیا۔ پورا مجمع چیخ اُٹھا۔
خانو نے گرد ن چھڑانے کے لےے ٹانگوں کو اُوپر اُٹھا کر جھٹکا دِینا چاہا مگر فیروز ے نے دونوں ٹانگوں کے بیچ ٹانگیں پھنسالی تھیں ۔ اب وہ دونوں ہاتھوں میں اس کے ہاتھ جکڑ کر اسے چت زمین پر لٹا سکتا تھا اور اس نے ایسا ہی کیا۔ خانو نے اپنے طور پر بہت کوشش کی مگر فیروز خان کا شکنجہ سخت ہوتا چلا گیا۔ پھر اس نے گھٹنوں کو سمیٹا‘ جھٹکے سے اپنے نچلے بدن کو اُچھالا اور گھٹنے خانو کی چھاتی پر جما دِےے۔ ساتھ ہی اپنے ہاتھ فضا میں بلند کئے اور زور کی بڑھک لگائی۔
پورا مجمع للکاروں اور بڑھکوں سے گونج اٹھا۔ نوجوانوں کی ایک ٹولی نے اُسے کندھوں پر اُٹھا لیا۔ ڈھول بج اٹھے۔ بھنگڑے نے عجب سماں باندھ دیاتھا۔
ان سب کے بیچ فیروز خان نے دیکھا چراغ دین ایک ایک روپے کے نوٹ اُس کی جانب اُچھال رہا تھا اور خُوشی سے چیخ رہا تھا۔ اُسے اُس کی آواز اسے سارے مجمعے پر بھاری لگی تھی۔ الگ‘ سب سے جدا‘ وہ مطمئن ہو گیا ۔
اور جب اس نے مطمئن ہو کر اپنے بڑے بھائی شیر خان کو دیکھا تو اور زیادہ نہال ہو گیا کہ وہ بھی خُوشی میں اُچھل رہا تھا۔ شام پورے گاﺅں میں مٹھائی بانٹی گئی۔ چاول کی دیگیں تقسیم ہوئیں۔ جب ذرا ہنگامہ تھما تو فیروز خان نے پنڈ سُرگاں جانے کا فیصلہ کیا۔ چراغ دین سے بات کرنے کے لےے کہ اب بیچ میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اُس نے مناسب جانا بڑے بھائی کی بھی ساتھ لیتا جائے۔ وہ اسے ایک طرف لے گیا اور کہنے لگا۔
”بھائی جی آپ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔ آج میں جس عزّت کا حق دار ٹھہرا ہوں وہ آپ ہی کی بدولت ہے۔ میں آپ کو پنڈ سُرگاں لے جانا چاہتا ہوں۔ چراغ دین کے پاس…. وہ….“
شیر خان نے بات مکمل ہونے کا اِنتظار نہ کیا اور کہا:
”ہاں ٹھیک ہے مگر تم اکیلے پنڈ سرگاں جاﺅ اور ایک نہایت اَہم بات میں تم سے ےہ کرنا چاہتا ہوں کہ چراغ دین اکھاڑے میں جیتنے والوں کی بہت قدر کرتا ہے۔ تم میرے لےے زیبو کے رشتے کی بات ضرور کرنا‘ میں چاہتا ہوں مجھے اولاد کے لےے اب دوسری شادی کر ہی لینی چاہیے۔“
فیروز خان کے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بڑبڑایا: ”زیبو“
شیر خان نے کہا: ”ہاں بھئی زیبو ‘چراغ دین کی بیٹی۔ میری تو کب سے خواہش تھی‘ تم اکھاڑے میں خانو کو مات دو کہ ماسڑ چراغ دین پیروں پر پانی ہی نہیں پڑنے دیتا۔“
فیروز خان چکرا کر گرا۔ اُسے لگا جیسے وہ چاروں شانے چِت اَکھاڑے میں پڑا تھا اور کوئی اُس کی چھاتی پر گھٹنے گاڑے للکرے مار رہا تھا۔
ٍ


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

33 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » جنم جہنمM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » دوسرا آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: تماش بین|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *