M. Hameed Shahid
Home / افسانے / گرفت|محمد حمید شاہد

گرفت|محمد حمید شاہد

grift

ہم دو ہیں اور تیسرا کوئی نہیں۔
اگر ہے بھی تو ہم نے اُسے ذِہن کی سلیٹ سے رَگڑ رَگڑ کر مٹا ڈالا ہے۔
وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے میرابدن اُس موم کی طرح ہے جو شعلے کی آنچ سے اس قدر نرم ہو جائے کہ جدھر چاہو موڑ لو۔
یہ شعلہ اُس کے اندر بھی ہے اور میرے اندر بھی ۔
مگر حیرت ہے یہ شعلہ اس کے بدن کو تپا کر مزید سختی عطا کرتا ہے اور مجھے پگھلا تا چلا جاتا ہے۔
یہی سختی اور نرماہٹ پھسلن کی شروعات ہو سکتی ہیں۔
مجھے یقین ہے‘ ہمیں پھسلنے سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔
ویسے ہم د و کے علاوہ ہے بھی کون ‘ جو ہمیں بچا سکے۔
اور اگر ہے بھی تو ہم نے اُسے اپنے ذہن کی سلیٹ سے یوں رگڑ رگڑ کر مٹا ڈالا ہے کہ اس کا ہونا نہ ہونا ایک جیسا ہے۔
مجھے خدشہ ہے یوں پھسل کر گرنے سے مجھے گومڑ نکل آئے گا۔
ایسا گومڑ جو میری ساری رعنائی نچوڑ کے مجھے بدوضع کر دے گا۔
یہ گومڑ پک کر پھٹ جائے گا تو مجھے بدبودار خُون اور پیپ میں بھگو دے گا۔
اورشاید اس قدر بھگو دے کہ دیکھنے والوں کو ابکائیاں آنے لگیں۔
وہ کہتا ہے کہ چوٹ تو اسے بھی آسکتی ہے۔
مگر‘ میں جانتی ہوں وہ جھوٹ کہتا ہے۔
اُسے جھوٹا سمجھنے کی میرے پاس ٹھوس دلیل ہے۔
وہ یہ کہ ہم جب بھی پھسلنے کو ہوتے ہیں میرا رخ زمین کی طرف اور اُس کا رخ آسمان کی بہ جائے میری جانب ہوتا ہے مگر ہر باروہ پشت کے بل اوپر ہی کو اُٹھتا ہے۔
عجب واقعہ ہے کہ وہ آسمان کو آنکھ بھر کر دیکھنے سے گریز کرتا ہے اور نظر مجھ پر ہی جمائے رَکھتا ہے۔
جس روز بھولے سے بھی اُس کی نظر آسمان پر پڑ جائے اس کے ہونٹوں پر لفظ پیڑی کی صورت جم جاتے ہیں۔
مجھے حیرت ہوتی ہے؛ کیا یہ وہی الفاظ ہیں جو اُس کے ہونٹوں سے پھسل پھسل کر پھسلن بناتے رہے ہیں؟ ایسی پھسلن کہ میں نہ چاہتے ہوے بھی اُس پر لڑھکتی رہی ہوں۔
ہاں‘ پھسلن کی وجہ اُس کے ہونٹوں سے پھسلنے والے لجلجے الفاظ بھی ہوسکتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ گفتگو کو میں ہی اِبتدا دیتی ہوں۔
مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
اتنا کم کہ ُانگلیوں پرگِن سکتی ہوں۔
اُنگلیوں پر گننا مجھے اَچھا لگتا ہے۔
مگرباربار دو تک گننے سے مجھے جھنجھلاہٹ ہونے لگتی ہے۔
میں اُسے کہتی ہوں:
”آ ﺅ‘ پھسلتے پھسلتے وہاں اُن ٹھنڈے میٹھے چشموں تک جا پہنچیں جن کا متبرک پانی ہمارے بدنوں سے بانجھ مشقتوں کو دھو کر انہیں زرخیز کر دے گا پھر نئے پھو ل اُگیںگے۔ ایسے پھول ‘ جن کی مہک خدشوں کی دلدل کو ڈھانپ لے گی۔“
وہ یہ سن کر بپھر جاتا ہے۔
اور میری ان انگلیوں کو جنہیں دو تک گنتی ازبر ہو چکی ہے‘ ان انگلیوں سمیت جو گنتی کے عمل سے ہی ناآشنا ہیں‘ سختی سے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
عجب سختی ہے جو اُنگلیوں سے ہتھیلی اور ہتھیلی سے بدن میں نرماہٹ اُتارتی چلی جاتی ہے۔
میری ماں کہتی تھی۔
”عورت پیدا ہوتے ہی آدھی زمین میں دفن ہوجاتی ہے اور زمین میں دفن ہونے والی‘ باہر رہ جانے والی کو ساری عمر اَپنی گرفت میں لینے کے جتن کرتی ہے۔“
ماں کی بات مجھے یوںیاد آئی کہ پھسل کر گرتے وقت وہ کشش ثقل سے آزاد ہو جاتا ہے اور مجھے کوئی نیچے بہت نیچے کھینچتا چلا جاتا ۔
شاید یہ وہی میرے بدن کا حصہ‘ آدھی عورت ہے جس کی بابت ماں نے بتایا تھا۔
مجھے اُس وقت ماں کی باتوں پر ہنسی آتی تھی‘ جب کہ اب میں اُلجھن پڑ جاتی ہوں۔
میری ہنسی کی سنہری مچھلی نے اُلجھن کا کانٹا اُس روز نگلا تھا جب مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ میں اُس علاقے میں داخل ہو چکی ہوں جہاں پھسلن ہی پھسلن ہے۔
دراصل میں پہلے پہل خلوص دِل سے سمجھتی تھی کہ میری ماں ناسمجھ ہے۔
مگر جب سے وہ یہ کہنے لگا ہے کہ ساری ہی لڑکیاں ناسمجھ ہوتی ہیں‘ مجھے اَپنی ماں کی باتیںیاد کر کے ہنسی نہیں آتی ۔
اب مجھے پہلے پہل کی اَپنی بے جا ہنسی پر دُکھ ہوتا ہے۔
ہمارے گھر کے صحن میں ایک برگد اُگا ہوا ہے۔
مجھے یاد ہے یہ اس وقت بھی تھا جب بان کی کھری چارپائی پر لیٹے ایک شخص کو سفید میلی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
میں نے ماں کو پہلی مرتبہ دوہتڑ سینے پر مارتے ‘ بال نوچتے اور دھاڑیںمار مار کر روتے دیکھا تھا۔
مجھے حیرت ہوئی تھی کہ وہ تو چپکے چپکے رونے کی عادی تھی‘ یوں کہ سینے کے اندر کچھ ہوتا رہتا جس کی دھمک بہ مشکل مجھ تک پہنچ پاتی تھی۔ ہونٹ دانتوں تلے دبے ہوتے اور آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں۔ مگر یوں منھ کھول کر روتے اور ہاتھ لہرا لہرا کر بین کرتے میں نے اُسے پہلی بار دیکھا تھا۔
میں نے بے اختیاری میں اُس کے چہرے سے چادر اُلٹ دِی تھی۔
اجنبی‘ بالکل اجنبی چہرہ؛ سخت یوں جیسے پتھر سے تراشا گیا ہو۔
اُس اجنبی شخص کو‘ کہ جسے میں نہ جانتی تھی اور جس کے لےے میری ماں دھاڑیں مارمار کر رو رہی تھی‘ صبح ہی صبح‘ صحن میں بچھی کھری چارپائی پر ڈال دیا گیا تھا۔
میری آنکھ اُس وقت کھلی جب میری ماں بوکھلا کر میرے پہلو سے اُٹھی تھی ا ور اُس کے سینے کی دَھمک دانتوں تلے دَبے ہونٹوں سے شراٹے بھرتی نکلی تھی۔
پھر میری ماں نے میرے نیچے بچھی چادر کوا س قدر تیزی سے کھینچا تھا کہ میں لڑھکتی پرے جا پڑی تھی۔
ماں نے مجھے نہیں سنبھالا تھا حالاںکہ وہ میرا بہت خیال رَکھتی تھی۔
جب وہ بھاگ کر صحن میں بچھی چارپائی تک پہنچی تھی تو اُس نے اِدھر اُدھر دیکھے بغیر چادرکو پھیلا کر اُس شخص کے بدن پر ڈال دیا تھا۔
ایسا کرکے ماں نے اپنے ہاتھوں کی ساری چوڑیاں توڑ ڈالی تھیں۔ بال کھول لےے تھے اور ماتھا چارپائی کے پائے سے ٹکرا ٹکرا کر زخمی کر لیا تھا۔
مجھے ماں کے روےے پر حیرت ہوئی تھی۔
میں بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر جلد ہی اس کی لمبی چیخیں ‘لمبی چپ نے نگل لیں۔
اور لمبی چپ اُسے تب لگی جب اُس نے یوں ہی روتے دھوتے لمحہ بھر کو نظر بھر کو مجھے دیکھا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ وہ خود بھی چُپ کی چادر اوڑھ کر بے سُدھ برگد تَلے بچھی کھری چارپائی پر لیٹ گئی۔
مجھ پر حیرت در حیرت کی جمتی تہیں سِل کی طرح ہو گئیں۔
حیرت کی سِل اس روز تڑخ کر ٹوٹ گئی جب اُس شخص نے میرے لےے لجلجے لفظ اُگلے تھے جن کی وجہ سے چاروں طرف پھسلن ہوتی جا رہی تھی۔
میں نے اُس کا چہرہ غور سے دیکھا تھا۔ بالکل وہی چہرہ تھا۔ پتھر سے تراشا ہوا۔
وہی جو بہت پہلے اپنے گھر کے صحن میں برگد تلے دیکھا تھا۔
اور جس کے سرہانے میری ماں نے بین کیے تھے‘ چوڑیاں توڑ ڈالی تھیں اور سینے میں دفن دُکھوں کو سسکیوں سے چیخوں میں ڈھلنے دیا تھا۔
گھر کے صحن میں اَب بس وہی برگد کا درخت ہے اورمیں ہوں۔
وہ چہرہ ‘جو پتھر سے تراشا گیا ہے فقط میری سوچوں میں ہے۔
محض اُس کا چہرہ ہی پتھریلا نہیں اُس کا سارا بدن پہاڑوں جیسا ہے۔
ایسا پہاڑ جس کے اندر آتش فشاں کھول رہا ہے اور جس نے اپنا دہانہ کھول دیا ہے جہاں سے لفظوں کا لاوا نکلتا ہے۔ ےہی لجلجا اور گرم گرم لاوا مجھے آن کی آن میں پگھلا دیتا ہے۔
اوپر کو اچھلتا کودتا۔
اس کا پہاڑوں جیسا بدن اپنے ہی لاوے کا جزو بن کر اوپر ہی اوپر اچھلتا رہا اور میں روز بہ روز زمین کی طرف گرتی چلی گئی۔
مجھے وہی گومڑ بھی نکل آیا ہے جس کا مجھے خدشہ تھا۔
وہ قہقہے لگاتا رہا اور کہتا رہاکہ اُسے بھی تو چوٹ لگ سکتی ہے۔
مگر میں شروع ہی سے جانتی ہوں‘ وہ جھوٹ بولتا ہے۔
اب جب کہ میں عین برگد تلے کھڑی ہوں مجھے اَپنی ماں خُوش نصیب لگنے لگی ہے۔
اُس نے پتھر جیسا چہرہ اپنے سامنے بے بس پڑے دیکھا تھا۔
اس پر آنسو بہائے تھے اور بین کئے تھے۔
کاش میں بھی اتنی خُوِش بخت ہوتی۔
مجھے تو وہ ساری آوازیں سننی پڑ رہی ہیں جو گھر کے دروازے پر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
مجھے خبر ہے وہاں ایک نہیں پتھر جیسے چہروں والے کئی ہیں۔
وہ بھی ان ہی میں ایک ہے۔ ان سب کے بیچ اَپنی پہچان کھونے والا۔
اُن سب کو میرے گومڑ نے مشتعل کر رکھا ہے۔
ابھی میرا گومڑ نہیں پھٹا۔
مگر انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ پھٹ گیا تو ان سب کے گھر اور گلیاں خُون اور پیپ سے لت پت ہو جائیں گے۔
دروازہ ٹوٹ چکا ہے۔
اب وہ مجھے دھکیلتے ہوے شہر سے باہر لے جارہے ہیں۔
میں گرتے پڑتے اُن کے آگے آگے بھاگ رہی ہوں اور وہاں پہنچ جاتی ہوں جہاں پھسلن ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے۔ پتھر چہروں والے سارے مرد‘ کہ جن کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہےں‘ پھسلنا شروع ہو گئے ہیں۔
ان میں سے کسی ایک کو بھی چوٹ نہیں لگ رہی اور مجھے اس پر تعجب نہیں ہو رہا۔
میں اپنے گومڑ کو دیکھتی ہوں اور اُن کے پھسلتے اور اُچھلتے بدنوں کو دیکھتی ہوں۔
پھر اس تضاد پر زور زور سے قہقہے لگاتی ہوں اور اس کے لےے بانہیں کھول دیتی ہوں جو میرے پیدا ہوتے ہی مجھے اَپنی گرفت میں لینے کے جتن کر رہی تھی۔


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

28 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » منجھلی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » ناہنجار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد – M. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *