M. Hameed Shahid
Home / افسانے / جنریشن گیپ|محمد حمید شاہد

جنریشن گیپ|محمد حمید شاہد

generationgap

٭
اُٹھ نی سوہنیے
تیرا ویر ویاہیا
==

اَری چھوڑ‘ کھیل لینے دِے ان بچوں کو‘ تو ڈال پٹھے مشین میں۔ میں مشین گیڑ رہا ہوں اور تو بچوں میں گم ہے۔ بڈھی گھوڑی لال لگام۔ جی چاہتا ہو گا اُن میں گھمن گھیری ڈالو۔ اَری چھوڑ بھی۔ خالی مشین کے ٹوکے گھرڑگھرڑ کر رہے ہیں۔ دِے پٹھّے مشین میں۔ کُترا نہ ہوگا تو بارہ بے جان جی ہمارے کھونٹوں سے بندھے بندھے بے جان ہو جائیں گے۔
:×:
اے ہے ‘ بس بس ‘یوں ہی بولے جارہے ہو۔ مشین کم اور زبان زیادہ گیڑتے ہو تم بھی۔ میں تو بچیوں کے اکھروں پر سوچ رہی تھی۔
اُٹھ نی سوہنےے‘ تیرا ویر ویاہیا
دیکھو تو سہی‘ سوہنی کس پُھرتی سے اُٹھی ہے۔ اور کیسے مزے میں مسکرا رہی ہے۔
==
اری چھوڑ چھوڑ۔ وہ تو بچیاں ہیں۔ کھیل کھیل میں خُوش نہ ہوں گی تو اور کیا کریں گی؟تو ڈال پٹھّے مشین میں۔
:×:
پوری بات تو سن لیا کرو۔ میں سوچتی ہوں اب بیٹے کا گھر بسانا چاہیے۔ میری ہڈیاں تو کھوکھلی ہو چلیں۔ کمر میں روز روز کا درد اور اُوپرنامراد کھانسی۔ بسالے بیٹے کا گھر۔ اَرے لے آ بہو۔ میں بھی تو کچھ روز سکھ کا سانس لوں۔
٭
وڈّے لاہوروں آیا تتر
تترے کیتی بھیڑ لڑائی
چم چڑی چھڑاون آئی
چم چڑی نو ںلگا ڈنڈا
نکل وے توں رام چندا
==
اری او‘ سن رِہی ہے اب تو بھی بچیوں کو؟
:×:
ہاں سن رہی ہوں۔
==
سکھ کے تَانے میں دُکھ کا بانا مت ڈال۔
:×:
تو کب سنے گا میری۔ بس اَپنی کہے گا۔
==
اَچھا اَچھا سن لیا۔
:×:
پھر مان بھی لے نا۔
==
اچھا مان لیا۔
:×:
تو کرو گے بات بیٹے سے؟
==
ہاں ہاں کروں گا۔ اب ڈال پٹھے مشین میں۔
:×:
ےہ لے ۔ ہمت کر۔ زور سے گیڑ۔ اور لے۔
==
بس کر‘ بس کر۔ اب بس بھی کر۔ سمیٹ کُترا‘ رَکھ چھپر تلے اور چل ڈیرے۔ ڈال مدہانی ڈولے میں۔ بلو ایسی لسّی کہ تھکن دور ہو۔
:×:
تو پھر میں چلی۔ آجانا تم بھی۔ اللہ بیلی!
==

اللہ بیلی!
ٍ
==
ارے او حرام خور‘ کہاں ہے تو؟
ً++
حاضر ہوں سرکار۔
==
حقہ لا اِدھر۔
ًً++
ابھی لایا سرکار۔
==
ارے لے بھی آ‘ خوب تازہ کرنا اُسے۔
ًً++
آ….آ….آ….آے ےہ لیں سرکار۔ ابھی تازہ کیا ہے چوبچے میں۔
==
ارے بک تو نہیں رہا؟
ًً++
نہیں سرکار…. بگّی جوڑی ابھی باندھی ہے رہٹ میں ‘ محض حقّہ تازہ کرنے کو۔ ماہل کی ٹینڈوں کا جب باسی پانی پڑچھّے سے ہوتا‘ چوبچے سے بہہ چکا‘ تب رَکھا تھا حقّہ پانی کی دھار تلے۔
==
اچھا کیا۔
ًً++
ےہ لیں سرکار ‘خود دیکھ لیں۔ تمباکو بھرا ہوا ہے ہَوِیجے میں اور تیلی بھی دکھا دی ہے میں نے۔
==
ارے او کم ذات‘ تازہ چلم کو پہلے منھ مت مارا کر۔
ًً++
کیوں کر جوٹھا کرنے لگا سرکار کی چلم؟۔ وہ ….تو…. جی ‘میں نے سوچا ‘ذرا پانی کاسوداہی چکھ لوں‘ سرکار کے موافق ہے بھی ےا….
==
رہنے دے‘ رہنے دے۔ بڑا آیا ہم درد۔

جا سوہے کو چھپّر تلے باندھ‘ دھوپ میں بیٹھا ہونک رہا ہے۔ بگّی جوڑی کھول‘ تھک گئی ہو گی۔ چٹے متھے والے کے ساتھ ڈبے کو باندھ رہٹ میں‘ دونوں کھا کھا کرپھیل رہے ہیں۔ ذرادھوپ ڈھلے تواس پیلی میںہل چلادینا۔ لم سنگھااور بھوراسوہناقدم

اُٹھاتے ہیں ہل کے آگے۔ اِدھر سے فارغ ہو کرساتھ والی پیلی میں سہاگہ پھیر دینا اور….
ٍ
)
حد ہو گئی بابا‘ اُدھر ماں ہے کہ چھنّے میں چھاچھ ڈالے سو پھیرے ڈال چکی ہے دروازے تک۔ آنکھوں پر ہاتھ کی چھاﺅں کر کے بار بار ٹٹولتی ہے راستے کو۔ اور ادھر آپ ابھی تک اپنے دھندے میں پھنسے ہوے ہیں۔
==
اوہ‘ ابھی جاتا ہوں بیٹا
مگر تمہارے کندھے پر ےہ بیگ؟
)
میں شہر جا رہا ہوں بابا۔ ماں کہتی تھی بابا کے ساتھ کھانا کھا کے شہر جانا لیکن مجھے پتا تھا آپ اَپنی زمینوں اور بیلوں میں الجھے ہوے ہوں گے‘اس لےے کھانا کھا کے آیا ہوں۔ اور اب اِدھر سے ہی سیدھا شہر جارہا ہوں۔
==
مگر بیٹے؟
)
اچھا میں چلا۔
==
خدا حافظ ‘ مگر بات تو سن لیتے؟

تم پر اُٹھتی جوانی ہے۔ برسات میں سیلاب کے پانی اور اُٹھتی جوانی کے پاس ٹھہراﺅ کہاں؟ تم تو میرے ساوے سے بھی زیادہ اَتھرے ہو۔
ٹھہر جاتے تو میرے سینے پر تمہاری ماں کے ساتھ کیے گئے وعدے کا ایک بوجھ تھا‘ اُتار دیتا…. مگر تم تو جا بھی چکے۔

ٍ
ًً++
سرکار۔
==
ہونہہ؟
ًً++
مَا شاءاللہ اکلوتی اولاد ہے آپ کی۔ لائق ہے۔ ولایت سے بھی آیا ہے پڑھ کے۔ سات کلے لگا دیے آپ نے اس کی پڑھائی پر۔ اور اب سنا ہے افسری بھی مل گئی ہے چھوٹے سرکار کو۔ جب دفترجانے لگیں گے توخوب ٹھاٹھ ہو ںگے۔ بنگلہ‘ گاڑی‘نوکرچاکر اور پنڈ جتنے لوگ حکم کے پابند۔ پھر کیوں دُکھی ہو جاتے ہیں آپ چھوٹے سرکار کودیکھ کر؟ خُوش ہوا کریں جی خُوش۔
==
خُوش کون نہیں ہونا چاہتا پگلے؟ لیکن خُوشی کوئی چولا تو نہیں ہوتا نا‘ جب چاہا پہن لیا۔ ےہ تو بس اندر سے پھوٹے تو پھوٹے ۔ اور میرے اندر کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔ کوئی گھپلا ہو گیا ہے کہیں۔ تار ڈِھیلے ہوں تو لاکھ مشاق اُنگلیاں مہمیز کریں‘ من بھایا سُر نہیں چھڑتا۔
ًً++
مگر سرکار‘ آپ کو کاہے کا غم؟ آپ سب کے لےے اچھا سوچتے ہیں‘ اس لےے سب ہی آپ کے لیے اچھا سوچتے ہیں۔ دانہ کپڑا چوکھا۔ سونا اگلتی زمین۔ اور سوہنے بیلوں کی چھ جوڑیاں۔ اپنا گھر۔ اور گھرہستن ایسی کہ سرکار پرواری واری۔ گھبرو پُتّر۔ وہ بھی چنگا بھلا لکھا پڑھا۔

اور پھر ایسا افسر لگنے والا کہ پنڈ جتنے لوکی اِشارے کے منتظر۔
==

++

تم شاید ٹھیک کہتے ہو۔ اصولاً مجھے کوئی دُکھ نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن میں نے کہا نا‘ کوئی نہ کوئی تار ڈھیلا ہے۔ اور جب میرا بیٹا سامنے آتا ہے تب تو ےہ احساس کچھ اور گہرا ہو
جاتا ہے۔
نہ سوچا کریں ایسا سرکار۔ نئی نسل تھوڑی سی بے فکری ضرور ہے مگر ہے بہت با سمجھ‘ عقل والی۔ بڑے بڑے فیصلے کرنے والی۔
ایسے فیصلے جو حیرت کی خیرات بانٹتے ہیں۔
==
اسی بات کا خوف ہے نا‘ اسی بات کا۔ آج تک اُس نے مجھے موقع نہ دیا کہ میں

ےہ جان سکوں‘ اس کے دِل میں کیا ہے؟ نہ اس نے کوشش کی‘ مجھے اندر سے ٹٹول سکے۔ وہ بند مٹھی کی طرح ہے اور میں بند کمرے کی طرح۔ وہ کسی آن کھلتا ہی نہیں اور میرا در کوئی کھولتا ہی نہیں۔ بگولے کی طرح آتا ہے میرے سامنے…. اور …. پھر ےہ جا وہ جا۔ میں تو لفظوں کو تولتا ہی رہ جاتا ہوں ےوں ہی بس۔
ًً++
نہ سوچیں سرکار۔ دِل چھوٹا مت کریں۔ سب وہم ہے جی سب وہم۔
==
اللہ کرے ایسا ہو۔ اچھا میں چلا ۔ ذرا دھیان سے رہنا‘ تگڑے ہو کر۔ کالے تھم والے کی پیٹھ مل دینا اور تیل دے دینا چکلی جوڑے کو‘ گھیںگھیں کر رہی ہے کب سے۔ لے میںچلا۔ ہوشیار ہو جا۔

ٍ
==
لے آ نیک بختے لسی روٹی۔
:×:
آگئے؟ کتنی دیر لگا دی۔ کب سے دیکھ رہی ہوں راہ۔ اور ….ر….بات کی بیٹے سے؟
==
…………
:×:
ارے چپ کیوں ہو؟ بولو تو۔ مگر تم کیوں کرو گے بات۔ تمہیں کاہے کی فکر؟ دیواروں سے باتیں کر کے میں باﺅلی ہو رہی ہوں تو تمہیں کیا؟ میرا دِل کرتا ہے‘ اس آنگن میں بہو آئے۔ میرے پاس بیٹھے۔ میرے سر میں تیل ڈالے‘ کنگھی کرے اور میٹھی باتوں کا مرہم رکھے۔ صحن میں بچوں کی کلکاریاں گونجیں۔ وہ دوڑیں‘ چیخیں‘ شور مچائیں‘ شرارتیں کریں۔ میں اُنہیں روکوں‘ جھڑکوں‘ پیار کروں‘ دِلاسے دوں۔ مگر تم؟ تم تودرجن بھربیلوںکے ساتھ خُوش ہو۔ جی
گھبراتا ہے تو بیل ہانک کر کبھی اس پنڈ اور کبھی اُس پنڈ۔ کہ روز بیلوں کے جلسے اور

==
میلے ہوتے ہیں چاروں طرف۔ مقابلے میں بھاگتے بیلوں میں تمہاری خُوشی چھپی
ہوئی ہے ۔ اور جو میں چاہتی ہوں تم احساس کی اس سطح کو چھونا بھی نہیں چاہتے۔
چپ ہو جا نیک بخت۔ چپ ہو جا۔
:×:
جب پورے پندرہ ورہے گزر گئے تھے ہماری شادی کو۔ اور میرے کوکھ بنجر زمین کی طرح بے آباد تھی۔ تم بات بات پر جھنجھنا اٹھتے تھے۔ تب بھی میں چپ تھی۔ پھر جب اُمید بندھی تھی تو ایک سرشاری سی میرے پہلو میں سرسرائی تھی۔ جیون کی لذّت کا ایسا بھرا ہوا چھنّا میں نے پہلے نہ پیا تھا۔ وقت کو جیسے کونج کے پر لگ گئے تھے۔ جب وہ شہر پڑھنے گیا تھا تو مجھے لگا تھا‘ میرے ہاتھوں سے جیون کا لذّت بھرا چھنّا پھسل گیا ہے۔پھر وہ وہاں سے ولایت گیا پڑھنے کو۔ اور جب واپس آیا تو خبر سنائی کہ شہر میں اچھی نوکری مل گئی ہے۔ انتظار کے تتے توے پر میری ایک ایک بوٹی دھری ہوئی ہے۔ کی ہوتی نا….بات اس سے۔
==
چپ کر نیک بختے‘ چپ کر۔ اپنا من نہ کھول۔ آنے والے وقت کی چاپ سن۔
:×:
مگر حرج کیا ہے بات کرنے میں؟ اس سے پہلے کہ وہ شہر کے دھندوں میں ایسے پھنس جائے جیسے تم اپنے بیلوں میں پھنسے ہوے ہو‘ میرے پاس میرے بہو چھوڑ جائے۔ میں اس میں اس کی مہک تلاش کروں گی۔
==
دِیکھ آس کا دامن اتنا مت پھیلا۔ خواہش کی ڈور اتنی دراز نہ کر۔ ٹوٹی آس اور ڈوبی خواہش پر رونا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ مٹی کی باس جس کے قدم نہ تھامے‘ تیرے میرے لہو کی خُوشبو جس کے نتھنوں میں گھسے‘ مگر چہرہ کھڈی پر چڑھی کھدر کی طرح تنا رہے۔ جو کچی دیواروں کے سائے میں ٹک کر نہ بیٹھ سکے اور پکے بنگلوں‘ لمبی لمبی گاڑیوں کے سپنوں میں ایسا گم ہو جائے کہ اسے ماں باپ کے من کی پوٹ کھولنے کا خیال تک نہ رہے‘ اس کے کھونٹے سے امید کا بیل مت باندھ۔
:×:
ہاں تم سچ کہتے ہو۔ پر…. پر اپنا من تو نہ مانے نا۔ من کا علاج کر۔ لے آ۔

ہاںلے آبہو ۔
==
اچھا پھر آلینے دے اسے۔

ٍ
::::
رئیلی میں نے بہت مس کیا ہے تمہیں۔
):(
مگر میں نے سنا تھا تمہاری اس سے خوب نبھ رہی ہے۔ ارے بھئی کیا نام تھا اس کا؟

و….وہی‘ جو پہلو والی نشست پر بیٹھا کرتا تھا کلاس روم میں۔ وہی جو تمہارے گریئش روزی گالوں اور ٹرمنڈ بالوں کی جا بے جا تعریف کیا کرتا تھا۔
اور….
::::

ایک دم باسٹرڈ ہے۔ ال مینرڈ مین۔ میری اس سے ویڈ بھی ہو گئی تھی۔ مگر مجھے بعد میں ایکسپلور ہوا کہ آدمی اپنے سٹریٹنڈ آرب سے نہ نکلے گا۔ وہ مجھے ویڈڈ بلیس نہ دے سکتا تھا۔ چناں چہ مزری سے بچنے کے لےے ڈسیئن لے لیا ڈائیوورس کا میں نے اس سے۔ فولش کہتا تھا‘ مجھے نور کے دائرے سے مت نکالو‘ سکھ کا پھول چیٹنگ‘ ڈیسپشن اور چالاکی کے تپتے صحرا میں نہیں اُگ سکتا۔ لو سپرٹیڈ۔ ڈرپوک۔ سلی۔
):(
لیکن شاید میں۔ میں بھی اسی جتنا ڈرپوک ہوں۔
::::

اوہ نو تم۔ تم تو رئیلی اُس سٹوپیڈ سے بالکل ڈفرنٹ ہو۔ میں تم میں حوصلے کی خُوشبو سمیل کر رہی ہوں۔ اور پھر تمہیں جس اَٹریکٹو جاب کی اَپرچونٹی ملی ہے اس میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی تمہاراسٹیٹس اُس سے کہیں بلند ہو گیا ہے۔
):(
::::
کب لی ڈائیوورس تم نے اس سے؟
کل صبح ہی۔ جب مجھے تمہارا پیغام ملا کہ تم مجھے ملنے آﺅ گے اور ےہ بھی کہ تمہیں کال

لیٹر چاری ہو چکا ہے اس کی پوسٹ کا۔ تب میں نے فیصلہ کیا وہ باسٹرڈ میرے قابل

):(
نہیں ہے۔ میرا ساتھی تو تمہیں ہونا چاہیے۔
مگر؟
::::
مگر وگر کچھ نہیں۔ آئی لو ےو ڈارلنگ۔
):(
میں بھی تم سے لَو کرتا تھا۔ اور شایداب بھی کرتا ہوں۔ مگر میں سب کچھ اس امید پر

کرتا رہا کہ تم میری منتظر ہو گی۔ لیکن….
::::
اوہ ڈونٹ بی سلی۔ میں تمہاری منتظر ہوں۔ ایک غلط ڈسیئن ہوا تھا مجھ سے‘محض ےہ جان کر کہ تم بہت دور جارہے ہو‘ ایسا نہ ہو کہ پھسل جاﺅ‘ اور میں راہ دیکھتی رہوں۔ بہ ہر حال میں نے تلافی کر دی ہے۔ آﺅ کلب چلیں‘ وہیں باتیں کریں گے باقی۔ چلو بھی نا۔ لٹ اَس موو۔
):(
چلو۔

ٍ
:×:
سن رہے ہیں آپ؟…. کیا کَہ رہا ہے ےہ۔
==
میں تو ےہ سننے کے لےے بہت پہلے سے تیار تھا۔
):(
آپ دونوں حیران کس بات پر ہو رہے ہیں؟ آپ دونوں بھی آجانا۔ شریک ہو جانا نکاح میں۔ اور ولیمہ لنچ میں بھی۔ اسی ماہ کی پچیس کو ہے۔ کل فرسٹ ہے اور مجھے لازماً آفس جوائن کرنا ہے۔ کوٹھی بھی مل رہی ہے مجھے وہیں۔ پھر شاید نہ آسکوں ےہاں۔ پتا بھجوادوں گا۔ ہم تو ادھر ہی رہیں گے دونوں۔ آپ بھی کبھی کبھی آ جایا کیجیے گا۔ کچھ ماحول بدل جایا کرے گا۔ اچھا میں چلا۔ میرے کچھ کاغذات رہ گئے تھے ےہاں‘ وہ لینے آیا تھا۔
ٍ
++
سرکار۔ چھوٹے سرکار کو روکیے نا۔
ً==
جانے دے …. جانے دِے اسے۔
ًً++
بی بی جی آپ ہی روک لیں نا‘ چھوٹے سرکار کو۔
:×:
ٹھہر جاﺅ نا بیٹا۔ مجھے ذرا سکون سے بتاﺅ تو میری بہو کیسی ہے؟
):(
مجھے جلدی ہے ماں۔ بابا کے ساتھ جب شادی والے دِن آﺅ گی تب دیکھ لینا۔ اچھا میں چلا۔


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

36 تعليق

  1. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » سجدہ سہو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » کفن کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » جنم جہنم-2|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » بند آنکھوں سے پرےM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » ماسٹر پیس|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  33. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  34. Pingback: » کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  35. Pingback: » تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  36. Pingback: » آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *