M. Hameed Shahid
Home / افسانے / بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہد

بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہد

bhurkas kahaniun ka

اِدھر ‘ یہاں میں ایک ایسے ریٹائرڈ شخص کے بارے میں گمان باندھنا چاہوں جسے اَپنے بیوی بچوں سے محبت ہو‘ جسے وہ بھی چاہتے ہوں مگر وہ اُن سے اِس خیال سے الگ ر ہے کہ یوں زیادہ سہولت سے رہا جاسکتا ہے اور خُوش بھی۔ یقین جانیے‘ مجھ سے ایسا گمان باندھنا ممکن نہیں رہتا ۔ جس ماحول میں‘ مَیں پلا بڑھا ہوں اور جس ماحول میں میری نفسیات مرتب ہوئی ہیں‘ اُن میں بس ایسے گھر کا ہی تصور موجود ہے؛ جو محبت بھری آوازوں اور چہکار سے لبالب بھرا رہتا ہے۔ جس میں خوب کھینچا تانی اورتُوتکار ممکن ہے۔ جس میں دوسروں پر اپنا اپنا حق جتلایا جاتا ہے ‘ حق دِیا جاتا ہے اور لیا جاتا ہے۔ میرے گمان میں ایک کام یاب ریٹائرڈ آدمی وہی ہے جو بعد میں ایک بادشاہ کی طرح گھر کا سربراہ رہے ‘ چاہے علامتی طور پر سہی ۔
اور جوایک ہی شہر میں رہتے ہوے بھی بیوی سے اور بچوں سے الگ ہو رہتا ہے‘ اِس خیال سے کہ یوں خُوش رہا جا سکتا ہے‘ اِسے میری نفسیات کی کجی کہےے کہ میں ایسے بوڑھے شخص کو خبطی سمجھنے لگتا ہوں۔ سترا بہترا ۔ یا اس کے بیوی بچوں میں نافرمانی اور ناخلفی کے آثار تلاش کرکے اُنہیں دوزخ کا اِیندھن باندھنے والاگرداننے لگتا ہوں ۔
مگر یوں ہے کہ چالیس‘ بیالیس سال پہلے ‘اُدھرسات سمند ر پا رجانے والا ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے اِسی چلن کو وتیرہ کرلیا ہے اور میری نفسیات کو تہ و بالا کرکے مجھے یقین بھی دِلا دِیا ہے کہ یوں خُوِش رہا جاسکتا ہے۔
جی‘ میں کسی اور شخص کی بات نہیں کر رہا‘ اُس کی بات کر رہا ہوں جو کہیںاَب آکر مجھ پر رَفتہ رَفتہ کُھل رَہا ہے ‘ یوں جیسے آپ ایک ایسی خوب صورت مجلد کِتاب کو دِیکھتے ہوں جس کے سارے ہی اوراق سادہ رہ گئے تھے یا اس میں کہیں کوئی تحریر ہے بھی تو اِتنی بے ضرر کہ آپ اُسے پڑھتے ہیں تو آپ کے اَندرکوئی اُتھّل پُتھل نہیں ہوتی ۔ دِل جہاں ہوتا ہے‘ عین وہیں رہتا ہے۔ نگاہیں سطروں کے عقب میں جھانکنے کو بے قابو نہیں ہوتیں کہ جو کچھ ہے سامنے دَھرا ہے‘ اُس منظر کی طرح جسے آپ روز دیکھتے ہیں ۔
یہ سچ ہے کہ کل رَات تک میں اُسے یوں ہی بے ضرر اور سیدھا سادا آدمی دیکھتا اور سمجھتا رہا ہوں۔ کچھ سال پہلے اُس نے جب مجھے یہ بتایا تھا کہ و ہ اُدھر باہراکیلا رہتا ہے‘اور خُوش رہتا ہے۔ نہ صرف مطمئن ہے ‘اُس کی بیوی اور بچے بھی یوں رہنے پر خُوش ہیں ‘تو یوں ہے کہ پہلے پہل میں بوکھلاہی گیا تھا ۔ مگر جب وہ اَپنی بات کَہ کر اُٹھا تھا اور میں نے پلٹ کر صوفے کے اُس خالی حصے کو دیکھاتھا‘ جہاں کچھ دِیر پہلے وہ بیٹھا ہوا تھا تو مجھے وہاں سے ایک مستغنی اور مطمئن شخص کی مہکار اُٹھتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
وہ اِس عرصے میں لکھنے لگا تھا ۔ جاتے جاتے مجھے اَپنی دو نئی کتابیں تھماتا گیا ۔ ایک میں بقول اس کے کہانیاں تھیں اور دوسری میں ہائیڈ پارک کی دُنیا بسی ہوئی تھی۔
پہلے میںنے اُس کی یادداشتوںکی کتاب پڑھی اور پھر دوسری کتاب کی چند اِبتدائی کہانیاں۔ مجھے دونوں کا ذائقہ ایک سا لگا۔ یادداشتوں کو کہانی کی طرح بنادِیا گیا تھا جب کہ کہانیوں کے متن سے یادداشتیں جھلک دے رہی تھیں ۔ میں نے ان تحریروں سے اُسے سمجھنا چاہا تو وہ ویسے کا ویسا ہی رہا‘ جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ ائیر پورٹ کے قریب ‘اَپنی بیوی سے الگ اور اپنے بیٹے اور بیٹی سے دور ‘چھوٹے سے گھر میں اکیلا‘ مگر خُوش رہنے والا ۔ اَپنی کتابوں کے ساتھ ‘ بل کہ ان کے نشے اور ترنگ میںیا پھر چیزوں پر ‘ دیواروں اور دروازوںپریہاں وہاں سے گرد کے ذرّے ڈُھونڈ ڈُھونڈکر انہیں جھاڑنے اور اِس مصروفیت سے اُوب کر کچن میں گھس جانے والا اور وہاں پہروں وہیں گزار دینے والا۔
پہلی کتاب میں دوسری کتاب کا متن ملانے کے بعد میں جان گیاہوں کہ وہ ہیز مڈل سیکس سے ہائیڈ پارک کی طرف تواترسے نکلتا رہتا ہے ۔ وہ لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر‘ کچھ بس میں اور کچھ ٹیوب میںکرتاہے ۔ اور یہ سفر محض اس لیے کرتا ہے کہ اُسے وہاں سرپن ٹائن جھیل تک جانا ہوتاہے ۔ اَپنی مخصوص جگہ ڈیک چیئر پر اپنے طریقے سے بیٹھنے کے لیے ۔ وہ اِدھر اُدھرچائے کے تھرمس اور کھانے پینے کی اشیا کو سلیقے سے رکھ کر اپنے بیگ سے رائٹنگ پیڈ‘ قلم اور کیمرے کو نکال کر یوں بیٹھ جاتا ہے جیسے مچھلیوں کاکوئی شکاری پانی میں کانٹا ڈال کر بیٹھ جایاکرتا ہے۔
یہ جو میں نے کانٹا لگا کر بیٹھنے کی بات کی ہے تو یوں ہے کہ اُسے وہاں اجنبی اور سیاح لوگوں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ۔ بل کہ مجھے صاف صاف کہنا چاہیے کہ فی الاصل اُسے بات نوجوان سیاح لڑکیوں ہی سے کرنا ہوتی ہے۔ افریقی لڑکیاںہوںیافلپینو‘ایرانی ہوںیاچینی‘سویڈیش ‘ پولش‘ عراقی‘ اٹالین یا کویتی لڑکیاں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘کہ وہ سب سے ملتاہے ۔ کوئی دُبلی پتلی اور اُونچے قدوالی ہوتی ہے تو کوئی بھرے ہوے جسم اور چمکتی تنی ہوئی جلد والی ‘ کسی کو اَنگریزی نہیں آتی ‘ کسی کو ملازمت نہیں مل رہی ‘ کسی کو اس کا چاہنے والا چھوڑ گیا ہے؛ وہ سب سے ملتا ۔ لگ بھگ ہر بار یوں ہوتا کہ اُسے ہی بات کو آغاز دِینا ہوتاہے ۔
اِس معاملے میں عمر بھر کا تجربہ اس کے پاس ہے ۔ وہ یہ گُر بھی سیکھ چکا ہے کہ اُسے کسی کی توجہ کیسے حاصل کرناہوتی ہے۔ ایک بار بات شروع ہو جاتی تو وہ چاہتا ہے کہ اس ملاقات میں سے ایک اور ملاقات کو نکالا جائے۔ اِس کا حیلہ اُس نے پہلے سے کر رکھا ہوتا ہے۔ اُس کے پاس ایک کیمرہ ہوتا ہے ‘ بقول اُس کے ڈسپوزایبل کیمرہ۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرازوم لینز والا اور اعلیٰ کوالٹی کا کیمرہ رکھے مگراس نے اس سستے کیمرہ کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ کوئی تصویر بنانے پر برہم ہوجائے اور کیمرہ چھین لے تو نقصان پی جانے کی حد میں رہے ۔
جب اِتنے جتن سے ایک بار بات شروع ہو جاتی ہے تو وہ ہمت کرکے اُن کی تصویریں بھی لے ہی لیتاہے۔ جو اسے پتا لکھوادیتی ہیں انہیں ان کی تصویریں پوسٹ کر دی جاتیں اور جس سے یہ ایک بار پھر ملنا چاہتا ہے‘ اسے ٹیلی فون کرکے بتاتا ہے؛ وہ اُس کی تصویریں لے کر فلاںدِن اور فلاں وقت پر ہائیڈپارک پہنچے گا۔ آﺅ‘ ملو اور لے جاﺅ۔
یہ لڑکیاں ‘ یہ جوان لڑکیاں ‘ یہ یہودی‘عیسائی ‘ لادین لڑکیاں سب تھوڑا تھوڑا کرکے اس کا وقت بانٹ لیتی ہیں۔
ان میں سے ایک تو ایسی ہے جس نے لگتا ہے اس کا دِل ہی اُچک لیا ہے ۔
اگر میں اُس کی تحریر وںکو اس کے کیمرے سے لی گئی تصویروں سے جوڑنے میں کوئی غلطی نہیں کر رہا تو دِل مٹھی میںلینے والی ہائیڈ پارک میں اُسے ملنے والی یہ وہی چینی شہزای ہے جس کی تصویر دکھاتے ہوے اس کے گالوں میں تھرتھری سی دوڑ گئی تھی۔ اس نے اس تصویر کو اَپنی کتاب کے فلیپ کی زینت بھی بنادیا ہے۔
جب تک تصویر میرے ہاتھ میں رہی‘ وہ ایک الگ سی کیفیت میں رہا ۔ ایک لطف کے اِحساس کے ساتھ وہ مجھے اِطلاع دے رہا تھا کہ اسے ڈھنگ سے انگریزی نہیں آتی تھی ۔ یہ کوئی اچھی خبر نہیں تھی اور نہ ہی اس خبر میں اس لطف کو تلاش کرپایا تھا جس کے مطابق ناقص انگریزی کی وجہ سے اسے وہاں نوکری نہیں مل رہی تھی ۔ جس لڑکی کا قصہ سنایا جا رہا تھا وہ دل برداشتہ تھی مگر کہانی سنانے والا اُس کے دُکھ سے کہیں زیادہ ایک لڑکی کی تصویر سے اُٹھتی اُس عجب سی مہک سے جڑا ہوا تھا‘ جس کا بہ ظاہر کوئی وجود نہ تھا مگر وہ وہاں سارے میں تھی ۔ کچھ اس طرح جیسے وہاں اس لڑکی کی تصویر نہ تھی اس کا زندہ وجود تھا‘ مہکتا ہوا ۔
مجھے اس لڑکی سے ایک دل چسپی سی ہو چلی تھی ۔ اس کے چلے جانے کے بعد میں نے اس کی کتاب میں اس لڑکی کا ذِکر تلاش کر لیا۔ اور ایسا جملہ بھی جس کے مطابق وہ دُنیا کی حسین ترین لڑکی تھی۔ میں نے کتاب کے فلیپ والی تصویر کو ایک بار پھر دیکھا۔ پھینی ناک‘ قدرے چوڑی پیشانی ‘ اُبھرے ہوے گال ‘ جو آنکھوں تک اچھل کر انہیں دبا رہے تھے ۔ یقینا اس لڑکی کا رنگ گورا ہوگا مگر کیا اسے حسین لڑکی کہا جا سکتا تھا؟
میں بہت دیر تصویر دیکھتا رہا حتّٰی کہ مخمصے میں پڑ گیا۔
میں نے اوپر کہا ہے کہ اس کی کہانیاں اور یادداشتیں ایک دوسرے میںگڈمڈہو جاتی ہیں اور دونوں اسے ایک بے ضرر انسان کی صورت دیتی ہیں‘ سوائے اس مقام کے ‘جہاں وہ پھینی ناک اور اچھلتے گالوں والی دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاتی ہے۔
میں نے اس کی چند ابتدائی کہانیوں کو پڑھ کر کتاب ایک طرف رکھ دی تھی۔ پھر ایک روز یوں ہوا کہ میری بیوی کہانیوں کی یہ کتاب اُٹھائے اُٹھائے میرے پاس آئی اور ایک شوخ سی ہنسی کے فوارے کوبہ مشکل ہونٹوں پر روکتے ہوے کتاب کے دو تہائی اوراق دائیں ہاتھ پر اُلٹاتے ہوے پوچھا:
” کیا تم نے یہ کہانی پڑھی ہے؟“
میں نے کتاب کی طرف دیکھے بغیر اُس سے پوچھا:
” کون سی کہانی؟“
” ارے بابایہ۔“
اُس نے کتاب میری آنکھوں کے سامنے اُچھال کر سامنے رکھ دی ۔ میرے سامنے اس کا افسانہ ”سہاگ رات“ پڑا ہوا تھا۔ اس افسانے تک پہنچنے سے پہلے ہی میں نے اُوب کر کتاب بند کردی تھی۔ میں نے اُس کی جتنی بھی کہانیاں پڑھیں‘ لگ بھگ ہر کہانی میں وہ واقعات کو ایک شریف آدمی کی طرح ایک عام سی ترتیب میں بیان کرتا نظر آیا ۔ میں نے اس کہانی پر پہنچنے سے پہلے ہی اسے انتہائی بے ضرر آدمی قرار دے ڈالا تھا۔ ایسا بے ضررآدمی‘ جو واقعات تو لکھ سکتا تھا اور شریفانہ کہانیاں بھی‘ مگر وہ انہیں تخلیق پارے نہیں بنا سکتا تھا۔ شریفانہ کہانیوں میں ایک خرابی یہ ہوتی ہے کہ وہ پڑھتے ہی کُھل جاتی ہیں۔ اِس قبیل کی ایک سی کہانیوں کوپڑھتے چلے جانا‘ بتاشوں کے بعد کھانڈ کھانے کے مترادف تھا۔ تاہم میری بیوی کے پیٹ سے ہنسی کا فوارا چھوٹا تو میں اس کہانی کو پڑھنے کی طرف مائل ہوگیا۔
کہانی کے آغاز ہی میں بتادیا گیا کہ یہ ایک ایسے خان کی کہانی ہے جو اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔ جو بہت شریف تھا اتنا کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اسے اچھے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اِسے میری محسوسات کا شاخسانہ سمجھئے یا پھر کہانی کے اسلوب کا معاملہ کہ میں کہانی کے خان کو کہانی کے مُصنّف کے وجود کا حصہ سمجھنے لگا تھا۔ اس افسانے میں خان کی جوانی کا قصہ ایک راوی کی زبانی بیان کیا گیا تھا ۔ کہانی کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ راوی نے خان کو طیش اور ترنگ میں لا کر یہ قصہ کَہ ڈالنے پر مجبور کردیا تھا تاہم خان نے اَپنی کہانی سنانے سے پہلے یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ لوگ اگرچہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ وہ اَپنی مردانہ کمزوری کی وجہ سے شادی نہیں کر رہا مگر حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ لوگ غلط قیاس لگاتے تھے۔ مصنف نے یہ جملہ اس اہتمام اور ایسے ڈھنگ سے لکھا تھا کہ پڑھتے ہوئے ذہن نشین رہتا تھا۔
اس کے بعد کہانی طوائف کے کوٹھے تک پہنچنے میں دو دن لگاتی ہے ۔ وہاں پہنچ کر رُکتی نہیں کہ اسے خان جی کو مرد ثابت کرنے کے لیے بقول افسانہ نگار”وہ کام“ بھی کرنا پڑتا ہے۔ کہانی میں کئی ایسے موڑ آئے جن کو اِختصار کے پردے میں چھپایا جا سکتا تھا مگر طول نویسی کی ہوس میں مبتلا یہ لکھنے والا سب کچھ کھول کھول کر بیان کرتا چلا گیا ہے ۔
اب مجھے اَپنی بیوی کے ہنسے چلے جانے کی وجہ سمجھ آگئی ہے ۔
جب یہ کہانی لکھنے والا مجھے ملنے آیا تھا تو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر اُس سے اُس کی زِندگی کے دلچسپ قصے سنتی رہی تھی ۔ اسی نشست میں اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اُس کی پہلی شادی یہاں اپنے وطن میں ہوئی تھی۔ جب دلہن کو لے کر بارات واپس آرہی تھی تو اُسے برقعے میں سر سے ٹخنوں تک لپٹی دلہن کی سرخ جوتیوں سے جھلکتے گورے گورے پاﺅں دیکھ کر یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ باقی لوگ بھی اس کے پاﺅں دیکھ رہے ہوں گے ۔ میری بیوی نے یہ سنا تو ہنس کر کہا تھا:
”ہماری مائیں بھی کچھ اِسی طرح دلہن بنی تھیں۔“
میری بیوی کی بات سن کر وہ ہنس پڑاتھا اور بتایا:
”اب میری دوسری بیوی جاب کرتی ہے ۔ میری بیٹی بھی خود کفیل ہے ۔ پہلے پہل وہ رات دیر سے آیا کرتی تھی تو میں پریشان ہو جایا کرتا تھا ‘مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔ اُن کی اَپنی زِندگی ہے اور میری اَپنی ۔“
لگتا ہے میری بیوی بھی میری طرح اُسے بے ضرر آدمی سمجھتی رہی ہے ۔ تبدیل ہوتی دنیا کے ساتھ بدل جانے والاآدمی ۔ بدل جانے والے اپنوں کے لیے اَپنی محبت اور اپنے جذبے سرنڈر کرنے والا۔ تو یوں ہے کہ اس کوٹھے والی کہانی کے بعد ہم دونوں کے لیے وہ آدمی جو بے ضرر تھا‘ بے ضرر اور ٹھس نہ رہا تھا ۔
اسے میری محسوسات کاشاخسانہ کہیے کہ اس میں موجودتبدیل ہوچکے آدمی کے ساتھ ہی اس کی کہانیوں اور یادداشتوں نے بھی اَپنی جون بدل لی ہے۔ اب ہائیڈ پارک کی لڑکیاں صرف وقت گزاری کا حیلہ نہیں ہیں ۔ اس کی ایک کہانی‘ جس کا عنوان ”رانی“ رکھاگیا ہے ‘ مجھے بتا رہی ہے کہ میاں بیوی کی محبت کا تقاضا کیاہوتا ہے۔ یہی کہ وہ ایک دوسرے کو محسوس کریں اور پاس پاس رہیں۔ ایک اور کہانی میں بیٹی کو ایسی زنجیر بنی رہنے کا مشورہ دِیا گیا ہے جو ماں باپ کو جوڑنے کا کام سرانجام دیتی رہے۔ کچھ کہانیاں چھوڑ کر ایک ایسی کہانی آتی ہے جس میں منھ پھٹ اور تلخ لڑکیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ کوئی بزرگ اَپنی تنہائی بانٹنے کے لیے اُن کے پاس آئے تو انہیں اَپنی تلخیوں کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے ۔ خاندانی ڈھانچے‘ نامی کہانی میں اس خاندانی نظام کا نقشہ کھینچا گیا ہے جس میں ایک دوسرے کو خُوِش رکھنے کے لیے قربانیاں دے چلے جانے کی روایت ملتی ہے۔
لیجیے‘ میری بیوی نے مجھے ایک ایسی کَہانی پڑھادِی ہے کہ اَپنی بیوی بچوں کی خُوشی کے لیے ان سے الگ رہنے والاآدمی کہیں پیچھے رہ گیاہے اور ایک ایسا شخص میرے سامنے آکھڑا ہوا ہے جو زِندگی اور اپنوں سے مل بیٹھنے کی تاہنگ سے لبالب بھرا ہوا ہے۔ بالکل ویسا ہی‘ جیسا کہ‘ میری اَپنی حسی تربیت نے بالعموم رشتوں میں بہت اندر تک جڑے ہوے تہذیبی آدمی کا ہیولا بنا رکھا ہے۔
تو پھر وہ بااعتماد اور آزاد آدمی کہاں ہے جو ادھر ہائیڈ پارک میں تھا۔ رنگ رنگ کی جواں سال لڑکیوں سے چُہلیں کرنے والا اور اُن کے بدنوں کی خُوشبو سے اَپنی سانسوں میں مہکار بھرنے والا ۔ اس پر تو وہ آدمی حاوی ہو گیا ہے جس کی برقعے میں لپٹی دُلہن کی جویتوں سے جھلکتی جلد اُسے بے چین کرتی تھی ۔ قدم قدم پر رشتے تلاش کرنے والا قدیم اور متروک آدمی ۔ لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ آدمی ایک مُدّت سے وہاں تھا۔ چوں کہ یہ کوئی کہانی نہیں ہے لہذا اس میں قباحت نہیں ہے کہ آخر میں ایک سوال رکھ دِیا جائے اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر آج کا آدمی مکمل طور پر ان رشتوں سے اندر سے بھی کٹ گیا جنہیں وہ باہر تلاش کرتا پھر رہا ہے تو پھر کہانی کاچلن کیسا ہو جائے گا؟


محمد حمید شاہد کے افسانے

Click to read now

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر …

32 comments

  1. Pingback: » رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  2. Pingback: » تماش بین|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  3. Pingback: » نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  4. Pingback: » معزول نسل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  5. Pingback: » جنریشن گیپ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  6. Pingback: » کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  7. Pingback: » ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  8. Pingback: » گرفت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  9. Pingback: » دوسرا آدمی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  10. Pingback: » پارو|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  11. Pingback: » برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  12. Pingback: » آدمیM. Hameed Shahid

  13. Pingback: » سورگ میں سور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  14. Pingback: » مَرگ زار|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  15. Pingback: » گانٹھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  16. Pingback: » لوتھ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  17. Pingback: » آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  18. Pingback: » بَرشَور|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  19. Pingback: » جنم جہنم-1|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  20. Pingback: » جنم جہنم-3|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  21. Pingback: » پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  22. Pingback: » آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  23. Pingback: » کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  24. Pingback: » تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  25. Pingback: » موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  26. Pingback: » اپنا سکّہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  27. Pingback: » دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  28. Pingback: » وَاپسی|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  29. Pingback: » پارہ دوز|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  30. Pingback: » موت کا بوسہ|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  31. Pingback: » ہار،جیت|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

  32. Pingback: » مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہدM. Hameed Shahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *