M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / فاروق عادل |حمید شاہد کی محبت میں

فاروق عادل |حمید شاہد کی محبت میں

a9_NWpkYQ
http://shabnaama.faiz-e-zabaan.org/2014/12/27/article-urdu-farooq-adil-daily-nai-baat-2014december27/

کچھ ایسا یاد پڑتا ہے کہ وہ ملاقات فیصل آباد میں ہوئی تھی ۔ دوسرا خیال اس کی تردید کرتا ہے کہ نہیں ٗ ایسا جوہر آباد میں ہوا ، خیر ملاقات جہاں بھی ہوئی ہو، مجھے حمید شاہد کا ذکر کرنا ہے ۔ حمید ان دنوں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا طالب علم تھا ٗ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس کی تعلیم تو زراعت کے جدید طریقوں کو سیکھنے اور انہیں بروئے کار لاکر اپنے دیس کی ہریالی اور خوشحالی میں اضافہ کرنے سے متعلق تھی مگر اسے تو ادب چاٹ لگی ہوئی تھی۔ مجھ میں اتنا حوصلہ تو نہیں کہ خود کو ادیب قرار دے سکوں ٗ مگر اس کے ساتھ تعلق کی بنیاد یہی تھی۔ وہ ایک آدھ دن کی ملاقات بعد میں دوستی میں بدلی۔ پھر اس میں ایک اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اشفاق احمد کاشف کی شکل میں تھا ٗ جس کی مسیں ابھی نہیں بھیگی تھیں مگر شعر خوب کہتا تھا ٗ اس زمانے میں زرعی یونیورسٹی کا ایک طالب علم طلبہ تنظیموں کے باہمی تصادم میں جاں بحق ہوا تو اس نے کہا :

خون بہا ہے پھر سڑکوں پر
کون ہیں جو دیوانے ہوئے ہیں

یوں سرگودھا اور فیصل آباد کے ادبی حلقوں میں تین کا ٹولہ مشہور ہوا ٗ جس کا سرخیل حمید شاہد تھا ٗ حمید کو ادب کے کس میدان میں نکلنا ہے ؟ اس کا اندازہ وہ ابھی نہیں کر پایا تھا اور میرے سامنے تو کوئی منزل ہی نہ تھی ٗ بس ہم تین یار اس زمانے میں ٗ اِدھر اُدھر نکل جاتے ٗ خواری کرتے ٗ ادبی محفلوں میں منہ مارتے اور نازاں رہتے کہ کیسی کیسی باتیں ہیں جو اتنی کم سنی میں ہم جانتے ہیں۔جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ٗ ذمہ داریاں بڑھتی گئیں۔ اولاً غم روزگار نے پکڑا پھر بال بچوں نے جکڑا تو سارے شوق ہوا ہو گئے ٗ ادب پہلی ترجیح نہ رہی ٗ پھر دوست بھی بکھر گئے ۔ ٹرین جب کوچ کرتی ہے تو ڈبے میں بڑی اچھل کود ہوتی ہے مگر جب سفر شروع ہو جاتا ہے اور گاڑی کی رفتار ہموار ہو جاتی ہے تو مسافروں کو بھی سکون آجاتا ہے۔ ہماری زندگی کی گاڑی میں بھی لگتا ہے ٗ اب ایسی ہی کیفیت ہے۔ اب کچھ سکون ہوا ہے تو بچھڑے ہوؤں کا خیال ستانے لگا ہے ٗ گزشتہ رات ٹیلی فون پر اشفاق سے بات ہوئی تو پوچھا کہ زندگی سے لڑائی تو تم نے جیت لی ٗ یہ کہو تمہاری شاعری کس حال میں ہے؟ مخمور شرابی کی طرح اس نے بھی بھاری آواز میں کہا ’’چھٹتی نہیں ہے ٗ منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ٗ شعر اب بھی ہوتے ہیں ‘‘ پوچھا کہ کوئی مجموعہ وغیرہ؟ کہا کہ ’’چیزیں الگ کرکے رکھتا جاتا ہوں ۔ شاید ایک روز کوئی شکل نکل ہی آئے ٗ تم کہو ‘‘ میں نے کیا کہنا ٗ صحافت آدمی کو کتنی فرصت دیتی ہے کہ وہ کچھ کرسکے وہ بھی ادب کے میدان میں۔ پھر ہم دونوں نے اتفاق کیا کہ ہم تین مسافروں میں سے بھی ایک ہی نے منزل پائی۔ ہم نے حمید شاہد کی فتوحات کا اقرار کیا اور تھوڑا حسد بھی محسوس کیا ٗ بس اتنا ہی حسد جتنا ٗ بہت قریبی ٗ پرخلوص اور محبت کرنے والے دوستوں میں ہوتا ہے۔

کچھ لوگ موڈی ہوتے ہیں اور کچھ منصوبہ ساز ٗ حمید موڈی ہے نہ منصوبہ ساز ٗ وہ ان دو کیفیات کے درمیان کی کسی کیفیت کا شکار ہے زیادہ پرانی بات نہیں جب ہمارے دیس میں ریڈیو کا طوطی بولتا تھا ٗ طوطی تو اب بھی بولتا ہے مگر یہ دور ایف ایم ریڈیو کا ہے ٗ اس ریڈیو اور آج کے ریڈیو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرانا ریڈیو تفریح بھی دیتا تھا اور تربیت کے مواقع بھی فراہم کرتا تھا۔ اس زمانے کے خوش ذوق شاہ بلیغ الدین کی مختصر اور بے ساختہ گفتگو بڑی دلچسپی سے سنا کرتے تھے ٗ جو روشنی کے نام سے نشر ہوا کرتی۔جس میں وہ معمولی سی کسی بات سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ٗ جو چلتے چلتے کسی تاریخی واقعے میں جاپہنچتی اور اختتام پر پہنچتے پہنچتے ایک سبق پر ختم ہو جاتی۔ اس زمانے کی یونیورسٹیوں کے طالب علم اگر زیادہ باغی ہوتے تو کمرے میں کلاشنکوف چھپا کر رکھتے۔ دوسری قسم کے طالب علموں کی سب سے بڑی عیاشی ریڈیو ہوتا ٗ جس پر وہ گاہے شاہ بلیغ الدین کی بصیرت افروز گفتگو سنتے اور گاہے گانا بجانا ٗ حمید کا شمار ظاہر ہے کہ دوسری قسم کے طالب علموں میں ہوتا تھا۔ ایک روز شاہ بلیغ الدین کی گفتگو سنتے سنتے اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی اس اسلوب میں کوئی کام کروں ۔ کیا کام کروں؟ اس پریشانی میں اسے زیادہ دیر نہیں رہنا پڑا۔ خیال ہوا کہ حضورؐ کی زندگی کے چند واقعات بہتر رہیں گے۔ لیجئے بیٹھے بیٹھے منصوبہ بن گیا ٗ زرعی یونیورسٹی کی لائبریری بڑی ہی عظیم الشان ہے۔ یقیناًسیرت النبیؐ کا گوشہ بھی شایان شان ہوگا۔ بس وہاں سے کتابیں آتی گئیں ٗ نوٹس بنتے گئے۔ نوٹس بن چکے تو پتہ چلا کہ بات ایسی نہیں کہ چند واقعات اور چند صفحات میں سمٹ سکے ٗ سو بات پھیلتی گئی اور کئی سو صفحات میں جاکر مکمل ہوئی۔ کتاب کا نام رکھاگیا ’’پیکر جمیل‘‘ کہنے والوں نے کہا کہ یہ نام کیا ہوا ٗ لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات سے بڑھ کر جمیل پیکر اور کس کا ہوسکتا ہے؟ ٹیپو ہال کے کیوبیکل نمبر ۱۵میں بیٹھے بیٹھے حمید نے چند ماہ میں یہ کتاب لکھ ڈالی۔ وہ قلم جو کائنات کی عظیم ترین ہستی کے تذکرے سے رواں ہوا تھا ٗ اللہ نے اس میں برکت ڈالی اور فتوحات پر فتوحات ہوتی چلی گئیں ٗ اب میں حمید کی کتابوں کی فہرست دیکھتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ اس نے تھوڑے ہی عرصے میں کتنا کام کر ڈالا۔ پیکر جمیل کے علاوہ اس نے جو کام کیا ٗ اس کا مجھے کبھی علم نہ ہوتا اگر درمیان میں ڈیرہ اسماعیل خان کا کاشف نہ آجاتا ٗ کاشف نے مجھے اس کی دو کتابیں ارسال کی ہیں ٗ ’’اردو افسانہ ٗ صورت و معنی ‘‘ اور ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ پہلی کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ٗ تنقید سے تعلق رکھتی ہے۔ تنقید کا معاملہ چونکہ گاڑھا ہے ٗ لہٰذا میں نے اس پتھر کو چوم کر رکھ دیا اور ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ زیر مطالعہ لایا۔ یہ ایک ناول ہےٗ جس کی ابتداء چند سال پہلے آنے والے پاکستان کے بدترین زلزلے سے ہوتی ہے۔ اس کا کلائمکس مشرقی پاکستان کے المیے پر ہوتا ہے ٗ پاکستان کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کی یہ داستان پڑھتے پڑھتے بچپن کی محبت نے جوش مارا اور میں نے یہ سطریں لکھ ڈالیں۔
اس ناول میں حمید نے کہانی کہنے کا ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے میں وہ کتنا کامیاب رہا ہے؟ اس کا فیصلہ مجھے ابھی کرنا ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ میں خود کو اس سے متفق نہ کرپاؤں گا مگر اہمیت اس بات کی نہیں ٗ اس بات کی ہے کہ اس نے تجربہ کیا اور تجربہ ہمیشہ بڑے لوگ کیا کرتے ہیں۔ کیا میں اب یہ کہہ ڈالوں کہ حمید کا شمار بڑے لوگوں میں کیا جانا چاہیے؟ کتاب میں مشرقی پاکستان کا تذکرہ پڑھتے پڑھتے کئی مقامات ایسے آتے ہیں جب آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ایسے ہی ایک مقام پر میرے ساتھ بھی یہی ہوا تو میں نے کتاب بند کرکے سامنے رکھ لی ٗحمید کی تصویر سامنے تھی ٗ ’’یااللہ! میرے اس یار کی حالت ایسی ہوگئی ہے؟ سر سفید ٗ مونچھیں سفید اور آنکھوں پر عینک ٗ حالانکہ اس کی کچھ ایسی عمر تو نہیں‘‘ میں نے لحظہ بھر کو سوچا۔ زمانہ کتنی جلد بیت جاتا ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *