M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / بی بی سی اردو|ذی ہوش قصہ گو

بی بی سی اردو|ذی ہوش قصہ گو

ذی ہوش قصہ گو

null

انور سِن رائے

نام کتاب: آدمی

مصنف: محمد حمید شاہد

صفحات: 192

قیمت: 300 روپے

ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سینٹر، پریس مارکیٹ امینپور بازار، فیصل آباد

E-mail:misaalpb@gmail.com

محمد حمید شاہد کے افسانوں کے اس سے پہلے چار مجموعے:بند آنکھوں سے پرے،جنم جہنم،مرگ زاراورپارواور اس کے علاوہ پچاس افسانوں کا ایک انتخاب شائع ہو چکا ہے۔ ان کا ایک ناول ’مٹی آدم کھاتی ہے‘ اور تنقید کی بھی کئی کتابیں شائع جن میں ایک تو ہے ہی ’اردو افسانہ: صورت و معنی‘۔

ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں اردو کے نقادوں نے بہت کچھ کہا ہے لیکن تین لوگو ں کی آرا کو میں مختصرًا یہاں پیش کرتا ہوں۔ یہ تینوں اردو میں تو کم از کم اب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے۔ ان میں ایک تو شمس الرحمٰن فاروقی ہیں، دوسرے ناصر عباس نیّر اور تیسرے منشا یاد۔ منشا یاد کو میں نے اس لیے شامل کیا ہے کہ حمید شاہد ان سے بہت قریب تھے اور دونوں کا ایک دوسرے کہ بہت جاننا فطری ہے۔

شمس الرحمٰن فاروقی:

محمد حمید شاہد اپنے افسانوں میں ایک نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں۔ جدید افسانہ نگار اپنے قاری کے لیے کتابی تو وجود رکھتا ہے لیکن زندہ وجود نہیں رکھتا۔ محمد حمید شاہد اس مخمصے سے نکلنا چاہتے ہیں اور شاید اسی لیے وہ اپنے بیانیے میں قصہ گوئی، یا کسی واقع شدہ بات کے بارے میں ہمیں مطلع کرنے کا انداز جگہ جگہ اختیار کرتے ہیں۔

محمد حمید شاہد کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے۔ ان کے سروکار سماجی سے زیادہ سیاسی ہیں، حتی کہ وہ اپنے ماحولیاتی افسانوں میں بھی کچھ سیاسی پہلو پیدا کر لیتے ہیں

ناصر عباس نیّر:

محمد حمید شاہد نے خود شعوریت کے ذریعے ادب اور افسانوی عمل کے امتیاز اور استناد کو باور کرانے کی سعی کی ہے اور یوں گہرے ثقافتی شعور کا مظاہرہ کیا اور اس کے مقابل مخصوص تخلیقی سٹرٹیجی کو وضع کیا ہے ۔خود شعوریت سے جہاں ان کے افسانوں میں متن در متن یا Frame Narrative کی صورت پیدا ہوئی ہے، وہاں یہ افسانے نئی قسم کی حقیقت نگاری کے مظہر بھی بن گئے ہیں ’برشور‘، ’لوتھ‘، ’تکلے کا گھاﺅ‘، ’موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ‘ اور ’مرگ زار‘ محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی کی عمدہ مثالیں ہیں ۔ واضح رہے کہ ان کی حقیقت نگاری نہ تو سماجی حقیقت نگاری ہے، نہ مارکسی حقیقت نگاری اور نہ نفسیاتی یا باطنی حقیقت نگاری۔ ان کی حقیقت نگاری دراصل معاصر زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے ۔اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے، جسے جدیدیت پسندوں اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کیا تھا۔

منشا یاد:

حمید شاہد کے فن ِافسانہ نگاری کی اہم خوبی ہے کہ وہ کسی ایک خاص ڈکشن کے اسیر نہیں ہوے اور صاحبِ اسلوب بننے کی کوشش میں خود کو محدود نہیں کیا۔ حمیدشاہد کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ وہ خیال، مواد اور موضوع کے ساتھ تکنیک اور اسلوب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں۔ وہ ہر رنگ کی کہانی لکھنے پر قادر ہیں ان کی کہانیاں زمین سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔اپنی تہذیب، ثقافت اور اقدار کی خوشبو لیے ہوئے اور افسانے کی روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے۔ لیکن تازگی اور ندرت کی حامل اور ایسی پر اثر کہ پڑھ لیں تو پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔اندر حلول کرجاتی ہیں۔ خون میں شامل ہو جاتی ہیں۔

میں مذکورہ بالا حضرات کے مضامین سے ان باتوں کا انتخاب کیا ہے جو میرے خیال میں محمد حمید شاہد کے اس مجموعے پر بھی صادق آتی ہیں۔ ان کے نام ذرا رعب ڈالنے کے لیے بھی دیے ہیں اور اس لیے بھی کہ مجھے بھی کم و بیش یہی کہنا تھا۔ اب اگر فاروقی صاحب اور نیّر صاحب کی رائے بدل گئی ہو یا اس مجموعے کے بعد یہ نہ رہی ہو تو میں ان آرا کو قبول نام کرتا ہوں۔

حمید شاہد کے اس مجموعے میں 17 افسانے ہیں۔ اور ان میں ایک کے انداز کے بارے میں مجھے بطور افسانہ نگار کچھ اختلاف بھی ہے لیکن جہاں تک ان کہانیوں کا تعلق ہے، آپ بھی انھیں یقینی طور پر نیّر کے الفاظ کے مطابق نئی حقیقت نگاری کی ایک اچھی مثال ہی محسوس کریں گے۔

ایک بات تو رہ ہی گئی اس کتاب کے فلیپس پر حمید شاہد نے جو ٹکڑے دیے ہیں انھیں کہانیوں کے خلاصے مت سمجھیے گا، میں تو کہوں گا کہ ٹیزر بھی اچھے نہیں افسانے زیادہ زور دار ہیں پڑھ کر دیکھ لیں۔ ایک ہی افسانہ پڑھ کی آپ میری رائے کے قائل ہو جائیں گے۔ پھر ذہن پر بہت زور بھی نہیں ڈالنا پڑے گا۔ ہاں ڈالیں گے تو فائدہ زیادہ ہوگا۔

کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے اور قیمت بھی انتہائی مناسب ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *