M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / اقتباسات |آفاق

اقتباسات |آفاق

shumara6-d

آفاق 6 کے شمارے میں محمد حمید شاہد کے خصوصی مطالعے کے حصے میں مشمولہ اقتباسات

shumara6-d

جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے پورے افسانے کو اپنے اندر بننے دیتا ہوں ‘ اپنی جزئیات سمیت‘ اور پھر اسے کاغذ پر منتقل کرتا ہوں تو اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ لکھتے ہوئے کہانی عین مین وہی رہتی ہے جیسی اس نے پہلے چھب دکھائی تھی ۔ میرے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کہانی جوں جوں آگے بڑھتی توں توں نئی وسعتوں اور نئے نئے امکانات کے دریچے اس پر خود بخود کُھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اور جب افسانہ مکمل ہوتا ہے تو اپنی کل میں اتنا نیا اور مختلف ہوتا ہے کہ خود مجھ پر حیرتیں ٹوٹ برستی ہیں ۔
(محمد حمید شاہد کے مضمون ’’میرا تخلیقی عمل‘‘ سے ایک اقتباس )

shumara6-d

ایک طرف سابق جدید افسانے کے جملہ وارثان کبھی تو کہانی کے پلٹ آنے کی خبر دئیے جاتے ہیں اور کبھی بوکھلا کر یہ دعویٰ فرما دیتے ہیں کہ کہانی گم کہاں ہوئی تھی ۔۔۔جب کہ دوسری طرف یہ ہو رہا ہے کہ جدید افسانے کی تہمت پانے والی تحریریں مربوط کہانی اور اس کے بامعنی بھید سے مکمل طور پر کٹی ہوئی پڑی ہیں۔۔۔بالکل ایسے ہی کہ جیسے منٹو کی سکینہ ہسپتال میں بے سُدھ پڑی ہوئی تھی۔قاری نے تو اس کھڑکی کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے باہر کھڑی مربوط کہانی کا بھید اور جمال کے نازک ہاتھ دستک دیئے جاتے ہیں‘ مگر جدید افسانے کی سکینہ جسے نیچے سرکا رہی ہے اُس نے گزر چکی کل کے جدید افسانہ نگار کے فن کا وجود ہی برہنہ کر دیا ہے۔ مجھے قہقہے سنائی دے رہے ہیں ۔۔۔ یہ یقیناً منٹو کے قہقہے ہیں۔۔۔ اور اَب تو یقین آنے لگا ہے کہ وہ جو منٹو ایک دعویٰ کر گیا تھا‘بجاکر گیا تھا۔۔۔سچ ہے کہ سعادت حسن تو مرگیا تھا‘مگر منٹو ابھی تک زندہ ہے۔
( محمد حمید شاہد کے مضمون ’’سعادت حسن منٹو: گذشتہ ربع صدی کے بعد‘‘ سے مقتبس) 

shumara6-d

’’جب اندر کچھ نہ رہا اور سب کچھ بقول ممتاز مفتی ’’حلوائی کی دکان کی طرح باہر تھالوں میں سج گیا‘‘ تو وہ نسل اُٹھی جس نے اپنے تئیں باہر کی تندی کوخالی ہو کر سبک ہو چکے اپنے اندر کی سمت موڑ دیا۔ علامت‘استعارہ‘تجرید‘نئی حقیقت نگاری‘تشکیک‘باطن‘ہیجان اور ارتکاز جیسے الفاظ لغت سے نکل کر قلم اور زبان کی انیوں پر ناچنے لگے۔۔۔یوں کہ بوئیے میں بند کہانی کی کمر‘سینہ‘پنڈلیاں ماپنے کا کوئی رائج پیمانہ مستند نہ رہا۔کہاں آغاز ہے‘کہاں وسط اور کہاں انجام‘کس کو ہوش تھا کہ تلاش کر کے فیتے لگاتا‘سبھی اس میں بہہ گئے تھے۔ ‘‘
(محمد حمید شاہد کے مضمون ’’چاہ درپیش اور پنکھڑی کا گداز ‘‘ سے اقتباس)

shumara6-d

’’ہر اچھا تخلیق کار اپنے باطن میں کائنات کی سی وسعت لیے ہوتا ہے۔وہ لفظ کے بھیتر میں موجزن معنی کے طلسم اور جمال کے بہتے دھاروں پر قدرت رکھتا ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جملے کی تقدیرلطف‘ تاثیر گہرائی‘ گیرائی اور تعبیر کی تکثیر کیسے بن سکتے ہیں۔ وہ زندگی کو بھی دیکھتا ہے اور زندگی کے جوہر کو بھی۔ وہ کائنات پر نظر رکھتا ہے اور ابدیت کے کنگروں کو بھی چھونے کا حوصلہ مند ہوتا ہے۔ وہ اپنے اندر الفاظ‘ سوچوں‘ اندیشوں‘ جذبوں کو سنبھال کر رکھنے اور انہیں اپنے تخلیقی وجود کا حصہ بنا لینے کی للک اور قرینہ رکھتا ہے۔ بہتر قوت مشاہدہ‘مسلسل مطالعہ ‘زندگی سے گہرا ربط‘ لکھتے رہنے کی عادت اورلکھے ہوئے مواد میں سے مشقی حصوں کو رد کرنے کا حوصلہ اچھے تخلیق کار کے خواصِ خمسہ ہیں۔‘‘
(محمد حمید شاہد کے ایک مکالمہ سے مقتبس)

shumara6-d

تخلیق کے اندر امیج بننے کے عمل کو بصریاتی عمل کے مقابل رکھ کر دیکھیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ بصریات میں یہ انعکاس یا انعطاف کا کرشمہ ہوتا ہے مگر ادبی متن میں محاکات فوری یا حقیقی مفہوم کی سطوح سے بے نیاز قدرے کشادہ ‘گہرے اور افقی لاشعوری علاقے میں پہنچ جاتے ہیں ۔ اب اگر آپ اس لاشعوری علاقے ہی کے منکر ہیں تو مجھے تنبیہہ کر لینے دیجئے کہ پھر تو آپ کا مقدر ساختیاتی ٹھوکریں ہی ٹھوکریں ہیں۔۔۔ہاں اگر اسے مانتے ہیں تو یہ بھی مان لیجئے کہ باوصف اس کے کہ اس کی سرحدیں انسانی نفس کو بھی چھوتی ہیں ‘ یہ علاقہ اپنے اندر بے پناہ اسراررکھتا ہے ۔ وہی اسرار جسے بالآخر لفظ کے باطنی امیج میں آمیخت ہو جانا ہوتا ہے۔
(محمد حمید شاہد کے مضمون’’تخلیق کے اسرار اور گذشتہ ربع سے ایک اقتباس)

shumara6-d

گذشتہ ربع صدی میں پہنچ کر تخلیق کار نے مجرد روایت پرستی سے بھی منہ موڑا ہے اور نعرے بازی کو بھی جھنڈی دکھائی ہے۔ اس سب سے بڑھ اس نے یہ کیا ہے کہ خارجی کسی گروہ کی چلائی ہوئی نام نہاد تحریک کے بجائے اصل تخلیقی اسرار کے محرکات سے وابستہ رہنے کو ترجیح دی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ جدید ترتخلیق کاروں کی تخلیقات سے نہ تو کافور کے ہُلے اُٹھتے ہیں اور نہ ہی ان کے حلقوم سے نعرے نکل کر حلکم ڈالتے ہیں۔ آج کی تخلیقات نہ تو کسی خاص نظرئیے کی باجگزار ہیں نہ مسلط افکار کی پرچارک۔ لمحہ لمحہ اپنی تجدید کرتے اسرار سے وابستہ رہنے کا ادرا ک آج کی تخلیقات میں روح بن کر دوڑنے لگا ہے جس کے سبب وہ ماقبل کے ادبی متون سے یکسر مختلف ہو گئی ہیں۔
(محمد حمید شاہد کے مضمون’’تخلیق کے اسرار اور گزشتہ ربع صدی‘‘سے اقتباس)

shumara6-d

کسی بھی فن پارے کی تخلیق کے وقت یا پھر کسی تخلیق پارے کے متن میں اترتے ہوئے مجھے تیسری جہت کی جستجو رہتی ہے‘ ایک ایسی جہت جو تخلیق کار اپنے مخفی ادراک کی قوت سے متن کی سطروں میں یوں رکھ چھوڑتا ہے کہ لفظ لفظ لغت کی تحت الثری سے نکل کر آفاقی معانی کی سمت لپکنے لگتا ہے ۔
(محمد حمید شاہد کے تنقیدی مضامین کے مجموعے’’ادبی تنازعات‘‘ کے ابتدایے’’اعتراف‘‘ سے اقتباس)

shumara6-d

تخلیق کے اندر امیج بننے کے عمل کو بصریاتی عمل کے مقابل رکھ کر دیکھیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ بصریات میں یہ انعکاس یا انعطاف کا کرشمہ ہوتا ہے مگر ادبی متن میں محاکات فوری یا حقیقی مفہوم کی سطوح سے بے نیاز قدرے کشادہ ‘گہرے اور افقی لاشعوری علاقے میں پہنچ جاتے ہیں ۔ اب اگر آپ اس لاشعوری علاقے ہی کے منکر ہیں تو مجھے تنبیہہ کر لینے دیجئے کہ پھر تو آپ کا مقدر ساختیاتی ٹھوکریں ہی ٹھوکریں ہیں۔۔۔ہاں اگر اسے مانتے ہیں تو یہ بھی مان لیجئے کہ باوصف اس کے کہ اس کی سرحدیں انسانی نفس کو بھی چھوتی ہیں ‘ یہ علاقہ اپنے اندر بے پناہ اسراررکھتا ہے ۔ وہی اسرار جسے بالآخر لفظ کے باطنی امیج میں آمیخت ہو جانا ہوتا ہے۔
(محمد حمید شاہد کے مضمون’’تخلیق کے اسرار اور گذشتہ ربع سے ایک اقتباس)

shumara6-d

جو راسخ العقیدہ لوگ افسانے کی مغربی طرز ولادت کے واقعے کو زمانہ جاہلیت کی غلطی قرار دے کراسے زمین میں دبانافرض سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں اس کی ڈھیری بنا کر اوپر کہانی کی مشرقی روایت کی چادر چڑھا کر اپنے اِترانے کے کھیکھن کرتے پھرتے ہیں ان کے ایمان کو تقویت دینے کے لیے کیا یہ کافی نہیں ہے کہ یہ مغربی لونڈی جنم لیتے ہی مشرقی حسیت کو اپنا چلن بنانے کی روش پر چل نکلی تھی اور یوں مشرف بہ مشرق ہوئی کہ اپنے آقاؤں کو آنکھیں دکھانے لگی تھی
(محمد حمید شاہد کے مضمون ’’ اردو افسانہ ایک صدی پہلے‘‘ سے اقتباس)

shumara6-d

میں اس سارے شور شرابے کے آسیب سے پناہ کے لیے اُس خیمے پر پہنچ جاتا ہوں جس میں سدھارتھ کی کملا کی طرح ایک ایسی حسینہ مقیم ہے جس کی مٹھیاں لفظوں سے بھری ہوئی ہیں ۔
وہ اس قدر حسین ہے کہ سب کچھ اس میں سما گیا ہے ‘ حتی کہ میرا خوف بھی۔۔۔
میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں اور خود پر حیران ہوتا ہوں کہ میری آنکھیں پلکوں کو جھپکنا کیسے بھول گئی ہیں۔
وہ میری حیرت کو دیکھتی ہے اور سراپا سوال ہو جاتی ہے۔ میں ساری بات کہہ دیتا ہوں :
’ایک تم ہو‘ جسے میں نے پلک جھپکے بنا دیکھا ہے۔۔۔اور شاید تم ہی ہو جسے پلکیں جھپکے بنا دیکھا جا سکتا تھا‘
وہ بار بار ہنستی ہے‘ اس قدر کہ اس کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔میں دیدہ و دل بچھا دیتا ہوں۔
دیدے آنسؤوں سے اور دل اس کی ہنسی کے پھولوں سے بھر جاتا ہے
عین ایسے ہی لمحات کی سایہ گستری میں زیست جس قدر مجھ پر تراوش ہوتی ہے اتنی ہی میرے قلم سے قرطاس تک پہنچتی ہے ۔
(’’جنم جہنم‘‘ کے ابتدایے ’’کہانی بڑی چلتر ہے‘‘ سے مقتبس)

shumara6-d

میں فکشن لکھتا ہوں اور وہ سچ ہو جاتا ہے
محمد حمید شاہد: مرگ زار

shumara6-d

آپ میری اس رائے سے متفق ہوں گے کہ نہ سمجھنے والے دکھ بھی فن پاروں کو سب لائم کی ارتفاعی سطح عطا کر سکتے ہیں۔ دراصل اندر سے اُگنے والے دُکھ اُن دُکھوں سے کہیں زیادہ قوی ہوتے ہیں جو ظاہری صدمے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
(محمد حمید شاہد کے مضمون’’تیز ہوا میں جنگل کسے بُلائے گا؟‘‘ سے اقتباس)

shumara6-d


آفاق:خاص شمارہ

خدو خال-محمد حمید شاہد|مرتبہ-قیوم طاہر

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *