M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / انورسن رائے بنام محمد حمید شاہد

انورسن رائے بنام محمد حمید شاہد

ANWERSINROY
Anwer Sen Roy

آپ کے افسانے

Anwer Sen Roy
August 12 2009 at 9:44pm
حمید شاہد جی!
سلام میں نے آپ کی دونوں کہانیاں کل ہی پڑھی ہیں۔ فیس بک کا یہ استعمال سب سے مناسب ہے۔ ’تھو تھن بھنورا‘ مجھے زیادہ پسند آئی۔ اس کی زبان سے میری ناآشنائی نے اس میں کچھ رکاوٹ اور کچھ آپ کا رعب بھی ڈالا لیکن دوسری کہانی ’سورگ میں سور‘ کے مقابلے میں مجھے زیادہ پسند اس لیے آئی کہ اس میں علامتی اور استعاراتی جہت بھی مستحکم ہے۔ ’سورگ میں سور‘ جذبات اور محسوسات کی سطح کو زیادہ متاثر کرتی ہے لیکن جس طرح یہ اعصاب کو رگڑتی ہوئی چلتی ہے وہی اس کا حسن بھی ہے۔ اس کے کرداروں کی ساخت بہت عمدہ اور گہری ہے اور پھر اس کے لیے جو تکنیک آپ نے برتی ہے وہ اس لیے مناسب ترین ہے کہ اگر سیدھا بیانیہ ہوتی تو جذباتیت کا غلبے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ کہانی بیان کرنے والا خود جو سوچ رکھتا ہے وہ دوسرے تمام کرداروں سے الگ ہے وہ انتہائی فطری انسانی جذبات کی گرفت میں ہے لیکن وہ صورتِ حال سے معروضی طور پر نمٹنا چاہتا ہے۔ اسے ان لوگوں پر ذرا سا بھی یقین نہیں جن کے پاس اس کے بھائی کی لاش ہے لیکن اس کے پاس بجز اعتبار کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے۔ ماں کا کردار فطری ثقافتی انداز کا ہے اور اسی طرح آگے بڑھا ہے۔
وہ صورتِ حال میں جو اس کہانی کا موضوع اور ماحول میسر کرنے کا باعث بنی ہے اپنے اسیروں کو شروع ہی سے دو حصوں میں بانٹنے پر مصر رہی ہے: یا تو آپ اس کے ریاستی تصور کے ساتھ ہو جائیں ریاست اور دہشت گردوں میں شمار ہوں اور یہ صورتِ حال کا مجموعی اور حقیقی پہلو نہیں ہے۔
افسانہ اس قضیے میں نہیں جاتا، میں بھی فی الحال نہیں جانا چاہتا۔ لیکن کہانی کا راوی نوٹس میں اس کا اشارہ دے سکتا ہے اس کے بغیر کہانی درمیان سے شروع ہوتی ہے اور ابتدا کو چھوئے بغیر اختتام پر پہنچ جاتی ہے۔ ایسا مجھے لگتا ہے کہانی کار کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ میں نے اس طرح بھی سوچا کے اگر کردار ایسا ہی ہو تو؟ میں کہاں ہو سکتا ہے۔ ہم سب ایک خاص پس منظر میں ترتیب پاتے ہیں اور ہمارے سارے عمل و ردِ عمل، فیصلے، تجزیے اور ادراک، جانیں یا نہ جانیں، اسی کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جب کہانی کار ایسے کرداروں کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ اپنی مخلوق کی سب رمزوں سے واقف ہوتا ہے اور اسے اس کا اشارہ دینا چاہیے۔ اس سے کہانی کا حسن بڑھ جاتا ہے۔
بات لمبی ہوتی جا رہی ہے اور ابھی دوسری کہانی باقی ہے۔ چلیں پھر بات کرتے ہیں۔
لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی آپ سے کہا تھا کہ مجھے ایک عرصے سے یہ اندازہ نہیں کہ پاکستان میں کیا لکھا جا رہا ہے۔ اب جو یہ دو کہانیاں پڑھی ہیں تو اچھا لگا ہے۔ کبھی کبھی نوکری کا بوجھ اتارنے کے لیے میں کچھ اور کرنے لگ جاتا ہوں، لفظوں کی بجائے رنگوں کی طرف۔ لیکن فیس بْک کا لالچ ضرور کھینچ کر لا سکتا ہے۔ میں آپ سے کچھ اور سننے کا منتظر رہوں گا۔ ابھی ادب کے لیے ایک اور فورم بھی ہے: یو ٹیوب۔
اپنا خیال رکھیے گا اور منشا جی کو ڈھیر سارا سلام کہیں۔ وہ ڈیجیٹل دنیا کی سحر انگیزی سے دور ہیں کیا؟
کوئی بات ناگوار ہو بتا دینا میں وضاحت و معذرت کر لوں گا۔

انورسن رائے


M Hameed Shahid
M Hameed Shahid

M Hameed Shahid
August 13 at 1:09pm

پیارے انور سن
مجھے کہانی پر آپ کی سنجیدہ گفتگو اور اس کا تجزیہ اچھا لگا۔ ظاہر ہے میں اس کہانی پر جو بھی بات کروں گا وہ اس کے دفاع میں ہوگی۔ اور لکھنے والے کا یہ منصب نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تخلیق کے دفاع میں جت جائے۔ میرے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ جو کچھ میں نے سوچا اور جس طرح میں نے کہانی کو بیان کرنا چاہا اسے توجہ سے دیکھا جاسکتا ہے اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ میں آپ کا ازحد ممنون ہوں کہ آپ میری کہانی کی طرف متوجہ ہیں۔ ہاں ایک بات ہر کہانی کو ایک سے زیادہ طریقوں سے لکھا جا سکتا ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ جب آپ کسی کہانی کو نئے ڈھب سے لکھنا چاہیں گے تو وہ پہلے والی کہانی نہیں رہے گی۔
محمد حمید شاہد


ANWERSINROY
Anwer Sen Roy

Anwer Sen Roy
August 13 at 7:12pm
جی شاہد، میں آپ سے بالکل متفق ہوں اور میں نے اب تک جو کچھ لکھا ہے وہ تکنیک پر اعتراض کے  زمرے میں چلا گیا، اس کا مجھے خیال نہیں رہا۔ میرا مطلب بالکل بھی یہ نہیں تھا۔ دونوں کہانیاں الگ الگ تکنیک میں ہیں اور میں بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہر بات اپنا اسلوب اور اظہار کا انداز ساتھ لاتی ہے۔ میں نے آپ سے جو بات کی ہے وہ بات شروع کرنے کے لیے ہے ۔میں اسے دیکھتا ہوں۔ لیکن ایک بات کہ اگر مجھے کہانیاں پسند نہ آ پاتیں تو میں ان پر بات نہ کرتا۔ اب اگر کہیں میری رسائی  میں نقص ہے تو اس کے لیے آپ بالکل بھی جواب دہ نہیں ہیں۔ ہم بطور قاری بات نہیں کر رہے۔ میں آپ سے تخلیقی تجربے میں شراکت کی بات کر رہا تھا۔ لیکن ظاہر ہے جو فرق ہم دونوں کو الگ الگ وجود بناتا ہے وہ تو اپنی جگہ موجود رہے گا۔ اور یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ میری رائے سن کر یا میری محسوسات جان کر آپ کہانی پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔ لیکن  اس میں اگر چیز اچھی ہو جائے تو اس کی نوک پلک سنوارنے میں مجھے عار نہیں ہوتا۔ اگر یہ طور شاعری میں اپنایا جا سکتا ہے تو فکشن میں کیوں نہیں؟
ابھی دوسری کہانی پر بات باقی ہے۔ دونوں کہانیاں مجھے اپنے اپنے طور پر پسند آئی ہیں۔
میں نے آپ سے کہا تھا کہ اگر روانی میں کہیں میری بات کسی ایسی سمت نکل جائے جو ناپسند ہونے کے علاقے میں آتی ہوتی ہو تو میں معذرت کر لوں گا۔
تو میری معذرت اور آپ کو یا کسی بھی لکھنے والے کو اپنی تخلیق کا دفاع نہیں کرنا چاہیے۔ تخلیق خدائی کام ہے اور خالق نے کبھی اپنی تخلیق کے عیب نہیں دیکھے۔ بلکہ اپنی مخلوق کی قسمیں کھائی ہیں۔ جس سے تخلیق کی فضیلت اور خالق و مخلوق کے رشتہ کا اظہار ہوتا ہے۔
اپنا خیال رکھیں اور اگر کسی وجہ سے فوراً جواب نہ دے سکوں تو اس کی وجہ کچھ اور نہ سمجھیے گا۔ ایک تو تساہل پسند ہوں اس پر دل کے اور روگ بھی ہیں خود اس کے اپنے روگوں کے سوا۔
منشا جی کو میرا سلام ضرور کہیں اور اپنی بیگم صاحبہ کو بھی۔ معاف کیجیے گا نام ذہن سے نکل گیا ہے۔ ایک ہی نامکمل سی ملاقات ہوئی ہے لیکن اب تک یہ تاثر ہے کہ وہ ایک اچھی انسان ہیں۔
انورسن رائے


M Hameed Shahid
M Hameed Shahid

M Hameed Shahid
August 14 at 8:20am
پیارے انورسن
بھئی پہلے تو اس معذرت وازرت کو ایک طرف رکھ دو۔ میں نے کہا نا اپنے افسانے کا تجزیہ مجھے اچھا لگا۔ میں ناقد اور تنقید دونوں کی آزادی کا قائل ہوں۔ اور یہی سبب ہے کہ جب میرے افسانے کا تجزیہ ہوتا ہے تو میں سمٹ کر الگ ہو جاتا ہوں۔ تاہم افسانے کی تیکنیک پر میں آپ سے مکالمہ چاہوں گا۔ یہ مکالمہ اسی طرح آزادی سے ممکن ہو پائے گا کہ ہم اپنی اپنی تخلیقات کے دفاع میں نہ جت جائیں۔ اس باب میں ،میں نے اورمحمد عمر میمن نے ماریو برگس یوسا کے حوالے سے ایک مکالمہ شروع کیا تھا۔ وہ افسانے کی تیکنیک کے حوالے سے ہی ہے۔ کاش آپ اسے آگے بڑھائیں تو میں بھی اس باب میں آزادی سے کچھ کہنے کے لائق ہو پاوں گا۔ میں یہیں اس کا لنک دے رہاہوں۔ ہم اسے فیس بک پر کھینچ کر لا سکتے ہیں۔
http://www.fictionmukalma.blogspot.com/

محمد حمید شاہد


ANWERSINROY
Anwer Sen Roy

Anwer Sen Roy
August 14  at 4:22pm
میں شاید اپنی بات ٹھیک سے نہیں کہہ سکا۔ جسے آپ دفاع کہہ رہے ہیں اس کا مرحلہ افسانے کی تکمیل کے بعد ختم ہو گیا۔ اب بات ایک ایسی چیز پر ہے جو آپ سے الگ ہو چکی ہے اور تخلیق کا رشتہ ماں اور بچے کے رشتے سے الگ ہوتا ہے اگر اس رشتے والی بات ہوتی تو تخلیق کار یہاں تک کہ غالب جیسے اور باہر کی دنیا میں بھی اس کی مثالیں ہیں، اپنی تخلیقات کا انتخاب اور قطع بْرید کرتے رہے ہیں اور شاید اس کے پیچھے یہی بات ہوسکتی ہے کہ ہر ادیب کا جو مکالمہ  کا حق ہوتا ہے اس میں بحث مباحثہ تخلیقی شراکت کی راہ بناتا ہے۔
خیر یہ وضاحت اضافی ہے۔ محض اس لیے کہ انفرادی آزادی مقدم ہوتی ہے۔
انور سن رائے


M Hameed Shahid
M Hameed Shahid

M Hameed Shahid

August 15 at 8:26am
پیارے انور سن
میں نے اپنے تئیں کوشش کی ہے کہ ہم اگر فکشن کے حوالے سے تیکنیکی امور کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں تو ۔۔۔۔۔۔
خیر اب اگر آپ مصر ہیں تو میں ہار مان لینے میں کوئی سبکی محسوس نہیں کروں گا۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں
۱۔ آپ کو تھوتھن بھنورا کہانی اس لیے پسند آئی کہ بہ قول آپ کے اس میں علامتی اور استعاراتی جہت بھی مستحکم ہے۔ تاہم آپ کا یہ جملہ میرے لیے تعجب کا باعث ہوا کہ ’’ اس کی زبان سے میری ناآشنائی نے اس میں کچھ رکاوٹ اور کچھ آپ کا رعب بھی ڈالا ‘‘ ۔ میں یہ اندازہ لگا نے سے قاصر ہوں کہ وہ کون کا سا لفظ ہے جو اس افسانے میں اُردو والوں کے لیے نامانوس ہے ؟
۲۔آپ افسانہ ’’ سورگ میں سور‘‘ اور افسانہ ’’مرگ زار‘‘ کو ادل بدل کر دیکھتے رہے۔ آپ نے آغاز میں ٗٗسورگ میں سورٗ کا نام لیا اور بعد ازاں گفتگوٗ مرگ زارٗ پربات کرنے لگے ۔ میں آپ کے جملے آپ کی توجہ کے لیے یہاں دے رہا ہوں  ’سورگ میں سور‘ حذبات اور محسوسات کی سطح کو زیادہ متاثر کرتی ہے لیکن جس طرح یہ اعصاب کو رگڑتی ہوئی چلتی ہے وہی اس کا حسن بھی ہے۔ اس کے کرداروں کی ساخت بہت عمدہ اور گہری ہے اور پھر اس کے لیے جو تکنیک آپ نے برتی ہے وہ اس لیے مناسب ترین ہے کہ اگر سیدھا بیانیہ ہوتی تو جذباتیت کا غلبے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ کہانی بیان کرنے والا خود جو سوچ رکھتا ہے وہ دوسرے تمام کرداروں سے الگ ہے وہ انتہائی فطری انسانی جذبات کی گرفت میں ہے لیکن وہ صورتِ حال سے معروضی طور پر نمٹنا چاہتا ہے۔ اسے ان لوگوں پر ذرا سا بھی یقین نہیں جن کے پاس اس کے بھائی کی لاش ہے لیکن اس کے پاس بجز اعتبار کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے۔ ماں کا کردار فطری ثقافتی انداز کا ہے اور اسی طرح آگے بڑھا ہے‘‘
۳۔آپ نے کہا ہے کہ’’ وہ صورتِ حال میں جو اس کہانی کا موضوع اور ماحول میسر کرنے کا باعث بنی ہے اپنے اسیروں کو شروع ہی سے دو حصوں میں بانٹنے پر مصر رہی ہے‘‘ اور اس باب میں میرا کہنا ہے کہ آپ کا تجزیہ درست ہے ۔ میری کہانی یعنیٗ مرگ زارٗ بش صاحب کی طرح اس پر اصرار نہیں کرتی ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں ہے وہ دہشت گرد ہے۔ بل کہ یہ ان کو بھی مخاطب کر رہی ہے جو اس کہانی کی ماں جیسے ہیں، روایت سے وابستہ اور انہیں بھی جواس کہانی کے باپ کہ طرح زندگی کی بنیاد ایمان پر رکھنا چاہتے ہیں۔ جی بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی میرے اس افسانے کے مخاطب وہ بھی ہیں جو بظاہر اپنے ایمان کے تقاضے پورے کررہے ہوتے   ہیں مگر نہیں جانتے کہ جس پر وہ ایمان رکھتے ہیں اس میں بھی اس حد تک میکانکیت کی گنجائش نہیں ہے۔ میری اس کہانی کا چوتھا مخاطب سامراج بھی ہے اور حکمرانوں کا وہ ٹولہ بھی جن کے لیے انسان اور انسانی جذبوں کی تباہی اور قتل کے کوئی معنی نہیں ہیں ۔ یہ ایک سطح پربیان ہونے والی یا ایک فرد کی کہانی ہوتی تو میں اسے سیدھے سبھاؤ لکھ کر الگ ہو چکا ہوتا۔
۴۔ آپ نے کہا یہ کہانی ’’ درمیان سے شروع ہوتی ہے اور ابتدا کو چھوئے بغیر اختتام پر پہنچ جاتی ہے‘‘ ۔ میں آپ کے جملے کے پہلے حصے سے متفق ہوں کہ یہ کہانی درمیان سے شروع ہوتی ہے ۔ تاہم اس سے متفق نہیں ہوں کہ’’ ابتدا کو چھوئے بغیر اختتام پر پہنچ جاتی ہے‘‘ اس کی ابتدا بھی اور اس کی انتہا بھی کہانی کے نوٹس میں موجود ہے ۔

۵۔ اب رہ گیا تیکنیک کا سوال کہ ’’ کہانی کار اپنی مخلوق کی سب رمزوں سے واقف ہوتا ہےِ‘‘ میں آپ سے ایک بار پھر متفق ہوں تاہم عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ خالق اپنی حد کے اندر رہتا ہے لہذا صرف وہی اشارے دیتا ہے جس کی وہاں گنجائش نکلتی ہے اور جس سے کہانی کا حسن قائم رہ سکتا ہے۔
دیکھیں میں نے لاکھ کوشش کی مگر بات پھر اپنی تخلیق کے دفاع کی طرف چلی گئی ۔ ہمیں کہانی کہ تیکنیک پر بات کرنی چاہیئے ۔ اس کے لیے میں ایک اور حیلہ کرتا ہوں ۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے یہاں ایک یونیورسٹی میں طلبہ سے اس موضوع پر بات کی  تھی۔ ابتدائیے کے لیے میں اسے فیس بک کے حوالے کرتا ہوں شاید یوں ہم آزادی سے مکالمہ قائم کرسکیں۔

محمد حمید شاہد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

“رات گئے”|PTV

Raat Gaye: Ep 42 October24,2017 PTV HOME  Host: Ammar Masood Guests: M Hameed Shahid  Lubna …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *